جنوبی ایشیا میں لاک ڈاؤن کے دوران غیر قانونی شکار عروج پر کیسے پہنچا؟

ای میل

جب جنوبی ایشیائی ممالک نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیا تو جنگلات کی غیر قانونی تجارت میں ملوث مجرموں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھانا شروع کردیا۔

چونکہ حکام کی ساری توجہ لاک ڈاؤن پر عملدرآمد پر مرکوز تھی، اس لیے شکاری اس خوف سے بہت حد تک آزاد ہوگئے کہ انہیں پکڑا جاسکے گا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان، پاکستان اور نیپال کے حکام کے مطابق وہاں غیر قانونی شکار میں اضافہ ہوا، اس سے بھی بُری خبر یہ کہ ان میں معدومیت کے خطرے سے دوچار جانوروں اور نایاب پرندوں کا شکار بھی شامل ہے۔ پھر معاملات اس وقت مزید بدتر ہوئے، جب لاک ڈاؤن کے باعث ذریعہ معاش سے محروم لوگوں نے بھی گزر اوقات کے لیے غیر قانونی شکار شروع کردیا۔

یہ رجحان دراصل اس سلسلے کی کڑی ہے جس کا آغاز جنوب مشرقی ایشیا، افریقہ، برازیل اور کولمبیا میں پہلے ہی ہوچکا ہے: یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کورونا وائرس پر ضابطہ لانے کی غرض سے مختلف پابندیوں کے نفاذ کے بعد سے غیر قانونی شکار اور جنگلات کی کٹائی میں اضافہ ہوا ہے۔

وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی کے سربراہ برائے تحفظ جوزف والسٹن کہتے ہیں کہ 'جنوب مشرقی ایشیا جیسے خطوں میں شہر سے دیہی علاقوں کی طرف بڑی سطح پر نقل مکانی دیکھنے میں آئی ہے جہاں لوگوں نے راتوں رات شہروں میں اپنی ملازمت کھو دی تھی۔ انہیں اب گزر بسر کے لیے غیر قانونی شکار یا درختوں کی کٹائی جیسی فطرت کے لیے تباہ کن سرگرمیوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے'۔

جنوبی ایشیا کا بھی یہی حال ہے۔ ماحولیاتی تحفظ پسندوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں غیر قانونی شکار سے متعلق موصول ہونے والی رپورٹس تو معاملے کا صرف ظاہری چھوٹا حصہ ہے۔

پاکستانی عہدیداران کے مطابق مارچ سے اپریل کے درمیان غیر قانونی شکار کے متعدد مقدمات درج کیے گئے۔ نیپال میں حالیہ برسوں کے دوران غیر قانونی شکار کے سب سے زیادہ تشویشناک واقعات سامنے آئے ہیں۔ بنگلہ دیش واحد ملک ہے جہاں غیر قانونی شکار کے واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، پھر بھی وہاں تحفظ پسند جنگلی حیات کو لاحق خطرے کو لے کر فکرمند ہیں۔

اگرچہ ان ممالک نے جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کا کئی سال مقابلہ کیا ہے، لیکن حالیہ لاک ڈاؤن سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ بلیک مارکیٹ کی جڑیں ابھی بھی کافی مضبوط ہیں۔

پاکستان کے کچھ حصوں میں اسمگلنگ 3 گنا بڑھ گئی

خیبر پختونخوا میں 22 مارچ سے 12 مئی کے بیچ لاک ڈاؤن کے دوران قانونی اور غیر قانونی شکار کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا۔ صوبے کے محکمہ جنگلی حیات میں ڈیویژنل افسر محمد نیاز کہتے ہیں کہ '20 مارچ سے 30 اپریل کے دوران غیر قانونی شکار کے واقعات کے خلاف ہم نے ریکارڈ 600 مقدمات درج کروائے'۔ ان کا کہنا تھا کہ عام دنوں میں یہ تعداد 150 سے 200 کے درمیان رہتی ہے۔

زیادہ تر کیسوں کا تعلق بڑے شہروں کی چند منڈیوں کو سپلائی کی غرض سے پکڑے گئے پرندوں اور جانوروں کی اسمگلنگ سے تھا۔ یہ وہ منڈیاں تھیں جنہیں ضروری سامان کی خرید و فروخت کے لیے کھولنے کی اجازت تھی۔ ضلعی جنگلی حیات افسر خان ملوک نے بتایا کہ 'صرف ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں میری ٹیم نے 220 شکاریوں اور پوچرز کو پکڑا جو دریائے سندھ کے قریب سرگرم تھے'۔

خان ملوک نے بتایا کہ سب سے بڑا کیس 24 مارچ کو ڈیرہ اسماعیل خان سے پشاور 65 سارس (demoiselle cranes) کی اسمگلنگ کا تھا۔ پرندے ایمبولینس میں بندھے پائے گئے اور ان کے سر کپڑے سے ڈھانپے ہوئے تھے۔ ایمبولینس کے آپریٹر لاش لے جانے کا دکھاوا کررہے تھے۔

صوبہ بلوچستان کے جنگلات اور جنگلی حیات کے چیف کنزرویٹر شریف الدین نے کہا کہ خیبر پختنخوا میں اسمگلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ یہ صوبہ انڈس فلائی وے کے ذریعے بھارت سے سائبیریا واپس لوٹنے والے پرندوں کے لیے ایک اہم آرام گاہ ہے۔

منافع بخش تجارت

پشاور میں پرندے بیچنے والے محمد صہیب نے بتایا کہ غیر قانونی شکار ایک منافع بخش کاروبار ہے اور لوگوں نے کورونا لاک ڈاؤن کے دوران محکمہ جنگلی حیات کی سرگرمیوں میں کمی کا فائدہ اٹھایا۔ صہیب نے اعتراف کیا کہ اس دوران شکاریوں کے ذریعے ہونے والی پرندوں کی فراہمی میں اضافہ ہوا ہے۔

پرندوں کے شکار میں بڑا پیسہ ہے۔ کونجیں اور دیگر نایاب نسل فروخت کرنے والے شکاری ماہانہ لاکھوں روپے آسانی سے کما لیتے ہیں۔ ایک کونج 7 ہزار روپے (44 امریکی ڈالر) سے لے کر 20 لاکھ روپے (12 ہزار 500 امریکی ڈالر) تک کما کر دے سکتی ہے۔

صہیب نے متنبہ کیا کہ 'کھلی منڈی میں اس نایاب جنگلی حیات کی قیمت لوگوں کو اس غیر قانونی عمل کی طرف راغب کررہی ہے جو پہلے سے معدومیت کے خطرے سے دوچار جنگلی حیات کے لیے خطرہ ہے'۔

وائلڈ لائف کے عہدیداروں کا خیال ہے کہ وائلڈ لائف کی خفیہ تجارت میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ لوگوں کو لاک ڈاؤن کے دوران غیر قانونی شکار سمیت دیگر آمدنی کے ذرائع ڈھونڈنا پڑے ہیں جس کی وجہ کمرشل تجارتی سرگرمیوں کا رُک جانا ہے۔ ناصرف پیشہ ور شکاری، بلکہ عام لوگ بھی حکام کی بٹی توجہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی تجارت کی طرف چلے گئے ہیں۔

محکمہ جنگلی حیات کے عہدیداروں نے تھرڈ پول کو بتایا کہ فرصت کے ان دنوں فارغ نوجوانوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر شکار کیے گئے جنگلی جانوروں کی رکھی جانے والی تصویریں بھی شکار میں اضافے کا سبب بنی ہیں۔

نیپال میں معدومیت کے خطرے سے دوچار نسلوں کی ہلاکت

نیپال میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد معدومیت کے خطرے سے دوچار جنگلی حیات سے متعلق بڑے واقعات نے ملک میں غیر قانونی شکار میں اضافے کے شکوک و شبہات کو پیدا کیا ہے۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ذریعہ آمدن کے خاتمے، نقل و حرکت پر پابندی اور سیاحت میں سست روی جیسے بہت سے عوامل سے شکاریوں کو صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی ترغیب ملی ہے۔

25 اپریل کو کورونا لاک ڈاؤن نافذ کیے جانے کے ایک ماہ بعد ایورسٹ کے نیچے ساگر ماتھا نیشنل پارک کے اندر 6 کستوری ہرن کی لاشیں ملی تھیں۔ پارک کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں یہ 'غیر قانونی شکار کا ایک بدترین کیس' تھا۔

ساگر ماتھا نیشنل پارک کے چیف کنزرویشن افسر بھومیراج اپادھیہ نے کہا کہ 'جہاں لاشیں پائی گئی تھیں اس جگہ جب ہم پہنچے تو دیکھا کہ ہرنوں کو جال میں پھانس کر ہلاک کیا گیا تھا۔ ایک نر ہرن کا کستوری غدود نکال لیا گیا تھا'۔

ہمالیائی مسک ہرن جسے عام طور پر جنوبی ایشیا میں کستوری کے نام سے جانا جاتا ہے، اس خطے کی انتہائی خطرے سے دوچار نسلوں میں سے ایک ہے۔ نر کستوری ہرن سے حاصل ہونے والے خوشبودار غدود ہزاروں روپے کی مالیت رکھتے ہیں، اور پرفیوم اور روایتی ادویات بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔

ایورسٹ کے دامن پر واقع کھمبو کے رہائشی دعوا نورو شیرپا نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے کہ اسی علاقے میں پھندے کے اندر ایک مردہ سنہری عقاب بھی پایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ تار سے بنے دیگر پھندے بھی ملے تھے۔

ایک دوسرے واقعے میں جنوبی نیپال کے پارسا نیشنل پارک میں شکاریوں کا گشت کرنے والے فوجیوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔ محکمہ برائے تحفظِ نیشنل پارک و جنگلی حیات کے انفارمیشن افسر بشنو شریستھا نے بتایا کہ اس واقعے میں ایک فوجی زخمی ہوا، جبکہ ایک شکاری موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ پارک کے چیف کنزرویشن افسر عامر مہارجن نے بتایا کہ عہدیداروں نے ایک شکاری کو گرفتار کرلیا جو کھٹمنڈو میں پینٹر کی حیثیت سے کام کرتا تھا اور لاک ڈاؤن کے بعد کام نہ ہونے کی وجہ سے گھر واپس آگیا تھا۔

کنزرویشن کے عہدیداروں نے ان واقعات کے پیش نظر سیکیورٹی کے انتظامات میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔ شریستھا نے کہا کہ 'اگرچہ حکومت نے ہمیں ضروری خدماتی اداروں کی فہرست میں شامل نہیں کیا اس کے باوجود ہمارے تمام دفاتر بھی کھل گئے ہیں'۔

نیپال کے بیشتر قومی پارکوں میں موسمِ بہار میں سیاحوں کی آمد کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے۔ تاہم اپادھایا نے یہ بھی بتایا کہ محفوظ علاقے اب بھی ویران ہیں جس کے باعث شکاریوں کو آسانی سے جنگلی جانوروں کو مارنے کا موقع مل گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'ایورسٹ کا علاقہ موسمِ بہار کی آمد کے ساتھ لوگوں سے بھر جاتا تھا لیکن اس سال لاک ڈاؤن کی وجہ سے شکاریوں کے لیے جال بچھانا آسان ہوگیا'۔

شریستھا نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے بعد سے ہی ملک میں جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار اور غیر قانونی طریقے سے درخت کاٹنے سے جڑے متعدد معمولی واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ نیپال کے سب سے مشہور زیرِ تحفظ علاقے چیتوان نیشنل پارک میں ایک ہاتھی اور 3 مگر مچھوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

بھارت میں خطرے سے دوچار نسلیں

بھارت میں لاک ڈاؤن کے آغاز کے بعد سے ملک کے متعدد حصوں میں غیر قانونی شکار میں تیزی نظر آئی ہے۔ پنجروں میں بند جنگلی پرندوں سے لے کر بش میٹ کے لیے پکڑے گئے جانوروں اور پوچنگ کے عالمی غیر قانونی کاروبار میں قیمتی تصور کی جانے والی اشیا تک، ہر جگہ کاروبار میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

اوڈیسہ میں 10 مئی کو سملی پال ٹائیگر ریزرو میں اپنے ساتھ چیتے کی کھال لے جانے والے 4 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی دن حکام کو شمال مشرقی ریاست آسام میں کازیرنگا قومی پارک اور ٹائیگر ریزرو میں شکاریوں کے ہاتھوں ہلاک ہوا ایک گینڈا ملا۔ تحفظ پسندوں کا کہنا ہے کہ بھارتی گینڈوں کی نسل کو بچانے کے لیے مستقل نگرانی لازمی ہوگئی ہے کیونکہ ان کے سینگ تجارتی لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

راجستھان میں غیر قانونی شکار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس میں معدومیت کے خطرے سے دوچار ایک صحرائی ہرن چنکارا کے کئی کیس بھی شامل ہیں، جو پہلے ایک وسیع علاقے میں پائے جاتے تھے مگر اب ان کی زیادہ تعداد صرف راجستھان میں ہی پائی جاتی ہے۔

تحفظ پسندوں کے مطابق یہ صرف ابتدائی معلومات ہی ہیں۔ صحرائی ماحولیات کا مطالعہ کرنے والے اور معاشرتی تحفظ پر کام کرنے والے سمت ڈوکیہ کہتے ہیں کہ 'ہمارے اندازے کے مطابق مغربی راجستھان میں کم سے کم 55 شکار ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ شکار کیے جانے والے جانوروں میں چنکارا، کالے ہرن، خار دم چھپکلی، صحرائی خرگوش، مور، مانیٹر چھپکلی اور سرمئی فرانکولن شامل ہیں۔

دوسری طرف کرناٹک کے بانڈی پور ٹائیگر ریزرو میں ایک شکاری گروہ دریافت ہوا، گروہ کے 9 افراد کو 50 کلوگرام چیتل ہرن کے گوشت سمیت پکڑا گیا۔ یہ غیر قانونی شکار کے واقعات میں سے ایک تھا۔ کچھ ملزمان محکمہ جنگلات میں عارضی ملازمت کرتے رہے تھے۔

بنگلہ دیش میں غیر قانونی شکار کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا

خطے کے باقی حصوں کے برعکس بنگلہ دیش میں جنگلی حیات کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران غیر قانونی شکار کو سخت کنٹرول میں رکھا گیا ہے۔ وائلڈ لائف اینڈ نیچر کنزرویشن سرکل کے محافظ جنگلات، مہر کمار ڈو نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے باوجود ہمارا وائلڈ لائف کرائم کنٹرول یونٹ (ڈبلیو سی سی یو) انتھک محنت کر رہا ہے۔ چونکہ نقل و حمل ممنوع ہے، لہٰذا اب جنگلات میں غیر قانونی شکار پر قابو پانا ممکن ہوگیا ہے'۔

جنگلات کے چیف کنزرویٹر عامر حسین چوہدری نے کہا، 'بنگلہ دیش میں مختلف جنگلی جانوروں کی منڈی تو موجود نہیں ہے البتہ اسے ایک راستے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، لیکن وبائی امراض کے دوران بنگلہ دیش میں جنگلی حیات کی غیر قانونی شکار میں کمی آرہی ہے'۔

ڈبلیو سی سی یو کے مطابق 2013ء اور 2019ء کے بیچ جنگلی حیات کی اسمگلنگ کے 438 واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں، صرف 2019ء میں ہی 107 واقعات پیش آئے۔

لیکن دیگر کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تجارت اب بھی جاری ہے۔ کری ایٹو کنزرویشن الائنس کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر شہریار قیصر رحمٰن نے کہا ہے کہ ہرن، پینگولین، چھپلی نما کچھوے اور دیسی پرندے جیسی کچھ مقامی نسلوں کا اب بھی غیر قانونی شکار اور اسمگلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'اب چونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کورونا وائرس کے مسئلے میں مصروف ہیں اس لیے اسمگلروں کو غیر قانونی زمینی بندرگاہوں کے ذریعے تجارت بڑھانے کا موقع مل گیا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں کئی برادریاں اب اپنی روزی روٹی کے لیے جنگلی جانوروں کا غیر قانونی شکار یا انہیں ہلاک کرنے میں ملوث ہوگئی ہیں۔ یہ تشویشناک صورتحال ہے'۔


اس تحریر کے لیے پاکستان میں عدیل سعید، ہندوستان میں نیہا سنہا، نیپال میں اے آر جوشی اور بنگلہ دیش میں نازمون ناہر شیشیر نے رپورٹنگ کی خدمات انجام دی۔


یہ مضمون ابتدائی طور پر تھرڈ پول پر شائع ہوا جسے بااجازت یہاں شائع کیا گیا۔