ای میل

بدیع الزماں: بین الاقوامی سینما میں سب سے زیادہ کام کرنے والا پاکستانی فنکار

خرم سہیل

گزشتہ دنوں فلمی دنیا کے مقبول ترین آسکر ایوارڈز کی 90 ویں تقریب میں پاکستانی نژاد امریکی اداکار کمیل نانجیانی نے اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کرتے ہوئے ایک محبت بھرے بیان سے امریکیوں کے دل جیت لیے۔ بین الاقوامی سینما میں کئی ایسے پاکستانی فنکار ہیں، جنہوں نے شہرت کی بُلندیوں کو چُھوا، جس میں ماضی سے ایک نمایاں مثال ضیاء محی الدین کی ہے۔ اسی طرح کئی ایسے فنکار بھی گزرے ہیں، جنہوں نے مغربی فلم اور ٹیلی وژن کے شعبوں میں محنت اور لگن کے ساتھ کام کرکے اپنا مقام پیدا کیا اور پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہوئے۔ عہدِ حاضر میں فرحان طاہر اور اطہر ملک سمیت متعدد پاکستانی فنکار ہولی وڈ میں اس کی روشن مثال ہیں۔

لیکن ایک فنکار ایسا بھی ہے جس نے اپنے کیرئیر کا آغاز تو پاکستان میں کیا، مگر امریکا، برطانیہ کی فلم اور ٹیلی وژن کی صنعت میں بطور اداکار بے پناہ کامیابیاں حاصل کیں۔ یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہوگی کہ برطانیہ میں بطور پاکستانی اداکار سب سے زیادہ کام کیا، حتیٰ کہ اپنے ہم عصر ضیاء محی الدین سے بھی زیادہ انگریزی فلمی صنعت میں مصروف رہے۔ ٹیلی وژن اور تھیٹر کے ڈراموں میں بھی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ بی بی سی انگریزی اور اردو سروس کے لیے بھی اداکارانہ صلاحیتیں فراہم کیں۔ پاکستان میں بھی جب تک رہے تھیٹر، ریڈیو، ٹیلی وژن اور فلم کے شعبوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہے۔

دیارِ غیر میں اُن کی جدوجہد کا اعتراف کیا گیا مگر پاکستان میں اکثریت کے لیے وہ ایک گمنام فنکار ہیں، ورنہ حکومتی یا عوامی سطح پر اُنہیں ضرور یاد کیا جاتا۔ 2011ء میں اُن کی وفات کے موقعے پر امریکی اور برطانوی اخبارات نے تو اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کیا مگر پاکستانی ذرائع ابلاغ میں سوائے ڈان اخبار کے ہر طرف تقریباً خاموشی رہی۔ اس شاندار فنکار کا نام ’بدیع الزماں‘ ہے۔ آئیے اُن کی ذاتی زندگی اور فنی کیرئیر پر طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں کہ کس طرح وہ ایک مقامی اداکار سے عالمی سطح کے فنکار بننے کے عمل سے گزرے۔ یاد رہے، آج اُن کا جنم دن بھی ہے۔

بدیع الزماں پاکستان میں اکثریت کے لیے وہ ایک گمنام فنکار ہیں۔
بدیع الزماں پاکستان میں اکثریت کے لیے وہ ایک گمنام فنکار ہیں۔

محمد بدیع الزماں اعظمی کے مکمل خاندانی نام کے بجائے، اُن کی شہرت صرف بدیع الزماں کے نام سے ہوئی۔ وہ 8 مارچ 1939ء کو غیر منقسم ہندوستان کی ریاست اُتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے، 1947ء میں والدین کے ساتھ 14 برس کی عمر میں کھوکھراپار کے راستے ہجرت کرکے پاکستان پہنچے۔ والد ریلوے میں ملازم تھے، جن کی وجہ سے لاہور، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں منتقل ہوتے رہے۔

ریڈیو پاکستان، راولپنڈی میں خاندان کے ایک بزرگ عبدالحمید اعظمی پروگرام پروڈیوسر ہوا کرتے تھے، جن کی نگرانی میں انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور 1959ء کو ایبٹ آباد میں رہتے ہوئے گورنمنٹ کالج سے گریجوئیشن کیا۔ 60ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں خود بھی ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوگئے، جبکہ مقامی تھیٹر میں بھی برسوں کام کیا۔ 1964ء میں پاکستان ٹیلی وژن کی آمد کے بعد ٹی وی سے منسلک ہوئے اور نئے اداکاروں کی صفِ اول میں نظر آئے۔

وہ 1964ء میں پاکستان ٹیلی وژن کی آمد کے بعد ٹی وی سے منسلک ہوئے۔
وہ 1964ء میں پاکستان ٹیلی وژن کی آمد کے بعد ٹی وی سے منسلک ہوئے۔

انہوں نے ریڈیو، تھیٹر، ٹی وی اور فلموں میں اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
انہوں نے ریڈیو، تھیٹر، ٹی وی اور فلموں میں اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

بدیع الزماں نے ریڈیو پاکستان میں ریڈیائی ڈراموں میں صداکاری اور اداکاری کے ذریعے پُختہ اداکار ہونے کی علامتیں ظاہر کیں، اور پھر ٹیلی وژن میں اس بات کو بھرپور طور پر ثابت بھی کردیا۔ ٹیلی وژن میں منو بھائی کا لکھا ہوا ڈرامہ ’دروازہ‘ اُن کی بہترین فنکارانہ صلاحیت کی گواہی ہے، جس میں روحی بانو اور آصف رضا میر سمیت دیگر مقبول اداکاروں کے مدِمقابل کام کیا، جبکہ پی ٹی وی میں عارف وقار کے لکھے ہوئے 2 ڈرامے ‘دبئی چلو‘ اور ’گورا بابا‘ میں اپنی فنی صلاحیتوں کا خوب مظاہرہ کیا۔

’دبئی چلو‘ میں بیرون ملک بجھوانے کا جھانسہ دینے والے جعلی ایجنٹ بنے اور علی اعجاز کے مدِمقابل اپنے فن کی بلندی پر نظر آئے۔ ’گورا بابا‘ میں ایک جعلی پیر کا روپ دھارا اور خوب داد سمیٹی۔ پی ٹی وی کے ایک اور مشہور ڈرامے ’تیسرا کنارہ‘ میں راحت کاظمی کے ساتھ شاندار کام کیا۔

میں نے جب ’نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس‘ سے بطور استاد وابستہ مشہور و معروف اداکار راحت کاظمی سے بدیع الزماں کے بارے میں رائے مانگی تو انہوں نے کہا،

’وہ ایک مکمل اور پیشہ ورانہ طور پر نہایت شاندار صلاحیتوں کے مالک تھے، میں نے تیسرا کنارہ لکھا، اُنہیں جو کردار دیا، وہ اُنہوں نے میری توقع سے بھی زیادہ اچھے انداز میں نبھایا، وہ اپنے کام میں سنجیدہ اور عام زندگی میں ایک بذلہ سنج اور زندہ دل آدمی تھے۔‘

70ء کی دہائی کے آخری برسوں میں ٹیلی وژن کے ڈراموں کی کامیابی اُنہیں فلمی دنیا کی طرف لے گئی، جہاں ’انتخاب‘، ’مہمان‘ اور ’حیدر علی‘ جیسی فیچر فلموں کے ذریعے بھی اپنی اداکاری کا ڈنکا بجایا۔

پاکستان میں وہ 80ء کی دہائی کے اختتام تک ٹیلی وژن، فلم اور تھیٹر کے لیے کام کرتے رہے۔ معروف اداکارہ ثمینہ احمد کے مطابق

’ایک تھیٹر کھیل، جس کو الحمرا آرٹ سینٹر میں کھیلا گیا تھا، اُس میں بدیع الزماں بھی اُن کے ساتھی فنکار تھے اور ڈرامے کی ہدایات فاروق ضمیر نے دی تھیں۔‘

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی فرمائش پر منو بھائی نے ایک اسٹیج ڈرامہ ’جلوس‘ لکھا، وہ ڈراما اُن کی سیاسی جدوجہد سے عبارت تھا، اس ڈرامے کو اس وقت کے وزیراعظم نے دیکھا، اس میں بھی بدیع الزماں نے ایک مذہبی رہنما کا مرکزی کردار نبھایا، جس میں وہ جلوس کی منزل کو گمراہ کردیتا ہے۔ اس تھیٹر کے کھیل میں اُن کے ساتھی اداکاروں میں ثروت عتیق، افضال احمد، سلیم ناصر شامل تھے۔

1984ء میں بدیع الزماں ایک پاکستانی فلم ساز سلمان پیرزادہ کی فلم ’میلہ‘ کا حصہ بنے، اُنہوں نے اس فلم میں کئی کردار نبھائے۔ یہ فلم ضیاء الحق کے مارشل لا کے دور میں بن رہی تھی، جس میں مختلف علامتی کرداروں کے ذریعے مارشل لا کی مذمت کی جا رہی تھی۔ ابتدا میں اس فلم کو ایک دستاویزی فلم کہا گیا لیکن درحقیقت وہ ایک فیچر فلم تھی، جس میں مارشل لا کے جبر اور استحصال کو عکس بند کیا گیا تھا۔ اس فلم کے نتیجے میں بدیع الزماں کو گرفتاری کے خطرے کی بدولت ملک سے فرار ہونا پڑا۔ برطانیہ میں عارضی سکونت اختیار کی پھر سیاسی پناہ مل گئی اور اداکاری کا کام بھی، اس سارے سفر میں اُنہیں سلمان پیرزادہ کی معاونت حاصل رہی، جن کی وجہ سے ان کے کیرئیر کا رخ مکمل طور سے تبدیل ہوگیا۔

بدیع الزماں نے پاکستان میں رہتے ہوئے لگ بھگ اپنے 20 سالہ کیرئیر میں تھیٹر اور ریڈیو کے لیے درجنوں اور ٹیلی وژن کے لیے سینکڑوں ڈراموں اور چند فلموں میں کام کیا۔ برطانیہ منتقلی کے بعد ٹیلی وژن کے اشتہارات سے اپنے کیرئیر کی از سر نو شروعات کی۔ برطانیہ میں چار دہائیوں پر مشتمل عرصے میں انہوں نے مختلف فنون کے لیے اپنی جدوجہد کا رُخ متعین کیا، جن میں تھیٹر، ریڈیو، ٹیلی وژن اور فلم کے شعبے شامل ہیں۔

سب سے مختصر کام تھیٹر کے شعبے میں کیا، اُن کا ایک یادگار کھیل ’Guantanamo 'Honor Bound to Defend Freedom‘ تھا، جس میں اُنہوں نے مقامی فنکاروں کے مدِمقابل بڑے اعتماد سے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس کھیل میں ساتھی اداکاروں میں تمام فنکار انگریز تھے، لیکن اُنہوں نے اپنی پاکستانی دور کی اداکاری کے تجربات کی بدولت جلد اپنی قابلیت کو منوا لیا۔ Nicolas Kent اور Sacha نے اس کھیل کی ہدایات دی تھیں اور یہ لندن کے ’ٹرائیسکل تھیٹر ہال‘ میں کھیلا گیا تھا۔ وہ بی بی سی انگریزی اور اردو سروس کے لیے کئی پروگراموں میں مستقل بنیادوں پر فیچر آرٹسٹ کے طور پر شریک ہوتے رہے۔ اس دور میں عارف وقار، ریحان اظہر، سمیت کئی پاکستانی صداکاروں کے اشتراک سے بھی کام کیا۔

انہوں نے متعدد برطانوی ڈرامہ سیریز میں کام کیا۔
انہوں نے متعدد برطانوی ڈرامہ سیریز میں کام کیا۔

بدیع الزماں نے ایک محتاط اندازے کے مطابق، برطانیہ میں چار دہائیوں پر محیط عرصے میں تھیٹر اور ریڈیو کے متعدد منصوبوں میں شریک رہنے کے علاوہ متعدد شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں، جن کے اعداد و شمار حیرت انگیز ہیں۔ مجموعی طور پر چھوٹے بڑے کرداروں کو ملا کر اُنہوں نے تقریباً 56 فلموں میں کام کیا، جس میں اُن کی آخری اور کامیاب فلم ’Another Year‘ سال 2010ء میں ریلیز ہوئی۔

اُن کی دیگر مقبول فلموں میں 2004ء میں ریلیز ہونے والی Eastern Promises اور 2001ء کی فلم The Fourth Angel شامل ہیں۔ 1992ء میں جمیل دہلوی کی فلم Immaculate Conception اور 1991ء میں ریلیز ہونے والی فلم K2 میں بھی اپنی اداکاری سے ناظرین کو متاثر کیا۔

بدیع الزماں ریحان اظہر اور عارف وقار و دیگر کے ساتھ صداکاری کر رہے ہیں—تصویر عارف وقار
بدیع الزماں ریحان اظہر اور عارف وقار و دیگر کے ساتھ صداکاری کر رہے ہیں—تصویر عارف وقار

ہولی وڈ کی چند فلمیں، جن کے لیے برطانیہ سے اداکار شامل کیے گئے، اُن میں بھی بدیع الزماں شامل رہے، البتہ اُنہوں نے کبھی خود شعوری طور پر کوشش نہیں کی کہ ہولی وڈ کی فلموں میں براہ راست کام کریں، مگر برطانیہ میں رہتے ہوئے بھی وہ متعدد امریکی فلموں کا حصہ بن گئے۔ اسی طرح اُنہیں پاکستان اور انڈیا سے بھی فلم ساز اپنی فلموں میں شامل کرنا چاہتے تھے لیکن وہ لندن سے باہر نہیں نکلے، جس کی ایک وجہ ان کی مسلسل مقامی پیشہ ورانہ مصروفیات تھیں اور انہی مصروفیات کی وجہ سے وہ چاہتے ہوئے بھی ایک طویل عرصے تک پاکستان نہ آسکے۔

بدیع الزماں اپنے پورے کیرئیر میں برطانوی ٹیلی وژن کی نمایاں ڈرامہ سیریز کا حصہ بنتے رہے۔ اُنہوں نے تقریباً 40 ڈرامہ سیریز اور اُن کے متعدد سیزنز میں کام کیا۔ ان میںTorchwood، Inspector Morse، Coronation Street، Cracker ، The Bill اور Casualty سمیت کئی دیگر ڈرامہ سیریز شامل ہیں۔ اُن کی ڈرامہ سیریز Tandoori Nights کو بھی کافی پسند کیا گیا۔ اس کے علاوہ 13 منی ڈراما سیریز کے ساتھ ساتھ مختصر اور دستاویزی فلموں میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہے۔

مغربی ناقدین نے بھی ان فنی خدمات کا خوب اعتراف کیا ہے۔
مغربی ناقدین نے بھی ان فنی خدمات کا خوب اعتراف کیا ہے۔

2011ء میں اُن کی رحلت کے بعد امریکا اور برطانیہ میں فلم اور ڈرامے کے ناقدین نے انہیں خوب یاد کیا اور اُس برس دنیا سے رخصت ہوجانے والے فنکاروں پر کتاب لکھتے ہوئے مصنف Harris M. Lentz III نے بھی اُن کی خدمات کا اعتراف کیا۔ 90ء کی دہائی سے برطانوی فلمی صنعت میں ایشیائی فنکاروں کی شمولیت پر Barbara Korte اور Claudia Sternberg نے اپنی کتاب Bidding for the Mainstream میں بدیع الزماں کے ادا کیے ہوئے کئی کرداروں کو موضوع گفتگو بنایا۔ مغربی ناقدین کی طرف سے اس قدر سنجیدگی سے بدیع الزماں کے فن کا احاطہ کرنے کا مطلب اُن کی خدمات کا کھلا اعتراف کرنا ہے، اُن کا نام برطانیہ کے فلمی انسائیکلو پیڈیا میں بھی درج ہو چکا ہے۔

بدیع الزماں نے زندگی بھر جو کردار ادا کیے اُن میں پاکستانی اور انڈین کرداروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ 1986ء میں جب ان کا برطانیہ میں ابھی ابتدائی دور تھا تب انہیں ایک برطانوی ٹیلی وژن سیریز ’The Singing Detective‘ میں کام کرنے کا موقع مل گیا، انہوں نے معروف برطانوی اداکار Michael Gambon کے مدِمقابل کردار نبھایا، جو عالمی شہرت یافتہ اداکار ہیں۔ اس کردار کے توسط سے بدیع الزماں پر مغربی سینما میں بھی شہرت کے دروازے کُھل گئے اور قسمت کی دیوی مہربان ہوگئی۔

زندگی بھر جو کردار ادا کیے اُن میں پاکستانی اور انڈین کرداروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
زندگی بھر جو کردار ادا کیے اُن میں پاکستانی اور انڈین کرداروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

بعدازاں بدیع الزماں جن فلمی اور ٹیلی منصوبوں کا حصہ رہے، اُن میں بین الاقوامی سینما کے معروف اداکار بھی جلوہ گر ہوئے، جن کا تعلق امریکی، یورپی اور دیگر ممالک کی فلمی صنعت سے تھا۔ مثلاً مصر کے عمر شریف، انڈیا کے اُوم پوری، پاکستان کے ضیاء محی الدین، فرانس کے Vincent Cassel اور امریکا کے Forest Whitaker شامل ہیں۔

جب میں نے بدیع الزماں کے قریبی دوست اور بی بی سی اردو سروس کے سینئر ایڈیٹر عارف وقار سے اُن کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی تو اُنہوں نے بتایا کہ،

’برطانیہ میں پاکستان کے سیاسی حالات کی وجہ سے بدیع الزماں کو فوری طور پر سیاسی پناہ مل گئی۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک اداکار تھے، لہٰذا اسی شعبے میں ہی قسمت آزمانے کے فیصلہ کیا۔

اُن دنوں برطانیہ کی فلمی اور ٹیلی وژن کی صنعت میں انڈین، پاکستانی اور ایشیائی کرداروں کی مانگ بھی تھی، جس کا فائدہ بہرحال بدیع الزماں کو بھی ہوا۔ وہاں اُن کی قسمت کا ستارہ چمک اُٹھا، پاکستان میں اُن کے لیے حالات دگرگوں ہوگئے تھے اور سیاسی پناہ لینے کے بعد، جب تک کم از کم ضیاء الحق کا مارشل لا برقرار تھا، وہ واپس بھی نہیں جاسکتے تھے، اس لیے اُنہوں نے لندن کو اپنا مرکز بنالیا اور دل و جان سے محنت کرنے لگے۔

اُنہیں پہلی بار ایک بوٹ پالش کے اشتہار سے شہرت ملی، جس کے بعد اُنہیں تھیٹر، فلم، ریڈیو اور ٹیلی وژن کے شعبوں میں بھی کام ملنے لگا، اُنہیں اِسی کام کا تجربہ میسر تھا۔ میرے ساتھ بھی ایک فیچر آرٹسٹ کے طور پر طنز و مزاح پر مبنی پروگرام ’مداری اور جمہورا‘ میں مداری کا کردار برسوں نبھاتے رہے۔

بدیع الزماں نے تمام عمر شادی نہیں کی تھی مگر اس کے باوجود وہ ہر محفل کی جان ہوا کرتے تھے، ان کی موجودگی میں کوئی شخص اُداس نہیں رہ سکتا تھا۔ عمر کے آخری دور میں اُنہیں ایک مراکشی خاتون سے محبت ہوئی، میرے منع کرنے کے باوجود اُس سے شادی بھی کی، لیکن انہیں بدلے میں صرف دھوکہ ملا، جس کے بعد وہ لبرداشتہ ہوگئے۔ ایک مرحلے پر وہ پاکستان واپس آنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے لگے، اُنہوں نے اس سلسلے میں ارادہ کیا، مجھے مطلع بھی کیا کہ وہ کراچی میں رہائش پذیر ہونا چاہتے تھے اور اُنہیں اپنی قیام گاہ کے لیے بھائی نے زمین بھی مہیا کردی تھی، وہ پاکستانی فلموں اور ڈراموں میں دوبارہ کام کرنے کے متمنی تھے، شاید اس طرح وہ پاکستانی ناظرین کے لیے بھی معروف شخصیت بن جاتے، لیکن زندگی نے وفا نہ کی، وہ اپنی خواہشات کو عملی شکل دینے کی خاطر ہی پاکستان آئے تھے، جب لاہور میں ان کا انتقال ہوگیا۔‘

بدیع الزماں نے تمام عمر اپنے خوابوں کا تعاقب کیا۔ پاکستان میں تھیٹر اور ریڈیو پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے بعد ان فنکاروں میں شامل رہے جنہوں نے پی ٹی وی کے قیام کے دنوں میں اس کے لیے اپنی خدمات وقف کیں۔ ملک میں جمہوریت کے استعاراتی کرداروں کو نبھاتے رہے۔

بدیع الزماں نے تمام عمر اپنے خوابوں کا تعاقب کیا۔
بدیع الزماں نے تمام عمر اپنے خوابوں کا تعاقب کیا۔

فلم اور ٹی وی میں شہرت کے جھنڈے گاڑنے کے بعد، بین الاقوامی سینما اور ٹیلی وژن کا رُخ کیا، برطانیہ اور امریکا کی فلموں میں اپنے فن سے مداحوں کو حیران کر دیا۔ مراکشی محبوبہ کے غم میں اُن کی زندگی کے آخری دن کافی بوجھل ہوگئے، اس کے غم میں شاعری بھی کی۔ وطن کی یاد ستانے لگی، گھر واپس آنے کا ارادہ باندھا تو سانس کی ڈور ٹوٹ گئی۔

اُن کی ایک نظم ایک زندہ دل انسان کے ویران خانے کا پتہ دیتی ہے کہ

چاہتا تھا ترے دل میں رہوں گا

دل کا ملا دروازہ بند

دل کی بات میں کس سے کہتا

تم نے رکھا دروازہ بند

نہ کوئی ساتھی، نہ کوئی ہمدم

میری ذات ہے تنہا ہر دم

کیسے رہوں اب اس دنیا میں

تم نے رکھا دروازہ بند

ایک صحافی دوست نے مجھ سے پوچھا۔ ’کیا وجہ ہے، بدیع الزماں اتنا کام کرنے کے باوجود پاکستان میں گمنام رہے؟‘ تو میں نے جواب دیا کہ ایک سادہ طبیعت کا مالک، عاجزی کا پیکر جو کسی خود نمائی اور ستائش کا غرض مند نہ تھا، شاید اسی لیے گمنامی کے اندھیرے اسے کھا گئے۔ بقول غالب

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک


بلاگر صحافی، محقق، فری لانس کالم نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

ان سے ان کے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔