پانی کا خیال رکھیے، کیونکہ یہ ہماری معیشت کا خیال رکھتا ہے

اپ ڈیٹ 02 فروری 2018

ای میل

پانی نے انسانی ترقی اور ارتقاء میں ہمیشہ سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی تمام بڑی تہذیبوں نے پانی ہی کے کنارے جنم لیا اور یہیں پروان چڑھیں۔ دنیا کے تمام بڑے دریاؤں نے اپنے پانی سے انسانیت اور ماحول کی خدمت کی اور تہذیبوں کے ارتقاء میں مدد فراہم کی۔ دنیا میں بہت کم ممالک ایسے ہیں جنہیں قدرت نے دریائے سندھ جیسے بڑے دریاؤں سے نوازا ہے اور ڈیلٹا کی شکل میں ایک علیحدہ تہذیب، معاش اور حیاتیاتی تنوع کے لیے زرخیز مسکن فراہم کیا ہو۔

آج دنیا بھر کی معیشت پانی ہی کا طواف کررہی ہے، اسی لیے آج کل معاشیات کے شعبے میں آب برائے معاشی ترقی یعنی ’واٹر اکانومی‘ جیسی اصطلاح عام ہوتی جارہی ہے۔ واٹر اکانومی کی اصطلاح کا مطلب دراصل معیشت کے تمام شعبوں کی ترقی کے لیے پانی کے وسائل کو استعمال کرنا ہے لیکن اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ ترقی کے لیے دریا کا تمام پانی دریا سے نکال کر استعمال کرلیا جائے۔

انسان نے اپنی نام نہاد ترقی کے نام پر فطری ماحول میں مداخلت کرکے جو تباہی اور بربادی مچائی ہے آج اسی کے طفیل ماحولیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) نامی بلا انسانیت کے درپے ہوچکی ہے اور اب انسانیت کا اپنا وجود بقاء کی لڑائی لڑنے میں مصروف عمل ہے۔ ایسے میں یہ نظریہ تقویت پارہا ہے کہ فطرت سے چھیڑ چھاڑ بند کی جائے اور فطرت کو اس کے راستے پر چلنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

آج دنیا بھر کی معیشت پانی ہی کا طواف کررہی ہے—ڈاکٹر حسن عباس
آج دنیا بھر کی معیشت پانی ہی کا طواف کررہی ہے—ڈاکٹر حسن عباس

کیٹی بندر—ڈاکٹر حسن عباس
کیٹی بندر—ڈاکٹر حسن عباس

مثلاً دریاؤں پر بڑے بڑے ڈیم بنانا، نہریں نکالنا یا ان کا رخ موڑنا اب بند کردیا جائے۔ دریا کو اس کے قدرتی راستے پر چلنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ لیکن جب یہ رائے دی جائے تو پہلا سوال یہی اُٹھتا ہے کہ پھر معیشت ترقی کیسے کرے؟ اِس سوال سے انکار نہیں، بلکہ یہ سوال تو اُٹھنا ہی چاہیے۔ لیکن ضروری ہے کہ اس سوال کا جواب بھی ہمارے پاس ہو، اُسی جواب کے حصول کے لیے ہم آبی امور کے ماہر ڈاکٹر حسن عباس سے بات کرتے ہیں۔

پڑھیے: قزبانو کا گاؤں: جہاں پانی اور علم کی شدید پیاس ہے

ڈاکٹر حسن عباس ماہر آبی امور ہیں، انہوں نے ہائیڈرولوجی اینڈ واٹر ریسورسز میں مشی گن اسٹیٹ امریکا سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب ایک منفرد نقطہءِ نظر کے حامل ہیں۔ ان کی تازہ تحقیق ’واٹر اکانومی‘ کے حوالے سے ہے۔ ڈاکٹر حسن عباس سے کی گئی گفتگو کو ہم مضمون کی شکل میں پیش کررہے ہیں تاکہ تسلسل نہ ٹوٹے۔

ماحولیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) نامی بلا انسانیت کے درپے ہوچکی ہے اور اب انسانیت کا اپنا وجود بقاء کی لڑائی لڑنے میں مصروف عمل ہے—ڈاکٹر حسن عباس
ماحولیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) نامی بلا انسانیت کے درپے ہوچکی ہے اور اب انسانیت کا اپنا وجود بقاء کی لڑائی لڑنے میں مصروف عمل ہے—ڈاکٹر حسن عباس

آب برائے معاشی ترقی کے حوالے سے ایک بار پھر اپنی بات کا اعادہ کریں گے کہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دریا کا سارا پانی نکال کر معاشی ترقی کے لیے استعمال کرجائیں۔ اس اصطلاح کا مطلب یہ ہے کہ دریا یا دیگر آبی وسائل کے پانی کے ساتھ کچھ نہیں کیا جائے بلکہ صرف ان کے ارد گرد کے ماحول کو ترقی دی جائے جس کی قدر و قیمت پانی کے قریب رہنے سے بڑھ جاتی ہے۔ ہم آب برائے معیشت اور پانی کی افادیت (واٹر ایفیشنسی) کو ملا کر معجزے بپا کرسکتے ہیں۔

اِس بات سے تو کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ قدرت نے پانی میں بڑی کشش رکھی ہے اور لوگ اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں، ہمیں تو صرف آبی انتظامات بہتر کرنے ہیں اور یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں۔ اس حوالے سے ہمیں کوئی ایجادات بھی نہیں کرنی ہیں، بلکہ جو ممالک آبی انتظامات میں بہتر ہیں ان کے نمونے ہم استعمال کرسکتے ہیں۔ واٹر اکانومی کا مطلب پانی کے گرد ایک اکنامک انجن تخلیق کرنا ہوتا ہے اور پھر معیشت کا پہیہ خود بخود چل پڑتا ہے۔

ہر سال قدرت گلیشیئر اور بارشوں کے ذریعے 180 بلین کیوبک میٹر پانی ہمارے دریاؤں میں لے کر آتی ہے جسے ہم استعمال کرتے ہیں۔ اب ہمیں دیکھنا یہ ہوگا کہ ہم اپنی معیشت میں اس پانی کے ذریعے کتنا پیسہ پمپ کرتے ہیں؟ موٹی سی تعریف یہ بھی ہے کہ ایک ملک نے زراعت، واٹر کامرس، سیاحت اور ریئل اسٹیٹ کو کتنی ترقی دی اور ملک میں کتنا پیسہ آیا؟ پانی دراصل ایک ذریعہ ہے پیسہ بنانے کا۔ معاشی انجن کیسے تخلیق ہوتے ہیں اس کی ایک چھوٹی سی مثال دیکھ لیں۔

کھارو چھان، ٹھٹھہ—ڈاکٹر حسن عباس
کھارو چھان، ٹھٹھہ—ڈاکٹر حسن عباس

پانی سے قریب ہونے کی بھی ایک قدر و قیمت ہوتی ہے مثلاً شمالی علاقہ جات میں دو جھیلیں ہیں، اپر کچورا اور لوئر کچورا، جسے شنگھریلا جھیل بھی کہتے ہیں۔ آپ نے اس جھیل کے پانی کے ساتھ کچھ نہیں کیا بلکہ صرف اس کے گرد ایک پکنک پوائنٹ بنادیا۔ اِس چھوٹے سے کام کا فائدہ یہ ہوا کہ وہاں سیاح آنا شروع ہوگئے اور جھیل میں کشتی رانی اور اردگرد کھانے پینے کے چھوٹے موٹے کاروبار شروع ہونے کی وجہ سے وہاں لوگوں کو کچھ روزگار میسر آگیا۔ گویا اس جھیل کی وجہ سے وہاں ’اکنامک انجن‘ وجود میں آگیا اور معاشی سرگرمیاں شروع ہوگئیں۔ یہاں ایک بار پھر غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ سارے کام جھیل کے پانی کو چھیڑے بغیر ہوئے ہیں، لیکن اگر وہاں جھیل نہیں ہوتی تو کیا یہ معاشی سرگرمیاں کسی میدان میں شروع ہوسکتی تھیں؟ لہٰذا یہ ثابت ہوا کہ پانی کی کشش بہت جلد لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔

کچورا جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
کچورا جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری

کچورا جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
کچورا جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری

کچورا جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری
کچورا جھیل — فوٹو سید مہدی بخاری

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاحت زیادہ تر پانی یا آبی ذخائر کے کنارے کی جاتی ہے۔ سمندر، دریا، ندی نالے، چشمے اور ان کے اردگرد کے خوبصورت نظارے سیاحوں کا مرکز نظر ہوتے ہیں۔ ہمارے شمالی علاقہ جات کی ساری سیاحت جھیلوں، آبشاروں، دریاؤں اور برف پوش پہاڑوں اور گلیشئرز کے گرد گھومتی ہے۔

سیاحت کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ’سسٹین ایبل ٹورزم فاؤنڈیشن‘ کے سربراہ رانا آفتاب کے مطابق صرف غیر ملکی سیاحوں کی آمد کا حجم معیشت میں سالانہ 300 ملین امریکی ڈالرز میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اسی تنظیم کے مطابق پاکستان میں مقامی سطح پر بھی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق اس سال 10 لاکھ سیاحوں نے گلگت بلتستان کی سیر کی۔ اتنی ہی تعداد میں سیاحوں نے کاغان کا بھی رخ کیا، جبکہ پاکستان کے سوئٹزرلینڈ سوات کی جانب 8 لاکھ سیاح گئے۔ آزاد کشمیر کی وادی نیلم کی جانب بھی سیاحوں کی ریل پیل دیکھی گئی اور آنے والے سیاحوں کا تخمینہ 8 سے 9 لاکھ رہا۔ اگرچہ ملکی سیاحت کے حوالے سے درست اعداد و شمار میسر نہیں ہیں لیکن رانا آفتاب کے مطابق مقامی سیاحوں سے سالانہ اندازاً 600 ملین ڈالرز کی آمدنی ہوتی ہے۔

کھارو چھان، ٹھٹھہ—ڈاکٹر حسن عباس
کھارو چھان، ٹھٹھہ—ڈاکٹر حسن عباس

معیشت کی ترقی کبھی فطرت کے مخالف سمت نہیں ہوسکتی۔ ہم فطرت سے جتنا دور ہوں گے اتنے ہی نقصان میں رہیں گے۔ آئیے اپنے آبی وسائل کو برباد کرنے کی ایک منفی مثال دیکھتے ہیں۔ یہ مثال راولپنڈی میں بہنے والے نالہ لئی کی ہے جو کبھی قدرتی پانی کی صاف شفاف گزرگاہ تھا۔ جسے اب ہم نے سیوریج اور ٹھوس کچرے کا مسکن بنا دیا ہے۔ حالانکہ اگر ہم چاہتے تو اسے جاذب نظر آبی وسیلہ بنا سکتے تھے، اس کے گرد بھی اکنامک انجن تشکیل دے کر اسے معاشی سرگرمیوں کا حامل بنا دیتے۔ لیکن ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔

مزید پڑھیے: پانی کی کمی اور پاکستان کا مستقبل

نالہ لئی کے حوالے سے کیا کچھ ہوسکتا ہے اس پر بات کرنے سے پہلے کوریا کی ایک نہر سے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا منظر نامہ بہت حد تک نالہ لئی جیسا ہے۔ کوریا کے دارالحکومت سیول میں ایک نہر ہے جس کا نام چینگی ہونگ یانگ ہے۔ آج سے 50 سال پہلے اس کی حالت بالکل نالہ لئی جیسی تھی۔ اس کا صاف پانی خواب و خیال ہوچکا تھا۔ ارد گرد قصائیوں کی دکانیں تھیں، قصائی دکانوں کا گند کچرا اور آلائشیں سبھی اس نہر میں پھینک دیتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی لوگوں نے بھی کچرا ڈالنا شروع کردیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ بدبو کے باعث یہاں سے گزرنا محال تھا۔ حکومت نے اسے سیمنٹ کے اینٹیں رکھ کر بند کرنے سمیت کئی طریقے آزمائے کہ کسی طرح بدبو سے کچھ نجات حاصل کی جاسکے، مگر حکومت کی ہر ترکیب ناکام ہوگئی۔

سیئول کی نہر چینگی ہونگ یانگ—ڈاکٹر حسن عباس
سیئول کی نہر چینگی ہونگ یانگ—ڈاکٹر حسن عباس

نہر کے ارد گرد واقع قصائیوں کی دکانیں تھیں، قصائی دکان کا گند کچرا اور آلائشیں سبھی اس میں پھینک دیتے تھے—ڈاکٹر حسن عباس
نہر کے ارد گرد واقع قصائیوں کی دکانیں تھیں، قصائی دکان کا گند کچرا اور آلائشیں سبھی اس میں پھینک دیتے تھے—ڈاکٹر حسن عباس

معاملہ یہ ہے کہ اِس حقیقت سے منہ نہیں موڑا جاسکتا کہ ہم فطرت سے جتنے دور چلے جاتے ہیں مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ لہٰذا کسی عقل مند نے حکومت کو یہ مشورہ دیا کہ اس نہر کو اپنی اصل صورت میں بحال کردیا جائے۔ اس کام کو کرنے کے لیے قصائیوں کو دوسری جگہ دکانیں دے دی گئیں اور اس نہر میں دوبارہ صاف پانی کی روانی کو بحال کیا گیا۔

اس نہر کی دونوں جانب سڑک ہے، اور جب نہر میں پانی کم ہوتا ہے تو سیاح ننگے پاؤں وہاں چہل قدمی کرتے ہیں، بچوں کے لیے وہاں واٹر اسپورٹس کا سلسلہ شروع بھی کردیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ سیول جانے والا کوئی سیاح ایسا نہیں ہے جو اس جگہ نہیں جاتا ہو۔ تو ایک بار پھر غور طلب بات یہ ہوئی کہ وہاں بھی پانی کو چھیڑنے کے بجائے اسے اس کی اصل شکل میں بحال کیا گیا، اور تھوڑی سی محنت اور حکومتی خلوص کے سبب وہ نہر جو نالا بن چکی تھی، اب وہ ایک بار پھر خوبصورت سیاحتی مقام بن چکی ہے، اور اُس کے اردگرد معاشی سرگرمیوں نے بھی تیزی پکڑلی ہے۔ جبکہ وہاں سے بدبو کا بھی مکمل خاتمہ ہوگیا۔

قصائیوں کی دکانیں دوسری جگہ منتقل کرنے کے بعد نہر میں دوبارہ صاف پانی کی روانی کو بحال کیا گیا—ڈاکٹر حسن عباس
قصائیوں کی دکانیں دوسری جگہ منتقل کرنے کے بعد نہر میں دوبارہ صاف پانی کی روانی کو بحال کیا گیا—ڈاکٹر حسن عباس

سیئول کی نہر بحالی کے بعد—ڈاکٹر حسن عباس
سیئول کی نہر بحالی کے بعد—ڈاکٹر حسن عباس

تھوڑی سی محنت اور حکومتی خلوص کے سبب وہ نہر جو نالا بن چکی تھی، اب وہ ایک بار پھر خوبصورت سیاحتی مقام بن چکی ہے—ڈاکٹر حسن عباس
تھوڑی سی محنت اور حکومتی خلوص کے سبب وہ نہر جو نالا بن چکی تھی، اب وہ ایک بار پھر خوبصورت سیاحتی مقام بن چکی ہے—ڈاکٹر حسن عباس

بالکل یہی مسئلہ نالہ لئی کا ہے۔ اتنے بڑے آبی زخیرے کو ہم نے کچرا اور کوڑا ڈال ڈال کر اپنے ہاتھوں تباہ کردیا ہے۔ (کراچی میں ملیر ندی اور لیاری ندی بھی ایسی ہی مثالیں ہیں)۔ ان نالوں کو ان کی اصل شکل میں بحال کرنے کا آسان راستہ یہی ہے کہ اسے ویسا ہی کردیں جیسے قدرت اسے چلاتی تھی۔ اس میں کچرا اور سیوریج کا پانی ڈالنا بند کردیں، صاف پانی کو بحال کردیں۔ اردگرد سبزہ لگادیں، اس کی ڈھلوان پر ہریالی ہو، درمیان میں سائیکل اور پیدل چلنے والوں کے ٹریکس ہوں، اردگرد سایہ دار درخت بھی لگائے جاسکتے ہیں۔ اِن کے اردگرد کھانے پینے کی دکانیں ہوں، چائے، کافی، آئس کریم ملتی ہو۔ اگر ان کو ان کی اصل صورت میں بحال کردیا جائے تو ہم دیکھیں گے کہ یہ عذاب بن جانے والی جگہ رحمت بن جائے گی۔ ایک معاشی انجن وجود میں آئے گا اور معیشت کا پہیہ چل پڑے گا۔

کچورا جھیل اور نالہ لئی تو صرف دو مثالیں ہیں۔ آفتاب رانا کے مطابق پاکستان میں چھوٹے بڑے کم و بیش 100 کے قریب دریا اور جھیلوں کی تعداد کم از کم 200 ہیں۔ اب واٹر اکانومی کے تحت ان چھوٹے بڑے دریاؤں اور جھیلوں کے حوالے سے ایک حکمت عملی بنائیں اور اس ترقیاتی حکمت عملی کے ذریعے ان کے گرد اکنامک انجن تخلیق کرکے وہاں تمام سہولیات فراہم کردیں۔ پھر دیکھیں کہ سیاحت اور معیشت کیسے ترقی کرتی ہے۔

یہ تو معیشت کا ایک جز سیاحت تھا جس کی ترقی کے لیے ہمارے پاس وافر مقدار میں دریا، جھیلیں اور دیگر آبی وسائل موجود ہیں۔ اسی طرح دنیا بھر کی طرح ہم اپنی پراپرٹی کے شعبے کو بھی پانی سے ہم آہنگ کرکے ترقی دے سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں ایسی جائیدادیں مہنگی تصور کی جاتی ہیں جو دریا، سمندر اور جھیلوں کے قریب ہوں۔ اگرچہ ہمارے ہاں اس کا رجحان ابھی کم ہے لیکن اسے بڑھایا جاسکتا ہے۔ مغلیہ دور کے باغات، بارہ دریاں، محلات اور قلعے دیکھ لیجیے سب کسی نہ کسی نہر یا دریا کے کنارے تعمیر کیے گئے ہیں۔

دریائے سندھ اور ذرائع آمد و رفت

ڈاکٹر حسن عباس کے مطابق دریائے سندھ کی ایک بڑی صلاحیت یا استعداد بطور آبی گزرگاہ ہے۔ واٹر ٹرانسپورٹ یا دریائے سندھ کے ذریعے آمد و رفت ناممکن ہرگز نہیں۔ آبی ذرائع ہمیشہ سستے اور ماحولیاتی لحاظ سے بہت صاف اور محفوظ ہوتے ہیں۔ اس میں کاربن اور دیگر مضرِ صحت گیسوں کا اخراج بہ نسبت روڈ اور ریلوے بہت کم ہوتا ہے۔ گویا اس کا کاربن فٹ پرنٹ بہت کم ہوتا ہے۔

جانیے: پاکستان میں بوتل بند پانی بھی غیر محفوظ؟

دنیا کے وہ تمام ممالک جہاں دریا رواں دواں ہیں وہاں دریاؤں میں آبی ٹریفک چل رہی ہے۔ تحقیق کے مطابق دریائے سندھ میں آبی آمد و رفت کی جو صلاحیت ہے وہ روڈ اور ریلوے کے نیٹ ورک سے 5 سے 10 گنا زیادہ ہے۔ یہ ذریعہ سستا بھی ہوگا اور ماحول دوست بھی۔ اس جدید دور میں اٹلی کا شہر وینس دیکھ لیں۔ کس طرح آبی ذرائع آمد و رفت کو استعمال کرکے سیاحت اور معاش کو ترقی دی گئی ہے۔ روایتی کشتیاں، پرانی بلڈنگز سب چیزوں کو اسی طرح بحال رکھا گیا ہے۔ نہ وہ پانی پر ڈیم بنا رہے ہیں اور نہ پانی کو چھیڑ رہے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پوری ٹؤرزم انڈسٹری کا انجن چل رہا ہے۔ مصر میں ساری تہذیب اور معیشت دریائے نیل کر گرد گھوم رہی ہے۔ اگر مصر سے نیل نکال دیں تو کچھ نہیں بچے گا۔

انسان نے اپنی نام نہاد ترقی کے نام پر فطری ماحول میں مداخلت کرکے تباہی اور بربادی مچائی ہے—ڈاکٹر حسن عباس
انسان نے اپنی نام نہاد ترقی کے نام پر فطری ماحول میں مداخلت کرکے تباہی اور بربادی مچائی ہے—ڈاکٹر حسن عباس

سندھ کی ہزارہا سالہ تہذیب بھی دریائے سندھ ہی کی مرہون منت ہے۔ بڑے بڑے دریاؤں کا ایک حصہ ڈیلٹا بھی ہوتا ہے جسے دریائی ماحولیاتی نظام کا ہیرا کہتے ہیں۔ مگر ہر دریا دریائے سندھ جیسا خوش قسمت نہیں ہوتا ہے کیونکہ اکثر دریاؤں میں آدھا سال ان کے ڈیلٹا میں برف جمی رہتی ہے اور تازے پانی کی فراہمی رک جانے کی وجہ سے تمام معاشی سرگرمیاں رک جاتی ہیں۔ لیکن ہم نے تازہ پانی روک کر خوش قسمتی کی علامت سمجھے جانے والے دریائے سندھ کے ہیرے یعنی اس کے ڈیلٹا کو اپنے ہاتھوں سے تباہ کردیا ہے۔

انگریزوں نے زراعت کے لیے ہیڈ ورکس، بیراج اور نہروں کا نظام بناکر ہمیں دے دیا لیکن اُس وقت جو دریائے سندھ کے ذریعے جو آمد و رفت ہوتی تھی اسے ہم نے تباہ کردیا۔ مورخین کا کہنا ہے کہ اس کی بہت ساری وجوہات میں سے کچھ وجوہات سیاسی بھی تھیں۔ افغانستان سے جنگ ہار کر انگریز نہیں چاہتا تھا کہ افغانستان کے راستے روس کو گرم پانیوں تک رسائی حاصل ہوجائے۔ انگریزوں کو جب شکست ہوئی اور ڈیورنڈ لائن طے ہوئی تو اس میں یہ شق شامل تھی کہ دریائے کابل کو نیوی گیشن کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اس دور میں سروے بھی کیا گیا تھا کہ یہ سروس چل سکتی ہے یا نہیں، کیونکہ کوٹری سے ملتان تک پہلے ہی اسٹیمر سروس چل رہی تھی۔

کیٹی بندر ایک پسماندہ شہر ہے جہاں کے بچوں کے پیروں میں جوتے تک نہیں ہیں—ڈاکٹر حسن عباس
کیٹی بندر ایک پسماندہ شہر ہے جہاں کے بچوں کے پیروں میں جوتے تک نہیں ہیں—ڈاکٹر حسن عباس

ڈاکٹر حسن عباس نے حال ہی میں انڈس ڈیلٹا کا ایک تفصیلی سفر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنوری میں پانی کی کمی ہوتی ہے مگر سجاول کے پل پر اس وقت بھی اچھا خاصا پانی تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کیٹی بندر کی بطور بندرگاہ آج بھی صلاحیت باقی ہے۔ اگرچہ اب یہ ایک پسماندہ شہر ہے جہاں کے بچوں کے پیروں میں جوتے تک نہیں ہیں۔

مگر آج بھی اس بندرگاہ کو بحال کیا جاسکتا ہے اورسینکڑوں بحری جہاز یہاں لائے جاسکتے ہیں۔ پانی ابھی بھی اتنا ہے کہ کشتیاں سامان لے کر جاسکتی ہیں۔ یہاں دس اور بیس والا بارج (کشتی کا اسٹینڈرڈ سائز جس میں کنٹینر آسکتے ہیں) چل سکتے ہیں۔ بہت کچھ ہوسکتا ہے، بس ضرورت ہے صرف ایک حکمت عملی کی جس کے تحت آب برائے معیشت یا واٹر اکانومی کے ذریعے ملک میں آبی وسیلوں کے گرد واٹر انجن تخلیق کیے جائیں تاکہ معیشت کا پہیہ تیز گھوم سکے۔