کراچی: بغیر اجازت بننے والی بحریہ ٹاؤن،دیگر ہاؤسنگ اسکیمیں گرانے کا حکم

اپ ڈیٹ 20 مارچ 2018

ای میل

کراچی: سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کی گئی واٹر کمیشن نے بغیر اجازت بننے والی بحریہ ٹاؤن اور دیگر ہاؤسنگ اسکیموں کو گرانے کا حکم دے دیا۔

سندھ میں نکاسی و فراہمی آب سے متعلق جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں واٹر کمیشن نے سماعت کی۔

دوران سماعت کمیشن نے ریمارکس دیئے کہ شہر کا بیٹرہ غرق ہو رہا ہے اور ہاؤسنگ اسکیموں کے نام پر شہر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

سیکریٹری بلدیات نے کمیشن کو بتایا کہ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) میں ضم ہونے کے بعد تمام معاملات خراب ہو گئے۔

کمیشن نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آغا مسعود عباس سے استفسار کیا کہ کس کی اجازت سے غیر قانونی تعمیرات ہو رہی ہیں اور کراچی میں کتنی اور کون کون سی ہاؤسنگ اسکیمیں ہیں؟

مزید پڑھیں: بحریہ ٹاؤن کراچی: لالچ اور قبضے کا لامحدود سلسلہ

آغا مسعود نے اعتراف کیا کہ بحریہ ٹاؤن کی تعمیرات منظوری کے بغیر جاری ہیں جس کی رپورٹ سندھ حکومت کے پاس جمع کرادی گئی ہے۔

کمیشن نے حکم دیا کہ بحریہ ٹاؤن سمیت جن جن اسکیموں کی تعمیرات غیر قانونی ہے انہیں گرا دیا جائے۔

کمیشن نے ایس بی سی اے کو نالوں پر قائم عمارتوں کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا حکم دیا۔

میئر کراچی وسیم اختر نے کمیشن سے گجر نالے کے متاثرین کو معاوضہ کی فراہمی کی درخوست کی اور بتایا کہ لیاری ندی پر عمارتیں بن گئی ہیں جنہیں خالی کرانا مشکل ہے، جبکہ شہر کے 500 نالوں میں کچرا بھرا ہوا ہے۔

کمیشن کا کہنا تھا کہ نالے کے اطراف صرف لیز زمینوں کے مالکان کو معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔

کميشن نے سيکريٹری داخلہ کو ندی نالوں ميں کچرا پھينکنے پر پابندی کے لیے دفعہ 144 نافذ کر نے کا حکم دیا۔

سماعت کے بعد کمیشن کے سربراہ نے میئر کراچی اور دیگر شہری اداروں کے افسران کے ہمراہ شہر میں کچروں سے بھرے نالوں کا دورہ کیا اور نالوں کی ناقص صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔