ساہیوال: صوبہ پنجاب کے ضلع ساہیوال میں نامعلوم افراد نے خواجہ سرا کو مبینہ طور پر زندہ جلا دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ساہیوال میں مال منڈی چوک پر نامعلوم افراد کی جانب سے مبینہ طور پر جلائے گئے خواجہ سرا کو ابتدائی طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ساہیوال منتقل کیا گیا۔

تاہم جسم زیادہ جھلس جانے کے باعث ڈاکٹروں نے خواجہ سرا کو لاہور منتقل کرنے کا کہا لیکن لاہور منتقل کرنے سے قبل ہی وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

مزید پڑھیں: پشاور: خواجہ سرا کے ساتھ مبینہ 'گینگ ریپ'

ہسپتال ذرائع کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر زندہ جلائے گئے خواجہ سرا کا جسم 80 فیصد تک جھلس چکا تھا۔

واقعے کے تحقیقاتی افسر جعفر حسین نے ڈان کو بتایا کہ پولیس نے پاکستان پینل کوڈ ( پی پی سی ) کی دفعہ 74 کے تحت لاش کو بلدیاتی عملے کے حوالے کردیا، جو تدفین کے انتظامات کو دیکھے گا۔

دوسری جانب فتح شیر پولیس نے واقعے سے متعلق ابھی تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔

خیال رہے کہ خواجہ سراؤں کے ساتھ ناروا رویہ رکھنے اور ان پر تشدد کرنے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔

گزشتہ ماہ اگست میں خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں خواجہ سرا کو مبینہ طور پر بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ سامنے آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مانسہرہ میں لڑکے کا خواجہ سرا پر بدترین تشدد

اس واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق خواجہ سرا سمیرا نے اپنے فلیٹ میں قیام کیا ہوا تھا کہ اس دوران بلال نامی شخص اپنے چچا کے ہمراہ اس گھر میں داخل ہوا اور خواجہ سرا کو چاقو کے وار سے زخمی کردیا۔

پولیس کے مطابق اطلاع ملتے ہی اہلکار خواجہ سرا کے گھر پہنچے اور اسے زخمی حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

یہ بھی یاد رہے کہ اس واقعے سے چند روز قبل 2 خواجہ سرا کو مبینہ طور پر دوستی ختم کرنے کے معاملے پر بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا اور ان کی لاش کے ٹکڑے کردیے گئے تھے۔