ای میل

ماہ بیگم کی گمشدہ قبر کی تلاش

ابوبکر شیخ

وقت جہاں ماں کی گود جیسا شفیق ہے وہیں تپتے ریگزاروں جیسا بے رحم بھی۔ وقت کو ان 2 مرکزی تصورات میں ہم اس لیے تقسیم کرتے ہیں کہ اس کی کیفیات کو سمجھنے میں آسانی ہو اور یہ معاملہ صرف وقت کے ساتھ نہیں بلکہ اس پوری دنیا کو ہی 2 حالات، محسوسات اور کیفیات میں بانٹا گیا ہے۔ دن اور رات میں، غم اور خوشی میں، آنسو اور مسکان میں۔

ان 2 دائروں میں زندگی کے سارے سُکھ اور دُکھ پنپتے ہیں۔ ان دائروں میں جب انسان کمزور پڑنے لگتا ہے تو قسمت کی لاٹھی کے سہارے خود کو تقویت دے کر سفرِ حیات کو جاری رکھتا ہے کہ زندگی جو ہماری خواہش کے بدلے ہمیں یقیناً نہیں ملی مگر جب جھولی میں ڈال دی جاتی ہے تو پھر وہ ہمارے محبوب کا روپ دھار لیتی ہے، اور جب زیست محبوب بن جائے تو پھر گلزار و گلستان کیا؟ ریگزار اور تپتے صحرا کیا؟

ہمارا آج کا سفر، قندھار اور کابل کی ٹھنڈی گلیوں اور ہر وقت بیدار رہنے والے محلات سے شروع ہوگا اور اس کا اختتام ہزاروں میل دُور ننگر ٹھٹہ کے ان محلات میں ہوگا، جہاں زندگی شاید ہی کبھی اپنی مرضی سے ہنسی ہوگی کہ بادشاہوں کی محلات میں تمناؤں کے کنول مشکل سے ہی کِھلا کرتے ہیں۔ بس خواہشوں کے وحشی جنگل اگتے ہیں جن پر سوال اور مرضی کی کوئی کونپل نہیں پھوٹتی، اگر کچھ اگتا بھی ہے تو سرِتسلیم خم کی آکاس بیل جس کے نصیب میں نہ پتے ہوتے ہیں نہ میوہ۔

چنگیز خان (پیدائش 16 اپریل 1162ء، بروز پیر)، ہلاکو خان (پیدائش 15 اکتوبر 1218ء، بروز پیر) ارغون خان (جنم 17 اپریل 1250ء، بروز اتوار)، امیر تیمور (جنم 9 اپریل 1326ء، بروز منگل) کو پیدا ہوئے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے جنوب اور مغرب کا رخ کیا اور وہاں کے سارے منظرنامے کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔ یہ منگول اور تُرک تھے، جن کی آپس میں کبھی نہیں بنی۔

ان وقتوں کے پس منظر کے ساتھ لکھی جانے والی جتنی بھی تاریخ کی کتابوں کا آپ مطالعہ کرنے بیٹھیں گے تو ان میں گھوڑوں کی ٹاپوں، ہاتھیوں کی چنگھاڑیں، بہتا خون، تلواریں، جنگ کے میدانوں میں سے اُڑتی دُھول کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ آپ کو اس تاریخ کی شَبوں میں نیند کم اور شب خون زیادہ نظر آئیں گے۔ ارغون، مغل اور ترخان ایک ہی درخت کی شاخیں تھیں۔ اگر ہم 15ویں صدی کی تاریخ کا جائزہ لیں تو پائیں گے کہ ان کا ایک (چوتھا) امیر ’ذوالنون ارغون‘ (1479ء) افغانستان و خراسان کے حکمران ’سلطان بایقرا‘ کے زمانے میں، پہلے ہمیں قندھار کا صوبیدار اور پھر حاکم کی حیثیت میں نظر آتا ہے۔

منگولستان
منگولستان

ارغون خان، ایل خانی حکومت کا چوتھا حکمران
ارغون خان، ایل خانی حکومت کا چوتھا حکمران

ازبک عسکری رہنما محمد خان شیبانی نے 1507ء میں جیحون ندی اس لیے عبور کی تھی کہ وہ افغانستان اور خراسان کو فتح کرنا چاہتا تھا۔ ازبکوں اور منگولوں کے درمیان لڑی جانے والی ’میئراک کی جنگ میں محمد خان شیبانی فتحیاب ہوئے اور امیر ذوالنون مارے گئے تھے۔ ان کے بیٹے ’شاہ بیگ ارغون‘ نے شیبانی کو اپنی اطاعت و فرمانبرداری کا یقین دلایا اور قندھار کا حاکم بن بیٹھا۔ تقریباً 2 برس کے بعد 1509ء میں، ’شاہ اسماعیل صفوی‘ نے ایران اور توران کے بعد افغانستان کے مغرب جنوب میں حملہ کرکے ہرات پر قبضہ کرلیا، اس حملے کے نتیجے میں محمد خان شیبانی مارے گئے۔

ازبک عسکری رہنما محمد خان شیبانی
ازبک عسکری رہنما محمد خان شیبانی

محمد خان شیبانی کی موت بابر کے لیے اچھی خبر تھی کیونکہ ان ماہ و سال میں 3 اہم قوتیں منگول، ازبک اور ایرانی مغلوں سے نبرد آزما تھے۔ ہم وہاں پر آتے ہیں، جہاں سے ہماری اس دردناک کتھا کی ابتدا ہوتی ہے۔

یہ 913ھ اور 1507ء کی بات ہے۔ اس واقعے کو ہم اگر تیموری نسل کے ’بابر بادشاہ‘ سے سُن لیں تو شاید زیادہ بہتر رہے گا۔ وہ اپنی سوانح حیات میں لکھتے ہیں کہ ‘جس وقت ہم قندھار پہنچے تو، شاہ بیگ اور مقیم بیگ دونوں قندھار پر چھاؤنی ڈالے ہمارا انتظار کر رہے تھے، ہم جونہی ان کے قریب پہنچے تو انہوں نے صفیں باندھ لیں اور لڑائی کے لیے تیار ہوگئے۔

جنگ شروع ہوئی اور انہوں نے شکست کھائی۔ شاہ بیگ اور مقیم کو اس شکست نے کچھ اس طرح ہراساں کیا تھا کہ وہ قندھار کے قلعے میں جانے کے بجائے باہر کی طرف بھاگ گئے۔ جس کے بعد بابر نے قندھار کے قلعے کے اندر قدم رکھا، جہاں انہیں خزانہ ملا اور قندھار کا قبضہ اپنے بھائی ’سلطان ناصرالدین‘ کو دیا اور خود کابل لوٹ گئے اور محمد مقیم کی بیٹی ’ماہ بیگم‘ کو قید کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔

کچھ ماہ بعد دونوں بھائی شاہ بیگ اور محمد مقیم قندھار لوٹے اور سلطان ناصرالدین سے قندھار کا قبضہ واپس لیا۔ کچھ ہی عرصے میں ‘محمد مقیم‘ کی سانس کی ڈوری نے ان سے بیوفائی کی۔ بابر نے کابل میں، شرعی قانون کے مطابق ماہ بیگم کی شادی ’محمد قاسم کوکہ‘ سے کروادی، جس سے ماہ بیگم کو ایک بیٹی ہوئی جس کا نام ’ناہید بیگم‘ رکھا گیا۔ قاسم کوکہ، ازبکوں سے لڑتے ایک جنگ میں مارے گئے تھے۔

یہ وہی ماہ بیگم ہیں جن کی زندگی کے دکھ اور سُکھ جاننے کے لیے ہم نے یہ سفر اختیار کیا ہے۔ ماہ بیگم کا جنم، میرے اندازے کے مطابق 1495ء میں ہوا ہوگا اور1507ء میں جب بابر انہیں اپنے ساتھ کابل لے گئے تھے اس وقت ان کی عمر 13 یا 14 برس رہی ہوگی۔ 2 سے 3 برس تک وہ ہمیں کابل کے محلات میں نظر آتی ہیں۔ شاہ بیگ ارغون نے سیوی کا قلعہ 1511ء میں فتح کیا تھا۔ اس کے بعد جب وہ قندھار واپس لوٹا تو ماہ بیگم کی والدہ ’بی بی ظریف خاتون‘ گلے میں کالی شال ڈال کر گھر کے دروازے پر آکر کھڑی ہوگئیں، شاہ بیگ جیسے ہی باہر نکلے تو ان کا دامن تھام لیا اور روتے ہوئے گزارش کی کہ کسی بھی صورت تمہارے بھائی کی نشانی ماہ بیگم کو کابل سے واپس لایا جائے۔‘

شاہ اسماعیل صفوی
شاہ اسماعیل صفوی

’ترخان نامہ‘ کے مصنف لکھتے ہیں کہ ’بی بی ظریف کی یہ بات سُن کر شاہ بیگ کے دل پر لگا بھائی کی جدائی کا داغ تازہ ہوگیا اور ماہ بیگم کی واپسی کے لیے صلاح مشورے ہونے لگے۔ شاہ بیگ کی بیگمات میں سے فاطمہ سلطان بیگم اور خانزادی بیگم نے مشورہ دیا کہ محمد مقیم کے حرم سرائے کی ایک خدمت گار دولت کتہ کو پہلے کابل بھیجا جائے کہ وہ کسی طریقے سے ماہ بیگم سے رابطے میں آئے اس کے بعد محرم مردوں کی ایک جماعت جائے اور کابل سے ماہ بیگم کو نکال کر ہزارے کے راستے قندھار لے آئے۔ اسی مشورے پر عمل کرنے کے لیے دولت کتہ کا نکاح ’دولت خان‘ نامی شخص سے کروایا گیا اور انہیں کابل بھیج دیا گیا۔

دولت کتہ، ماہ بیگم سے ملی اور اس کو ساری حقیقت سے آگاہ گیا۔ جب ماہ بیگم نے چُھپ کر نکلنے کی ہامی بھری اور یہ خبر جب شاہ بیگ تک پہنچی تو وہ بہت خوش ہوا اور ایک جماعت تشکیل دی جس میں میر محمود ساربان کے والد، بابا میرکی ساربان، میر عاقل اتک، ابو مسلم کوکلتاش، عبدالصمد ترخان، دولت خان و دیگر کو شامل کیا گیا۔ یہ جماعت ہزارے کے لوگوں کے پاس پہنچی اور وہاں سے بھی ایک جماعت کو تیار کرنے کے بعد کابل کی طرف بڑھا گیا۔

کابل کے اطراف کچھ دن گزار کر تیاری کی گئی جس میں گھوڑوں کے پیروں میں اُلٹی نَعلیں بھی لگائی گئیں۔ اُدھر ماہ بیگم، دوپہر کے وقت حمام میں گئیں اور سہہ پہر کے وقت جب شور و غل ہورہا تھا، وہ حمام سے نکل کر دولت کتہ کے ساتھ گھوڑے پر سوار ہوئیں اور اس جماعت سے آکر ملیں۔ ’ناہید بیگم‘ اس وقت ڈیڑھ برس کی تھیں جسے ماہ بیگم نکال نہ سکیں۔ جب وہ قندھار پہنچیں تو شاہ بیگ انہیں عزت و تکریم سے گھر لے آئے۔ جیسا کہ ماہم کا پہلا میاں قاسم کوکہ ایک برس پہلے جنگ میں ہلاک ہوگیا تھا اس لیے شاہ بیگ نے اپنے بیٹے ’مرزا شاہ حسن‘ سے ان کا نکاح کروایا۔ یہ نکاح 1512ء میں ہوا تھا۔

1516ء میں ہمیں بابر قندھار پر قبضہ کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں، اس قبضے سے بچنے کے لیے شاہ بیگ ’حضرت ابوسعید پورانی‘ کو صلح کے لیے بابر کے پاس اس وعدے کے ساتھ بھیجتا ہے کہ اگلے برس وہ قندھار کی چابیاں بابر کے حوالے کردے گا۔ ابوسعید پورانی کی وجہ سے بابر اس وعدے پر اعتبار کرکے کابل چلے جاتے ہیں اور 1517ء میں شاہ بیگ اپنا وعدہ پورا کرتے ہیں اور تخت و تاج کے لیے وہ سندھ کو چُنتے ہیں کیونکہ سندھ کے سلطان جام نظام الدین نے 1508ء میں آنکھیں موند لی تھیں جس کے بعد یہاں افراتفری کا بازار گرم تھا۔

میر معصوم لکھتے ہیں کہ ’1518ء کے جاڑوں کے ابتدائی دنوں میں، سبّی سے ہزار سوار گاؤں باغبان محلہ پر حملہ کرکے ایک ہزار اونٹ اپنے ساتھ لے گئے جو رات کو رہٹوں میں بندھے ہوئے تھے اور باغات کو پانی پہنچا رہے تھے۔‘

ارغونوں کے حملوں کی وجہ سے سارے ملک میں ایک افراتفری سی پھیل گئی۔ مگر اس جلتی آگ سے بے پرواہ جام فیروز ٹھٹہ چھوڑ کر جنوب میں پیرپٹھو کی طرف چلے گئے۔ دوسری طرف دریا خان تھا جسے جام نندو نے ’مبارک خان‘ اور ’خان اعظم‘ جیسے لقب دیے گئے تھے، جو فقط القاب نہیں تھے بلکہ ایک شفقت تھی جو ایک ذہین اور بہادر انسان کے لیے تھی۔ دریا خان، جام نندو کی شفقت کو کبھی نہ بُھلا سکا۔ کھائے ہوئے نمک کا پانی اس کی آنکھوں سے کبھی نہیں سوکھا اور سچائی اور بہادری کا بلیدان وقت مانگتا ہے، پھر جو وقت کی مانگی ہوئی قربانی پر کھرا اُترتا ہے وقت اس کے نصیبوں میں لازوالیت کی مہر ثبت کردیتا ہے کہ وقت کا فیصلہ اٹل ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

22 دسمبر 1520ء کو بدھ کا دن تھا، جاڑا اپنے عروج پر تھا اور ساموئی (مکلی سے شمال کی طرف) میں جنگ کا میدان تیار تھا۔ ارغون اور دریا خان کے لشکروں کے مابین جنگ ہوئی، فتحیاب ارغون ہوئے۔ سندھ کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ سیہون سے جنوبی حصہ جام فیروز کو دیا گیا اور شمالی حصے پر ارغونوں کا قبضہ ہوا۔ کچھ برسوں بعد شاہ بیگ کو گجرات فتح کرنے کا خیال اس طرح ستانے لگا جیسے پہلی بار محبوب کو دیکھ کر اس کی یاد ستاتی ہے۔ وہ بکھر سے نکلا اور اگھم کوٹ آ پہنچا۔ یہاں جب اسے پتا چلا کہ بابر سندھ فتح کرنے کے لیے نکل پڑا ہے اور بھیڑا تک آ پہنچا ہے تو یہ سنتے ہی پریشانی کی وجہ سے دل نے ساتھ چھوڑ دیا، اور 26 جون 1524ء کو شدید گرم موسم میں وہ جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔ ان کی وفات کے بعد اگھم کوٹ میں ہی ’مرزا شاہ حسن ارغون‘ کو حاکم نامزد کردیا گیا۔

جب شاہ بیگ کے موت کی خبر ٹھٹہ پہنچی تو لوگوں نے ڈھول تاشے بجا کر خوشی کا اظہار کیا، اور جب یہ خبر جب شاہ حسن ارغون کے کانوں تک پہنچی تو انہوں نے گجرات جانے کا ارادہ ترک کردیا اور ٹھٹہ کے حاکم جام فیروز کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ جب جام فیروز کو، شاہ حسن ارغون کے آنے کی خبر ملی تو وہ بدین اور ونگو کی طرف چلا گیا اور وہاں جاکر فوج کو اکٹھا کیا۔ شاہ حسن نے ٹھٹہ کے قلعے کو مضبوط کرکے بدین کی راہ لی۔ ’تاریخ معصومی‘ کے مطابق ’بدین کے شمال میں جام فیروز اور شاہ حسن کی فوجوں میں جنگ ہوئی۔ صبح سے شام تک چلنے والی اس جنگ میں 20 ہزار کے قریب لوگوں نے موت کا کڑوا ذائقہ چکھا اور جام فیروز جنگ ہار کر گجرات کی طرف بھاگ نکلے اور زندگی کے دن پورے ہونے تک وہیں رہے۔

شاہ حسن کامیاب جنگ کے بعد ٹھٹہ لوٹے۔ یوں ماہ بیگم 29 برس کی عمر میں ملک کے بادشاہ کی ملکہ بنیں، بلکہ تاریخ کے اوراق سے پتا چلتا ہے کہ وہ ایک ذہین صلاح کار تھیں، جس کی وجہ سے ملکی سیاسی حالات میں ان کا مشورہ انتہائی اہم سمجھا جاتا تھا۔

مغل شہنشاہ ظہیر الدین محمد بابر
مغل شہنشاہ ظہیر الدین محمد بابر

مرزا شاہ حسن 1515ء میں اپنے والد سے ناراض ہوکر بابر کے پاس چلے گئے اور 2 برس تک وہیں رہے۔ اس زمانے میں وکیل و بیگی دیوان (افسر) نے ‘میر خلیفہ‘ کے داماد بننے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اس تمنا کو پورا کرنے کے لیے ’عبدالباقی‘ کی دادی ’مسمات شاہ سلطانی‘ کو بابر بادشاہ کی خدمت میں بھیجا تھا کہ یہ کام ہوسکے۔ بابر نے میر خلیفہ کی بیٹی گلبرگ بیگم، مرزا شاہ حسن کے نکاح میں لاکر، میر خلیفہ کے چھوٹے بیٹے ’حسام الدین میرک‘ کے ساتھ بکھر بھیجی۔ مرزا شاہ حسن نے شادی کرکے ’پاٹ‘ اور ’باغبان‘ کا علاقہ خدمت کے طور پر میر حسام الدین میرک کے حوالے کیا۔

یہ 1524ء کی بات ہے۔ بابر نے اس نسبت کا خیال رکھ کر ماہ بیگم کی بیٹی ’ناہید بیگم‘ کی شادی، میر خلیفہ کے بڑے بیٹے محب علی خان سے کروا دی۔ شاہ حسن کا یہ رشتہ کچھ زیادہ وقت نہ چل سکا۔ ’گلبرگ بیگم‘ ایک برس یا اس سے بھی کم عرصہ وہاں رہیں، اس دوران بھی ان کی رہائش سکھر کی طرف رہی اور وہ ٹھٹہ نہیں آئیں جہاں ماہ بیگم تھیں۔

شاہ حسن نے 1527ء میں ملتان اور 1528ء میں گجرات پر کامیاب حملے کیے۔ ہمایوں جب شیر خان سے بھاگتے تھر اور بدین سے ہوتے ہوئے 1543ء میں عراق کی طرف روانہ ہوئے تو ان کے سوتیلے بھائی ’کامران مرزا‘ نے، شاہ حسین سے ان کی بیٹی ’چوچک بیگم‘ کا رشتہ مانگا۔ ماہ بیگم کی ہاں پر شاہ حسن بھی رشتہ دینے پر راضی ہوگئے۔ چوچک بیگم اچھی روایات اور احترام کی حامل خاتون تھیں۔ کیونکہ جب ان کے شوہر سے اپنے کرتوتوں کے سبب آنکھوں کا نور چھین لیا گیا تھا اور ان کی زندگی کے ساحلوں کی ساری کشتیاں جل چکی تھیں تب وہ شاہ حسن اور ماہ بیگم کے رحم و کرم پر فتح باغ میں قیام پذیر تھے۔ پھر جب حج پر جانے کے لیے تیار ہوئے تو چوچک بیگم بھی ساتھ چلنے کو تیار ہوئیں۔

مغل شہنشاہ نصیر الدین محمد ہمایوں
مغل شہنشاہ نصیر الدین محمد ہمایوں

شاہ حسن نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی اپنے اندھے شوہر کے ساتھ جائے۔ مگر چوچک بیگم نے یہ کہہ کر اپنے باپ کو خاموش کرادیا کہ ’جب اس کے پاس آنکھیں تھیں اور وہ حکمران تھا تب میں ان کے ساتھ تھی، اب جب یہ بے بس اور اندھا ہے تو میں اسے چھوڑ دوں تو لوگ کیا کہیں گے؟ بلکہ لوگوں کے ذہنوں میں آپ سے متعلق منفی سوچ پیدا ہوگی اس لیے بہتر ہے کہ مجھے جانے دیں‘۔ ایک حوالے سے اچھا ہی ہوا کہ وہ مکہ چلی گئیں اور والدین پر بعد میں آئی تکلیفوں کی تیز دھوپ اور مجبوری کی جھکڑوں کو جھیلنا نہیں پڑا کیونکہ شاہ حسن نے 1555ء میں یہ جہان چھوڑا تھا اور چوچک بیگم کا 1557ء میں انتقال ہوا۔

شاہ حسن کی موت بروز پیر کشتی میں 1555ء میں ہوئی۔ سیاسی طور پر ماحول یہ بن رہا تھا کہ شاہ حسن کی میت سکھر لائی جائے جہاں سے پھر تدفین کے لیے مکہ بھیجی جائے۔ مگر ماہ بیگم نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اور لاش کو لے کر ٹھٹہ آئیں۔ ابتدائی طور پر میت کو دریا کنارے ’میر احمد ولی کی حویلی‘ میں امانت کے طور پر دفن کیا گیا۔ 3 ماہ کے اندر مکلی پر جگہ تیار کی گئی اور پھر وہاں بھی امانت کے طور پر دفن کیا گیا۔ 2 برس کے بعد، مرزا عیسیٰ ترخان نے ’شیخ عبدالوہاب‘ اور ’ماہ بیگم‘ کے ساتھ، مرزا حسن بیگ کی میت کو مکہ معظم بھیجا جہاں ان کے والد شاہ بیگ کی قبر کے قریب دفن کردیا گیا۔ ماہ بیگم کی واپسی کے بعد مرزا عیسیٰ خان ترخان نے ان سے نکاح کیا۔ یہ نکاح غالباً 1558ء کے آخر میں ہوا ہوگا۔ مرزا عیسیٰ کے 8 بیٹے اور 5 بیٹیاں تھیں مگر ننگر ٹھٹہ کے سیاسی منظرنامے میں ہمیں ان کے 3 بیٹوں مرزا صالح بیگ، مرزا باقی بیگ اور مرزا جان بابا کا کردار متحرک نظر آتا ہے۔

مکلی قبرستان—تصویر ابوبکر شیخ
مکلی قبرستان—تصویر ابوبکر شیخ

ہم جس دور کی بات کر رہے ہیں اس کا اگر آپ بغور جائزہ لیں گے تو آپ کو داخلی طور پر جو سب سے بڑا تضاد نظر آئے گا، وہ ’ارغونوں‘ اور ’ترخانوں‘ کا ہے، جس تضاد کی وجہ سے ہر وقت ایک کشیدگی کا ماحول بنا رہتا تھا۔ جب تک شاہ حسن ارغون زندہ رہا تب تک تو ننگر ٹھٹہ میں ماحول ٹھیک رہا مگر مرزا عیسیٰ ترخان کا حاکم بننا اور ماہ بیگم سے نکاح کرنا ارغونوں کو ناگوار گزار۔ وہ ہر حوالے سے مرزا عیسیٰ ترخان کو پریشان کرتے رہے۔

بہر کیف، جب مرزا عیسیٰ کا آخری وقت آیا تو وہ اپنے چھوٹے بیٹے ’جان بابا‘ کو ولی عہد نامزد کرنا چاہتے تھے مگر ماہ بیگم نے مرزا باقی بیگ کو حکومت دینے کا کہا کیونکہ ان کے مطابق چونکہ وہ سب سے بڑا بیٹا ہے اس لیے تخت پر اس کا حق بنتا ہے۔ مرزا عیسیٰ نے مرزا باقی کے حوالے سے مخالفت کی مگر ماہ بیگم کے کہنے پر اس نے مجبوراً ہاں کی۔

کہا جاتا ہے کہ مرزا عیسیٰ نے ماہ بیگم کو یہ بھی کہا تھا کہ ’مرزا باقی سخت اور شکی طبیعت کا مالک ہے، کچھ شک نہیں کہ تم بھی اس کے ہاتھوں ماری جاؤ‘۔

لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا کہ مرزا نے کوئی ایسی بات کی ہوگی۔ یہ بعد میں مؤرخین نے گزرے واقعات کو مدنظر رکھ کر یہ جملہ مرزا عیسیٰ سے منسلک کردیا ہے، لیکن اگر ہم کچھ دیر کے لیے ہم یہ سوچ لیں کہ یہ الفاظ مرزا عیسیٰ نے ہی کہے ہوں گے تو پھر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ماہ بیگم نے ان کی اس بات کو نہ مان کر زندگی کی شاید سب سے بڑی غلطی کردی تھی کیونکہ ان جیسی ذہین، سنجیدہ اور خوبصورت عورت سے ہمیں اس غلطی کی بالکل بھی توقع نہیں ہے۔

گزرے وقتوں میں بنایا گیا عیسیٰ خان ترخان کے زیرِ تعمیر مقبرے کا اسکیچ
گزرے وقتوں میں بنایا گیا عیسیٰ خان ترخان کے زیرِ تعمیر مقبرے کا اسکیچ

مرزا عیسیٰ 1567ء میں طبعی موت مرے۔ اس وقت ماہ بیگم کی عمر 72 برس تھی۔ مرزا باقی کی کبھی ارغونوں سے نہیں نبھی، یہاں تک کہ انہوں نے ٹھٹہ میں ان کا قتلِ عام کیا اور رہنے کے لیے زمین تنگ کردی۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ مرزا باقی اکثر کہتے تھے کہ ارغونوں نے میرے باپ کو بہت پریشان کیا تھا۔ یہ سب میں ان کی پریشانی کا بدلہ لینے کے لیے کر رہا ہوں۔

مرزا باقی بیگ کی آخری آرام گاہ—تصویر ابوبکر شیخ
مرزا باقی بیگ کی آخری آرام گاہ—تصویر ابوبکر شیخ

مکلی قبرستان—تصویر ابوبکر شیخ
مکلی قبرستان—تصویر ابوبکر شیخ

مرزا باقی جب تخت پر بیٹھا تو کچھ عرصے بعد ناہید بیگم اپنی والدہ ماہ بیگم سے ملنے ٹھٹہ آئی۔ ان کے ساتھ ان کی بیٹی رائحہ بیگم بھی تھیں، ’رائحہ بیگم‘ پہلے مرزا نجات خان کے نکاح میں تھیں مگر یہ تعلق ٹوٹ گیا اور اس کے بعد مرزا باقی بیگ نے ان سے شادی کرلی۔

شادی کے کچھ ہی عرصے بعد جب یہ دونوں میاں بیوی ایک بڑی شاندار کشتی ‘لاھرو‘ پر سوار تھے (مرزا اکثر اس شاندار کشتی میں رہتا تھا، جس کی وسعت اور خوبصورتی کے چرچے دُور تک پھیلے ہوئے تھے) تو جان بابا نے سوڈھوں اور سمیجوں کی مدد سے مرزا کی اس کشتی پر رات کو حملہ کیا، جس میں مرزا باقی بیگ تو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے مگر رائحہ بیگم قتل ہوگئیں۔ اس قتل سے حالات کچھ زیادہ خراب ہوگئے، کیونکہ ناہید بیگم، اکبر بادشاہ کی اجازت سے سندھ آئی تھیں۔

اکبر کے متوقع غصے سے بچنے کے لیے انہوں نے اپنی بیٹی کو اکبر بادشاہ کے حضور میں بھیجا کہ انہیں اپنی بیگمات میں شامل کرنے کا شرف بخشے۔ انہوں نے یہ ذمہ داری ماہ بیگم، ناہید بیگم اور یادگار مسکین خان ترخان (جس کے گھر میں مرزا باقی کی بہن ’بیگہ بیگی آغا‘ تھی) کے حوالے کی اور ساتھ میں اونٹوں کے قافلے کے ساتھ کئی تحفے تحائف بھی بھیجے۔ مرزا یادگار مسکین اور جان بابا نے آپس میں مل کر دونوں ماں بیٹیوں کو یہ کہہ کر اپنی بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ ’آپ دونوں آخر باقی کے کہنے پر کیوں سندھ کو چھوڑ کر جا رہی ہیں؟ کیوں اسے یہ موقع فراہم کر رہی ہیں کہ وہ سارے سندھ کا مالک بن بیٹھے‘۔ ناہید اور ماہ بیگم نے ان خیالات سے اتفاق کیا اور سارے تحفے تحائف سپاہیوں میں بانٹ دیے۔ یہ عمل مرزا باقی سے جنگ کا طبل تھا۔

یادگار مسکین خان ترخان، شاہ بیگ اور شاہ حسن مشہور امیروں میں سے ایک تھے۔ ان کی مدد سے جان بابا نے مرزا باقی سے جنگ کرنے کی تیاری کی۔ ٹھٹہ کے قریب جنگ ہوئی۔ ’ترخان نامہ‘ کے مصنف لکھتے ہیں کہ ’جنگ کا میدان تیار ہوا، ماہ بیگم نے ہاتھی پر سوار ہوکر جنگ کا جھنڈا بلند کیا۔ جنگ ہوئی اور ماہ بیگم جنگ ہار گئیں۔ مرزا جان بابا اور یادگار مسکین جنوب میں سمندر کنارے ککرالہ کی طرف فرار ہوگئے۔ ناہید بیگم بکھر جا پہنچیں اور ماہ بیگم کو قید کرلیا گیا‘۔

ٹھٹہ کے اطراف میں ہمیں جن واقعات کا ذکر ملتا ہے یا سیاسی صورتحال کا احوال ملتا ہے، ان میں ’ماہ بیگم بنت محمد مقیم ارغون‘ کا نام انتہائی اہم ہے کیونکہ مرزا شاہ حسن کے زمانے میں جو سیاسی حالات تھے ان پر بھی ان کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔

مرزا جان بابا کا مقبرہ—تصویر ابوبکر شیخ
مرزا جان بابا کا مقبرہ—تصویر ابوبکر شیخ

ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جس وقت دریائے سندھ میں اپنی کشتی پر سوار مرزا شاہ حسن زندگی کی آخری ہچکی لیتے ہیں اس وقت بھی ان کے دفن ہونے سے متعلق سارے فیصلے ماہ بیگم کرتی نظر آتی ہیں۔ پھر جب ان کی شادی مرزا عیسیٰ ترخان سے ہوتی ہے تب بھی ہم ذاتی و سیاسی حوالے سے ماہ بیگم انتہائی طاقتور شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مگر مرزا باقی کو حکومت میں لے آنے کا فیصلہ بھی غلط ثابت ہوا۔ ماہ بیگم کا یہ کہنا کہ بڑا بیٹا ہونے کے ناطے حکومت پر مرزا باقی بیگ کا حق بنتا ہے، یہ اصول اور سنجیدگی سے لیا ہوا فیصلہ ہی نظر آتا ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ جب ماہ بیگم کی بیٹی کی بیٹی ’رائحہ بیگم‘ کشتی میں قتل ہوجاتی ہیں تو ننگر ٹھٹہ کا منظرنامہ بدل جاتا ہے اور ماہ بیگم سیاسی طور پر باقی کے مخالف گروپ یعنی ’جان بابا‘ کی طرف ہوجاتی ہیں۔ مگر یہی فیصلہ ان کے لیے کٹھن حالات کی راہ ہموار کردیتا ہے۔

’ترخان نامہ‘ کے مطابق ’مرزا باقی نے ماہ بیگم کو اپنی حویلی میں اس لیے قید رکھا تھا تاکہ وہ ہر وقت ان پر نظر رکھ سکیں۔ وہ انہیں ذہنی عذاب دیتے رہے اور پھر کھانے پینے پر بھی بندش لگادی۔ نتیجتاً ماہ بیگم نے اپنی آخری سانسیں اس چاردیواری میں لیں اور قبر میں جاسوئیں‘۔

یہ جملہ لکھنے کے بعد تاریخ کے اوراق ماہ بیگم کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے۔ کیوں؟ اس حوالے سے میں شاید کوئی اچھا اندازہ نہ لگا سکوں۔ ماہ بیگم کی موت غالباً 1570ء میں ہوئی ہوگی کیونکہ جان بابا اور یادگار مسکین کو بھی اسی برس، مرزا باقی نے قتل کروا دیا تھا۔ اس وقت ماہ بیگم کی عمر 75 برس کے قریب رہی ہوگی۔

میں اس بہادر اور سنجیدہ خاتون کی قبر کی تلاش میں کئی بار مکلی گیا ہوں۔ ان سے منسلک خاندانوں کے قبرستان دیکھے ہیں مگر مجھے ان کی قبر کہیں نظر نہیں آئی۔

مکلی قبرستان—تصویر ابوبکر شیخ
مکلی قبرستان—تصویر ابوبکر شیخ

ہم جو تاریخ کو اپنی پسند اور ناپسند کے پلڑے میں تولنے کے عادی ہوگئے ہیں، ہم کو یہ روش یقیناً تبدیل کرنی ہوگی، کیونکہ ایک مسخ شدہ دستاویز کو ہم تاریخ کا نام کیسے دے سکتے ہیں؟ خستہ مقبروں اور قبروں کا مرمتی کام انتہائی ضروری ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ان سے متعلق بنیادی تحقیقی کام بھی ہونا چاہیے۔ ہوسکتا ہے تاریخ کے اوراق میں اور بھی بہت سارے کردار اس انتظار میں پلکیں بچھائے بیٹھے ہوں کہ ہماری نظر کب ان پر پڑتی ہے۔ کب ہم ان کو ڈھونڈ کر نکالتے ہیں؟ اس لیے ہمارے ماہرین آثارِ قدیمہ کو اس طرف تحقیقی کام کے رجحان کو بڑھانا ہوگا، کیونکہ وہ زمانے کب کے لد گئے جب صاحب لوگ جو کہتے تھے وہ تاریخ مان لی جاتی تھی۔ زمانے بدل گئے ہیں اس لیے تحقیق کے معیارات بھی بدل گئے ہیں، اس لیے ہم ’ماہ بیگم‘ جیسی اہم شخصیت کو درگزر کے بہاؤ کے حوالے نہیں کرسکتے۔ ہمیں ’ماہ بیگم‘ کی آخری آرام گاہ کو ضرور ڈھونڈنا چاہیے کہ اور کچھ نہیں تو ان کی قبر پر، ان کے نام کے کتبے پر ان کا پورا حق بنتا ہے۔


حوالہ جات:

۔ ’تزک بابری‘۔ ترجمہ: رشید اختر ندوی۔ اسکائے پبلیکیشن، لاہور

۔ ’مغلیہ سلطنت کا عُروج و زوال‘۔ آر پی ترپاٹھی کتاب میلہ، لاہور

۔ ’نگری نگری پھرا مُسافر‘۔ ابوبکر شیخ۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور

۔ ’مکلی نامہ‘۔ حسام الدین راشدی۔ سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد

۔ ’ترخان نامہ‘۔ سید میر محمد بن جلال ٹھٹوی۔ سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد

۔ ’تاریخ معصومی‘۔ میر محمد معصوم بکھری۔ سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد


ابوبکر شیخ آرکیولاجی اور ماحولیات پر لکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے لیے فوٹوگرافی اور ریسرچ اسٹڈیز بھی کر چکے ہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔