ای میل

سندھ کی قدیم درگاہ اور سکندراعظم کا جزیرہ

ابوبکر شیخ

آپ کبھی کراچی سے ٹھٹھہ کی طرف گئے ہوں اور اس سفر میں آپ بیچ میں کہیں نہیں رُکے تو یہ یقیناً کوئی حیران کر دینے والی بات نہیں ہے، کیونکہ اگر آپ کو کسی اشتہاری بورڈ کے ذریعہ کُچھ بتایا جاتا تو آپ ضرور وہاں جانے سے متعلق سوچتے اور شاید چلے بھی جاتے۔

مگر کیا کریں کہ محکمہ آثارِ قدیمہ اور محکمہ ثقافت و سیاحت کی شان سے اس طرح کے چھوٹے چھوٹے کام بالاتر ہیں۔ آخر وہ لوگوں کو ان اہم تاریخی مقامات کے متعلق بتائیں بھی تو کیوں؟ کیونکہ یہ ادارے سمجھتے ہیں کہ وہ ہی عالم کُل ہیں اور یہ سارے تاریخی اور اہم مقامات ان کے لیے ہی ہیں۔ عام مخلوق، ان کو جان کر کیا کرے گی؟ لہٰذا ہم یہ اختیار ان کے پاس ہی رہنے دیتے ہیں اور خود سے ان تاریخی جگہوں کی سیر کی کوشش کرتے ہیں۔

گھارو سے آگے ’گُجو‘ کا ایک چھوٹا سا شہر آتا ہے جس کی وسعت مرکزی شاہراہ کے دونوں اطراف میں آدھے کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ شہر کے مغرب میں کینجھر سے میٹھے پانی کی نہریں نکلتی ہیں جو کراچی کے لیے پانی لے جاتی ہیں۔

آپ مغرب سے آ رہے ہیں تو ان نہروں کی پُل کو کراس کرکے، نہروں کے جنوب میں پکّے راستے پر جو مغرب کی طرف جا رہا ہے اُس پر چلے جائیں تو دو ڈھائی کلومیٹر چلنے کے بعد راستہ جنوب کی طرف مُڑ جاتا ہے اور سامنے ایک مختصر سے ٹیلے پر ’ابُو تُراب‘ کی درگاہ ہے جو پیلو کے درختوں کی چھاؤں میں گھری ہوئی ہے۔ زائرین اور معتقدین ہیں جو ان درختوں، درگاہ اور وہاں بنی ہوئی کوٹھڑیوں کی ٹھنڈی چھاؤں اور سُکون کی غنودگی میں زندگی کے اچھے پَلوں میں جئے جاتے ہیں کہ باہر اپریل کی تیز دھوپ پھیلی ہوئی ہے۔

اس پھیلی دھوپ میں درگاہ کے چاروں اطراف میں پھیلا وہ قدیم قبرستان بھی ہے جو اپنی قدامت کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ چوکنڈی طرز کا ایک بہت بڑا قدیمی قبرستان ہے جہاں 200 سے زائد قدیم قبریں ہیں جن پر سنگ تراشی کا نہایت ہی نازک، عمدہ اور پیچیدہ کام کیا ہوا ہے، اور کچھ اس طرز کی قبریں بھی ہیں جو چوکنڈی جیسے اور قبرستانوں میں بھی نہیں ہیں۔

درگاہ ابو تراب —  فوٹو ابوبکر شیخ
درگاہ ابو تراب — فوٹو ابوبکر شیخ

قدیم قبرستان، جس کی قبریں اب خستہ حالی کا شکار ہیں— فوٹو ابوبکر شیخ
قدیم قبرستان، جس کی قبریں اب خستہ حالی کا شکار ہیں— فوٹو ابوبکر شیخ

اس قبرستان کی زمین انتہائی سیم زدہ ہے اس لیے چونا پتھر کی بنی ہوئی یہ قبریں خستگی کا شکار ہیں۔ بہت ساری قبروں کا تو نام و نشان تک ختم ہوگیا ہے۔ بہت ساری قبریں ہیں جو خستہ ہو کر گر پڑی ہیں۔ بس اب فقط کچھ بچی ہیں جن کو میں شاید سلامت حالت میں آخری بار دیکھ رہا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اگر 5، 6 برس بعد جب آؤں گا تو ان میں سے کوئی صحیح سلامت قبر مجھے دیکھنے کے لیے نہیں ملے گی۔ ایسا میرا یقین ہے کیونکہ جن چیزوں کی کوئی نگرانی نہیں کرتا اُن کی طویل عمری شک میں پڑجاتی ہے۔

کہتے ہیں کہ یہ درگاہ شیخ حاجی ابو تُراب کی ہے جو خلیفہ ہارون الرشید کے زمانہ میں یہاں سندھ کے عباسی گورنر تھے اور مغربی سندھ کے ’ساقورہ‘ (میرپور ساکرہ) کے قلعے پر قابض تھے۔ شیخ تراب کے متعلق گزیٹیئر آف پروونس آف سندھ میں لکھا ہے کہ

’یہ بڑے شیخ جن کا نام ابوتُراب تھا، انہوں نے بکھر کے قلعے کو فتح کیا اور بہادری کے اور بہت سارے دوسرے کام کیے۔ یہ صاحب ہمارے لیے دلچسپی کا سبب ہیں۔ ان کی قبر گُجو سے دو میل کے فاصلے پر ہے جس پر 171 ہجری (788) کا کتبہ تحریر ہے۔ اس لیے اس کو سندھ میں سب سے قدیم تاریخی تحریر اور قبر ماننا پڑے گا۔‘

قبرستان درگاہ کے ساتھ ہی واقع ہے— فوٹو ابوبکر شیخ
قبرستان درگاہ کے ساتھ ہی واقع ہے— فوٹو ابوبکر شیخ

ایک قبر پر موجود قدیم نقش— فوٹو ابوبکر شیخ
ایک قبر پر موجود قدیم نقش— فوٹو ابوبکر شیخ

یہاں کے متولی غلام حسین نے ہمیں ایک روایت بتائی اور سارے ثبوتوں کے ساتھ بتائی۔

’حاجی ابوتُراب بصرہ سے ایک مچھلی پر سوار ہوکر آئے تھے۔ غلام حسین نے اُس مچھلی کا ایک کانٹا دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ مچھلی کا فقط ایک کانٹا ہے وہ بھی وقت کے ساتھ خستہ ہوکر ٹوٹ گیا ہے۔ آپ اندازہ کرو کہ وہ مچھلی کتنی بڑی ہوگی؟‘

ہم نے مچھلی کا بڑا کانٹا دیکھا اور اندازہ کیا کہ کتنی بڑی مچھلی ہوگی۔ اب یہ کانٹا پیٹ کی بیماروں کو شفا دیتا ہے۔ لوگ بڑھے ہوئے پیٹ، پیٹ کی تکالیف اور کھجلی دُور کرنے کے لیے یہاں دُور دُور سے آتے ہیں اور جیسے ہی مچھلی کا کانٹا پیٹ پر 3 بار رکھا جاتا ہے، افاقہ ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

ہم ابھی اسی حوالہ سے غلام حسین سے گفتگو کر رہے تھے کہ اس تپتی دوپہر میں عورتوں کے گیتوں کی آوازیں ہمارے کانوں تک پہنچیں۔ مقامی لوک گیت ایک مخصوص لَے سے گائے جاتے ہیں۔ ان گیتوں کو اگر سُنا جائے تو ان کو گانے کے لیے کسی موسیقی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ بغیر موسیقی کے بھی کانوں اور دل و دماغ کو بہت اچھے لگتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان لوک گیتوں کو عورتیں ہی تخلیق کرتی ہیں اور یہ خوشی کے موقع پر ہی گائے جاتے ہیں۔

اس تپتی دوپہر میں کچھ گاڑیاں درگاہ کے آنگن میں آکر رُکیں اور گیتوں سے خوشیوں کے رنگوں کے جیسے چشمے اُبل پڑے۔ عورتوں کا جھرمٹ ایک چھوٹے بچے کو گود میں لیے، گیت گاتا درگاہ کی طرف چل پڑا۔ مرد اور کچھ گاڑیاں آنگن میں کھڑی رہیں۔ ایک ڈاٹسن پر بریانی کی دو دیگیں تھیں۔

یہ لوگ دُور سے آئے تھے۔ اولاد ہونے کی خوشی میں اب بچے کے سر پر آئے ہوئے ابتدائی بال درگاہ کے آنگن میں کاٹے جائیں گے اور ایک کپڑے کی بنی ہوئی خوبصورت تھیلی میں ڈال کر اس کپڑے کی تھیلی کو، کھڑے پیلو کے درخت میں باندھ دیا جائے گا اور پھر اپنے ساتھ لائے ہوئے وہ چھوٹے سے جھولنے جن کو مقامی بڑھئی سے بنوایا گیا ہوگا وہ درگاہ کے آنگن میں رکھ دیا جائیگا۔ میں نے جب درگاہ کے آنگن میں یہ جھولے دیکھے تھے تو اُن جھولوں کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا تھا۔ مگر اب ان جھولوں کی کہانی کا پتہ چلا تو ایک عجیب قسم کے محسوسات کی خوشبُو تھی جو ان چھوٹے چھوٹے جُھولوں سے اُٹھتی تھی۔

درگاہ کا اندرونی حصہ— فوٹو ابوبکر شیخ
درگاہ کا اندرونی حصہ— فوٹو ابوبکر شیخ

درگاہ کی چھت پر شیشے کا کام کیا گیا ہے— فوٹو ابوبکر شیخ
درگاہ کی چھت پر شیشے کا کام کیا گیا ہے— فوٹو ابوبکر شیخ

اس درگاہ کی تعمیر 782 ہجری (1380) میں سمہ حاکم ’جام جونو‘ نے کروائی تھی۔ یہ وہی جام جونو تھا جو ’دہلی سلطنت‘ کا وفادار تھا۔ دہلی کی شاہی احکامات اور پالیسیوں کو سندھ میں لاگو کرنے اور اُن پر عمل کروانے میں اُس کا بڑا پُرجوش کردار رہا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دہلی سلطنت کی درباری زبان فارسی تھی۔ ’جام جونو‘ نے پہلی بار اس زبان کو سندھ کے دربار، تعلیم و تدریس میں لاگو کیا۔ اس بات کا ثبوت ہمیں اس درگاہ میں لگے کُتبے سے مل جاتا ہے۔ ڈاکٹر غلام علی الانا کے مطابق اصلی کتبہ اس وقت سندھ پراونشل میوزیم حیدرآباد میں موجود ہے، جبکہ درگاہ میں موجودہ لگا ہوا کتبہ اصل کتبے کی ہوبہو نقل ہے۔

مکلی کے قرب و جوار میں 1229 برس قدیم قبر ہمیں شاید نہ مل سکے اور تعمیر کے حوالہ سے بھی یہ مقبرہ 637 برس قدیم ہے جو اپنی بناوٹ اور تزئین کے حوالہ سے اپنی ایک الگ اہمیت رکھتا ہے اور اپنے اطراف میں اتنا قدیم قبرستان ہونے کا اعزاز بھی اس درگاہ کے حصے میں ہی آیا ہے۔

کہتے ہیں کہ یہ بزرگ زندگی کے آخری برسوں میں اپنے مُریدوں کے ساتھ اس پہاڑی پر آکر رہے اور بہت بڑی عمر پائی۔ ان برسوں میں کُچھ کرامات کی بازگشت سُنائی دیتی ہے۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ ایک دن درویش اپنے مریدوں اور خلیفوں کے ساتھ بیٹھے تھے، عمر بڑی تھی اس لیے آنکھوں کے پپوٹے بڑے ہوکر لٹکتے رہتے تھے، پہاڑی کے قریب سے دریا بہتا تھا، جس میں کشتیاں سفر کرتی تھیں۔ ایک دفعہ دشمن ایک بڑے جہاز پر حملہ کرنے کی نیت سے گُجو کی طرف آئے۔ مُریدوں اور خلیفوں نے جہاز کو دیکھ کر درویش کو اطلاع دی۔

یہ سُن کر، ابوتُراب نے کہا ’میں دیکھوں؟‘ آنکھوں کے پپوٹے اُٹھاتے ہوئے شیخ نے جہاز کو دیکھ کر کہا ’یہ تو کُچھ بھی نہیں ہے۔‘ بس یہ کہنے کی دیر تھی کہ جہاز وہاں پتھر کا ہوگیا اور دشمن جہاز سے کُود کر بھاگ گئے۔ لوگ آپ کو دوسری چھوٹی پہاڑی کے طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بھی کہیں گے ’وہ رہا جہاز۔‘ پھر آپ اُس پہاڑی میں پتھرائے ہوئے جہاز کو ڈھونڈنے لگتے ہیں۔

اس مچھلی کا کانٹا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ شیخ ابو تراب سوار ہو کر سندھ آئے تھے۔— فوٹو ابوبکر شیخ
اس مچھلی کا کانٹا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ شیخ ابو تراب سوار ہو کر سندھ آئے تھے۔— فوٹو ابوبکر شیخ

مچھلی کے اس کانٹے کو شفا بخش قرار دیا جاتا ہے۔— فوٹو ابوبکر شیخ
مچھلی کے اس کانٹے کو شفا بخش قرار دیا جاتا ہے۔— فوٹو ابوبکر شیخ

درگاہ میں رکھے ہوئے منت کے جھولے۔— فوٹو ابوبکر شیخ
درگاہ میں رکھے ہوئے منت کے جھولے۔— فوٹو ابوبکر شیخ

یہ کہانی آپ کو ایک عام سی کہانی لگ سکتی ہے۔ مگر یہ کہانی اپنے اندر میں 22 صدیوں کی ایک قدیم تاریخی حقیقت چُھپائے ہوئے ہے۔ لوک کہانی میں ایک بڑے دشمن اور اُس کی فوج اور بڑے پانی کے بیڑے کا ذکر ہے۔ میں سوچتا ہوں حقیقتیں کیسے کیسے روپ لے کر صدیوں تک سفر کرتی ہیں۔ میں حیران ہوں یہ سارے مناظر قبل مسیح زمانہ کے ہیں اور تقریباً 22 صدیاں گزر جانے کے بعد بھی لوگوں کے حافظے میں محفوظ ہیں۔ چلیے اس کہانی کی حقیقت جاننے کے لیے ان گزری صدیوں کا ایک مختصر سا سفر کرتے ہیں۔

مقدونیہ کے بادشاہ فلپ کا ایک ہی بیٹا تھا وہ بھی اُس عورت (اولمپیا) کی کوکھ سے جس سے اس کی کبھی نہیں بنی۔ وہ اپنے میاں کی مخالفت ہی کرتی رہی جب تک فلپ دوم 336 (ق۔م) میں قتل نہیں کردیا گیا۔ باپ کے بعد جب سکندرِ اعظم تخت پر بیٹھا تو ماں کے کہنے پر اپنے نزدیکی رشتے داروں کو قتل کروا دیا یہاں تک کہ اپنی دودھ پیتی بہن کو بھی مار ڈالا۔

سکندرِ اعظم 20 جولائی 356 (ق۔م) میں پیدا ہوا اور 10 جون 323 (ق۔م) میں ملیریا کے شدید حملے کی وجہ سے وہ اپنے حواس کھو بیٹھا اور مرگیا۔ کچھ حوالے یہ بھی کہتے ہیں کہ ’رخسانہ‘ (Roxana) جو اُس کی محبوب بیوی تھی اور باختر سے تعلق رکھنے والی ایرانی شہزادی تھی اُس نے اُسے زہر دیا تھا۔

بہرحال ان 33 برسوں کی چھوٹی سی عمر میں اُس نے بہت سارے علاقوں پر اپنی حکومت قائم کی۔ مگر ایک بدقسمتی جو ان دونوں باپ بیٹوں کے ساتھ رہی وہ یہ تھی کہ، ان دونوں نے جہاں بھی نئے علاقے فتح کئے وہاں کچھ وقت کے بعد شورش جنم لیتی اور بغاوت کی آگ میں ان کی محنت جل جاتی ۔ وہ پھر سے اُس ملک یا علاقے کو فتح کرنے کے لیے پریشان رہتے۔ سکندر کو سندھ میں بھی کچھ ایسے سخت حالات سے نمٹنا پڑا۔

وہ درخت جس پر عقیدت مند نومولود بچوں کے کٹے ہوئے بال باندھتے ہیں— فوٹو ابوبکر شیخ
وہ درخت جس پر عقیدت مند نومولود بچوں کے کٹے ہوئے بال باندھتے ہیں— فوٹو ابوبکر شیخ

درگاہ میں موجود فارسی میں تحریر شدہ کتبہ— فوٹو ابوبکر شیخ
درگاہ میں موجود فارسی میں تحریر شدہ کتبہ— فوٹو ابوبکر شیخ

’دارا کودومنیس‘ نے جب سکندر سے جنگ کے لیے آخری مورچہ سنبھالا تو اُس جنگ کے لیے فوجی اور ہاتھی وادیءِ سندھ سے مدد کے طور پر بھیجے گئے تھے اور ’اربیلا‘ والی تباہ کُن جنگ میں وہ دارا کے ساتھی تھے۔ دارا کی اس جنگ میں ہار ہوئی اور 6 ماہ کے بعد اُسے اپنے ہی لوگوں نے قتل کردیا۔ دارا ایک شہنشاہ تھا۔ مگر اولاد کا سُکھ اُس کے نصیبوں کے آنگن میں کبھی نہیں اُگا۔ شاید اسی لیے تاریخ کے صفحات میں ہمیں اُس کا جو آخری جملہ پڑھنے کو ملتا ہے، اُس پر یقین کرنے کو جی چاہتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اُس نے مرتے ہوئے کہا تھا کہ

’ایران کی شہنشاہیت میرے بعد سکندر کے ہاتھوں میں جا رہی ہے اس لیے میں پریشان نہیں ہوں۔‘

لیمبرک لکھتے ہیں کہ

’یہ حقیقت ہے کہ شمال کی طرف کتنی بھی تبدیلیاں آئی ہوں مگر سندھ کا سارا علاقہ سمندر تک ’ہخامنشی‘ (قدیم فارسی) شہنشاہوں کی بالادستی میں رہا اور تب تک رہا جب تک ان کی بادشاہی اختتام کو نہ پہنچی۔‘

سکندر ہندوکش پار کرکے 326 (ق۔م) میں ’اوھند‘ کی جگہ سے دریائے سندھ کو پار کرکے ٹیکسلا پہنچا۔ ٹیکسلا کے بادشاہ ’امبھی‘ نے کوئی جنگ نہیں کی۔ جہلم پار کرکے اُس کی ’پورس‘ کے ساتھ جنگ ہوئی جس میں وہ کامیاب ہوا مگر پھر وہ پورس کا اچھا دوست بن گیا اور حکومت واپس پورس کو سونپ دی۔

سکندر کی آخری منزل ’مُگدھ‘ کی بادشاہی اور اُس سے آگے مشرقی سمندر تھا۔ مگر اُس کی فوج نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے سکندر کو مجبوراً واپس لوٹنا پڑا۔ اُس کی واپسی کا راستہ سہون سے ہوتا ہوا ’پٹالا‘ (حیدرآباد کے جنوب مشرق میں ایک بڑی مرکزی بندرگاہ اور شہر) اور وہاں سے بحیرہ عرب کے راستے واپس مصر جانا تھا۔ اس لیے سکندر نے دریائی سنگم سے سمندر تک والے علاقے کو اپنی شہنشاہیت کے ایک صوبہ کی حیثیت دے دی تھی جس کا گورنر ’پیتھان ولد اگینور‘ مقرر کردیا تھا۔

پٹالا پہنچ کر سکندر کو اندازہ ہوا کہ مقامی لوگ اُسے کسی بھی حالت میں ماننے کو تیار نہیں۔ اگر کسی علاقے کا کوئی حکمران، سکندر کو اپنا حاکم مان بھی لیتا تو سکندر کے دوسرے علاقے میں جانے کے بعد باغی ہوجاتا۔ اس کیفیت نے سکندر کو بہت پریشان کیا۔

مگر سکندر یہ سوچ کر آیا تھا کہ اُسے دریائے سندھ کو سمندر میں داخل ہوتا دیکھنا ہے۔ اس بات کا ذکر اُس نے اُن خطوط میں بھی کیا جو وہ اپنی ماں کو اس سفر کے دوران لکھتا رہا تھا اور وہ اپنا بحری قافلہ ’نیرکوس‘ کی کمان میں یہاں سے روانہ کرنا چاہتا تھا اور خود اسے لسبیلہ سے ہوتا ہوا بلوچستان سے ایران کی طرف نکلنا تھا۔ یہ سب اس نے سوچ رکھا تھا اور سکندر کو کامیاب بھی شاید اسی سوچ نے کیا تھا کہ ایک دفعہ جو سوچ لو تو پھر اُس پر عمل کرو چاہے اُس میں کتنی ہی مشکلات کیوں نہ درپیش آئیں۔

اسی زمانہ میں دریائے سندھ پٹالا کے مقام سے دو بڑی شاخوں میں بٹ جاتا تھا۔ ایک مغربی شاخ جو ٹھٹھہ سے ہوتے ہوئے جنوب کی طرف سمندر میں جا گرتی۔ ’ایچ۔ ٹی۔ لیمبرِک‘ کے مطابق یہ مغربی بہاؤ ٹھٹھہ کے قریب سے بہہ کر شاہ بندر کے اطراف میں سمندر میں جا گرتا۔ لیمبرک کہتے ہیں

’ایرین نے جس کو ’کلوٹا‘ جزیرہ کہا ہے وہ موجودہ ’ابن شاہ ٹکر‘ والی پہاڑیاں ہیں۔‘

آپ ٹھٹھہ اور سجاول سے جنوب کی طرف چل کر ’چوہڑ جمالی‘ کے چھوٹے شہر سے ہوتے ہوئے جنوب کی طرف سفر کرتے ہیں تو کچھ کلومیٹر کے فاصلے کے بعد آپ کو ابن شاہ کی ٹکریاں نظر آنے لگتی ہیں۔ یہ وہ ہی سمندر میں موجود کلوٹا جزیرہ تھا جہاں میٹھا پانی بھی اس لیے موجود تھا کہ سکندر اعظم اُن مہینوں میں یہاں آیا تھا جب پہاڑوں پر سے برف پگھلتی ہے اس لیے دریائے سندھ میں بے تحاشا پانی ہوتا ہے۔

کلوٹا جزیرہ— فوٹو ابوبکر شیخ
کلوٹا جزیرہ— فوٹو ابوبکر شیخ

کلوٹا جزیرے پر موجود ابن شاہ کی پہاڑی— فوٹو ابوبکر شیخ
کلوٹا جزیرے پر موجود ابن شاہ کی پہاڑی— فوٹو ابوبکر شیخ

ابن شاہ درگاہ — فوٹو ابوبکر شیخ
ابن شاہ درگاہ — فوٹو ابوبکر شیخ

سکندر نے ساتھ لائے ہوئے بیڑوں کو ’کلوٹا‘ جزیرے پر لنگر گرانے کے لیے کہا اور خود آگے سمندر میں گیا جہاں اُسے دوسرا جزیرہ نظر آیا۔ پھر وہاں سے اُس نے دریائے سندھ کو سمندر میں ملتے دیکھا اور پھر اِسی کلوٹا جزیرے پر آیا جہاں مہاساگر کے دیوتا ’پوسیڈان‘ کو راضی کرنے کے لیے بیلوں کی قربانی دی اور سونے کے پیالوں میں شراب بھر کر اُس شراب کو نذرانے کے طور پر سمندر میں اُنڈیلا اور ساتھ میں سونے کے پیالے بھی سمندر کو بھینٹ کیے ساتھ میں ’پوسیڈان‘ سے گزارش کی کہ وہ ’نیرکوس‘ کی نگہبانی میں اُس سفر کو کامیاب کرے جو دریائے سندھ سے شروع ہوکر سمندر کے راستے دجلہ و فرات تک پہنچنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

میں ان پہاڑیوں پر کئی بار گیا ہوں اور اس احساس کے ساتھ گیا ہوں کہ سکندر اعظم ایک زمانے میں یہاں آیا ہوگا۔ یہاں بھی ایک دشمن اور لکڑی کے شیر کے متعلق لوک کہانی ہے۔ لیکن وہ پھر کبھی آپ کو ضرور سناؤں گا۔ لیکن اب اُس پہاڑی پر چلتے ہیں جو درگاہ ابو تراب کے مشرق میں ہے۔ جب سکندر ’نیرکوس‘ کو پٹیالا میں چھوڑ کر مغرب میں بلوچستان کی طرف نکل پڑا تو پٹالا میں سکندر کے خلاف بغاوت پھوٹ پڑی۔ حالات خراب ہوگئے اور موسم بھی کوئی بہتر نہیں تھا جس میں دریائی سفر کیا جاسکے۔ مگر حالات قابو سے باہر ہوگئے تو نیرکوس نے مجبوراً اپنے دریائی سفر کی ابتداء کی۔

’لیمبرک‘ کے مطابق یہ سفر مشرق سے مغرب کی طرف تھا۔ وہ سفر کرتا ہوا اُس جگہ پہنچا جس کو ’بباکتا‘ (Bibakta) جزیرہ یا ان دنوں میں ’گُجو تھرڑ‘ کہتے ہیں۔ یہ پہاڑیاں ایسی ہی ہیں جیسی نیرکوس کے زمانے میں رہی ہوں گی۔ ان پہاڑیوں میں تبدیلی اس لیے نہیں آئی ہوگی کہ یہ آتشی (Volcanic) نہیں ہیں۔ البتہ سمندر کا کنارہ یا پُرانے بہاؤ ضرور تبدیل ہوئے ہوں گے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں موسم کی خرابی کی وجہ سے ’نیرکوس‘ ایک ماہ سے بھی زیادہ کا عرصہ یہاں رُکا رہا۔

ابن شاہ ٹکر— فوٹو ابوبکر شیخ
ابن شاہ ٹکر— فوٹو ابوبکر شیخ

سندھ میں سکندرِ اعظم کی آمد اور روانگی کا نقشہ — کری ایٹو کامنز
سندھ میں سکندرِ اعظم کی آمد اور روانگی کا نقشہ — کری ایٹو کامنز

یونانی سپاہیوں کے بنائے گئے نشانات— فوٹو ابوبکر شیخ
یونانی سپاہیوں کے بنائے گئے نشانات— فوٹو ابوبکر شیخ

نیرکوس جب یہاں رُکا تھا تب اس جزیرے کے شمال مشرق میں سے دریائے سندھ کا بہاؤ شور مچاتا گزرتا تھا اور حدِ نظر تک ہریالی نظر آتی تھی۔ یہ بڑا پُرفضا مقام تھا۔ پُرفضا ہونے کا اعزاز اب بھی اس پہاڑی کو حاصل ہے۔ البتہ دریا کا بہاؤ، ہریالی اور جزیرے کا اعزاز البتہ اب اس پہاڑی کے پاس نہیں رہا۔ یہاں اب بس رہ گئی ہیں یونانی سپاہیوں کی کچھ پتھروں پر تراشیدہ نشانیاں جو اُن دنوں کی یاد ضرور دلاتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ یونانی فوج کے مختلف یونٹوں کے نشانات ہیں جو یونانی سپاہیوں نے یہاں آرام کے دنوں میں پتھروں پر تراشے تھے۔

آپ اگر ان نشانوں والی پہاڑی سے مشرق جنوب والی پہاڑی کو دیکھیں گے تو وہ پہاڑی آپ کو ایک بڑے پانی کے جہاز کی طرح لگے گی اور اسی طرح تصور کی آنکھ، حقیقت، آثاروں اور مناظر نے مل کر یہ لوک کہانی تخلیق کی جو آج تک لوگ بڑے اعتماد اور احترام سے لوگوں کو سناتے ہیں اور صدیوں تک سناتے رہیں گے۔


ابوبکر شیخ آرکیولاجی اور ماحولیات پر لکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے لیے فوٹوگرافی اور ریسرچ اسٹڈیز بھی کر چکے ہیں۔

ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔