سندھ میں زرعی مشینری کی اشد ضرورت

اپ ڈیٹ 12 نومبر 2018

ای میل

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

سندھ میں کسانوں کے رعایتی قیمتوں میں ٹریکٹر اور دیگر زرعی آلات حاصل کرنے کی خواہش سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جدید کاشت کاری کے طور طریقے اپنانے کے خواہاں ہیں۔

ڈان اخبار کے ہفتہ وار جریدے بزنس اینڈ فنانس کی رپورٹ کے مطابق تاہم سندھ حکومت اپنے محدود وسائل کے ساتھ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت کم ہی تعداد میں کسانوں کی ضرورت پورا کرسکتی ہے۔

حکومت کی جانب سے دی جانے والی اسکیموں کے علاوہ بین الاقوامی عطیات دہندگان بھی زراعت میں مشینی طریقوں کے فروغ کے لیے بہت سے ذرعی آلات فراہم کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں زراعت پسماندہ کیوں؟

اس سلسلے میں عالمی مالیاتی بینک کی جانب سے بھی اربوں روپے کی اسکیمیں دی جارہی ہیں جس میں سندھ منصوبہ برائے فروغ ذرعی پیداوار و آبپاشی اور سندھ منصوبہ برائے ذرعی پیداوار شامل ہیں۔

فصل اگانے کے لیے زمین ہموار کرنے اور تیار کرنے کے لیے کسانوں کو ٹریکٹرز، بلڈوزر وغیرہ کرایے پر لینے پڑتے ہیں کیوں کہ شعبہ ذرعی انجینئرنگ میں درخواستوں کے مقابلے میں کم تعداد میں کرایے کی مشینری دستیاب ہوتی ہے۔

گزشتہ سال محکمے کو 8 سے 10 ہزار کسانوں کی جانب سے درخواستیں موصول ہوئی تھیں جس سے کسانوں کی جدید آلات میں دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: نیا صنعتی انقلاب کیا تبدیلی لائے گا؟

ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل زراعت(انجینئرنگ) سید شاہجہان شاہ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس 3 سو 60 بلڈوزر، اور 30سے 40 زمین برابر کرنے والے آلات کرایے پر دستیاب ہیں۔

گزشتہ سال قرعہ اندازی میں 5 ہزار 2 سو 42 کسان کامیاب ہوئے تھے لیکن سپریم کورٹ کی ہدایت پر مبنی لانڈرنگ کے خلاف تحقیقات کے باعث انہیں ابھی تک ٹریکٹرز فراہم نہیں کیے گئے۔

واضح رہے کہ گزشتہ 10 سال کے عرصے میں ٹریکٹر کسانوں میں کافی مقبول ہوئے ہیں اس وجہ سے ذرعی انجینئرنگ کے شعبے کو ٹریکٹر کے حصول کے لیے ہزاروں درخواستیں موصول ہوئیں ہیں، اور سب پر عملدرآمد کرنا ڈپارٹمنٹ کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: موسم کی تبدیلی، پنجاب میں آم کی فصل متاثر

تاہم مالی سال 18-2017 میں فنڈز کی تاخیر سے منتقلی کے سبب ٹریکٹرز نہیں دیے گئے، مذکورہ فنڈز جولائی تا ستمبر 2017 تک فراہم کیے جانے تھے جو مئی 2018 میں دیے گئے۔

اس ضمن میں سندھ چیمبر آف ایگریکلچر کے جنرل سیکریٹری نبی بخش کا کہنا تھا ٹریکٹر کا استعمال کافی عام ہوگیا ہے۔

بڑھتی ہوئی ضرورت کی وجہ حکومتی اسکیموں کے تحت بھی ٹریکٹر دستیاب نہیں چناچہ کسان زمین ہموار کرنے کے لیے کرایے پر ٹریکٹر حاصل کرتے ہیں کیوں کہ ہموار زمین پر کاشت کاری سے پانی کی تقسیم بہتر ہوتی ہے۔