ای میل

رچرڈ برٹن: ایک بے چین روح سندھ میں

ابوبکر شیخ

اس دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو کولہو کی بیل کی طرح ہوتے ہیں، تاحیات اپنے شب و روز ایک ہی طرز کے ساتھ گزار کر دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں۔

پھر ان اربوں کھربوں کی آبادی میں کچھ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو کولہو کا بیل نہیں بننا چاہتے یا شاید اُن کی سرشت میں ہی ایک جگہ پر چکر لگانا اور شامل نہیں ہوتا۔

ان کی روحیں بے چین سمندر کی لہروں کی مانند کناروں پر پہنچنا چاہتی ہیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ لہر کے نصیبوں میں کنارے کا سُکھ تحریر ہی نہیں ہوتا، مگر لہر کے کنارے پر پہنچنے کے لیے مشقت روکے نہیں رکتی۔ ان چند گنے چُنے لوگوں کی بے چینی اُن کو کہیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتی اور ان عظیم روحوں کی بے چینی کو اگر مثبت تمناؤں کے پَر لگ جائیں تو وہ ہمارے لیے نئے جہان کھوج لاتی ہیں۔ یہ لوگ آنے والے وقتوں کے لیے تحریروں کی صورت میں ایک خزانہ چھوڑ جاتے ہیں، جس میں ہمارے پُرکھوں کی تاریخ، رسم و رواج، فصلیں، لباس، نہریں اور نہروں کے کنارے پر کھڑے کیکر کے پیڑوں کی چھاؤں اور کھیل کود کا تذکرہ شامل ہوتا ہے۔

آج کی نشست میں ہم ایسی ہی ایک بے چین روح کے ہمسفر بنیں گے کہ وہ اُن گزرگاہوں کا امین ہے جس کو ہم نہیں دیکھ پائے اور اگر یہ انسان پرانوں وقتوں کو قلمبند نہ کرتا تو ہم اپنے ماضی کی پگڈنڈیوں کے آثار کھودیتے۔

اگر آپ حیدرآباد سے ٹنڈو محمد خان جانے والا راستہ لیں تو فتح چوک سے مشرق کی طرف 6 کلومیٹر کی مصافت پر ایک راستہ نکلتا ہے جو آپ کو ’ہوسڑی‘ نامی قصبے تک لے جاتا ہے۔ میں جب اس شہر کے بیچوں بیچ گزر کر، مشرق کی طرف گونی پھلیلی نہر کے مغربی کنارے پر پہنچا تو تیز دھوپ کی وجہ سے وہاں کھڑے سفیدے اور نیم کے پیڑوں کی چھاؤں مجھے بھلی لگی۔

میرے سامنے گونی پھلیلی میں مٹیالا پانی بہتا اور زور و شور سے بہتا۔ یہ دریائے سندھ کا ایک قدیم بہاؤ ہے۔ کہتے ہیں کہ جب تیمور شاہ نے پیسے ملنے کی امید پر ایک ضدی کلہوڑے کے ساتھ، سندھ کی طرف مدد خان پٹھان کو بھیجا تھا کہ اس کو تالپوروں سے حکومت لے کر دے تو مدد خان نے بڑے ظلم کیے تھے۔

گونی کے کنارے جو درخت تھے وہ کٹوادیے اور جو آباد بستیاں تھیں اُن کو آگ لگادی گئی تھی اور اس طرح ایک زمانے تک گونی کے دونوں کناروں پر ویرانی اور اداسی نے ڈیرے ڈال دیے تھے۔

میں جس زمانے کا ذکر کرنے جا رہا ہوں، ان وقتوں کے متعلق تاریخ بتاتی ہے کہ، ’حیدرآباد کے قریب دریائے سندھ کا جو بہاؤ ہے، اس کی چوڑائی ڈیڑھ کلومیٹر ہے مگر حیدرآباد کے شمال اور جنوب میں اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے بہاؤ کی رفتار ایک گھنٹے میں 7 میل سے بھی زائد ہے۔‘

ان دنوں یعنی 175 برس پہلے 1845ء میں ’رچرڈ ایف برٹن‘ اسی شاندار بہاؤ سے یہاں آیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ، ’پھلیلی کے کنارے حیدرآباد سے 7 میل دُور ایک بڑا گاؤں ’ہوسڑی‘ ہے۔ یہ کوئی اچھا گاؤں نہیں ہے مگر ناشتہ کرنے کے لیے ہم یہاں رُکے۔ یہاں مسافروں کو ٹھہرانے کے لیے ’بنگلا‘ نامی ایک بڑی اور شاندار عمارت ہے، جس میں بڑی صندوق جتنے 2 کمرے اور برآمدہ ہے۔ اس عظیم عمارت میں ایک چودیواری بھی ہے جس کو ’کوٹ‘ کہتے ہیں۔ اس قسم کی تعمیر میں بے چینی اور بے آرامی کے سوا دوسری کوئی چیز نظر نہیں آئے گی۔ مشرق میں رہنے والے اکثر انگریز ایسی خاموش جگہوں پر آکر قیام کرتے ہیں۔‘

رچرڈ برٹن
رچرڈ برٹن

یہ بلاشبہ کوئی شاندار عمارت نہیں تھی، یہ سارے الفاظ و اعزازات رچرڈ برٹن نے طنزیہ دیے تھے۔ میں نے وہ شاندار بنگلہ دیکھا جس کی اب فقط آدھی ادھوری دیواریں رہ گئی ہیں۔ پیلو کے درخت ہیں جو اب ان کمروں اور برآمدے سے پھوٹ پڑے ہیں۔ مگر یہ تصور کتنا عجب حیرت میں مبتلا کرتا ہے کہ جاڑے کے دنوں میں، پھلیلی کے بہاؤ پر بہتی ایک کشتی کنارے پر آکر رُکی ہے اور ایک گورا بڑی شان سے چلتا ہوا اس بنگلے میں آیا ہے اور ناشتہ کر رہا ہے۔ ناشتے کے بعد وہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ آگے جنوب کی طرف روانہ ہوجاتا ہے۔ جہاں ایک قدیمی بدھ اسٹوپا ’سڈیرن جو ٹُھل‘ میں اسے رات بتانی ہے۔

چلیے ہم بھی برٹن صاحب کے اس سفر میں ہمسفر ہوجاتے ہیں۔ اس سفر نامے کو برٹن نے ’سندھ ری وزٹیڈ‘ (Sindh Revisited) کا نام دیا تھا۔ یہ کتاب 2 والیوم میں 716 صفحات پر مشتمل ہے۔ سندھ پر یہ برٹن صاحب کی شاید آخری کتاب تھی۔ اس سے پہلے وہ سندھ پر 3 کتابیں تحریر کرچکے تھے۔

Sindh and the Races that inhabit the valley of the Indus

Scinde or the Unhappy Valley

Falconry in the Valley of the Indus

یہ چاروں کتابیں برٹن کے تیز مشاہداتی تجزیہ کی شاہد ہیں اور 1883 صفحات پر مشتمل ہوئی ہیں۔ تحریر کے وقت برٹن کسی کو نہیں بخشتا۔ بالکل اسی طرح جس طرح آپ ابھی بنگلے کی شان و شوکت پر مذکورہ طنزیہ تحریر پڑھ چکے ہیں۔

وہ جب تحریر پر آتا ہے وہ اپنے آپ کو بھی نہیں بخشتا، یہاں تک کہ برطانیہ کی ملکہ کو بھی کھری کھری سنا دیتا ہے یا اُن کے دیے گئے احکامات کو کسی روئی کی طرح دھن کے رکھ دیتا ہے۔ ہزاروں اختلافات کیے جاسکتے ہیں مگر وہ ایک بہترین محقق کے ساتھ زندگی سے محبت کرنے والا انسان تھا۔ یہ بہتر رہے گا کہ برٹن صاحب کے ساتھ سفر کرنے سے پہلے اُس کی زندگی کا مختصراً لائف اسکیچ دیکھ لیا جائے، یوں اس کی تحریروں کو سمجھنے میں بھی زیادہ آسانی رہے گی۔

رچرڈ برٹن
رچرڈ برٹن
رچرڈ برٹن
رچرڈ برٹن

وہ سیاح، مہم جو، ماہرِ آثارِ قدیمہ، نثر نویس، شاعر، سپاہی، شمشیر زن، جادوگر، عالم، ادیب اور ذہین جاسوس تھا۔ رچرڈ فرانسس برٹن کئی خوبیوں کا مالک تھا بلکہ اگر ہرفن مولا کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ وہ جیسے کسی نئے ملک میں جاتا تو پہنچتے ہی وہاں کی مقامی زبان، علم و ادب، فن اور وہاں کے باشندوں کی عادات، اطوار اور خاصیتیوں کو دیکھنے، پرکھنے اور سیکھنے کی ابتدا کردیتا تھا۔ اس کے مشاغل کی کوئی سرحد نہیں تھی۔ اس نے شمشیر زنی میں وار کے کچھ نئے طریقے بھی ایجاد کیے جو بعد میں فوج میں استعمال بھی کیے گئے۔

جادو ٹونے، تعویذ اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ کیمیا میں بھی تجربے کیے۔ سونے کی کانوں کو ڈھونڈا۔ بازوں (Falcon) کو پالا اور اُن سے خوب شکار بھی کیا، مُرغوں کو پالا اور اُن کو لڑانے کا تو وہ ماہر ’کوکڑائی‘ (جو مرغوں کو لڑاتے ہیں) تھا، اور بھنگ، آفیم حتیٰ کہ چرس تک استعمال کیا۔

اسے زبانوں کو جاننے اور سیکھنے پر خاص ملکہ حاصل تھا۔ برٹن صاحب نے عربی تو ہندوستان آنے سے پہلے ہی سیکھ لی تھی۔ بمبئی میں ہندی اور گجراتی سیکھ کر 3 ماہ میں ان زبانوں کا امتحان دیا جس میں وہ اول نمبر آیا۔ برٹن کا دعویٰ تھا کہ اس نے زبان سیکھنے کا ایک ایسا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے جس سے کوئی بھی زبان 3 ماہ میں سیکھ کر بولی جاسکتی ہے۔

ہوسڑی میں واقع بنگلے کے آثار—ابوبکر شیخ
ہوسڑی میں واقع بنگلے کے آثار—ابوبکر شیخ

جس کے بعد اس نے مرہٹی، سنسکرت، سندھی، بلوچی، فارسی، جتکی، ملتانی، پنجابی، ہندی، عبرانی، ترکی، شامی، چینی بلکہ یوں کہیے اس نے زیادہ سے زیادہ زبانیں سیکھنے کی کوشش کی۔ وہ تقریباً 29 زبانوں پر عبور رکھتا تھا اور زبانیں سیکھنے کے عشق نے حد یہاں تک کی کہ، اس نے کراچی میں اپنا ایک ذاتی چڑیا گھر بنایا اور اس میں بہت سارے بندر رکھے اور ان کی حرکات، سکنات اور آوازوں پر تحقیق کی۔ جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی ہوا۔ وہ اکثر اپنے کھانے کی میز پر اپنا ایک پالتو بندر بٹھاتا اور اپنے ساتھ رکھتا۔

برٹن کا جنم 19 مارچ 1821ء میں ہوا۔ سندھ میں وہ 1844ء کی ابتدا میں 18 ریجمنٹ کا کیپٹن تعینات ہوکر آیا تھا۔ یہاں پر اُس کی ملاقات ایک انجنیئر کیپٹن والٹر اسکاٹ سے ہوئی جسے ’سر چارلس نیپئر‘ نے سندھ میں زمینوں اور آبپاشی نظام کی پیمائش کے لیے بمبئی سے بلایا تھا۔

برٹن اس کے ساتھ پیمائش کے کام میں لگ گیا اور ساتھ ساتھ باز پالنے اور اس کے شکار میں بھی مشغول رہا۔ مقامی سندھی لوگوں کی گہری نفسیاتی تحقیق کے لیے اُس نے مختلف وقتوں میں 3 پرچون کی دکانیں بھی کھولیں، جہاں بیٹھ کر وہ مرد و خواتین سے اپنی ضرورت کی معلومات لیتا رہتا تھا۔ 1846ء میں اُس پر بیماری کا حملہ ہوا، اس لیے صحتیابی کے لیے وہ کچھ مہینوں تک گووا میں رہا اور وہاں قیام کے دوران 400 صفحات پر مشتمل ایک کتاب تحریر کر ڈالی Goa: and the blue mountains or Six month of sick leave جو لندن سے 1851ء میں شایع ہوئی۔

1851ء میں کراچی کا ایک ساحل
1851ء میں کراچی کا ایک ساحل

وہ مکہ مدینہ بھی گیا، نیل ندی کا بھی سفر کیا۔ اس نے 40 سے بھی زائد کتابیں تحریر کیں اور 20 اکتوبر 1890ء کی صبح دل کا ساتھ چھوڑنے پر، اس کی بے چین روح جسم سے آزاد ہوئی۔ اس کی وصیت کے مطابق اسے سنگ مرمر کے خیمے نما مقبرے میں انگلینڈ کے ایک قبرستان میں دفن کردیا گیا۔ اگر آپ اس کی آخری آرام گاہ دیکھیں گے تو ایسا محسوس ہوگا کہ کچھ دیر کے بعد برٹن اپنی چہیتی بیوی ایزابیل (Isabel) کے ساتھ باہر نکلیں گے (ان دونوں کی شادی 1861ء میں ہوئی تھی)۔ اس کے ایک ہاتھ میں لکڑی اور دوسرے ہاتھ میں سفری بیگ ہوگا کیونکہ موت کے سوا برٹن کو ایک جگہ پر بٹھانا ممکن ہی نہیں۔

اس نے سب سے زیادہ دلچسپی سندھ کے معاشرے اور کلچر میں لی اور اُن پر بڑی گہری اور دلچسپ تحاریر قلمبند کیں۔ برٹن نے تشبیہات دینے یا اپنی بات سہل طریقے سے قاری تک پہنچانے کے لیے اپنی تحریر میں ایک تصوراتی کردار ’مسٹر جان بُل‘ تخلیق کیا۔ جس کو وہ ہر چیز بتاتا رہتا ہے اور جہاں اسے کسی اور سے تشبیح دینی ہوتی تو وہ مسٹر جان بل سے مخاطب ہوکر بڑے آرام سے دے سکتا تھا کیونکہ مسٹر جان بُل کوئی اعتراض نہیں کرتا تھا بلکہ اسے کرنا بھی نہیں چاہیے تھا۔

اس ٹیکنیک کی مدد سے برٹن صاحب کی تحریر میں دلچسپی کے کئی رنگ بھر جاتے تھے۔ کبھی کبھی وہ اس غریب مسٹر بُل کی اس طرح ٹانگ کھینچتا کہ پڑھنے والا اتنا ہنستا کہ اس کے پیٹ میں بل پڑجاتے۔ مگر وہ اس کو چاہتا بھی بہت تھا۔ یہ سمجھ لیں کہ ’برٹن‘، ’مسٹر بُل‘ کے سوا اکیلا تھا۔

اس کی کتاب ‘سندھ اور سندھ میں بسنے والی اقوام‘ کا اگر آپ مطالعہ کریں تو آپ کو بخوبی اندازہ ہوگا کہ برٹن صاحب نے کتنی گہرائی سے لوگوں کی نفسیات کا تجزیہ کیا ہے۔ وہ آپ کو بتاتے ہیں کہ بلوچ کا رہن سہن اور زبان کیسی ہے۔ ایک جت یا مچھیرا کس طرح زندگی گزارتا ہے۔ ان کا لباس اور خوراک کیا ہے۔ یہاں شادیاں کس طرح ہوتی ہیں۔ یہاں زبانیں کون سی بولی جاتی ہیں اور تحریروں کے لیے کون سا خط استعمال ہوتا ہے۔ یہاں کون سے کھیل کھیلے جاتے ہیں۔ میلے کیسے لگتے ہیں۔ نشہ آور اشیا اور مشروبات کس طرح تیار کیے جاتے ہیں اور استعمال کیسے ہوتے ہیں اور استعمال کے بعد اس نشے کے اثرات کس کیفیت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ تاریخی مقامات کے متعلق کوئی بات کرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی عام آدمی نہیں بلکہ ایک منجھا ہوا تاریخ دان اپنا تجزیہ پیش کر رہا ہے۔

رچرڈ برٹن کا خیمے نما مقبرہ
رچرڈ برٹن کا خیمے نما مقبرہ

پھر وہ یہاں کی لوک داستانوں اور تہواروں کے بارے میں بڑی خوبصورتی سے تحریر لکھتا ہے۔ چلیے ہم ’رچرڈ فرانسس برٹن‘ کے ساتھ کراچی سے سفر پر نکلتے ہیں۔ اس طرح ہمیں ان دنوں کے لینڈ اسکیپ اور ساتھ ہی ساتھ ماحولیات، معاشیات اور ثقافت کی چہل پہل کے بھی نئے رنگ بھی دیھکنے کو مل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم برٹن صاحب کو مرغے لڑاتے ہوئے بھی دیکھ لیں گے۔ ہمیں یقیناً حیرت ہوگی کہ وہ کس طرح مقامی لوگوں کی طرح چیخ و پکار کرتا ہے۔ وہ یقیناً مست مولیٰ آدمی تھا۔

سندھ میں برٹن صاحب کی یہ آخری بار آمد تھی۔ وہ جب بمبئی میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد سندھ کے لیے نکلتا ہے تو مسٹر جان بُل کو مخاطب ہوکر کہتا ہے، ’آپ بمبئی میں رہ کر بیزار ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے آپ نے سندھ کی طرف چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ جو ایک دُکھوں سے بھری گھاٹی ہے۔ میں اس کو اس نام سے اس لیے پکارتا ہوں کہ یہاں کا سورج دوزخ کی آگ اُگلتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں کی زمین توے کی طرح گرم ہوجاتی ہے۔ یہاں ’ماتا‘ (چکن پوکس) اور ’کالرا‘ لوگوں کو مارنے میں بڑی تیزی دکھاتی ہیں۔ ’پلیگ‘ ایرانی خلیج سے چل کر یہاں پہنچتی ہے۔ ٹھیک ہے مسٹر جان بل، آپ نے اگر ٹھان لی ہے کہ ان مشکلاتوں کے باوجود آپ اس دُکھوں سے بھری گھاٹی کو دیکھیں گے تو میں آپ کی اس میں کافی مدد کرسکوں گا کیونکہ اس گھاٹی کا مجھے بڑا تجربہ ہے۔‘

پھر وہ کاٹھیاواڑ اور راجپوتانہ سے ہوتا ہوا جب سندھ کے ڈیلٹائی علاقے کے کنارے سے گزرتا ہے تب بتاتا ہے کہ جہاں دریائے سندھ پانی میں گرتا ہے وہ علاقہ 104 میلوں پر محیط ہے اور دریائے سندھ کے 14 کے قریب بہاؤ ہیں جو سمندر میں گرتے ہیں۔

ہم بمبئی سے یہاں تک 500 میل کا سفر کر آئے ہیں پھر جیسے ان کا جہاز کراچی پہنچتا ہے تب تک وہ اس وادی کی ساری تاریخ اور دوسری کہانیاں پڑھنے والے کو بتا چکا ہوتا ہے۔ پھر دوسرے اور تیسرے باب میں وہ کراچی کی قدیم اور جدید منظرناموں کا مفصل ذکر کرتا ہے۔ ہم یہاں تمام تو نہیں البتہ کراچی کے صدر والے علاقے کا تھوڑا سا تذکرہ برٹن صاحب کے الفاظ میں سُن لیتے ہیں۔

’شروع میں کراچی کیمپ کی جگہیں کچی اینٹوں سے بنی ہوئی تھیں اب ان کی جگہ پتھر نے لی ہے۔ اب صدر کے گندے علاقوں میں، لمبی بازار میں، سندھی ہندوؤں کے دکانوں کی لائنیں لگ گئی ہیں۔ یہاں نوکروں چاکروں، فوجی عملداروں اور عام آدمیوں کا بڑا رش ہوتا ہے۔ میلی کچیلی عورتیں بھی گھومتی رہتی ہیں اور ان کے پیچھے 3 سے 4 میلے کچیلے بچوں کی لائن لگی ہوتی ہے۔ ان کو شاید ان کے سوا کوئی اور کام نہیں ہے۔ اس جگہ کو پہلے سے زیادہ اچھا بنا دیا گیا ہے اور بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔ یہاں کتنے اچھے اور خوبصورت گھر ہیں جیسے، آدم علی والوں کا گھر، لمبے اور کشادہ راستے ان کے اطراف میں سے گزرتے ہیں۔ یہ نئی سندھ کی طرف ابتدائی قدم ہے۔‘ پھر فیریئر ہال اور میوزیم کا بھی بڑی تفصیل سے ذکر ہوتا ہے اور ساتھ میں سمندر کی ٹھنڈی ہواؤں کا بھی۔

کراچی کے ایک بازار کا منظر
کراچی کے ایک بازار کا منظر

وہ بتاتے ہیں کہ 'سندھ کے کمشنر کو تنخواہ کے طور پر پورے 4 ہزار دیے جاتے ہیں۔ کراچی میں ایک ہفتہ رہنے کے بعد وہ آگے کے سفر کی تیاری شروع کرتا ہے۔

برٹن جیسے کراچی مرکز سے لانڈھی کی طرف چل پڑتا ہے تو بے آب و گیاہ منظرنامہ دیکھ کر وہ جان بُل کو کہتا ہے کہ ’مسٹر جان بُل یہاں بارش بہت کم ہوتی ہے۔ اگر 7 انچ تک برسات پڑجائے تو بڑی بات ہے جبکہ ممبئی میں سالانہ 86 انچ تک بارش ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو یہاں سبزہ کم ملے گا۔‘

پھر برٹن کو لانڈھی (*1) کی تصویر کچھ اس طرح سے نظر آتی ہے، ’یہاں ایک میٹھے پانی کا کنواں ہے اور چند پرچون کی دکانیں ہیں۔ جس کو مقامی زبان میں ’ہٹ‘ کہا جاتا ہے (جیسے 3 ہٹی)۔ یہاں لانڈھیاں (گھاس پھوس کے لمبے گھر یا دکانیں) بنی ہوئی ہیں جن میں دکانیں چلتی ہیں۔ یہاں سے آپ کو اناج، مٹھائیاں، سبزی ترکاری، گھی وغیرہ مل جاتا ہے۔ یہاں ان دکانوں کے مشرق میں سیاحوں کے لیے ایک بنگلہ بنا ہوا ہے۔ جہاں باورچی خانہ بھی ہے۔ مگر ہم گرم چائے کا مزہ اپنے تنبُو میں بیٹھ کرلینا چاہتے ہیں۔‘

’لانڈھی‘ کے بعد یہ 2 راہی ’وٹیجی‘ (Wutaji) کے لیے نکل پڑتے ہیں جو لانڈھی سے 15 میل کے فاصلے پر واقع تھی۔ یہ پہاڑی اور ریتیلا راستہ تھا۔ راستے میں ان کو ایک کارواں سرائے ملتی ہے جہاں کوئی سہولت میسر نہیں تھی۔ وہ لکھتے ہیں، ’1876ء میں وٹیجی میں کچھ بھی نہیں تھا۔ فوجی کیمپ لگانے کے لیے ایک کھلا میدان تھا، فوجی کیمپ کی وجہ سے پانی اچھی مقدار میں مل جاتا تھا، اس لیے اس کے نزدیک دوسری طرف آموں کے سرکاری باغ تھے، جہاں آپ کو ایک پولیس والا نظر آتا ہے جو ان باغات کی چوکیداری کرتا ہے۔‘

1853ء میں وٹیجی
1853ء میں وٹیجی

یہ رات برٹن کے قافلے نے وٹیجی میں گزاری اور اگلی صبح وہ تاریخی مقام ’بھنبھور‘ کا رختِ سفر باندھتے ہیں۔ اس اہم مقام کا مفصل تعارف وہ پڑھنے والے کو کراتے ہیں کہ یہ کتنا قدیم ہوسکتا ہے یا دریا کے کس بہاؤ پر آباد تھا۔

وہ بتاتے ہیں،’اس جگہ کو بھنبھور کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اسے دیبل بندر کے نام سے بھی پکارتے ہیں، جو سندھ کا ایک شاندار بندرگاہ تھا، جو اب برباد ہوکر ویران ہوگیا ہے۔ اب فقط قدیم گھروں کی بنیادیں، قلعے کے چبوتروں کے آثار اور مٹی کے ڈھیر دیکھنے کو ملتے ہیں۔‘

بھنبھور سے قافلہ ’گھارو‘ کی طرف چل پڑتا ہے جو اور ساتھ میں برٹن، مسٹر بُل کو اس ساحلی پٹی کی گرمی کے بابت بڑے دلچسپ انداز میں بتاتا ہے کہ، ’دُکھی گھاٹی کی اس جنوبی ساحلی پٹی میں، گرمی کے موسم میں درجہ حرارت 117 تک پہنچ جاتا ہے، مگر ٹینٹ میں 7 ڈگریوں کا مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس موسم میں آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ ایک گرم اور تپتی قبر میں لیٹے ہوئے ہیں۔ ایسے گرم موسم میں تو موت آنی چاہیے۔ مگر بچ گئے اور ہم خوش نصیب ہیں کہ ہم یقیناً بچ جائیں گے۔ مگر لوگ ہمیں سمجھیں گے کہ ہم Galloping Consumption کے مریض ہیں اور میں آپ کو بتاؤں مسٹر جان بُل میرے پیارے دوست کہ اونٹ کو یہاں بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ یہاں کے لوگ اس جانور سے بہت سارے کام لیتے ہیں، اس کا دودھ پیا جاتا ہے، جو کچھ نمکین ہوتا ہے مگر مسلسل پینے سے پھر نمکین ہونے کا احساس نہیں رہتا۔ اس کے دودھ سے مکھن اور مختلف اقسام کی مٹھائیاں بھی بنائی جاتی ہیں۔ یہاں کے ہزاروں لوگ ان اونٹوں کو پالنے کا کام کرتے ہیں، جہاں بھی کیکر، پیلو اور لئی کے درخت زیادہ ہوتے ہیں، وہاں آپ کو بہت سارے اونٹ نظر آئیں گے۔ یہاں ’جت‘ قبیلے کے لوگ ان کی تجارت کرتے ہیں۔ سندھ میں اونٹوں کی کُل 15 اقسام ہیں۔ اناج وغیرہ کا ایک سے دوسرے شہر یا جگہ پہنچانا ان اونٹوں کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔‘

گھارو اور گُجو سے چل کر یہ مسافر ننگر ٹھٹھہ پہنچتے ہیں۔ جہاں وہ اپنی کیمپ مکلی کے ایک تالاب کے کنارے لگاتا ہے۔ برٹن صاحب آس پاس کے مناظر کی کمال عکاسی کرتے ہیں۔ وہ چند لفظوں میں ایسا منظرنامہ بُن دیتے ہیں کہ یقین نہیں آتا کہ انسان کی تشبیہاتی آنکھ اس قدر کمال کی بھی ہوسکتی ہے، اس کے علاوہ اعداد وشمار کی آگاہی دینے کے ساتھ ہنسی مذاق بھی چلتا رہتا ہے۔

1844ء میں ٹھٹھہ شہر کا ایک منظر
1844ء میں ٹھٹھہ شہر کا ایک منظر

ٹھٹھہ
ٹھٹھہ

وہ ٹھٹھہ پہنچ کر وہاں موجود اس عمارت کا بھی ذکر کرتے ہیں جو ایک زمانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی کوٹھی تھی۔ یہ عمارت مسٹر کرو (Crowe) کے زمانے میں قائم کی گئی تھی۔ یہ کوٹھی غلام شاہ کلہوڑو کی اجازت سے1757ء میں قائم ہوئی تھی اور یہ تجارتی تعلقات میر سرفراز کلہوڑو نے 1775ء میں ختم کردیے تھے۔ برٹن کی تحریر سے لگتا ہے کہ وہ اس عمارت میں کئی بار آئے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ، ’اس عمارت میں کئی کشادہ کمرے تھے۔ ایک طویل سیڑھی سے چھت پر پہنچا جاتا تھا اور وہاں سے دُور دُور تک ٹھٹھہ کے نظارے کیے جاسکتے تھے۔ مسٹر جان بُل، سندھی اکثر اپنے گھروں کی چھت پر سوتے ہیں۔ اس لیے وہ چھتوں کو زیادہ خوبصورت بناتے ہیں اور صاف رکھتے ہیں۔‘

اگلی صبح وہ مکلی کے جنوب میں واقع ’کلیان کوٹ‘ (جو اب تغرل آباد کے نام سے جانا جاتا ہے) دیکھنے جاتے ہیں اور ساتھ میں قارئین وہاں کی جنگلی حیات کے متعلق تفصیل بتاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’صبح کے وقت بڑی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں اگر یہ کوٹ دیکھ لیا تو زبردست رہے گا۔ ہم گھوڑوں پر نکل پڑے اور ایک ایسے جنگل میں سے چلنے لگے جو اونچائی میں اُس شریف آدمی کی لکڑی جتنا ہے جس کو وہ بڑھاپے میں ہاتھ میں لے کر چلتا ہے۔ یہاں کالے تیتر کی میٹھی آواز جو شاید پہاڑیوں کے بیچ والے میدانی علاقے سے آ رہی ہے۔ ہد ہد (Hoopoe) پرندہ ہمارے سامنے کودتا جا رہا ہے۔ چنڈول (Lark) بھی ہم سے ڈر نہیں رہا، ہم جب اُس کے نزدیک پہنچتے ہیں تو اُڑ کر پھر نزدیک بیٹھ جاتا ہے، کچھ کوے ہیں جو ہمارے اوپر سے کائیں کائیں کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ہمارا جائزہ لے رہے ہیں۔ ساتھ میں کچھ جنگلی کبوتر بھی ہیں جو محو پرواز ہیں۔ کچھ بھورے تیتر (Brown Partridge) ہیں جو ہمارے آس پاس گھوم رہے ہیں۔ پھر ایک بڑا خرگوش ہے جو ہوتا تو ڈرپوک ہے مگر ہم سے دُور نہیں بھاگ رہا۔ کچھ سیار ہیں جو شاید اس کے پیچھے شکار کے تعاقب میں ہیں اور ہم کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے ہیں اور اپنی شاطرانہ نگاہوں سے ہمیں دیکھ رہے ہیں۔‘

1838ء میں مکلی
1838ء میں مکلی

1866ء میں مکلی
1866ء میں مکلی

برٹن اس کے بعد مکلی کے آثار دیکھ کر اُن کی بناوٹ اور تاریخ پر تفصیلاً ذکر کرتا ہے۔ پھر ٹھٹھہ شہر میں ’جنڈی‘ (لکڑی پر خوبصورت پکے رنگوں سے نقش و نگار بنانے کا ہنر، اس وقت یہ ہالا میں ہوتا ہے) کا کام دیکھنے کے بعد دوسرے دن وہ ’ہیلایا‘ جاتا ہے جو (کینجھر جھیل کے قریب) ٹھٹھہ سے 16 کلومیٹر دُور ہے۔

اس کے بعد یہ مسافر ’جھرک‘ کی طرف نکل جاتے ہیں۔ راستے میں برٹن گھنے جنگلوں اور اسے اپنا مسکن بنائے بیٹھے جانوروں جن میں، تڑس (چرخ)، بارہ سنگھے، ریچھ، سور، جنگلی بلیوں اور دیگر شامل ہیں، کا ذکر بالکل ایک ماہرِ حیوانات کی طرح کیا ہے۔

وہ یہاں ’شیخ رادھن بیلو‘ نامی ایک مشہور جنگل کا ذکر بھی کرتا ہے جہاں اس کے قافلے کا ایک اونٹ گم ہوگیا تھا اور بڑی مشکلوں سے اسے ڈھونڈا گیا تھا۔

پھر جھرک پہنچ کر، دریائے سندھ کو دیکھ کر جو تحریر کرتا ہے وہ ایک کلاسک سے کسی بھی صورت میں کم نہیں ہے۔ خاص کر ’مسٹر بُل‘ والی ٹیکنک سے وہ ہر چیز کو انتہائی آسانی سے اپنے قارئین کو سمجھا دیتا ہے۔ میں جھرک گیا ہوں، مگر مجھے وہ بُت بڑی تگ و دو کے بعد بھی دیکھنے کو نہیں ملا جس کا ذکر برٹن صاحب نے کیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ، ’ہم نے پہاڑی کے مغرب میں ایک بُت دیکھا، وہ اتنا اچھا نہیں تراشا گیا تھا، مگر لگتا تھا کہ ’ہنومان‘ کا ہے۔ اُس کے پوجاریوں نے اُس کے ماتھے پر سندُور لگا دیا تھا۔‘

وہاں سے وہ 23 میل کا سفر کرکے کوٹری پہنچتا ہے۔ جہاں وہ ’انڈس فلوٹیلا سروس‘ کا ذکر کرتا ہے اور ساتھ میں یہ بتاتا ہے کہ، ’لوگ کشتیوں پر دریا پار کرکے حیدرآباد آتے جاتے ہیں۔ دریا پار کرنے کے بعد آپ جیسے حیدرآباد کے راستے پر چلنا شروع کرتے ہیں تو بڑے خوبصورت مناظر آپ کو نظر آتے ہیں۔ جہاں سے یہ راستہ شروع ہوتا ہے وہاں برگد کے 2 بڑے درخت نظر آتے ہیں، جو انتہائی شاندار ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے 1850ء میں یہ پیشگوئی کی تھی کہ، اگر ان درختوں کو پانی دیا گیا اور بکریوں وغیرہ کی خوراک بننے سے بچ گئے تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے ٹھنڈی اور شاندار چھاؤں فراہم کرنے کا باعث بنیں گے۔ دیکھیے اب ان درختوں نے کیکر اور املی کی طرح گھیرا بنالیا ہے اور دُور دُور تک پھیل گئے ہیں۔ آپ جیسے اس چھاؤں سے باہر نکلیں گے تو پانی کی چھوٹی بڑی نہروں کا ایک جال بچھا ہوا نظر آئے گا، جن کے کناروں پر درجن اقسام کی جھاڑیاں اُگی ہوئی ہیں۔ یہاں سے آپ کو پہاڑی کے ایک کونے پر کلہوڑوں کا تعمیر کردہ شاندار قلعہ بھی نظر آتا ہے۔‘

انڈس فلوٹیلا جہاز
انڈس فلوٹیلا جہاز

!پرانے وقتوں میں پھلیلی پل، حیدرآباد
!پرانے وقتوں میں پھلیلی پل، حیدرآباد

پرانے وقتوں میں حیدرآباد
پرانے وقتوں میں حیدرآباد

1844ء میں حیدرآباد
1844ء میں حیدرآباد

ہم نے رچرڈ فرانسس برٹن صاحب کو یہاں ہوسڑی میں ناشتہ کرنے کے لیے چھوڑا تھا۔ مگر ہمارے یہاں پہنچنے سے معلوم ہوا کہ وہ، پھلیلی کے بہاؤ سے سفر کرتے ہوئے جنوب کی طرف نکل گئے ہیں، جہاں آثارِ قدیمہ کا اہم مقام واقع ہے اور وہ اس جاڑے کی رات وہیں رکیں گے۔ یہ بالکل مست مولا آدمی ہیں۔ لکھتے ہیں کہ، ’ہم سفر کرتے سُڈیرن جو ٹُھل پہنچے۔ ہم نے اس مقام کے کھلے میدان میں رات گزاری۔‘ اس کے بعد برٹن، ابراہیم خان تالپور کے گاؤں جاتا ہے جو ہرنوں کے شکار کا بڑا شوقین تھا۔ یہاں جھیلیں بھی تھیں جہاں برٹن نے بندوق سے کئی سارے پرندوں کا بے دردی سے شکار کرکے کافی لطف اندوز ہوا۔

اس کے بعد مٹیاری، ہالا اور لکی سے ہوتا ہوا برٹن ’سہون‘ پہنچا۔ جہاں اسے ایک عورت ملی تھی جس نے اپنی تیز دھار زبان سے انگریزوں کی چمڑی اُدھیڑ دی تھی۔ عورت نے کہا، ’آپ کس قسم کے لوگ ہیں؟ جو سیہون سے میرا ناچ دیکھے بنا چلے جا رہے ہو۔ کافر انگریز تم نے ایک نوالے میں ملک کو نگل لیا، تم تالپوروں کی جگہ پر حکمرانی کر رہے ہو، تم ٹِڈی دل ہو۔ جس نے دھرتی کو کھا کر برباد کردیا ہے۔‘

برٹن لکھتا ہے، ’وہ ہمارے لیے زہر اُگل رہی تھی۔ ایسی عورتوں کو خاموش کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ بہتر یہ رہتا ہے کہ وہاں سے کھسک لیا جائے۔ لیکن میں نے بھی اسے اچھا خاصا جھاڑ دیا، ’تم عورت کے نام پر داغ ہو، اچھا ہے کہ تمہارے بال کٹواکر کالے گدھے پر سوار کیا جائے۔ میں امید کرتا ہوں کہ تمہارے لاش کو گیدڑ اور کتے دونوں کھائیں۔‘ اس سارے تماشے میں کھڑے لوگ ہم کو وحشی نظروں سے گھور رہے تھے۔ ان کی نظر میں ہم سفید چمڑی والے بنی بنائی پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہے۔

سیہون کے بعد وہ ’منچھر جھیل‘ اور پھر فروری کی ابتدا میں سکھر، بکھر اور روہڑی پہنچتا ہے اور یہاں تاریخی مقامات کو دیکھنے کے بعد برٹن میں سکھر سے 23 میل دُور اسے ’شکارپور‘ دیکھنے کا کافی اشتیاق نظر آتا ہے جو ایک تجارتی مرکز تھا۔ وہ بیل گاڑی پر سفر کرتا شکارپور پہنچتا ہے۔

پرانے وقتوں میں بنائی گئی سیہون میں واقع شہباز قلندر کے مزار کی پینٹنگ
پرانے وقتوں میں بنائی گئی سیہون میں واقع شہباز قلندر کے مزار کی پینٹنگ

1890ء میں شکارپور میں چلنے والی بیل گاڑی
1890ء میں شکارپور میں چلنے والی بیل گاڑی

پرانے وقتوں میں روہڑی
پرانے وقتوں میں روہڑی

شکارپور کے ہندو تاجر
شکارپور کے ہندو تاجر

برٹن بتاتے ہیں کہ، ’شکارپور کی بنیاد 1617ء میں رکھی گئی تھی۔ یہ شہر اس زمانے میں بھی اتنا ہی ترقی یافتہ تھا جتنا آج ہے، یہ بولان لک سے جنوب میں ہے، جس کی وجہ سے بیوپار کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ اس کے علاوہ خراسان اور وسطی ایشیا سے تجارت کے لیے بھی اہم حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے یہ تجارتی قافلوں کے ذریعے مغربی ہندوستان کے شہروں تک پہنچتا ہے۔ شہر کے مرکزی بازار 800 گز لمبی اور بہت ہی شاندار ہے، شہر کے قرب و جوار کے علاقے کھیتی باڑی اور باغوں کے حوالے سے کافی خوشحال ہیں۔‘

برٹن یہاں کی بیل گاڑیوں کی سواری کا بھی ذکر کرتا ہے جس پر وہ سکھر سے شکارپور آیا تھا۔ وہ کہتا ہے، ’مسٹر جان بُل، میرا خیال ہے کہ شکارپور چلنے کے لیے، اینڈرسن سے بیل گاڑی کرائے پر لیں گے۔ جو ہم سے شکارپور کا کرایہ 5 روپے لے گا اور واپسی کے لیے آدھا کرایہ دینا پڑے گا۔ یہ بیل گاڑی انتہائی آرامدہ ہے۔ جیسے ہم کسی شاندار کوٹھی میں بیٹھے ہوں گے۔ ہم رات کو 9 بجے اس گاڑی میں سفر شروع کریں گے اور صبح 7 بجے شکارپور پہنچ جائیں گے۔‘ (*2)

یکم اپریل 1876ء بروز ہفتہ برٹن نے صبح ساڑھے 7 بجے سکھر کے بندر سے اپنی واپسی کا سفر ’انڈس فلوٹیلا کمپنی‘ کی کشتی میں شروع کیا۔ دریائے سندھ کے متعلق جو بھی معلومات تھی وہ اُس نے مسٹر بُل کو سُنانی شروع کی۔ وہ بتا رہا ہے کہ، ’کہتے ہیں کہ، عرب دور میں دریائے سندھ میں بڑی کشتیاں چلتی تھیں۔ اب بھی جب دریائے سندھ اپنی موج میں بہتا ہے تو یورپ کے لوگ، اس بڑی سندھی کشتی میں سوار ہوکر، پانی کے بہاؤ کی گہرائی معلوم کرتے ہیں۔ میں آپ کو بتاؤں مسٹر بُل کہ، یہاں کے مچھیرے ’پلو‘ مچھلی کا شکار کیسے کرتے ہیں؟ اس مچھلی کو انگریزی میں Sable Fish کہا جاتا ہے۔‘

سکھر بندر پر فیری ٹرینز
سکھر بندر پر فیری ٹرینز

1880ء کی دہائی میں لینڈس ڈاؤن پل سکھر
1880ء کی دہائی میں لینڈس ڈاؤن پل سکھر

’ایک سیاح نے اس شکار کو ’مچھیروں کی جستجو‘ کا نام دیا ہے۔ اس مچھلی کے شکار کے خاص مقام سیہون، سیتا اور سکھر ہیں۔ پلو دریا کی مخالف سمت میں سفر کرتا ہے۔ جب ماہی گیر اس کا شکار کرتا ہے تو اس کے سر پر سندھی پگڑی (پٹکو) بندھا ہوتا ہے۔ وہ ایک مخصوص قسم کا مٹکا استعمال کرتا ہے جس کی چوڑائی 4 فٹ اور لمبائی 2 فٹ ہوتی ہے۔ یہ خاص مٹکے حیدرآباد میں بنتے ہیں۔ مچھیرا اپنا سینہ اُس مٹکے پر جماتا ہے اور پاؤں مینڈک کی طرح چلاتا ہے، اُس مٹکے کے سہارے وہ دریا کے بہاؤ کے بیچ میں پہنچ جاتا ہے۔

’اُس کو پتہ ہوتا ہے کہ، پلو مچھلی کہاں ہے۔ اُس کے ہاتھ میں ایک لکڑی ہوتی ہے جس کے کونے پر ایک جالی بندھی ہوتی ہے اور ساتھ میں ایک ڈور بھی۔ وہ مخصوص طریقے سے اُس سے مچھلی پکڑتا ہے اور پھر اُس مٹکے میں ڈالتا جاتا ہے۔ یہ کوئی مذاق نہیں ہے بلکہ بڑی ذہانت اور دھیرج کا کام ہے اور اس کام کو بڑے پُرسکون انداز میں کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ اُس شاندار دریا میں یہ کام کر رہا ہے جس کا بہاؤ اوسطاً 680 گز پر پھیلا ہوا ہے۔ کہیں کہیں تو یہ 3 میلوں تک بھی پھیل جاتا ہے۔ میں نے اس مٹکے پر اس مچھلی کا شکار کیا ہے۔ مگر تم کبھی ایسا نہ کرنا میرے محترم جان بُل کہ یہ بہت ہی خطرناک ہے۔‘

رات برٹن صاحب نے کوٹری میں بسر کی، کہ صبح کے ساڑھے 7 والی ریل گاڑی میں اسے کراچی روانہ ہونا تھا۔ وہ اس ریلوے نظام کو اچھا کام سمھجتا ہے مگر ریلوے کے موجودہ راستے پر اس کو بڑا اعتراض ہے۔ برٹن صاحب کے خیال میں ’یہ انڈس فلوٹیلا کے ہی آگبوٹ ہیں جن کو اب ’سندھ، پنجاب اور دہلی ریلوے کمپنی‘ کہا جاتا ہے۔ کوٹڑی سے کراچی تک ریلوے لائن انتہائی خراب راستے سے شروع کی گئی ہے۔ یہ ایک بیوقوفی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس ریلوے لائن کے دونوں اطراف آپ کو جانور چلتے پھرتے نظر آئیں گے۔ انسان اور پانی کا کہیں دُور دُور تک نام و نشان نہیں ہے۔ اگر ان کو عقل ہوتی تو، یہ اس راستے کے بجائے دریائے سندھ کا وہ مشرقی راستہ اپناتے جس کی وجہ سے دیبل بندر وجود میں آیا تھا۔ مگر ہمارے مشرقی شہنشاہوں کی جو اقتصادی پالیسیاں ہیں، ان سے لگتا ہے کہ ترقی کے ہر کام پر بندش ہے۔‘

ماہی گیر پلو مچھلی کا شکار کر رہے ہیں
ماہی گیر پلو مچھلی کا شکار کر رہے ہیں

پلو مچھلی کے شکار کی تیاری کرتے ماہی گیر
پلو مچھلی کے شکار کی تیاری کرتے ماہی گیر

سفر کے دوران کمپنی پر تنقید جاری رہتی ہے۔ پھر 104 میلوں کا سفر کرکے 4 گھنٹوں میں وہ کراچی پہنچتا ہے اور جان بُل کو ان لفظوں کے ساتھ الوداع کہتا ہے کہ، ’اُمید ہے کہ سندھ کی یہ سیر آپ کی خوشگوار یادوں میں جگہ بنائے گی۔ اب ہاتھ ملاکر ایک دوسرے کو الواداع کہتے ہیں۔ بلکہ اگلی ملاقات تک کے لیے الوداع کہتے ہیں۔‘

ہم بھی مسٹر رچرڈ فرانسس برٹن کو عالم ارواح میں سے الوداع کہتے ہیں اور شکریہ ادا بھی کرتے ہیں کہ اس قدر اہم اور حقیقی معلومات ہم تک پہنچائی۔

یہ سارے منظرنامے اور حقیقتیں ہم بس اب ذہنوں میں ہی تخلیق کرسکتے ہیں۔ اب وہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔ سب کچھ ہم ذبح کرکے کھا گئے یا کلہاڑی کی دھار دیکھنے کے لیے کاٹ ڈالا۔ بہت کچھ پانے کی حوس میں ہم نے پہاڑوں تک کو نہیں بخشا۔ ڈیم اور بیراج بنادیے اور جنگلی حیات اور جنگلات کو تباہ کردیا۔

مسٹر رچرڈ فرانسس برٹن کا آخری دیدار
مسٹر رچرڈ فرانسس برٹن کا آخری دیدار

میں اس وقت سے ورتہ حیرت میں پڑگیا ہوں جب میں نے پڑھا کہ، جھرک کے نزدیک اتنے وسیع گھنے جنگل تھے کہ یہاں ریچھ بھی رہتے تھے۔ جھیلیں تھیں۔ مچھلیاں تھیں۔ مگر مچھ تھے اور گھڑیال تھے اتنی نسلیں تھیں حیات کی کہ آپ پڑھتے جاتے ہیں اور حیران ہوتے جاتے ہیں۔

مگر ہم نے کچھ نہیں چھوڑا۔ ترقی کے افسانوی گھوڑے پر جو سواری کی تو رشتے تک کھودیے ہم نے۔ اپنے کلچر کے منہ سے رنگ نوچ لیے۔ عزت اور احترام کی پگڑی کو اس طرح اُتار پھینکا کہ ننگا سر ہی احترام ٹھہرا۔ ہم نے شاید یہ کبھی سوچا ہی نہیں کہ، ہمارے بعد بھی زمانے آئیں گے۔ اُن کے لیے کیا چھوڑ کر جارہے ہیں؟ میرے خیال میں شرمندگی اور ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں!


حوالہ جات

۔ ’سندھ منھنجی نظر میں‘۔ رچرڈ ایف برٹن۔ سندھیکا اکیڈمی، کراچی

۔’سندھ ائیں سندھو ماتھر میں وسندڑ قوموں‘۔ رچرڈ ایف برٹن۔ سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد

۔ ’نگری نگری پھرا مسافر‘۔ابوبکر شیخ۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور

۔ ’سندھ ڈکھویل ماتھری‘۔ رچرڈ ایف برٹن۔ روشنی پبلیکیشن، حیدرآباد


*1: لانڈھی: اسے جمعدار والی لانڈھی کے نام سے پکارا جاتا تھا جو الہڈنو پنھور گوٹھ کے ساتھ ’سکن‘ ندی کے کنارے تھی۔ اگر آپ ملیر سے آ رہے ہیں، جہاں ملیر ندی پر پُل ہے، پُرانا راستہ یہیں سے ملیر ندی کو پار کرکے، موجودہ قائدآباد سے، گلستان سنیما سے چلتا ہوا، آگے ’پیر کوہی‘ قبرستان پہنچا دیتا تھا، یہ چوکنڈی طرز کا قبرستان ہے، جن کو ’سازین والی چوکنڈی‘ کہتے ہیں۔ پھر یہ راستہ ملیر جیل کے پیچھے، جمع حمایتی قبرستان سے ہوتا ہوا آگے جاتا تھا۔ قائدآباد کے ساتھ، مرغی خانہ کا علاقہ ہے، وہاں ملیر ندی کے کنارے یہ لانڈھی تھی، اس لانڈھی کی وجہ سے یہ علاقہ دیہہ لانڈھی کہلاتا ہے۔ جبکہ، کوہی قبرستان دیہہ ’کانٹو‘ میں ہے۔ معلومات: بشکریہ محترم گُل حسن کلمتی صاحب۔

*2: بیل گاڑی اُس زمانے میں یہ بڑی آرامدہ گاڑیاں سمجھی جاتی تھیں، اس گاڑی کو 2 صحت مند بیل کھینچتے تھے۔ اس کو ’پکنک گاڑی‘ کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ یہ ہر طرف سے بند ہوتی تھی۔ البتہ چھوٹی کھڑکیاں ہوتی تھیں۔ بیٹھنے کی جگہ کافی آرامدہ ہوتی تھی، اسی لیے یہ سواری پورے ہندوستان اور سندھ میں مقبول عام تھی۔