ایشیز سیریز: بہترین ٹیسٹ کرکٹ ہماری منتظر ہے

اپ ڈیٹ 31 جولائ 2019

ای میل

1882ء کے موسم گرما میں برطانیہ اور آسٹریلیا کے مابین کھیلا جانے والا ٹیسٹ میچ ایک دلچسپ مقابلے کے بعد آسٹریلیا کی فتح کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔

اوول کے میدان میں کھیلا جانے والا یہ میچ یوں یادگار بن گیا کہ یہ سلطنتِ برطانیہ کی اپنے گھر میں کولونیل آسٹریلیا سے پہلی شکست تھی۔

اس میچ میں برطانوی ٹیم فیورٹ تھی اور 3 روزہ ٹیسٹ کے دوسرے دن صرف 85 رنز کے ہدف کے حصول کے لیے میدان میں اتری تھی۔ 51 رنز پر تیسری وکٹ کھونے والی ٹیم کو بقیہ 34 رنز بنانے کے لیے 7 وکٹوں کی سہولت دستیاب تھی لیکن آسٹریلوی فاسٹ باؤلر فرد اسپوفورتھ کے ایک طوفانی اسپیل نے اننگز 77 رنز پر سمیٹ دی۔

یہ سب کچھ انگریز شائقین کے لیے کسی سانحے سے کم نہیں تھا۔ کھیل کی تاریخ کا یہ صرف 9واں میچ تھا اور کرکٹ ابھی آسٹریلیا اور انگلینڈ سے باہر نہیں نکلی تھی۔

پھر یہاں سے کھیل کی سب سے مسابقت بھری سیریز کا آغاز ہوا جسے دنیا نے ایشیز کے نام سے جانا۔ پہلی ایشیز سیریز اسی سال یعنی 1882ء میں برطانیہ کے جوابی دورہ آسٹریلیا میں کھیلی گئی اور 3 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل یہ سیریز برطانیہ نے 1-2 سے جیت لی۔

آج ان مقابلوں کو تقریباً 137 سال ہونے کو آئے ہیں، لیکن ان کی عوامی مقبولیت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ آج کے تیز ترین دور میں جب ساری دنیا 20 اوورز کے مقابلوں کو ترجیح دیتی ہے، ایشیز نے اپنا فین بیس نا صرف قائم رکھا ہے بلکہ اس میں اضافہ ہی کیا ہے۔

کرکٹ پر بہت سارے اتار چڑھاؤ آئے ویسٹ انڈیز کا عروج ہو یا پاکستان اور ہندوستان کے مابین مسابقت کے نئے معیارات، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایشیز سیریز کی مقبولیت کو کوئی نہیں چُھو سکا۔ ایشیز کا تازہ ایڈیشن یکم اگست سے شروع ہو رہا ہے، لہٰذا ہم نے دونوں ٹیموں کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔


انگلینڈ


انگلینڈ کی ٹیم اس بار مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔ ورلڈ چیمپئن کا ٹائٹل اپنے نام کیے اس ٹیم کو ابھی 2 ہفتے ہی گزرے ہیں۔ گوکہ یہ سب بہت متنازع انداز میں ہوا تاہم فاتح کا تاج انہی کے سر سجا ہوا ہے۔

اس ورلڈ کپ کے بعد آئر لینڈ کے خلاف کھیلا جانے والا واحد ٹیسٹ میچ بھی بہت ڈرامائی رہا۔ انگلینڈ کی ٹیم پہلی اننگز میں تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی تو معترضین نے جعلی ورلڈ چیمپئن جیسی پھبتیاں بھی کسیں لیکن انگلش ٹیم نے آخری اننگز میں سارا غبار اتار دیا اور آئر لینڈ کو گزشتہ 64 سالوں میں سب سے کم ٹیسٹ اسکور 38 رنزپر آل آؤٹ کر دیا۔

مضبوط مڈل آرڈر

اصل میں ورلڈ چیمپئن انگلینڈ اور ٹیسٹ کھیلنے والی انگلینڈ کو علیحدہ دیکھنا چاہیے۔ ویسے بھی سرخ گیند اور سفید گیند کی کرکٹ میں بہت فرق ہے۔ انگلینڈ کی موجودہ ٹیم کی سب سے بڑی طاقت ان کا مضبوط ترین مڈل آرڈر ہے۔ نمبر 4 سے لیکر نمبر 7 تک سارے ہی کمال بلے باز اس ٹیم میں شامل ہیں۔

کپتان جو روٹ دورِ حاضر کے 5 بہترین بلے بازوں میں سے ایک ہیں تو جونی بیئرسٹو اور بین اسٹوکس اس مڈل آرڈر کی مزید شان بڑھاتے ہیں۔ اگر کوئی کمی رہ جائے تو جوز بٹلر موجود ہیں۔ جوز بٹلر جیسا بلے باز کسی بھی ٹیم کے لیے نعمت سے کم نہیں، کیونکہ وہ تیز رنز کرکے میچ کا پانسہ چند ہی اوورز میں پلٹنے کی پوری پوری صلاحیت رکھتے ہیں، لہٰذا جدید ٹیسٹ کرکٹ میں بٹلر ایک بونس ہیں۔

جو روٹ—تصویر رائٹرز
جو روٹ—تصویر رائٹرز

انگلینڈ نے اس بار اسپیشلسٹ اسپنر کے طور پر صرف معین علی کو شامل کیا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ معین علی ایک مکمل بیٹسمین ہیں۔ انہیں آپ پہلے نمبر سے لیکر 8ویں نمبر تک کہیں بھی پورے اعتماد سے بھیج سکتے ہیں۔ اگر یہ مڈل آرڈر کافی نہیں تو انگلینڈ ٹیم کی ٹیل بہت لمبی ہے۔ سام کرن، کرس ووکس اور اسٹورٹ براڈ اچھے رنز جوڑ سکتے ہیں یا کسی بلے باز کے ساتھ مل کر پارٹنرشپ میں معاون بن سکتے ہیں اور تو اور انگلینڈ کے پکے نمبر 11 جمیز اینڈرسن بھی عمدہ مزاحمت کے لیے مشہور ہیں۔

باؤلنگ

انگلینڈ کی باؤلنگ بھی بہت عمدہ ہے۔ اسٹورٹ براڈ اور جیمز اینڈرسن اس وقت ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے عمدہ باؤلنگ جوڑی شمار ہوتے ہیں اور دونوں انگلینڈ کے آل ٹائم ٹاپ وکٹ ٹیکر ہیں۔ جیمز اینڈرسن تو سب سے کامیاب ٹیسٹ فاسٹ باؤلر بھی ہیں۔ انہیں کنڈیشنز کا باؤلر مانا جاتا ہے اور چونکہ اس بار سیریز انگلینڈ میں ہے تو کنڈیشنز سے وہ بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔

اسٹورٹ براڈ اور جیمز اینڈرسن
اسٹورٹ براڈ اور جیمز اینڈرسن

کرس ووکس اور سام کرن کو نظر انداز کرنا کسی صورت ممکن نہیں۔ خاص کر کرس ووکس نے انگلینڈ کے لیے حالیہ عرصے میں بہت عمدہ پرفارمنسز دی ہیں۔ انگلینڈ کی ٹیم کو ایک دلچسپ مقابلہ درپیش ہے کہ جوفرا آرچر کے لیے جگہ کیسے بنائی جائے۔ ورلڈکپ میں دھوم مچانے کے بعد اب ٹیسٹ کرکٹ میں اپنا جادو جگانے کو بیتاب جوفرا آرچر پر سب کی نگاہیں ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ انگلینڈ ان سے کتنا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

جوفرا آرچر—تصویر اے ایف پی
جوفرا آرچر—تصویر اے ایف پی

جوفرا آرچر کو اب تک ساری کامیابیاں سفید گیند سے ملی ہیں اس لیے یہ بھی دیکھنے لائق ہوگا کہ سرخ گیند سے وہ کتنے کامیاب ثابت ہوتے ہیں۔ جوفرا آرچر کے ہاتھوں میں چمکتا ہوا سرخ گیند اور سلپ پر کھڑے 3 سے 4 فیلڈر کیچ کے منتظر۔ کھیل سے محبت کرنے والوں کے لیے یہ بہت دل لبھانے والا منظر ہوگا۔ ٹیسٹ کرکٹ کو ایسے مناظر کی سخت ضرورت ہے۔

کیا انگلینڈ کے خیمے میں سب کچھ ٹھیک ہے؟

انگلینڈ کے بارے میں ابھی تک ہم نے جو آپ کو بتایا اس سے تو سب کچھ ٹھیک ہی لگ رہا ہے لیکن ایسا بالکل نہیں ہے۔ خاص طور پر ایلسٹر کک کے جانے کے بعد سے انگلینڈ کا ٹاپ آرڈر مسائل کا شکار ہے۔ کئی ایک اوپنرز اور نمبر 3 پر بیٹسمنوں کو آزمایا جاچکا ہے لیکن اب تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔ مارک اسٹون مین اور کیٹن جیننگز مسلسل مواقع سے فائدہ اٹھانے میں یکسر ناکام رہے ہیں۔ بین ڈکٹ ہوں، جیمز ونس یا اولی پاپ کوئی بھی اس مسئلے کو حل نہیں کرسکا حتیٰ کہ انگلینڈ کو جوئے ڈینلی جیسا پرانا کھلاڑی ٹیسٹ میں لانا پڑا۔

رورے برنز کے ساتھ بھی سلیکٹرز کافی صبر سے کام لے رہے ہیں، مگر وہ ابھی تک خود کو اس ٹیم کے قابل ثابت نہیں کر پائے۔ محض 2 یا 3 اچھی اننگز کے علاوہ ان کے کریڈٹ پر کچھ نہیں ہے۔ اب جیسن روئے کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ ون ڈے کرکٹ کے کامیاب بلے باز یہاں کیا کرسکتے ہیں؟ کیا وہ انگلش ٹاپ آرڈر کے مسائل حل کرسکتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں انگلینڈ کی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔

نمبر 3 پر جو روٹ کو کھلائے جانے کی خواہش کا اظہار کیا جا رہا ہے، لیکن روٹ خود اس کے لیے تیار نظر نہیں آتے کیونکہ نمبر 4 پر وہ بہترین کھیل پیش کر رہے ہیں۔ نمبر 3 پر ان کی کارکردگی میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ کیا انگلینڈ اپنا سب سے بہترین بلے باز مجبوری کی نذر کردے گا؟ کیا بین اسٹوکس نمبر 2 ہوسکتے ہیں؟ معین علی کو نمبر 3 پر کھلانے کا جوا کھیلا جاسکتا ہے؟ کیا نگلینڈ عین وقت پر ان سب سوالات کے درست جوابات تلاش کر پائے گا؟


آسٹریلیا


آسٹریلیا کی ٹیم کو یاد رکھنا ہوگا کہ صرف 2 سال پہلے کھیلے گئے آخری ایڈیشن میں انہوں نے انگلینڈ کو چاروں شانے چت کر دیا تھا۔ انگلینڈ کو 4 کے مقابلے میں صفر کی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس سے تھوڑا پیچھے یعنی 14ء-2013ء میں چلے جائیں تو ایشیز سیریز میں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو 0-5 سے وائٹ واش کیا تھا۔ ایشیز کی تاریخ میں 0-5 سے وائٹ واش کا کارنامہ صرف 3 مرتبہ ہی انجام پایا ہے اور تینوں بار یہ تمغہ آسٹریلیا کے حصے آیا ہے۔

انگلش کپتان ایلسٹر کک 0-5 سے سیریز ہارنے کے بعد اداس نظر آرہے ہیں—فوٹو رائٹرز
انگلش کپتان ایلسٹر کک 0-5 سے سیریز ہارنے کے بعد اداس نظر آرہے ہیں—فوٹو رائٹرز

لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں ٹیمیں پورا سال جیسا بھی کھیل پیش کرتی ہوں لیکن ایشیز میں ان کی اٹھان اور مسابقت کا معیار کچھ اور ہوجاتا ہے۔ امید ہے کہ بظاہر کاغذ میں نسبتاً کمزور دکھنے والی ٹیم اس بار بھی ایشیز میں اچھا مقابلہ کرے گی۔

بیٹنگ

آسٹریلوی بیٹنگ پر نظر دوڑائی جائے تو ڈیوڈ وارنر، کیمرون بین کرافٹ اور اسٹیو اسمتھ کی واپسی کے بعد ان کی بیٹنگ کافی متوازن ہوچکی ہے، خاص کر اسمتھ اور وارنر کو دیکھ کر تو بالکل نہیں لگتا کہ وہ ایک سال مسابقتی کرکٹ سے باہر رہے ہیں۔ تاہم جہاں ان دونوں کو عمدہ انگلش باؤلنگ کا سامنا کرنا ہوگا وہیں ایک دلچسپ امتحان ان کا منتظر ہے، انگلش شائقین کی طرف سے ممکنہ ہوٹنگ کا امتحان۔

اسمتھ اور وارنر—اے ایف پی
اسمتھ اور وارنر—اے ایف پی

اسمتھ جب بال ٹمپرنگ والی غلطی کے خمیازے میں ٹیم سے باہر ہوئے تب وہ سر ڈان بریڈ مین کی آل ٹائم بیسٹ بیٹنگ رینکنگ سے چند پوائنٹس کی دُوری پر تھے۔ یوں لگتا تھا کہ چند میچوں بعد بظاہر اٹوٹ ریکارڈ اب ٹوٹ جائے گا، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ لیکن بہرحال اسمتھ خوش قسمت ہیں کہ زندگی نے انہیں ایک اور موقع دیا ہے اور امید ہے کہ اس بار ہمیں وہی پرانا اسٹیو اسمتھ دیکھنے کو ملے گا، وہی کتابی بیٹنگ تکنیک کو جھٹلا دینے والا انوکھا بیٹسمین۔

مارکوس ہیرس اور مارنس لبوشین خوش قسمت ہیں کہ اس آسٹریلوی ٹیم میں جگہ پانے میں کامیاب رہے۔ ایک حیران کن فیصلہ پیٹر ہینڈز کومب کے اخراج کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ کیا آسٹریلیا وکٹ کیپر میتھیو ویڈ کو بطور بیٹسمین میدان میں اتار سکتا ہے؟ مچل مارش کو ورلڈکپ کھیلنا چائیے تھا، مگر چلیے دیر آید درست آید اب وہ ٹیم میں واپس آچکے ہیں۔ امید ہے ٹیم کا بیلنس سدھارنے میں وہ کامیاب ہو پائیں گے۔

عثمان خواجہ کی فٹنس نے آسٹریلوی ٹیم کو ورلڈکپ سیمی فائنل میں سخت دھچکا دیا تھا، لیکن امید ہے کہ وہ ایشیز سے پہلے مکمل فٹ ہوجائیں گے کیونکہ موجودہ ٹیم میں ان کی بہت ضرورت ہے۔ آسٹریلیا کے ساتھ چند مسائل ضرور ہیں لیکن جتنے وہ کمزور نظر آتے ہیں اتنے وہ ہیں نہیں۔

ٹم پین اور قسمت کی مہربانیاں

قسمت کی مہربانی انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتی ہے، اسے جاننے کے لیے آسٹریلوی کپتان ٹم پین کے کیرئیر کو دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک وقت تھا کہ ٹیم میں ان کی جگہ کا کوئی امکان ہی نہیں تھا اور یقیناً وہ اس وقت وہ ریٹائرمنٹ کا سوچتے ہوں گے مگر پھر دیکھیے کہ اچانک آسٹریلیا کو ان کی ضرورت پڑگئی، اور اب وہ نا صرف ٹیم کا حصہ ہیں بلکہ اہم ترین سیریز میں قیادت کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں گے۔

لیکن اب ان کو ہوشیار اور متحرک ہونا ہوگا، کیونکہ یہ ایشیز سیریز ان کے مستقبل کے حوالے سے بہت اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ محنتی بھی ہیں اور اچھے فائٹر بھی، مگر پرفارمنس دینا اب ناگزیر ہوگیا ہے، اگر وہ اس بار ناکام ہوئے تو ان کا باہر جانا یقینی ہے کیونکہ آسٹریلیا کے پاس ان سے بہتر آپشنز موجود ہیں۔ دیکھتے ہیں وہ وقت کی نزاکت کو کتنا سمجھتے ہیں۔ ورنہ ممکنہ ہار کی صورت میں آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کا کام آسان ہوجائے گا اور انہیں قربانی کا کم از کم ایک بکرا ڈھونڈنا نہیں پڑے گا۔

باؤلنگ

پیٹر سڈل بھی قسمت کی مہربانی پر حیران ہوں گے کیونکہ اب انہیں بھی واپس بلایا گیا ہے۔ اگر سچ کہوں تو آسٹریلوی باؤلنگ دیکھ کر منہ میں پانی آجاتا ہے۔ مچل سٹارک، جوش ہیزل ووڈ، پیٹ کمنز اور جیمز پیٹنس پر مشتمل فاسٹ باؤلنگ بیٹری۔ کیا شاندار چوکڑی ہے۔ انہیں دیکھ کر گلین میگراتھ، جیسن گلیسپی اور بریٹ لی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے یا مزید پیچھے چلے جائیں تو وقار یونس، وسیم اکرم اور شعیب اختر کی یاد تازہ کرلیں۔

پیٹر سیڈل—اے ایف پی
پیٹر سیڈل—اے ایف پی

انگلینڈ کی پچیں جہاں ہمیشہ ہی فاسٹ باؤلرز کے لیے کافی مدد دستیاب ہوتی ہے، وہاں اس آسٹریلوی اٹیک کی باؤلنگ دیکھنے لائق ہوگی۔ مدت بعد ایک ایسی سیریز دیکھنے کو ملے گی جس میں دونوں طرف سے عمدہ فاسٹ باؤلرز میدان میں ہوں گے۔ کھیل کو گیند اور بلے کے درمیان جتنا توازن آج درکار ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔

موجودہ دور میں جہاں بہت سارے فاسٹ باؤلرز ٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ کرکٹ کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کو خیر باد کہہ رہے ہیں، وہاں ان زبردست فاسٹ باؤلرز کو بیک وقت ایکشن میں دیکھنا بہت خوشگوار تجربہ ہوگا۔ ساتھ ساتھ یہ امید کی جا سکتی ہے کہ کھیل پر اس کے مثبت اثرات بھی ہوں گے۔

صرف فاسٹ باؤلرز کی بات ہی نہیں، بلکہ آسٹریلیا کو موجودہ کرکٹ کے سب سے بہترین آف اسپنر کا ساتھ بھی میسر ہے۔ نیتھن لایون ایک انڈر ریٹڈ باؤلر ہیں۔ وہ جتنے قابل ہیں اتنا ان کا نام نہیں۔ اگر وہ کسی ایشین ٹیم کی طرف سے کھیل رہے ہوتے تو ان کے اعداد و شمار مزید حیران کن ہوتے، کیونکہ آسٹریلیا کی تیز باؤلنگ پچوں پر ان کے اعداد و شمار اب بھی حیران کردینے والے ہیں۔

لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ انگلینڈ کو بیٹنگ میں جو تھوڑا اضافی وزن حاصل ہے، آسٹریلیا کو وہی وزن باؤلنگ میں حاصل ہے۔ ماضی قریب میں ہم نے دیکھا ہے کہ انگلش سرزمین پر کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز بہت قریبی نتائج لائی ہیں، اور حالات بتارہے ہیں کہ اب بھی یہ سیریز جیتنا کسی بھی ٹیم کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ ممکن ہے انگلینڈ آسٹریلیا کی نسبتاً کمزور بیٹنگ کی وجہ سے جیت جائے، مگر مقابلے ٹکر کے ہوں گے۔