تیزاب سے بچانے والا میک اپ فارمولا تیار کر لیا گیا

26 اکتوبر 2018

ای میل

برطانیہ میں 2015 کے بعد سے تیزاب کے حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے— فائل فوٹو
برطانیہ میں 2015 کے بعد سے تیزاب کے حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے— فائل فوٹو

برطانیہ کی ڈاکٹر نے میڈیسن نے خواتین کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایسا میک اپ ایجاد کر لیا ہے جس پر تیزاب بھی اثر نہیں کرے گا۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر الماس احمد نے میک اپ کی صنعت میں انقلاب برپا کرتے ہوئے ایک ایسا فارمولا تیار کر لیا ہے جس پر تیزاب بھی اثر نہیں کرے گا اور یہ گوشت کو تیزاب سے جلنے سے بھی بچا سکے گا۔

مزید پڑھیں: فیس بک کا نوجوانوں کا دل جیتنے کا نیا ہتھیار

ان کے اس فارمولے کو میک اپ کی متعدد مصنوعات جیسے لپ اسٹک، فاؤنڈیشن، فیس پاؤڈر، آنکھوں کے میک اپ سمیت دیگر چیزوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس فارمولے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ناصرف تیزاب سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو گا بلکہ یہ آگ لگنے سے ہونے والی انجریز سے بچانے میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔

2008 میں بوائے فرینڈ کی جانب سے تیزاب کے حملے میں بینائی سے محرومی سمیت سنگین انجریز کا سامنا کرنے والی کیٹی پیری کے حادثے کے بعد ڈاکٹر الماس کو یہ فارمولا بنانے کا خیال آیا اور انہوں نے اسے بنانے میں 10سال لگے۔

یہ بھی پڑھیں: ہوا سے 2روپے فی لیٹر پانی بنانے کا جدید طریقہ ایجاد

ڈاکٹر الماس نے بتایا کہ جب میں میڈیکل اسکول میں پڑھ رہی تھی تو اس وقت مجھے یہ بنانے کا خیال آیا اور درمیان میں اس کے بارے میں بالکل بھول گئی تھی لیکن جب حالیہ عرصے کے دوران برطانیہ میں بڑی تعداد میں تیزاب کے حملوں کے واقعات رونما ہوئے تو میں نے اپنے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے فارمولے سے بنائی گئی پراڈکٹ کا ٹیسٹ کر چکی ہیں اور اس میں کامیاب بھی رہیں اور اب وہ میڈیسن اینڈ پراڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی کی جانب سے منظوری ملنے کی منتظر ہیں۔

ضرور پڑھیں: شادی کے بعد اکثر افراد موٹے کیوں ہوجاتے ہیں؟

ڈاکٹر الماس نے امید ظاہر کی کہ ان کی پراڈکٹ آئندہ سال تک مارکیٹوں میں دستیاب ہو گی۔

واضح رہے کہ 2015 کے بعد سے برطانیہ میں تیزاب کے حملوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا اور صرف 2017 کے ابتدائی 6ماہ کے دوران 400 سے زائد حملے کیے گئے اور اس وقت دنیا بھر کے ترقی یافتہ ملکوں میں برطانیہ میں تیزاب کے حملوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔