تحریک انصاف (ن) لیگ کی کن تعلیمی پالیسیوں کو جاری رکھے اور کیوں؟

اپ ڈیٹ 30 دسمبر 2018

ای میل

کیا لیپ ٹاپ کی تقسیم کو روک دینا چاہیے؟ کیا دانش اسکول کو بند کردینا چاہیے یا پھر اس پر دوبارہ سوچنا چاہیے، یا قائم رکھنا چاہیے یا اس میں توسیع کی جانی چاہیے؟ اور پنجاب ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ (پی ای ای ایف)، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پی ای ایف) اور پنجاب ایجوکیشن انی شیئٹوز مینجمنٹ اتھارٹی (پی ای آئی ایم اے) کا مستقبل کیا ہوگا؟ نئی حکومت کو صوبے میں کون سی پالیسیوں کو جاری رکھنا چاہیے اور کن پالیسیوں کو ترک یا تبدیل کرنا چاہیے؟

پنجاب میں تعلیم کا مسئلہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ حساس ہے۔ سندھ اور خیبرپختونخوا میں تو حالات ویسے ہی رہیں گے کیونکہ وہاں بالترتیب پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت قائم ہے۔ جبکہ پنجاب میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی ایک طویل حکمرانی کے بعد اب پی ٹی آئی اقتدار میں ہے اور جیت کا مارجن کم ہے۔ پنجاب اب بھی اکھاڑا بنا ہوا ہے اور اگرچہ پی ٹی آئی کو آئے زیادہ دن نہیں ہوئے لیکن اسے اپنی بھرپور کوششوں سے یہ دکھانا ہوگا کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرسکتی ہے اور ہمارے برسا برس سے چلے آ رہے مسائل کو بہترین انداز میں حل کرنے کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کی صلاحیت رکھتی ہے۔

لیکن اس وجہ سے ایک اہم مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ صوبے میں تعلیم پر تقریباً سالانہ 300 ارب روپے خرچ کیے جاتے ہیں، اس میں سے بڑی حد تک کٹوتی کردی گئی ہے۔ رقم کا 85 فیصد حصہ تنخواہوں میں چلا جاتا ہے۔ باقی رقم کا زیادہ تر حصہ تر ری-کرنٹ بجٹ (recurrent budget) ہوتا ہے۔ اب چونکہ مالیاتی گنجائش (فسکل اسپیس) پہلے سے کہیں یا موجودہ حالات کی طرح کافی تنگی کا شکار ہے تو بہت ہی کم امید ہے کہ نئے منصوبوں کے لیے پیسہ دستیاب ہو۔ اگر زیادہ تر فنڈز پہلے سے مختص کردیے گئے تو پھر پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) کے شروع کردہ منصوبوں سے کٹوتی کیے بغیر کس طرح اپنے منصوبوں کا آغاز کرسکتی ہے؟

پرانے وعدوں کو توڑنے کے نتائج بھگتنے پڑسکتے ہیں۔ اگرچہ یہ تسلیم کرنا مشکل ہے لیکن گزشتہ حکومت کی چند پالیسیاں ایسی ضرور ہیں جنہیں جاری رکھنا بہتر ہے۔

چند کیسز میں ریاست کی طرف سے اہم وعدے کیے گئے ہیں، جنہیں قانونی یا دیگر نتائج بھگتے بغیر توڑا نہیں جاسکتا۔ اگر اسکولوں کو نجی شعبے کے تعاون سے کھولا ہے یا اسکولوں کو حکومتی و نجی شراکت داری کے تحت نجی اداروں کو دیے گئے ہیں، تو ان تمام منصوبوں کو قانونی تنائج کا سامنا کیے بنا ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ لاکھوں بچوں کی تعلیم اور اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں ٹیچرز کا مسئلہ بھی ہے۔ لہٰذا اگر پی ٹی آئی یہ سوچتی ہے کہ انفرادی حیثیت کے منصوبوں کا تصور یا اس پر عمل درآمد ٹھیک نہیں تھا تب بھی پارٹی کے پاس انہیں ختم کرنے کا آپشن شاید موجود نہ ہو، کم از قلیل یا اوسط مدت میں تو ایسا ممکن نہیں۔

اگر گزشتہ حکومت کے منصوبے اچھے تھے تو کیا انہیں جاری رکھنے پر پی ٹی آئی کو کوئی کریڈٹ ملے گا؟ اگر انہیں کوئی کریڈٹ نہیں ملتا تو کیا وہ اچھے منصوبوں کو بھی ختم کرنا چاہے گی؟ اگر سیاست پالیسی سازی کو ایسی نہج پر لا کھڑا کرے کہ جہاں اچھی پالیسیاں سیاسی انتقال میں جاری نہیں رہتی ہوں تو یہ شرمساری کی بات ہے۔

پی ٹی آئی نے 2 وعدے کیے۔ پہلا یہ کہ 5 سے 16 برس کے تمام بچوں کو اسکول بھیجے گی اور دوسرا یہ کہ تمام بچوں کے لیے معیارِ تعلیم کو بہتر بنایا جائے گا۔ یہ سب کیسے ہوگا اگر مالیاتی بحران ہو اور کوئی نیا پروگرام پیش کرنے کے لیے پیسہ ہی نہ ہو؟ حتیٰ کہ آج بھی کئی جگہوں پر مطلوبہ تعداد میں پرائمری اسکول ہی نہیں ہیں۔ پھر کئی جگہوں پر تو مڈل اور ہائی اسکول بھی نہیں ہیں اور ہمارے پاس تربیت یافتہ ٹیچرز کی کمی بھی ہے۔

مان لیجیے کہ حکومت کے پاس پیسے ہیں تب بھی اسے نئے اسکول کھولنے، موجودہ اسکول کی اپ گریڈیشن یا موجودہ تعلیمی اداروں میں دوسری شفٹوں کا آغاز کرنے میں کتنا وقت درکار ہوگا؟ جبکہ تقریباً 40 فیصد انرولڈ بچے نجی اسکول جاتے ہیں اور نجی اسکولوں کو تعلیم فراہم کرنے کا خاصا تجربہ حاصل ہے۔ تعلیم کی فراہمی کو بہتر کرنے اور تعلیم تک رسائی کو عام کرنے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری ایک بہت ہی اچھا خیال ہے۔ لیکن چونکہ چند سرکاری و نجی منصوبوں کا آغاز گزشتہ حکومت نے کیا تھا محض اس لیے سرکاری و نجی شراکت داری سے حاصل ہونے والے ممکنہ فائدوں کو نظر انداز نہیں کردینا چاہیے۔

پی ٹی آئی حکومت کو گزشتہ پالیسیوں سے حاصل ہونے والے فائدوں اور نقصان کا جائزہ لینے کے لیے فیڈ بیک لوپ متعارف کروانا چاہیے جس کی مدد سے ہم ان منصوبوں اور تجربوں سے سبق سیکھ سکیں جو ہمیں مستقبل کی پالیسی سازی میں کام آسکتا ہے۔ کیا پی ای ایف ماڈل سے فائدہ حاصل ہوا؟ اس کی حدود کیا تھیں اور کہاں تک تھیں؟ کیا ان حدود کو ختم کیا جاسکتا ہے؟ پی ای ایف پروگرامز کا مقصد، بڑی حد تک، پرائمری سطح کی تعلیم فراہم کرنا تھا، کیا ہم تعلیم تک رسائی کو بڑھانے اور جلد از جلد مڈل اور ہائی اسکول کی سطح کو بھی اس میں شامل کرنے کے لیے کیا ہم اسے ڈیزائن کرسکتے ہیں؟

گزشتہ حکومت نے پی ای ای ایف کے لیے ایک انڈوومنٹ فنڈ کا اہتمام کیا تھا اور مستحق طلبہ کو لاکھوں روپے کی اسکالرشپس فراہم کیں۔ پی ای ای ایف کی جو جائزہ رپورٹیں میری نظر سے گزری ہیں، ان کے مطابق اس کی کارکردگی کافی حد تک بہتر رہی ہے۔ جبکہ جن بچوں نے اسکالرشپ حاصل کی ہیں ان پر اس کے بظاہر اچھے خاصے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ تو کیا اس پالیسی میں توسیع کی جانی چاہیے؟ اگر پی ٹی آئی تمام بچوں کو مساوی مواقع فراہم کرنے میں سنجیدہ ہے تو ہمیں لازمی طور پر میرٹ اور ضرورتمند بنیادوں پر اسکالرشپس فراہم کرنی ہوں گی۔ پی ای ای ایف ہمیں یہ فراہم کرسکتی ہے وہ بھی ثبوت کے ساتھ جس کی ہمیں ضرورت ہے۔

کچھ ایسی پالیسیاں بھی ہیں جنہیں بتدریج ختم کرنا ہوگا۔ آیا حکومت لیپ ٹاپس تقسیم کرنا چاہتی ہے یا نہیں، یہ فیصلہ تعلیم سے متعلق نہیں ہے۔ ایسے کوئی شواہد نہیں ملتے کہ جو ثابت کریں کہ لیپ ٹاپس کی تقسیم سے تعلیمی لحاظ سے زبردست اور مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ البتہ حکومت اگر سیاسی وجوہات یا مقبولیت حاصل کرنے کی غرض سے ایسا کرنا چاہتی ہے تو یہ ایک الگ بات ہے۔

کجھ ایسے شعبے بھی ہیں جن پر گزشتہ حکومت زیادہ کام نہیں کرسکی ہے۔ ہمارے پاس اب بھی فی سروس (per service) اور دورانِ سروس (in service) ٹیچر ٹریننگ یا ٹیچر معاوضے اور کیریئر کی راہوں کے حوالے سے بہتر ماڈلز موجود نہیں ہیں۔ ہمارے پاس پبلک اسکولوں کی انتظامیہ کے حوالے سے بھی اچھے ماڈلز کا فقدان ہے۔ تعلیمی شعبے میں ہی اس کے علاوہ کئی ایسے شعبے ہیں جہاں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کو ان شعبوں کے لیے نئی پالیسیاں متعارف کروانے کی ضرورت پڑے گی۔

اب بھی پی ٹی آئی کی پالیسیوں ہر بڑی حد تک غیر یقینی کی صورتحال نظر آتی ہے۔ اگرچہ ابتدائی دنوں کے دوران یہ بات قابلِ فہم بھی ہے، لیکن طویل عرصے کے لیے یہ سوچ جاری نہیں رکھی جاسکتی۔ پی ٹی آئی کو اپنے پالیسی وژن کو منطرِ عام پر لانا چاہیے اور واضح کرنا چاہیے کہ وہ کون سے کام کرنا چاہتی ہے۔ امید کرتے ہیں کہ گزشتہ پالیسیوں کو جاری رکھنے، اس میں ترمیم کرنے یا اسے آہستہ آہستہ ختم کرنے اور نئے منصوبوں کو متعارف کروانے کے فیصلے سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ شواہد کے بنیادوں پر کیے جائیں گے۔

یہ مضمون 16 نومبر 2018ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔