اقوام متحدہ میں تبدیلی ضروری ہے ورنہ یہ ناکام ادارہ کہلائے گا، ترک صدر

26 ستمبر 2018

ای میل

ترک صدر رجب طیب اردوان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں — فوٹو: اے پی
ترک صدر رجب طیب اردوان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں — فوٹو: اے پی

ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے کو ناکام ادارہ قرار دیے جانے کا خدشہ ہے جسے صرف 5 بڑی قوتیں چلارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے بالخصوص اس کے ادارے، سلامتی کونسل، میں تبدیلی آنی چاہیے۔

طیب اردوان نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ امن اور فلاح کے ذریعے انسانیت کی امیدوں سے ہٹ چکا ہے۔

مزید پڑھیں: وزیر خارجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے امریکا روانہ

انہوں نے بوسنیا، رواندا اور فلسطین کی سفارشات پر عمل نہ کیے جانے کا بتاتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے کو کامیاب بنانے کے لیے اس کا بنیادی ڈھانچا تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل کے 5 مستقل رکن اور ویٹو پاور رکھنے والے امریکا، چین، روس، فرانس اور برطانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا ماننا ہے کہ دنیا 5 ممالک سے زیادہ بڑی ہے، ہم عام انسانی نسل کی عام سی آواز بنتے جا رہے ہیں‘۔

اس کے علاوہ اجلاس سے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کے بائیکاٹ نے خلیجی عرب قوموں کو معذور کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کا وزرائے خارجہ کی ملاقات منسوخ کرنے کا اعلان افسوس ناک قرار

جنرل اسمبلی میں انہوں نے عالمی رہنماؤں کو بتایا کہ بحرین، مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے بائیکاٹ کی وجہ سے عرب خطہ یرغمال بن گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قظر غیر مشروط مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار رہے گا تاہم گزرتے وقت نے اس تنازعے کو بڑھاوا دیا ہے اور خلیجی تعاون کونسل کو متاثر کیا ہے۔