'مطالبات نہ مانے گئے تو لاشیں اٹھائیں گے لیکن یہاں سے نہیں جائیں گے'

اپ ڈیٹ 07 نومبر 2019

ای میل

ہمارے کسی سے مذاکرات نہیں چل رہے، سربراہ جے یو آئی (ف) — فوٹو: ڈان نیوز
ہمارے کسی سے مذاکرات نہیں چل رہے، سربراہ جے یو آئی (ف) — فوٹو: ڈان نیوز

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو شہادتیں لیں گے اور لاشیں اٹھائیں گے لیکن کسی صورت یہاں سے نہیں جائیں گے۔

ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز آئی' میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'اب تک لوگوں کا جو جوش و خروش ہے وہ اپنی موجودگی سے یہ بتا رہے ہیں وہ یہاں تفریح کے لیے نہیں آئے، وہ ایک نظریے کے ساتھ آئے ہیں اور یہ ایک قوم کی آواز ہے لہٰذا اب یہ ممکن نہیں ہے کہ اتنے بڑے احتجاج کو نظر انداز کیا جائے اس لیے مارچ ختم کرنے کے حوالے سے ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔'

انہوں نے کہا کہ 'ہم نے یہاں تک پہنچنے کے لیے 26 جولائی 2018 سے کام شروع کردیا تھا، اب یہ صورتحال ہے کہ ملک میں ایسی بیداری آئی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عمران خان ناجائز طریقے سے اقتدار میں آئے ہیں، اگر وہ ملک کے حالات میں بہتری لاتے تب لوگ ان کی حکومت کا شاید ساتھ دیتے لیکن ان کی حکومت میں ملک روز بہ روز تنزلی کی طرف جارہا ہے، ہم اس طرح کی جمہوریت چاہتے تھے؟ ہم نے قربانیاں اس جمہوریت کے لیے نہیں دی تھیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ استعفے کے علاوہ دوسرا آپشن شفاف انتخابات ہیں، انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن اپنی افادیت کھو چکا ہے اس لیے نئے انتخابات کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے، موجودہ قوانین کے تحت ہی دوبارہ انتخابات کرائے جاتے ہیں تو وہ بھی قبول نہیں کریں گے جبکہ چاہتے ہیں کہ ان انتخابات کے لیے فوج کو بلکل نہیں بلایا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: دھرنا سیاسی سرگرمی ہے جس میں فوج کا کوئی کردار نہیں، ترجمان پاک فوج

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'فوج کا ایک مقام اور عزت ہے اور گزشتہ حکومت کا انتخابات کے لیے فوج کو بلانے کا اقدام غلط تھا، فوج انتہائی اہم ادارہ ہے جسے متنازع نہیں بنانا چاہیے۔'

انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے چاروں مطالبات تمام اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ مطالبات ہیں، دوبارہ انتخابات کا مطالبہ انہیں ہر صورت ماننا پڑے گا۔

حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن و اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے متعلق سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ 'اسد قیصر کی کوئی حیثیت نہیں، وہ بھی میری طرح فقیر آدمی ہیں، ہمارے کسی سے مذاکرات نہیں چل رہے، کوئی آتا ہے تو انکار نہیں کرتے، حکومت کی طرف سے ٹائم پاس کیا جارہا ہے۔'

مطالبات نہ مانے کی صورت میں ان کا کہنا تھا کہ 'اس صورت میں ملک میں افراتفری ہوگی، نہ جانے کیا ہوگا کیا نہیں ہوگا، ہم کسی پر حملہ نہیں کریں گے، ہم گولیاں کھائیں گے، شہادتیں لیں گے اور یہاں سے لاشیں اٹھائیں گے لیکن کسی صورت یہاں سے نہیں جائیں گے، ہم جذبہ جہاد اور شوق شہادت کو لے کر گھروں سے نکلے ہیں جبکہ ملک اس کا متحمل نہیں ہے کہ تو حکومت گھر جائے۔'

انہوں نے کہا کہ 'ہم ڈیڈ لائن کھینچ چکے ہیں، ہم اس ناروا، ناجائز اور نااہل حکومت کو قبول نہیں کرتے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے پاس ایک انچ بھی پیچھے جانے کا راستہ نہیں ہے، ہم تمام کشتیاں جلانے کو تیار ہیں لیکن اس حکومت کو قبول نہیں کر سکتے۔'

کرتارپور راہداری کے ذریعے بھارتی سکھ یاتریوں کو بغیر ویزے اور پاسپورٹ ملک میں آنے کی اجازت دینے سے متعلق مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'بھارت کے ساتھ ایک طرف ایل او سی پر تناؤ ہے دوسری طرف آپ کرتارپور آنے کے لیے بھارتی سکھوں کو بغیر پاسپورٹ یا ویزا آنے کی اجازت دی جارہی ہے، یہ ایک ملک کا دو سرحدوں پر ایک ہی ملک کے ساتھ تضاد ہے۔'

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس، حکومت پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ

'پاک فوج کے غیر جانبدار رہنے کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں'

قبل ازیں اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ ایک مصدقہ صورتحال سامنے آئی ہے کہ ریجکٹڈ وزیر اعظم کی ہمشیرہ نے دبئی میں 7 ارب کا سرمایہ بینکوں میں کیسے پیدا کیا، کہاں سے یہ پیسہ آیا، یہ ہے وہ این آر او جو آپ نے اپنی بہن کو دیا لیکن مجھے یہ حق پہنچتا ہوں کہ میں کہوں کہ اب آپ کو کوئی این آر او نہیں ملے گا۔'

انہوں نے افواج پاکستان کے ترجمان کے حالیہ بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ 'ترجمان پاک فوج نے قوم کو یہ بڑی تسلی دے دی ہے کہ فوج ایک غیر جانبدار ادارہ ہے اور غیر جانبدار رہنا چاہتا ہے، وہ دن بھی آپ کو یاد ہوگا جب ہمارے جوانوں نے بھارت کا طیارہ گرایا اور ان کے پائلٹ کو پکڑا، ہمارے کارکنوں نے ہر چوک پر کھڑے ہو کر پاک فوج کو شاباشی پیش کی، لیکن گلا اپنوں سے ہوتا ہے پرائے سے نہیں ہوتا۔'

ان کا کہنا تھا کہ ہم قومی اداروں سے کہنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنی امانت واپس لوٹا دو، ووٹ قوم کی امانت ہے اور اس اجتماع کو حقارت کی نظر سے مت دیکھو بلکہ سنجیدہ لو، یہاں موجود لوگوں کو قوم سمجھو، یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کے ساتھ ہوں گے۔