مریخ کی تحقیق کے لیے بنائی گئی گاڑی بھی مقامی طور پر تیار کی گئی—فوٹو: محمد بن راشد اسپیس سینٹر

عرب دنیا کا پہلا مریخ مشن ’ہوپ‘

گزشتہ سال پہلا عرب خلانورد عالمی خلائی اسٹیشن گیا تھا، اب پہلے عرب تحقیقاتی مشن کو بھیجا جا رہا ہے۔

اپ ڈیٹ 14 جولائ 2020 06:23pm

ستمبر 2019 میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے خلانورد ہزاع المنصوری دنیا کے پہلے عرب بنے تھے جو عالمی خلائی اسٹیشن پر گئے تھے۔

تاہم اب یو اے ای چند دن بعد ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہا ہے اور اب وہ مریخ پر پہلا مشن بھیج کر دنیا کا نہ صرف پہلا عرب بلکہ پہلا مسلمان ملک بھی بننے جا رہا ہے۔

یو اے ای مریخ کی منفرد تحقیق کے لیے ابتدائی طور پر 15 جولائی کو ’ہوپ مشن‘ نامی منصوبے کے تحت تحقیقاتی گاڑی کو سرخ سیارے کی جانب روانہ کرنے والا تھا۔

تاہم اب موسم کی خرابی کے باعث تحقیقاتی گاڑی کو 2 دن کی تاخیر کے بعد 17 جولائی کو بھیجا جائے گا۔

یو اے ای کی حکومت نے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے بتایا کہ موسم کی خرابی کے باعث ’ہوپ مشن‘ کو اب 15 جولائی کے بجائے 17 جولائی کو جاپان سے ہی روانا کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ خدشات پہلے ہی ظاہر کیے جا رہے تھے کہ موسم کی خرابی کے باعث عرب دنیا کا پہلا مریخ مشن کچھ دن تک تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے۔

اور اب یو اے ای کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ موسم کی خرابی کے باعث ’ہوپ مشن‘ کو 2 دن کی تاخیر سے روانہ کیا جائے گا۔

’ہوپ مشن‘ کیا ہے؟

خلائی مشن کی گاڑی 6 سال میں مقامی طور پر غیر ملکی ماہرین کی مدد سے تیار کی گئی—فوٹو: خلیج ٹائمز
خلائی مشن کی گاڑی 6 سال میں مقامی طور پر غیر ملکی ماہرین کی مدد سے تیار کی گئی—فوٹو: خلیج ٹائمز

یہ منصوبہ مریخ کی تحقیقات کا منصوبہ ہے، جس کے ذریعے پہلی بار منفرد اور نئی معلومات کا تجزیہ کیا جائے گا اور یہ مشن امریکی خلائی ادارے ناسا سے مشوروں کے بعد ہی بنایا گیا۔

’ہوپ مشن‘ کے لیے بنائی گئی ویب سائٹ امیریٹس مارس مشن کے مطابق اس منصوبے کے تحت پہلی بار مریخ کے پورے سال کے موسموں کا جائزہ لیا جائے گا۔

ساتھ ہی ’ہوپ مشن‘ منصوبے کے تحت مریخ پر ہائیڈروجن اور آکسیجن گیس سے متعلق بھی تحقیق کی جائے گی اور یہ بھی دیکھا جائے گا کہ مریخ پر ماضی کے مقابلے پانی کی مقدار کم کیوں ہو رہی ہے؟

’ہوپ مشن‘ کی تیاری کیسے کی گئی؟

مقامی ماہرین نے جاپانی و امریکی ماہرین کی مدد سے گاڑی تیار کی—فوٹو: یو اے ای اسپیس ایجنسی
مقامی ماہرین نے جاپانی و امریکی ماہرین کی مدد سے گاڑی تیار کی—فوٹو: یو اے ای اسپیس ایجنسی

’ہوپ مشن‘ کے لیے متحدہ عرب امارات کے مقامی انجنیئرز اور سائنسدانوں نے امریکی اور جاپانی ماہرین کی معاونت سے خود گاڑی اور آلات تیار کیے۔

اس مشن کے لیے اماراتی ماہرین نے غیر ملکی ماہرین کے تعاون سے محض 6 سال کے عرصے میں جدید ترین خلائی گاڑی اور اس میں تحقیق کے لیے نصب کیے جانے والے تمام آلات تیار کیے۔

تیار کی گئی گاڑی کا وزن 1350 کلو گرام ہے اور اس میں جدید کیمرے اور لائٹس بھی نصب ہوں گی جو کہ مریخ کے ماحولیات کا جائزہ لے کر مواد زمین پر بھیجیں گی۔

’ہوپ مشن‘ کی خلائی گاڑی کب تک مریخ پر پہنچے گی؟

خلائی گاڑی ایک سال سفر کرنے کے بعد مریخ پر پہنچے گی—اسکرین شاٹ یوٹیوب
خلائی گاڑی ایک سال سفر کرنے کے بعد مریخ پر پہنچے گی—اسکرین شاٹ یوٹیوب

مریخ کی تحقیق کے لیے بنائی گئی گاڑی کو اب اگر نئے شیڈول کے مطابق 17 جولائی کو جاپان سے روانہ کیا گیا تو وہ آئندہ سال اگست میں مریخ پر اترے گی۔

خلائی گاڑی تقریباً ایک سال تک سفر کرکے 50 کروڑ کلو میٹرز سے زیادہ کا فاصلہ طے کرکے سرخ مدار پر پہنچے گی جہاں وہ وہاں کے ماحول اور موسم کا جائزہ لے گی۔

’ہوپ مشن‘ سے منسلک ماہرین ذہنی طور پر پہلے ہی تیار ہیں کہ ممکنہ طور پر خلائی گاڑی کامیابی سے مریخ پر نہیں اترسکے گی، تاہم انہیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ وہ اپنے تاریخی مشن میں کامیاب جائیں گے۔

اگر’ہوپ مشن‘ کی خلائی گاڑی مریخ پہنچ گئی تو یہ نہ صرف متحدہ عرب امارات کی کامیابی ہوگی بلکہ اس کو عرب دنیا اور مسلم دنیا کی کامیابی بھی تصور کیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات سے قبل امریکا، روس، چین، بھارت اور یورپی خلائی ایجنسی ہی مریخ کے حوالے سے تحقیقات کر چکے ہیں، تاہم یو اے ای کے ’ہوپ مشن‘ کو سب سے منفرد اور نمایاں قرار دیا جا رہا ہے۔

ہوپ مشن کی نصف تحقیقاتی ٹیم خواتین پر مشتمل ہے—فوٹو: یو اے ای اسپیس ایجنسی
ہوپ مشن کی نصف تحقیقاتی ٹیم خواتین پر مشتمل ہے—فوٹو: یو اے ای اسپیس ایجنسی