People reach out to get a charity food handout during a lockdown after Pakistan shut all markets, public places and discouraged large gatherings amid an outbreak of the coronavirus disease (COVID-19), in Karachi, Pakistan, March 30, 2020. REUTERS/Akhtar Soomro

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے لیے شہری کچی آبادیاں تباہ کن کیوں؟

کورونا وائرس سے بچنے کے لیے تنہائی اور ہاتھ دھونا ضروری ہے، مگر پاکستان کی بڑی آبادی چاہتے ہوئے بھی یہ نہیں کرسکتی۔

اپ ڈیٹ اپريل 02, 2020 02:00pm

اب جبکہ کورونا وائرس نے پاکستان میں بھی دستک دے دی ہے تو ہم سے بار بار ہاتھ دھونے اور خود ساختہ تنہائی میں چلے جانے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ لیکن ذرا تصور تو کیجیے کہ اگر ہم یہ کام نہیں کرسکے تو؟

2017ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 20 کروڑ 78 لاکھ ہے جس میں سے 7 کروڑ 56 لاکھ افراد شہروں میں رہتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے 2015ء میں یہ واضح کیا تھا کہ پاکستان کی 45.5 فیصد شہری آبادی کچی یا بے ضابطہ علاقوں میں مقیم ہے۔ یوں ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 3 کروڑ 40 لاکھ لوگ ایسی کچی آبادیوں یا شہری بے ضابطہ آبادیوں میں رہتے ہیں جہاں بنیادی ضروریات میں استعمال ہونے والے پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔

شہرِ کراچی کی ایک کروڑ 60 لاکھ آبادی کا کم وبیش 60 فیصد حصہ ایسی بے ضابطہ آبادیوں میں رہائش پذیر ہے جہاں صاف پانی اور نکاسی کی سہولیات یا تو بالکل میسر ہی نہیں یا پھر وہاں ان کی صورتحال بہت خراب ہے۔ آئیے اب ان حالات کا موازنہ ان ممالک سے کرتے ہیں جہاں کورونا وائرس نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔

مثلاً اٹلی اور اسپین جیسے ممالک، جہاں موجود لوگوں کو صاف پانی کی زبردست سہولت میسر ہے، جہاں نکاسی کا بہرین انتظام ہے، جہاں صابن اور جراثیم کش محلول جیسی سہولیات تک بھی تمام شہریوں کو رسائی حاصل ہے۔

پھر ایک اور بات سمجھنے کی ہے کہ نسبتاً کم آبادی والے ان ممالک کو بھی کورونا نے نہیں چھوڑا اور وہاں تیزی سے پھیلتے ہوئے اتنی تیزی سے لوگوں کی جان لینے کا سبب بنا، جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اب جب شمالی نظامِ صحت ہی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے تو کیا کورونا وائرس کا پھیلاؤ پاکستان کی شہری آبادیوں کو بحران کے شدید خطرات سے دوچار کرنے جارہا ہے؟

خطرہ جلد ہی پاکستان کو دستک دے گا۔ ایک طرف جہاں ہم خود ساختہ تنہائی میں رہتے ہوئے کورونا وائرس کے اثرات کا انتظار کر رہے ہیں وہیں دوسری طرف جن لوگوں کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے ان کی آوازیں بالکل سنائی نہیں دے رہیں۔ پاکستان کی بے ضابطہ آبادیوں میں مقیم 3 کروڑ 40 لاکھ کی صحت کو کس نوعیت کے خطرات لاحق ہیں؟

اور یہ خطرات پورے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے لیے کس قدر معنی خیز ہے؟ ہم کس طرح فوری بنیادوں پر پلاننگ مرتب دینے کے لیے دستیاب اعداد وشمار کی مدد لے سکتے ہیں؟

پانی تک رسائی

اگرچہ اس وائرس سے بچنے کے لیے دن میں کئی مرتبہ 20 سیکنڈٖ تک صابن سے ہاتھ دھونے کی ہدایات سادہ اور آسان معلوم ہوتی ہیں مگر یہ کام پانی سے محروم آبادیوں کے لیے بالکل بھی آسان نہیں ہے۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ کہیں پانی کی رسائی بہت زیادہ ہے تو کہیں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے۔

کراچی کے شہری مرکز سے معقول فاصلے پر واقع مچھر کالونی کے علاقہ مکین 7 سے 8 ہزار روپے میں ٹینکروں اور دیگر بے ضابطہ ذرائع سے پانی منگواتے ہیں۔ کراچی کی پی آئی ڈی سی کے قریب واقع غریب آباد کے رہائشیوں کو پانی کے حصول کے لیے فی ماہ 5 ہزار روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ غریب خاندانوں کے لیے یہ رقم کمائی کا ایک بڑا حصہ ہے اور ان کے لیے بار بار ہاتھوں کو صابن سے دھونے کا خیال عیاشی میں شمار ہوتا ہے۔ روزانہ صاف صفائی کے لیے استعمال ہونے والے پانی کا بنیادی حساب کتاب ملاحظہ کیجیے:

احتیاطی تدابیر کو اپنانے کے لیے 8 ارکان پر مشتمل خاندان کو محض ایک ماہ کے لیے پانی کے 750 اضافی گیلن درکار ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کچی یا بے ضابطہ آبادی میں کم از کم ڈھائی ہزار روپے میں دستیاب 1500 گیلن پانی والے ٹینکر کا نصف پانی درکار ہوگا۔ اس حساب سے کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے بنیادی احتیاطی تدبیر اپنانے پر ایک خاندان کو مہینے میں اضافی قریب ایک ہزار 250 روپے خرچ کرنا پڑیں گے۔

بظاہر تو رقم کم محسوس ہو رہی ہے لیکن موجودہ لاک ڈاون کے سبب دیہاڑیاں بند ہونے کی وجہ سے یہ رقم ان کی آمدن کا اہم حصہ بن جاتی ہے۔ اس لیے ان آبادیوں میں مقیم گھرانے ایسے وقت میں پانی کے لیے اضافی رقم کس طرح خرچ کرسکتے ہیں جب یہی رقم ضروری اشیائے خورو نوش کے لیے رکھی گئی ہو۔

(پانی کی دستیابی، ٹرانسپورٹ، منتظر قطاروں جیسے لاجسٹک سے جڑے عناصر کو ایک طرف رکھتے ہوئے) اگر حکومتی تجاویز کے مطابق ہاتھ دھونے پر آنے والی صرف لاگت کی بات کی جائے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بے ضابطہ آبادیوں کے لیے پانی کی سستی فراہمی فوری طور پر اوّل ترجیح ہونی چاہیے۔ اس کام کے بغیر وائرس جنگل کی آگ کی طرح پھیل جائے گا جس کے نتائج ناقابلِ تصور حد تک بُرے ہوسکتے ہیں۔

مگر پانی کی دستیابی سے متعلق ہمارے موجودہ انفرااسٹرکچر کی یہ دگرگوں حالت ایک بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ عالمی ترقیاتی تحقیقی مرکز (آئی ڈی آر سی) کی 2016ء میں جاری کردہ رپورٹ میں پاکستان کی بے ضابطہ شہری آبادیوں کے انفرااسٹرکچر کی صورتحال پر تحقیق کی گئی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق انفرااسٹرکچر کی بہتری بالخصوص صحت عامہ اور آمدن کے معقول ذرائع تک رسائی کے لیے شہری منصوبہ بندی اور خدمات میں اوپر سے نیچے تک زبردست تبدیلیاں درکار ہیں۔

گنجان آبادی والے علاقوں میں پھیلی گندگی نے صحت اور ذرائع معاش پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایسی آبادیوں کی صحت اور سماجی ضروریات ایک عرصے سے نظر انداز رہی ہیں۔

اب چونکہ گزرے وقتوں کے مقابلے ہماری زندگیاں ایک دوسرے سے زیادہ منسلک ہوچکی ہیں اس لیے اگر ان کی ضروریات کو حل نہ کیا گیا تو پورا شہر خطرے کی زد میں آسکتا ہے۔

یہ بات ہمیں دوسری احتیاطی تدبیر یعنی سماجی فاصلے کی طرف کھینچ لاتی ہے۔ آئیے موجودہ وسعت مکانی (spatial) اور خاندانوں کے اعداد و شمار کو استعمال کرتے ہوئے جائزہ لیتے ہیں کہ یہ تدبیر کس قدر قابلِ عمل ثابت ہوسکتی ہے۔

گنجان آبادی، وسعت مکانی اور اعداد وشمار

شہری مسائل کو حل کرنے کے لیے اعداد وشمار کی دستیابی اہم ہے۔ ہمیں اس وقت کن اعداد و شمار کی ضرورت ہے؟ یا پھر یوں کہا جاسکتا ہے کہ: کراچی اور شہری پاکستان کے لیے آزاد محققین یا اداروں کے مرتب کردہ حقیقی معنوں میں ایسے کون کون سے اعداد و شمار دستیاب ہیں جن تک ہر ایک کو رسائی حاصل ہو اور ثانوی تجزیے کے لیے موزوں ہوں تاکہ ہر سطح کی حکومت کے لیے اعداد و شمار جمع کرنے کی محدود صلاحیت کو تقویت بخشی جاسکے۔

حکومتی اندازوں کے مطابق صوبہ سندھ میں کُل ایک ہزار 414 کچی آبادیاں ہیں جن میں سے 575 کراچی اور 408 حیدرآباد میں واقع ہیں۔ عالمی بینک نے 2008ء میں اپنے ایک مطالعے میں بتایا تھا کہ شہری پنجاب میں کُل 902، خیبرپختونخوا میں 65، بلوچستان میں 55 اور اسلام آباد میں 52 کچی آبادیاں موجود ہیں۔

مذکورہ بالا پرانے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو ہم پورے پاکستان کے اہم شہری مراکز میں 2 ہزار 488 کچی آبادیوں کی موجودگی کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔

یہاں یہ بات یاد رہے کہ مذکورہ اعداد وشمار میں ان متعدد گوٹھوں (اورنگی پائلٹ پراجیکٹ اور کراچی اسٹریٹجک ڈیولپمنٹ پلان 2020ء کے مطابق کراچی کی حدود میں تقریباً 900 گوٹھ آباد ہیں، اور یہ علاقے تیزی سے مضافاتی علاقوں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں) کی تعداد شامل نہیں ہے جہاں پلاننگ کی ضابطہ بندیوں کا فقدان ہے، خدمات کی فراہمی کے باضابطہ میکینزم موجود نہیں ہے اور اکثر و بیشتر پانی اور دیگر عوامی سہولیات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے اپنائے جاتے ہیں۔

کراچی جیسے شہروں میں دوہرا خسارہ پایا جاتا ہے، یعنی بے ضابطہ آبادیوں سے متعلق اعداد وشمار یا تو تواتر کے ساتھ جمع نہیں کیے جاتے یا اگر کیے بھی جاتے ہیں تو ہر ایک عنصر بالخصوص صحت جیسے سماجی اشاریوں سے متعلق الگ الگ اعداد و شمار اکٹھے نہیں کیے جاتے۔

اگر مختلف سطح کی حکومتوں کے پاس وارڈ یا ضلع میں رہنے والے لوگوں کے حالات سے متعلق حقیقی اور نئے اعداد دستیاب ہی نہیں ہوں گے تو وہ کس طرح ہنگامی منصوبہ بندیوں کے ذریعے بحران سے نمٹ سکیں گی؟

اس کے علاوہ وہاں موجود عمارتوں کی تعداد اور اقسام سے متعلق اعداد و شمار کہاں سے لائے جائیں گے؟ وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھانے والی ان کے نزدیکیوں اور ان کے میل جول کے طریقوں کی نوعیت کیا ہے؟

ان کی سہولیات کے لیے موجود انفرااسٹرکچر کی صلاحیت اور موثریت کیا ہے؟ ان اعداد و شمار کے بغیر کورونا وائرس کے لیے امدادی منصوبہ بندی اندازوں کا کھیل بن کر رہ جائے گی۔ اس طرح ریلیف میکینزم میں نقائص پیدا ہوجاتے ہیں، ان نقائص کی مدد سے عوامی سطح پر ریلیف فراہمی کا دعوٰی کیا جاسکتا ہے جبکہ جہاں ریلیف کی بہت زیادہ ضرورت ہو انہیں شاید مطلوبہ مدد نہ مل سکے۔

پاکستان میں آبادی سے متعلق سب سے جامع اور قابلِ بھروسہ اعداد وشمار بظاہر عوامی مردم شماری کے ذریعے ہی جمع کیے جاتے ہیں مگر 2017ء کی مردم شماری میں اختیار کیے جانے والے طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بحران اعداد وشمار کی غیر موثریت کو واضح کرتا ہے۔ اس مردم شماری میں پاکستانی شہریوں سے متعلق De jure (جس میں لوگوں کو مستقل رہائش گاہ کے حوالے سے انہیں رجسٹر کیا جاتا ہے) اعداد وشمار جمع کیے گئے، انہیں ان کے موجودہ پتہ کے بجائے ان کے قومی شناختی کارڈ پر درج وارڈ یا اضلاع میں گنا گیا۔

اس قسم کے اعداد و شمار آگے چل کر ہونے والے مطالعوں کے لیے کسی بھی طور پر کارآمد ثابت نہیں ہوسکتے خاص کر شہری پاکستان میں رہنے والوں کی زندگیوں اور عوامل کی حقیقتوں پر مفصل تجزیے کے لیے استعمال کے قابل ہی نہیں ہوتے۔

کورونا وائرس کے بحران کو ہی لیجیے۔ اب جب ان کے بارے میں حقیقی یا قابلِ بھروسہ اعداد وشمار ہی دستیاب نہیں ہوں گے تو حکومت کس طرح ان علاقوں کی آبادیوں میں وائرس کے پھیلاؤ کی پیش بینی کے لیے عالمی وبائییت کے ماڈل مرتب کرسکتی ہے؟

کراچی اربن لیب کی جانب سے کراچی کے مختلف اضلاع میں 13 بے ضابطہ آبادیوں پر 18 ماہ سے زائد عرصے تک کیے جانے والے تحقیقی کام سے یہ پتا چلا کہ لوگ 20 گز جتنے چھوٹے پلاٹوں پر بنے گھروں میں بھی رہتے ہیں۔

وہاں رہائش پذیر گھرانے اوسطاً 8 سے 9 ارکان پر مشتمل ہیں لیکن وہ کچن سلیب اور ٹوائلٹ سمیت بمشکل ایک کمرے کی اراضی میں رہتے ہیں۔

ایسے مقامات جہاں لوگوں نے بلندو بالا عمارتوں کے ذریعے آبادی کو پھیلایا ہے وہاں ایک طرح سے پلاٹ کے فی 80 گز پر 30 افراد رہتے ہیں۔ گھرانوں کے افراد کی یہ تعداد 2017ء کی مردم شماری میں بتائی گئی اوسط تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ان حالات میں سماجی فاصلے پر عمل درآمد کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اس قسم کی گنجان آبادی ان شہریوں کے تحفظ اور سالمیت اور پورے پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہے۔

ان حالات میں اگر شہری سطح پر کرفیو نافذ کردیا جائے یا طویل لاک ڈاؤن کے گھنٹوں کو بڑھا دیا جائے تو خود کو چھوٹے، گنجان اور تنگ جگہوں تک محدود کیے جانے پر مجبور ہونے والے لوگوں کے لیے یہ عمل بھی کسی آفت سے کم نہیں ہوگا۔

چھوٹے پلاٹوں یا زیادہ گنجان آبادیوں کے معاملے پر تو منظرنامہ اور بھی زیادہ حوصلہ شکن بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چند مطالعوں کے مطابق شہر میں 88 فیصد گھروں میں سے فی گھر کے پلاٹ کا رقبہ 120 گز یا اس سے بھی کم ہے، لہٰذا مذکورہ دونوں باتوں سے وہاں رہنے والے اور 400 سے 2000 گز کے رقبے پر بنے 2 فیصد گھروں میں مقیم لوگوں کے حالات میں تضاد واضح ہوجاتا ہے۔

صحت اور خدشات

گزشتہ 18 ماہ سے کراچی کی درجنوں کچی آبادیاں خطرات سے دوچار ہیں۔ کراچی کے وسطی ضلع میں ایک ہزار سے زائد گھرانے پہلے ہی بے گھر ہوچکے ہیں۔ رہائشیوں کے ساتھ اس وقت جاری ہماری شراکتی تحقیق یہ دکھاتی ہے کہ بے ضابطہ آبادیوں میں رہائش پذیر 40 فیصد گھرانوں میں کم از کم ایک فرد ایسا ضرور شامل ہے جسے خصوصی طبّی یا سماجی توجہ درکار ہے۔

پھر کمزور مدافعتی قوت کے حامل افراد کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ مختلف طبّی، جسمانی اور سماجی سطح پر صحت کی دیکھ بھال کی ضروریات اپنی جگہ موجود ہیں۔ جن افراد کو دیکھ بھال مطلوب ہے ان میں سے قریب 70 فیصد کو ایسے موروثی امراض کے شکار افراد کے طور پر درجہ بند کیا جاسکتا ہے جن کا کورونا وائرس کی زد میں آنے کا خدشہ بہت زیادہ ہے۔

اپنے گھروں کو خالی کرنے کی فکروں کے ساتھ اب کورونا وائرس کی خبر نے بے ضابطہ آبادیوں میں رہائش پذیر افراد کو لاحق نفسیاتی دباؤ میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔ اپنے کنبے کی غذا، پانی اور صحت سے جڑی ضروریات کو پورا کرنے کا ذہنی دباؤ پہلے ہی بہت زیادہ تھا مگر اب لاک ڈاؤن ذہنی دباؤ کے مسائل کو بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔ نفسیاتی تحقیق بارہا یہ ثابت کرچکی ہے کہ ذہنی تناؤ مدافعتی عمل کو کمزور بناتا ہے۔

ذہنی تناؤ اور ان کے اثرات کا شکار خاص طور پر خواتین اور لڑکیاں بن سکتی ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران انہیں گھروں میں پھنسنا پڑسکتا ہے اور انہیں دیکھ بھال کا بھاری بوجھ اٹھانا پڑسکتا ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران چین، برطانیہ اور امریکا میں عورتوں اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا۔ پورے پاکستان اور بالخصوص بھرے گھروں میں غیر یقینی سے بھرپور حالات میں رہنے والی عورتوں اور لڑکیوں کا تحفظ اور سالمیت کو حقیقی خدشات لاحق ہیں۔

ان بے ضابطہ یا کچی آبادیوں کے رہائشیوں میں عدم تحفظ، غیریقینی کی صورتحال اور ذہنی تناؤ کے باعث ان کے مدافعتی قوت کی کمزوری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور یوں ان کے کورونا وائرس کی زد میں آنے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

طویل مدتی منصوبہ بندی

حالیہ کورونا وائرس کی وبا یقینی طور پر ہماری شہری خدمات سے متعلق فیصلہ کرنے والوں، بیوروکریٹس اور پالیسی سازوں کے لیے سوچنے کا سبب ہونا چاہیے کہ وہ مستقبل میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت، انفرااسٹرکچر کی منظوری دیتے وقت عدم مساوات اور لوگوں کی بنیادی ضروریات کا خیال ضرور رکھیں۔

دہائیوں سے جاری خراب گورننس اور مخلتف حکومتی سطحوں پر احتساب کے عمل کی کمی بہتر پلاننگ کی کوششوں میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ پالیسی ساز اب ان کچی آبادیوں کو مزید نظر انداز کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ یہ شہر کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور چونکہ ان میں کچھ سب سے زیادہ خطرے کی زد میں ہیں اس لیے ان پر توجہ دینا لازم ہے۔

آسان لفظوں میں کہا جائے تو کورونا وائرس کے طویل مدتی اثرات اور اس کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ان مقامات پر بڑی سطح پر مرتب ہوں گے جنہیں کبھی بھی ماضی کی کسی پلاننگ میں شامل ہی نہیں کیا گیا ہے۔ مندرجہ ذیل فوری اور طویل مدتی تجاویز پیش کی جا رہی ہیں:


اس رپورٹ کے شریک لکھاریوں میں آدم عبداللہ، ماہین عارف، سوہا مخدوم، ارسم سلیم، محمد توحید، ڈاکٹر نوشین ایچ انور، ڈاکٹر گلناز انجم اور ڈاکٹر امیرا سواس شامل ہیں۔


ہیڈر: رائٹرز


انگلش میں پڑھیں۔