آوارہ اور بے سہارا جانوروں سے محبت کی انوکھی مثال

اپ ڈیٹ 23 اکتوبر 2018

دنیا میں ایسی بہت سی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں جہاں جانوروں کی محبت میں گرفتار لوگ اپنا سب کچھ چھوڑ کر جانور کی خدمت اور ان کی دیکھ بال میں لگ جاتے ہیں۔

آپ نے نسلی جانوروں کی مالکان سے محبت اور مالکان کو ان کے ناز و نخرے اٹھاتے ضرور دیکھا ہوگا لیکن آپ کو یہ دیکھ کر حیرت ہوگی کہ کراچی کے رہائشی عدیل کو گلی محلوں میں گھومنے والے آوارہ کتے اور بلیوں سے انوکھی محبت ہوئی۔

ان جانوروں کی محبت میں گرفتار عدیل نے کراچی کے علاقے صفورا گوٹھ میں آوارہ، بے سہارا، زخمی اور بیمار جانوروں کے لیے ایک اینیمل شیلٹر ہاؤس قائم کیا ہے۔

عدیل کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ شیلٹر ہاؤس کے قیام کا مقصد گلی محلے میں گھومنے والے آوارہ اور بے سہارا جانوروں کی دیکھ بال کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شیلٹر ہاؤس میں موجود ٹیم 24 گھنٹے کام کرتی ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ بیمار اور زخمی جانوروں کو زہر سے بچایا جاسکے اور انہیں تمام طبی سہولیات فراہم کی جائے۔

بیمار جانوروں کی باقاعدہ نگہداشت کے لیے دو ڈاکٹرز بھی اس شیلٹر ہاؤس میں کام کر رہے ہیں، جن کا کہنا تھا کہ ہماری اولین ترجیح ہوتی ہے کہ جانور جلد تندرست ہو جائیں۔

شیلٹر ہاؤس میں کام کرنے والے ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ جب ہمیں مختلف علاقوں سے زخمی یا بیمار جانوروں کے حوالے سے اطلاعات ملتی ہیں تو ہم فوری طور پر جانور کو ریسکیو کرکے یہاں لے آتے ہیں اور اس کا باقاعدہ علاج شروع کردیتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں