ای میل

’میں اُدھر نہیں جاؤں گی، مجھے اِدھر ہی رہنا ہے‘

تحریر و تصاویر: عبیداللہ کیہر


اس سیریز کی بقیہ اقساط۔ پہلی، دوسری، تیسری، چوتھی اور پانچویں قسط۔


تراڑکھل کا آسیبی ریسٹ ہاؤس

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت Food & Agriculture Organization of the United Nations - FAO کی جانب سے آزاد کشمیر میں بطور Audiovisual Specialist تعینات تھا۔ ایف اے او کے اس کمیونٹی ڈیویلپمنٹ پروجیکٹ میں پاکستان سے 4 افراد یعنی میں، چوہدری رشید، اکمل اور رضوانہ بطور نیشنل کنسلٹنٹ شامل کیے گئے تھے، جبکہ چین سے ڈاکٹر وانگ ڈیہائی اور بنگلہ دیش سے ڈاکٹر عبدالحلیم بطور انٹرنیشنل کنسلٹنٹ آتے تھے۔

یہ پروجیکٹ ہمیں آزاد کشمیر کے محکمہ زراعت کے ساتھ مل کر کرنا تھا۔ 2004ء سے 2006ء تک وقفوں وقفوں سے جاری اس پروجیکٹ کے دوران مجھے کشمیر کا چپہ چپہ گھومنے کا موقع ملا۔ میں ان 3 سالوں میں مظفر آباد، میرپور، باغ، راولاکوٹ، پلندری، اٹھمقام، شاردا وغیرہ کے ساتھ ساتھ وادئ نیلم و جہلم کے کئی چھوٹے بڑے قصبوں اور دیہاتوں تک پہنچا اور مجھے آزاد کشمیر کی زندگی کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے بھرپور موقع ملا۔

آزاد کشمیر اپنے حسین مناظر، سرسبز وادیوں، بلند و بالا پہاڑوں، ہر دم رواں دریاؤں، تیز رفتار ندیوں، ٹھنڈے میٹھے چشموں اور جلترنگ بجاتے جھرنوں کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے اور جنت نظیر کہلاتا ہے۔ پھر کشمیر کے باشندے بھی اتنے پُرامن اور سلجھے ہوئے ہیں کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ اپنے پروجیکٹ کے دوران ہم کشمیر میں دن رات سفر کرتے، جہاں مرضی جاتے اور جہاں دل چاہتا بلا خوف و خطر رک جاتے۔ ہمیں ہر جگہ خوش آمدید کہا جاتا اور ہر جگہ تعاون ہی ملتا۔

2004ء کی گرمیوں کے دن تھے جب ہمارا کشمیر کے ایک بلند اور خوبصورت ہل اسٹیشن ‘تراڑ کھل’ جانا ہوا۔ تراڑ کھل آزاد کشمیر کے ضلع سدھنوتی کا تحصیل ہیڈ کوارٹر ہے۔ اس قصبے کو یہ تاریخی حیثیت حاصل ہے کہ کشمیر کی آزاد حکومت کا آغاز یہیں سے ہوا تھا۔ سردار ابراہیم خان نے 24 اکتوبر 1947ء کو یہاں آزاد کشمیر حکومت کی بنیاد رکھی تھی اور اسی مقام پر آزاد کشمیر فوج قائم کرکے بھارتی ڈوگرہ سینا سے جنگ کا آغاز کیا تھا۔

چنانچہ تراڑ کھل کو تحریک آزادئ کشمیر کا بیس کیمپ بھی سمجھا جاتا ہے۔ آزادی حاصل ہوتے ہی کشمیر کا سب سے پہلا دارالحکومت بھی تراڑکھل میں ہی ’جونجال ہل’ کے مقام پر بنایا گیا تھا اورکچھ عرصے بعد مظفر آباد منتقل کیا گیا تھا۔ آزاد کشمیر کا پہلا ریڈیو اسٹیشن بھی تراڑ کھل میں ہی 16 اکتوبر 1948ء کو شروع کیا گیا تھا جو اس دور میں آزاد کشمیر کے پورے پاکستان اور دنیا بھر سے مواصلاتی رابطے کا اہم ذریعہ تھا۔ پاکستان کے معروف ادیب جناب اشفاق احمد بھی تراڑ کھل ریڈیو سے وابستہ رہے ہیں اور یہاں کچھ عرصہ گزارا ہے۔

جب ہمارا گروپ تراڑ کھل پہنچا تو شام ہو رہی تھی۔ موسم تو گرمیوں کا تھا لیکن یہ جگہ چونکہ سطح سمندر سے 6 ہزار فٹ بلند ہے، اس لیے یہاں موسم ٹھنڈا ہی تھا۔ ہمیں یہاں صرف ایک رات ہی گزارنی تھی۔ ہوٹل تو یہاں کوئی تھا نہیں، بس ایک دو سرکاری ریسٹ ہاؤس ہی تھے۔ ایک تو پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کا قدیم چنار ریسٹ ہاؤس تھا جو تراڑ کھل کے مختصر قصبے میں مین روڈ پر واقع تھا۔ تراڑ کھل مین روڈ پر موجود چند دکانوں پر مشتمل یہ مختصر سی مارکیٹ کوئی نصف کلومیٹر طویل ہوگی۔ مارکیٹ کے آخر میں دونوں طرف ویرانہ اور گھنا جنگل تھا۔ ہم سیدھے چنار ریسٹ ہاؤس پہنچے۔

تکونی چھتوں والے 2 وسیع و عریض چوبی کمروں پر مشتمل یہ قدیم عمارت خاصی تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ چنار کے بلند و بالا قدیم درختوں سے گھرے اس شاندار ریسٹ ہاؤس میں معروف ادیب قدرت اللہ شہاب نے بھی کچھ دن گزارے ہیں۔ 1948ء میں جب وہ آزاد کشمیر کی نئی حکومت میں سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے تو وہ یہاں تراڑ کھل میں ہی آکر رہے کیونکہ اس وقت کشمیر کا دارالحکومت بھی یہیں تھا۔

تراڑ کھل میں موجود سرکاری ریسٹ ہاؤس
تراڑ کھل میں موجود سرکاری ریسٹ ہاؤس

تراڑ کھل میں سرکاری ریسٹ ہاؤس کا بیرونی حصہ
تراڑ کھل میں سرکاری ریسٹ ہاؤس کا بیرونی حصہ

ریسٹ ہاؤس 2 کمروں پر مشتمل تھا اور ہم 6 افراد تھے۔ میں، رشید صاحب، اکمل، رضوانہ، ڈرائیور اور محکمہ زراعت کے افسر زرین صاحب۔ اب اصولاً ہونا تو یہ چائیے تھا کہ 3، 3 افراد کو ایک ایک کمرہ ملتا، لیکن چونکہ ہم 5 مرد اور ایک خاتون تھی اس لیے یہ معاملہ مساوی بنیادوں پر حل نہیں ہوسکتا تھا۔ اس کے علاوہ کوئی حل نہیں تھا کہ ہم 5 مرد ایک ہی کمرے میں سما جائیں اور رضوانہ اکیلی دوسرے کمرے پر قابض ہوجائے۔ رضوانہ کی تو باچھیں کھل گئیں اور ہم سب کے منہ بن گئے۔

‘اس مسئلے کا ایک حل ہے’، زرین صاحب بولے۔

‘وہ کیا؟’، ہم سب ان کی طرف متوجہ ہوئے۔

‘یہاں ایک اور ریسٹ ہاؤس بھی ہے۔ محکمہ جنگلات کا۔ وہ خالی ہوگا اس وقت’، وہ بولے۔

‘تو ٹھیک ہے ہم اُدھر چلے جاتے ہیں’، میں نے کہا۔

‘نہیں رضوانہ کو اُدھر بھیج دیتے ہیں۔ وہاں بھی 2 ہی کمرے ہیں، اس لیے ایک میں ڈرائیور رہ جائے گا۔ وہ ریسٹ ہاؤس کا رکھوالا بھی ہوگا ادھر’، زرین صاحب نے حل پیش کردیا۔

اب اگر رضوانہ وہاں جانے پر راضی ہوجاتی تو پیچھے ہم 4 مرد رہ جاتے جو 2، 2 کی تعداد میں دونوں کمروں میں آسانی سے سما سکتے تھے۔ ہم نے رضوانہ سے بات کی تو وہ فوراً راضی ہوگئی۔

‘مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ آپ جس طرح چاہیں کرلیں’، وہ خوش دلی سے بولی۔

زرین صاحب فاریسٹ ریسٹ ہاؤس کی طرف بات کرنے کے لیے جانے لگے تو میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔ مغرب ہونے والی تھی اس لیے تراڑ کھل کی تقریباً ساری دکانیں بند ہوچکی تھیں۔ سڑک بھی ویران ہو رہی تھی۔ ہم چلتے چلتے قصبے کے بالکل آخر میں آگئے جہاں ساری دکانیں پیچھے رہ گئیں۔ بیچ میں ایک جنگل کا قطعہ چھوڑ کر سڑک کے بائیں طرف سے پتھروں کی ایک سیڑھی پہاڑی ڈھلوان پر اوپر چنار اور پائن کے درختوں کے ایک جھنڈ کی طرف جا رہی تھیں۔ ان درختوں کے درمیان میں ایک قدیم سی عمارت تھی جو درختوں کے اندر تقریباً چھپی ہوئی تھی۔ یہی فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کا ریسٹ ہاؤس تھا۔

ہم پتھریلی سیڑھیوں پر چڑھ کر اوپر پہنچے تو ہمارے سامنے ایک 4 دیواری تھی جس کے اندر تکونی چھت والی ایک قدیم بوسیدہ سی عمارت نظر آرہی تھی۔ مین گیٹ بند تھا۔ اندر اس قدر خاموشی اور ویرانہ تھا کہ لگتا تھا اس عمارت میں کافی عرصے سے کوئی نہیں آیا۔ زرین صاحب نے دروازے پر کھڑے ہوکر آواز لگائی۔ پہلی آواز پر تو کوئی نہیں آیا۔ تھوڑی دیر بعد زرین صاحب نے پھر پکارا تو ایک سپاٹ چہرے والا ادھیڑ عمر شخص اندر کہیں سے نکل کر آیا اور گیٹ کھول دیا۔ اس کا چہرہ مسکراہٹ سے عاری تھا۔ شاید وہ زرین صاحب کو جانتا تھا اس لیے ہمیں دیکھتے ہی اس کے چہرے پر شناسائی کی جھلک نظر آئی۔ زرین صاحب نے مسئلہ گوش گزار کیا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

‘جی سر کوئی مسئلہ نہیں۔ ریسٹ ہاؤس خالی ہے آپ میڈم کو بھیج دیں’، وہ بولا۔

پھر اس نے ایک عجیب انداز سے میری طرف دیکھا اور زرین صاحب کو کچھ اشارہ کیا۔ وہ دونوں مجھ سے کچھ فاصلے پر جاکر آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے۔ میں سمجھا شاید ریسٹ ہاؤس کے کرائے پر بات ہو رہی ہے چنانچہ لاتعلق سا ہوکر اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔

محکمہ جنگلات کا یہ ریسٹ ہاؤس خود بھی ایک جنگل ہی کا منظر پیش کر رہا تھا۔ پرانے درختوں میں گھری انگریز دور کی بوسیدہ عمارت، جس کی دیواریں کائی زدہ اور چھتیں خمیدہ ہو رہی تھی۔ مجھے کچھ خوف سا محسوس ہوا۔

‘اللہ جانے رضوانہ یہاں رات کیسے گزارے گی؟’، میرے دل میں خیال آیا۔

‘چلیں عبید صاحب’، زرین صاحب اچانک میرے قریب آ کر بولے تو میں چونکا۔

واپس اپنے ریسٹ ہاؤس تک پہنچتے پہنچتے سورج غروب ہوگیا۔ زرین صاحب نے ڈرائیور کو رضوانہ کا سامان اٹھانے کو کہا۔ پھر وہ خود بھی رضوانہ کو چھوڑنے گئے۔ ان کے جاتے ہی ہم نے خوشی خوشی کمرے آپس میں تقسیم کرلیے۔ ایک کمرے پر میں نے اور اکمل نے قبضہ جمایا اور دوسرا رشید صاحب اور زرین صاحب کے حصے میں آیا۔

تھوڑی ہی دیر میں رات گہری ہوگئی اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ ہمارے ریسٹ ہاؤس کا رکھوالا مرغی کی کڑاہی بناکر لے آیا۔ رضوانہ کے ریسٹ ہاؤس سے بھی ڈرائیور آکر کھانا لے گیا۔ کھانے کے بعد چائے کا دور چلا اور گپ شپ ہونے لگی۔ زرین صاحب پتہ نہیں کیوں خاموش خاموش سے تھے۔ اچانک بولے ‘اللہ خیر کرے گا’۔

تراڑ کھل میں ایک بنگلہ
تراڑ کھل میں ایک بنگلہ

‘کیوں کیا ہوا؟’، میں چونکا۔

‘کچھ نہیں۔ انشااللہ خیر ہی ہوگا’، وہ بولے۔

‘کہاں پر خیر ہوگا سر جی؟’، اکمل بولا۔

‘وہ اُدھر فاریسٹ ریسٹ ہاؤس کا چوکیدار بتا رہا تھا کہ ادھر کوئی مسئلہ ہے’، زرین صاحب بولے۔

‘کیا مطلب؟ کیسا مسئلہ؟’، رشید صاحب چونکے۔

‘وہ چوکیدار کہہ رہا تھا کہ ریسٹ ہاؤس میں کچھ ہوائی اثرات ہیں۔ کوئی جن بھوت والا معاملہ ہے’، زرین صاحب نے سرگوشیانہ انداز میں کہا۔ ہم تو اچھل ہی پڑے۔

‘او بھائی تو اُدھر رضوانہ کو کیوں بھیج دیا آپ نے؟’، میں تشویش سے بولا۔

‘جی مجھے تو اس بات کا پتہ ہی نہیں تھا۔ لیکن ضروری نہیں کہ یہ بات ٹھیک ہو۔ انشااللہ کچھ نہیں ہوگا آپ لوگ بے فکر رہیں’، زرین صاحب نے اپنے آپ کو بے فکر ظاہر کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی آنکھیں کچھ متفکر ہی نظر آرہی تھیں۔

چائے پی کر میں اور اکمل اپنے کمرے میں آگئے۔ بستر پر لیٹ کر بھی ہم وقفے وقفے سے کچھ بولتے ہی رہے۔ باہر بالکل خاموشی تھی۔ دُور دُور تک کسی قسم کی کوئی آواز نہ تھی۔ اس سڑک پر تو لگتا ہے رات کو کوئی سائیکل بھی نہیں گزرتی تھی۔ اچانک لائٹ بھی چلی گئی اور کمرے کے اندر گھپ اندھیرا ہوگیا۔ میں نے ٹارچ سرہانے رکھی ہوئی تھی۔ رفتہ رفتہ ہماری آنکھیں مندنے لگیں اور ذہن پر غنودگی چھانے لگی۔

میں ابھی سونے جاگنے ہی کی کیفیت میں تھا کہ اچانک یوں لگا جیسے دُور کہیں کوئی شخص زور زور سے چیخ رہا ہے۔ میری تو نیند ہی اُڑ گئی۔ میں نے اکمل کو آہستہ سے آواز دی لیکن اس کا جواب نہیں آیا۔ وہ سو چکا تھا۔ میں نے پھر اپنے کان باہر کی طرف لگائے، لیکن اب وہاں سناٹا تھا۔ مگر چند لمحے بعد پھر وہی چیخ زور سے سنائی دی اور ساتھ ہی باہر کچھ بھگدڑ سی محسوس ہوئی۔ اب چیخ و پکار کی آواز مستقل جاری تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ رشید صاحب والے کمرے کا دروازہ ایک جھٹکے کے ساتھ کھلا ہے۔ اب وہ چیخ و پکار قریب آتی جارہی تھی اور اب اس مردانہ آواز میں ایک نسوانی آواز بھی شامل تھی۔ مردانہ اور زنانہ آوازوں کا وہ شور رفتہ رفتہ ہمارے ریسٹ ہاؤس کے قریب آتا جا رہا تھا۔ اچانک مجھے لگا کہ نسوانی آواز رضوانہ کی ہے۔ اب تو مجھ سے بھی برداشت نہ ہوسکا۔ میں اچھل کر بستر سے اٹھا، ٹارچ جلائی اور دروازہ کھول کر باہر آگیا۔ اس دوران شور شرابے سے اکمل بھی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ وہ بھی میرے پیچھے پیچھے باہر آگیا۔

تراڑ کھل
تراڑ کھل

باہر اندھیرے میں کچھ ہیولے حرکت کر رہے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں ٹارچ بھی تھی جو بار بار ہلتی ہوئی اوپر چنار کے درختوں پر کوند جاتی تھی۔ ہم دونوں تیزی سے ان ہیولوں کی طرف لپکے۔ رشید صاحب اور زرین صاحب دونوں باہر کھڑے تھے، ٹارچ زرین صاحب کے ہاتھ میں تھی۔ ریسٹ ہاؤس کا مین گیٹ کھلا ہوا تھا۔ باہر سے ایک بدحواس مردانہ آواز اور ایک خوفزہ نسوانی آواز قریب آتی جا رہی تھی۔ اسی وقت 2 سائے تیزی سے ریسٹ ہاؤس کے اندر داخل ہوئے۔ میری اور زرین صاحب کی ٹارچیں ایک ساتھ ان دونوں کے چہروں پر پڑیں۔ میرا خدشہ ٹھیک نکلا۔ وہ رضوانہ اور ڈرائیور ہی تھے۔ رضوانہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں اور ڈرائیور تو باقاعدہ کپکپا رہا تھا، حالانکہ سردی نہیں تھی۔

‘کیا ہوا رضوانہ خیریت ہے؟’، رشید صاحب بولے۔

‘میں اُدھر نہیں جاؤں گی، مجھے اِدھر ہی رہنا ہے’، رضوانہ بلند آواز سے بولی۔

‘وہ تو ٹھیک ہے لیکن ہوا کیا ہے؟’، رشید صاحب نے پوچھا۔

‘اُدھر پتہ نہیں کوئی مسئلہ ہے’، رضوانہ کی آنکھوں میں خوف لہرایا۔

‘او سر جی میں مرجاؤں گا اُدھر’، ڈرائیور روہانسی آواز میں بولا۔ اس کی گھگھیائی ہوئی آواز نے ہمیں بھی ڈرا دیا۔

‘کیا ہوا تھا؟’، زرین صاحب نے ڈرائیور سے پوچھا۔

‘او جی میں کھانا کھا کے اپنے کمرے میں سو رہا تھا تو مجھے یوں لگا جیسے کوئی میرے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گیا ہے۔ گھبرا کر میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے اپنا پورا زور لگاکر اسے اپنے اوپر سے ہٹانے کی کوشش کی لیکن اس نے میرا گلا پکڑ لیا۔ میں زور زور سے چیخنے لگا۔ لیکن اس نے مجھے نہیں چھوڑا۔ میں اتنا زور زور سے چیخنے لگا کہ میرے شور سے میڈم اور اورچوکیدار دونوں اٹھ گئے۔ یہ دونوں آئے اور میرے کمرے کا دروازہ بجانے لگے۔ جیسے ہی انہوں نے دروازہ بجایا، وہ بلا ایک دم غائب ہوگئی۔ میں نے اٹھ کر ٹارچ جلائی تو کمرے میں کوئی بھی نہیں تھا۔ میڈم اور چوکیدار ابھی تک دروازہ پیٹ رہے تھے اور زور زور سے مجھے آوازیں بھی دے رہے تھے۔ میں نے جلدی سے اٹھ کر دروازہ کھولا اور باہر ان دونوں کو کھڑے دیکھا تو جان میں جان آئی۔ میں نے ان کو بتایا کہ اندر کوئی میرا گلا دبا رہا تھا۔ چوکیدار نے پورے کمرے میں ٹارچ مار کر دیکھا۔ لیکن وہاں تو میرے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا۔ کمرے کا ایک ہی دروازہ اور ایک کھڑکی ہے، دونوں ہی اندر سے بند تھے۔ میں نے جب دروازہ کھولا تو میڈم اور چوکیدار تو دونوں سامنے ہی کھڑے تھے۔ اگر کوئی کمرے میں تھا تو ان کے سامنے سے ہی نکل کر بھاگتا نا’، وہ لرزتے لرزتے بولتا چلا گیا۔

‘سر جی مجھے اُدھر نہیں سونا، مجھے اُدھر نہیں جانا’، اس نے روہانسا ہوکر ہمارے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔

‘میں بھی ادھر نہیں جاؤں گی، نا، سوال ہی نہیں پیدا ہوتا’۔ چاہیں تو آپ لوگ وہاں چلے جائیں۔ لیکن نہیں، آپ لوگ بھی وہاں نہیں جائیں۔ اب تو مجھے یہاں بھی ڈر لگ رہا ہے’، رضوانہ نے کہا۔

‘او کوئی نہیں کوئی نہیں’، رشید ساحب بولے۔ ‘رضوانہ تم یہ عبید صاحب اور اکمل والا کمرہ لے لو، باقی ہم سارے اسی کمرے میں رہ لیں گے۔’

رضوانہ تیر کی طرح ہمارے کمرے میں چلی گئی۔ ہم اندھیرے میں ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے۔ فاریسٹ ریسٹ ہاؤس کے آسیب نے اپنا کام کر دکھایا تھا۔ ریسٹ ہاؤس کے چوکیدار نے زرین صاحب کو صحیح خبردار کیا تھا۔ شکر یہ ہوا کہ اس آسیب نے رضوانہ کو نہیں چھیڑا اور اپنا غصہ ڈرائیور پر ہی اتارا۔

تراڑ کھل کا ایک جنگل
تراڑ کھل کا ایک جنگل

اب ہم پانچوں ایک ہی کمرے میں آگئے۔ رشید صاحب اور زرین صاحب ایک بستر پر ہوگئے۔ میں اور اکمل دونوں نیچے چادر بچھا کر لیٹنے کے لیے تیار تھے۔ بیچارے خوفزدہ ڈرائیور کو ہم نے اوپر بیڈ پر سونے کو کہا لیکن وہ نہ مانا۔

‘او سر جی بڑی مہربانی۔ میں نیچے ہی سوؤں گا۔ میں اپنے گھر میں بھی نیچے ہی سوتا ہوں۔ آپ کی بڑی مہربانی آپ نے مجھے اس بلا سے بچایا، نہیں تو وہ آج مجھے مار کر ہی جاتا‘، وہ ابھی تک خوفزدہ تھا۔

ہم رضوانہ کی طرف سے تشویش میں تھے لیکن اس کے کمرے سے کوئی آواز نہیں آرہی تھی، شاید وہ سو گئی تھی’، ہم نے خود کو خود ہی تسلی دی۔ اس ہنگامے میں آدھی رات تو گزر ہی گئی تھی۔ میں نے گھڑی دیکھی تو رات کا ڈیڑھ بج رہا تھا۔ ہم لیٹ تو گئے تھے لیکن نیند سب کی آنکھوں سے دُور تھی۔ مجھے تو پوری رات انتظار رہا کہ باہر سے کہیں پھر کسی کی ہذیانی چیخ و پکار نہ سنائی دے۔ لیکن خیریت رہی۔البتہ تراڑ کھل ریسٹ ہاؤس کا آسیب رات بھر ہمارے سر پر سوار رہا۔

(جاری ہے)


عبیداللہ کیہر پیشے کے لحاظ سے میکینیکل انجینیئر، مگر ساتھ ہی سیاح، سفرنامہ نگار، پروفیشنل فوٹوگرافر اور ڈاکومنٹری فلم میکر ہیں۔ آپ کی اب تک 7 کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔ آبائی تعلق سندھ کے شہر جیکب آباد سے ہے۔ عمر کا غالب حصہ کراچی میں گزارا اور اب اسلام آباد میں رہتے ہیں.