بانسری بجاتی انٹارکٹیکا کی چٹانیں

اپ ڈیٹ 20 اکتوبر 2018

ای میل

انٹارکاٹیکا کا ایک مںظر — فوٹو، اے ایف پی
انٹارکاٹیکا کا ایک مںظر — فوٹو، اے ایف پی

دنیا میں برف سے ڈھکے ہوئے 7ویں برِاعظم انٹارکٹیکا سے متعلق لوگ ہمیشہ مختلف قسم کی کہانیاں ہی سنتے رہے ہیں، تاہم اس مرتبہ سائنسدانوں نے اس جگہ پر کچھ نیا ہی تلاش کیا ہے۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ انٹارکٹیکا کی برفیلی چٹانیں عجیب و غریب آواز کے ساتھ بانسری بھی بجاتی ہیں، جی ہاں یہ دریافت کولاراڈو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ریسچرز نے کی۔

غیر ملکی ویب سائٹ کوارٹز کی رپورٹ کے مطابق کولاراڈو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ریسرچرز کی ایک ٹیم نے اپنی تحقیق شائع کی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے انٹارکٹیکا کے روز آئس شیلف پر تحقیق کی ہے۔

ریسرچرز کے مطابق انہوں نے یورپی ملک اسپین کے برابر اس آئس شیلف پر زمین کی حرکت کی پیمائش کے آلے سیسمومیٹر کی مدد سے ایک عجیب و غریب آواز کی جانچ کی ہے۔

ریسرچرز کے مطابق یہ آواز برف کے پگھلاؤ اور ہوا کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جو بہت ہی مدھم ہے جسے سننے کے لیے اس آلے کا ہونا ضروری ہے، تاہم آواز تیز ہونے کی صورت میں اسے انسانی کان سے بھی سنا جاسکتا ہے۔

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ آواز سریلی سنائی دیتی ہے جس کی تعدادِ ارتعاش 5 یا اس سے زائد فی سیکنڈ ہے۔

تحقیق دانوں نے بتایا کہ انہوں نے روز آئس شیلف کی گہرائی میں 34 سیسمومیٹر 2014 میں لگائے اور ان سے 2 سال تک ریسرچ کی گئی۔

ایک تحقیق کار نے اس آواز کو بانسری سے تشبیہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ آواز ایسی ہے جیسے آپ مسلسل اس آئس شیلف پر کھڑے ہو کر بانسری کی آواز سن رہے ہیں۔