Dawn News Television Logo
فوٹو: اے پی

کیا پاکستان میں کورونا سے اموات فراہم کردہ اعدادوشمار سے زیادہ ہیں؟

کراچی میں اموات میں اضافہ دیکھا گیا ہے تاہم ماہرین صحت کے مطابق یہ واضح نہیں کہ ان کا تعلق کورونا سے ہے یا نہیں۔
شائع 16 اپريل 2020 05:36pm

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 15 اپریل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ صوبے میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات اصل تعداد سے کہیں زیادہ ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا تھا کہ ہسپتالوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کو مردہ حالت میں لایا گیا یا وہ ہسپتال پہنچتے ہی دم توڑ گئے اور انہوں نے ایسے خدشات کا اظہار کیا کہ ایسے لوگوں کے ٹیسٹ بھی نہیں کیے جا سکتے۔

انہوں نے بہت ساری اموات کا ذکر کیا مگر صوبہ سندھ میں اب تک کورونا وائرس سے صرف 41 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: کوئی سمجھتا ہے ہمارے ملک میں وائرس دنیا سے کم ہے تو وہ غلط ہے، وزیر اعلیٰ سندھ

ہوسکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ پاکستان کے ایک انگریزی اخبار دی نیوز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کا ذکر کر رہے ہوں جس میں صوبہ سندھ کے دارالحکومت میں 300 اموات کا ذکر کیا گیا تھا۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں گزشتہ 15 دن کے اندر نمونیہ سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا 300 افراد ہسپتالوں میں منتقل کیے جانے کے اگلے 24 گھنٹوں بعد ہی چل بسے تھے۔

لیکن کیا ایسی اموات کو کورونا سے ہونے والی اموات سے ملانا درست ہوگا؟

لاک ڈاؤن کے اثرات

ڈاکٹر رتھ فاؤ سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر کے سابق ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عامر رضا کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اموات ہوئی ہوں۔

ڈاکٹر عامر رضا کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے نجی ہسپتالوں یا محلوں کے کلینکس بھی بیماروں کو نہیں دیکھ رہے، اس لیے جب لوگ بہت زیادہ بیمار ہو رہے ہوں تو وہ سول ہسپتال، جناح ہسپتال اور عباسی شہید جیسے سرکاری ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں، جہاں ممکنہ طور پر وہ پہلے سے ہی خراب حالت کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ صورتحال جیسے حالات عید کی تعطیلات کے وقت بھی دیکھنے کو ملتے ہیں، کیوں کہ اس وقت بھی نجی ہسپتال اور عام کلینکس بند ہوتے ہیں اور لوگ سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہسپتالوں میں موت کے منہ میں جانے والے ہر شخص کو کورونا سے جوڑنا درست عمل نہیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق اموات میں اضافہ ہوا

ایدھی فاؤنڈیشن کراچی کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم مانی جاتی ہے، اس کے سربراہ نے ڈان کو بتایا کہ کراچی میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اموات میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، ان کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات ہونا ضروری ہیں کہ ان اموات کی وجہ کیا ہے۔

فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ انہوں نے یکم اپریل سے 13 اپریل تک کراچی کے مختلف علاقوں اور ہسپتالوں سے کم از کم 387 لاشیں مختلف قبرستانوں میں تدفین کے لیے منتقل کیں جبکہ گزشتہ سال اس ہی عرصے کے دوران یہ تعداد 230 تھی۔

فیصل ایدھی کے مطابق اس سال بہت مختصر وقت میں اموات میں 60 سے 70 فیصد اضافہ ہوا ہے، تاہم وہ ان اموات کی اصل وجہ کی نشاندہی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ زیادہ تر اموات بڑی عمر کے افراد کی ہوئیں، جو متعدد بیماریوں کا شکار تھے۔

فیصل ایدھی کے مطابق ان کے رضاکار ان لاشوں کی تدفین کے دوران تمام احتیاطی تدابیر اختیار کررہے ہیں تاکہ وہ کورونا سے متاثر نہ ہوسکیں۔

اموات میں حالیہ اضافہ کیوں ہوا؟

فیصل ایدھی نے کہا کہ ہسپتالوں میں او پی ڈیز بند ہیں اور وفاقی حکومت کی جانب سے کورونا کی روک تھام کے لیے نافذ کردہ لاک ڈاؤن کے دوران ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث لوگوں کو وقت پر ہسپتال پہنچنے میں اور علاج کرانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی کہ لوگوں کو دوسرے سے وائرس لگ جانے کا خوف ہو۔

فیصل ایدھی کی جانب لاشوں کی تعداد میں اضافے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کہ جواب میں ڈاکٹر رضا نے بتایا کہ عام حالات میں جب کسی خاندان میں کسی کی موت ہوتی تو ان فلاحی تنظیموں کے بجائے خاندان والے خود ہی اس کی آخری رسومات ادا کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’لیکن اب سب ہی خوفزدہ ہیں، اگر کوئی اپنے پڑوس میں بھی کسی کے انتقال کی خبر سنتا ہے تو یہ سوچ کر خوفزدہ ہوجاتا کہ کہیں اس کا انتقال کورونا کی وجہ سے تو نہیں ہوا، اس لیے زیادہ لوگ اب میت کے غسل کے لیے ایدھی سے رجوع کررہے ہیں، جس کے بعد وہیں سے میت کو تدفین کے لیے قبرستان منتقل کردیا جاتا ہے‘۔

دوسری جانب، سندھ حکومت کے فنڈز سے چلنے والی ریسکیو اور میڈیکل سروسز 'امان ہیلتھ کیئر سروسز' کے مطابق انہوں نے اموات میں کوئی اضافہ نوٹ نہیں کیا اور ابھی بھی ہر روز ایک سے دو اموات کے کیسز رپورٹ ہورہے ہیں، البتہ کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

امان ہیلتھ کیئر سروسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد نوید نے بتایا کہ لاک ڈاؤن سے قبل ایمبولینسز کو دن میں 10 سے 15 کالز موصول ہوتی تھی جن میں لوگ سانس لینے اور سینے میں تکلیف کی شکایت کرتے تھے، جس کے بعد روزانہ 30 سے 40 کالز آنا شروع ہوئی تاہم اب وہ فروری سے 1200 کیسز ہسپتال منتقل کرچکے ہیں جن میں سے 190 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔


(مزکورہ رپورٹ کے لیے ڈان اخبار کے کراچی سے نمائندے امتیاز علی نے بھی معلومات فراہم کیں)