نیب کا پرویز خٹک، سراج درانی، وسیم اختر کے خلاف تحقیقات کا حکم

اپ ڈیٹ 06 ستمبر 2018

ای میل

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک، اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی اور میئر کراچی وسیم اختر سمیت بااثر افراد کے مبینہ طور پر کرپشن میں ملوث ہونے سے متعلق شکایات پر تحقیقات کی منظوری دے دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ (ای بی ایم) میں نیب کی جانب سے ان بااثر افراد کے خلاف تحقیقات کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس کے بعد نیب کی جانب سے پریس ریلیز تو جاری کی گئی لیکن اس میں پرویز خٹک، آغا سراج درانی، وسیم اختر، معروف کاروباری شخصیت اقبال زیڈ احمد، سابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا خالد پرویز، منیجنگ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا ٹورازم کارپوریشن مشتاق خان، یوسف جمیل انصاری، افتخار قائم خانی، ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، امتیاز ملاح، وزیر اعلیٰ سندھ کے سابق خصوصی مشیر، دلاور حسین میمن، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کے سی ای او، ناظرسومرو اور میسر کرسٹل مووڈ ٹاؤن، راؤ محمد شاکر اور راؤ اینڈ رانا ایسوسی ایٹس کے دیگر مالکان کے خلاف کیسز کی مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا چیئرمین نیب کی کارکردگی پر اظہارِ اطمینان

نیب کے بیان میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں تفتیش اور تحقیقات کی تفصیلات مقررہ وقت پر سامنے لائی جائیں گی۔

تاہم نیب میں موجود ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پرویز خٹک، سراج درانی اور وسیم اختر کے خلاف پہلے درج ہونے والی شکایات 2 ماہ تک تصدیقی عمل سے گزریں اور اب انہیں تحقیقات کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

نیب قوانین کے مطابق کوئی بھی شکایت، تصدیق کے بعد انکوائری میں تبدیل ہوتی ہے اور پھر اس کی تحقیقات کی جاتی ہے، جبکہ آخری مرحلے میں یہ ایک ریفرنس میں تبدیل ہوجاتی ہے، اس سارے عمل کو مکمل ہونے میں 10 ماہ کا وقت لگتا ہے۔

خیال رہے کہ وزیر دفاع پرویز خٹک پر الزام ہے کہ انہوں نے 2015 میں بطور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور جنگل کی 274 کنال زمین کو ریزورٹ تعمیر کرنے کے لیے 33 سال لیز پر دیا۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ نے لیز کے لیے بولیوں کا انعقاد نہیں کیا، ساتھ ہی انہیں یہ اختیار بھی نہیں تھا کہ وہ 15 سال سے زیادہ کے لیے لیز دیں۔

دوسری جانب سراج درانی پر آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے اور غیر قانونی تعیناتیاں کرنے کا الزام ہے۔

اسی طرح میئر کراچی وسیم اختر، شہر قائد کے فنڈز کے مبینہ طور پر غلط استعمال پر نیب کی تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔

وسیم اختر کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کراچی کے رہنما فیصل واوڈا نے جولائی میں سندھ ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں میئر کراچی کے ماتحت کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) میں ’کرپشن اور فنڈز میں خورد برد‘ پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، ساتھ ہی سندھ حکومت کو بھی اس درخواست میں فریق بنایا گیا تھا۔

نیب اجلاس میں وائس چانسلر جی سی یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹر شاہد محبوب اور ڈائریکٹر جنرل فنانس بلوچستان علی گل کرد کے خلاف بھی تحقیقات کی منظوری دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کا 56 پبلک سیکٹر کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ

ایگزیکٹو بورڈ نے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر احسن علی اور دیگر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی بھی منظوری دی۔

ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے آئی ٹی کا سامان من پسند کمپنیوں سے مہنگے داموں خریدنے کا ٹھیکہ دیا، جس سے قومی خزانے کو 32 کروڑ 80 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔

نیب کی جانب سے خیبر پختونخوا کے سابق وزیر برائے تکنیکی تعلیم، افرادی قوت، صنعت اور معدنیاتی ترقی نوابزادہ محمود زیب کے خلاف 35 کروڑ روپے کی کرپشن میں ملوث ہونے پر ریفرنس دائر کرنے منظوری دی گئی۔