ای میل

کائی: سندھو گھاٹی کی قدیم اور قیمتی وادی!

ابوبکر شیخ

ماضی کو ڈھونڈنا ایک گورکھ دھندے جیسا ہی ہے جس کی انتہا کبھی نہیں ہوتی یا پھر یہ ان بھول بھلیوں جیسا ہے جن پر چلتے جائیں مگر آخری منزل کبھی نہیں آتی۔

یہ شاید وجود میں بسی اس تشنگی جیسا بھی ہے جو کبھی نہیں بجھتی۔ آپ ایسے ریگستان پر چل رہے ہوتے ہیں جس کے ٹیلوں کو دن کی تیز ہوا تراشتی ہے اور جو جانتے ہیں ان کو یقیناً پتہ ہوتا ہے کہ ٹیلے کے آخری سرے پر زمین میں میٹھے اور ٹھنڈے پانی کا چشمہ ہے جو فقط آنکھوں سے اوجھل ہے۔

مگر اس کی موجودگی سے کوئی انکار نہیں۔ اگر ہمارے اندر جاننے کی شدید تمنا ہے تو زمین کا وہ حصہ آپ کو اپنی طرف ضرور بلالے گا کہ آؤ یہاں ریت کو کھودو کہ یہاں ٹھنڈا اور شہد جیسا میٹھا پانی آپ کا منتظر ہے۔

مارچ کا مہینہ تھا مگر دن ٹھنڈے تھے، سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا لیکن ہلکی روشنی میں سب دکھائی دیتا تھا۔ سامنے لال شہباز قلندر کی درگاہ کا گنبد تھا جس پر پُراسرار انداز میں روشنی دھیرے دھیرے پھیلتی جارہی تھی۔ میرے ساتھ موجود نیک محمد سومرو ہوٹل کی کرسی پر بیٹھ کر اپنے کیمرے کا لینس صاف کر رہے تھے۔ ہوٹل والا چائے بنانے میں مگن تھا۔ یہ صبح کی پہلی چائے تھی۔

راستے سے کسی وقت دادو اور سکھر جانے والی کوئی وین یا گاڑی زناٹے کے ساتھ گزر جاتی۔ ایسے ہر سفر پر ہمارے ساتھ رہنے والا مصطفیٰ میرانی ابھی تک نہیں آیا تھا۔ میں ہوٹل کے جنوب میں خالی پڑی زمین پر چہل قدمی کرتے ہوئے انتظار کی گھڑیاں کاٹ رہا تھا۔ میرے جنوب میں کھیرتھر پہاڑی سلسلہ کا ’بھگو ٹھوڑو‘ ہے۔

کبھی آپ ریل گاڑی کو ان پہاڑیوں میں سے آتے ہوئے دیکھیں تو دُور سے ایسا لگتا ہے، جیسے وہ پہاڑ اس گاڑی کو اگل رہے ہوں۔ کوٹری سے سیہون یا لاڑکانہ تک کا ریل سفر ایک انتہائی شاندار اور کئی تصورات کو جنم دینے والا سفر ثابت ہوتا ہے۔ اس دوران جب آپ سیہون کے قریب بھگو ٹھوڑو پہاڑیوں کے بیچ میں پہنچیں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ ٹرین کسی وقت بھی گرسکتی ہے مگر ٹرین بالکل بھی نہیں گرتی، کم از کم پچھلے 100 برسوں میں تو نہیں گری۔

میرے مشرق میں جہاں اب سفیدی کے ساتھ سورج کے آمد کی ہلکی لالی بھی پھیل گئی تھی وہاں دریائے سندھ کا ایک قدیم راستہ ہے۔ نہ جانے کتنی صدیوں سے نہ جانے کتنا پانی اپنے ساتھ کتنی کہانیاں لے کر سمندر کے عشق میں ڈوب گیا ہوگا۔

میرے مغرب میں منچھر جھیل ہے جس کی قدامت صدیوں کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہے پھر اس سے آگے مغرب کی طرف وہ وادیاں ہیں جن کو محققین سندھو گھاٹی کی قدیم وادیوں کا اعزاز دیتے ہیں۔ ان وادیوں کے نظاروں کے لیے ہم طے شدہ پروگرام کے مطابق صبح جلدی ہی ہوٹل پر آگئے تھے مگر جب میرانی صاحب پہنچے اور ہم نیشنل ہائی وے 55 سے مغرب کی طرف روانہ ہوئے تو سورج آب و تاب کے ساتھ نکل چکا تھا۔

آپ جیسے ہی 'باجارا' (جو ایک قدیم چھوٹی بستی ہے) کی طرف اپنا سفر شروع کرتے ہیں تو آپ کی دائیں جانب منچھر آپ کے ساتھ چل پڑتی ہے۔ ویسے تو بائیں جانب بھی منچھر ہے مگر اب وہاں منچھر کے پانیوں سے زمینیں آباد ہوتی ہیں۔ کہیں کہیں زمین نمک کی وجہ سے سیاہ سی پڑگئی ہے۔

15 کلومیٹر کے بعد باجارا آتا ہے۔ راستے کے شمال میں اس قدیم بستی کی قدیم گلیاں ہیں، جہاں چھوٹی چھوٹی دکانیں اور بازار ہیں۔ چونکہ ابھی صبح ہے تو چند دکانیں ہی کھلی ہوئی ہیں۔ پکی سڑک پر چلتے جائیں تو ’جھانگارا‘ نامی ایک چھوٹا شہر آئے گا۔

ایک زمانے میں جب میں نے ننگر ٹھٹہ میں موجود ’ور‘ نامی بستی اور ’غلام اللہ‘ نامی بستی کو نہیں دیکھا تھا تب تک مجھے لگتا تھا کہ یہ ایک ہی شہر ہوگا مگر پھر جب دیکھا تو بات سمجھ آگئی ’ور‘ الگ اور ’غلام اللہ‘ 4 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک الگ علاقہ پایا۔

یہ دونوں ٹھٹہ میں ہیں، بالکل ایسے جیسے سیوھن میں ’جھانگارا‘ الگ بستی ہے اور ’باجارا‘ الگ بستی ہے۔ اب ان بستیوں میں مشترک یہ ہے کہ ’ور‘، ’غلام اللہ‘ سے 4 کلومیٹر پر ہے جبکہ ’جھانگارا‘، ’باجارا‘ سے 4 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ہے نا مزیدار مماثلت

ہمارے ہم سفر مصطفیٰ میرانی کا تعلق اسی علاقے سے ہے لہٰذا ہم جہاں جہاں سے گزرتے تو وہ تقریباً ہر جگہ سے متعلق لوک کتھائیں ہمیں سناتے جاتے۔ میرانی صاحب کمال کے داستان گو ہیں، وہ جب کوئی کہانی سناتے تو لوک کتھاؤں کے کردار ہمارے تصوراتی جہان میں جی اٹھتے۔

جب کبھی ایسی کہانی آتی جس میں مزاح ہوتا تو گاڑی میں قہقہوں کی بہار آجاتی۔ پھر جب کسی عشقیہ داستان کا ذکر ہوتا اور بے چارے عاشق کو کبھی وصال نصیب نہیں ہوتا، یا دنیا سے ہار کر آخر میں پتھر بن جاتا یا پہاڑی کی شکل لے لیتا تو اس وقت افسردگی اور دکھ سے بھرا کہرا ہمیں درد کی شبنم میں بھگو دیتا۔

جھانگارا سے آگے اگر آپ تھوڑا غور سے دیکھیں تو لینڈ اسکیپ میں دھیرے دھیرے سے تبدیلی آنے لگتی ہے۔ مٹی کی جگہ ہلکے پیلے رنگ کی ریت لینا شروع کر دیتی ہے۔ آپ کا راستہ اگر جنوب کی طرف چلا جائے تو منچھر سے آپ دُور ہوتے جاتے ہیں اور جیسے راستہ شمال مغرب کی طرف آتا ہے تو آپ کو منچھر کی قربت ایک بار پھر نصیب ہوجاتی ہے۔

میں اس طرف پہلی بار آیا ہوں اس لیے مجھے سب نیا نیا لگتا ہے۔ راستے کی سیاہ لکیر کے دونوں اطراف ہلکے سفید اور زرد رنگ کے پہاڑ ہیں۔ ہر ایک پہاڑ دوسرے سے الگ ہے۔ ہمارے راستے کے جنوب میں برساتی پانی کے راستے ہیں۔ پانی کی ان گزرگاہوں کے کناروں پر کئی اقسام کی نباتات ہیں۔اور یقیناً یہاں وہی نباتات ہیں جو اسی ماحول میں پنپ سکتی ہیں۔ آپ کو جنوب کی طرف کسی کسی جگہ ایسی بھی پہاڑیاں ملیں گی جن کو بس دیکھتے رہنے کا جی چاہتا ہے۔

'کبھی بارش کے موسم میں یہاں آئیے گا، ہریالی ہی ہریالی ملے گی'، میرانی صاحب نے پہاڑیوں کو دیکھتے ہوئے کہا اور ساتھ میں یہاں اگتی نباتات کے بھی نام بتائے جو بارشوں میں اگتی ہیں۔ میرانی کے وہ صرف الفاظ نہیں تھے بلکہ مختلف رنگوں میں ڈوبے ہوئے وہ برش تھے، جنہوں نے ساون بھادوں کے موسم کی پوری تصویر ہمارے تصورات میں پینٹ کردی۔

ان کے لفظوں کی ادائیگی میں گھنگھور گھٹائیں امڈ آئیں۔ آسمان پر بجلیاں چمکیں، بادلوں سے بے تحاشا پانی بہا۔ حدِ نگاہ تک سماں جل تھل ہوگیا، ہر چیز دھل گئی اور حدِ نظر تک ہریالی کی چادر بچھ گئی۔ شکر خورے پھولوں سے شیرینی چوس رہے ہیں۔ کچھ چڑیائیں اپنی خوراک کی تلاش میں ایک جھاڑی سے دوسری جھاڑی پر جا بیٹھتی ہیں۔ بات بتانے کا بھی ایک فن ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ بس یہ سمجھ لیجیے کہ گفتگو کی یہ گیدڑ سنگھی کسی کسی کے ہاتھ لگتی ہے۔

لیکن گاڑی کو اچانک بریک لگنے سے سارا منظرنامہ بکھر سا گیا۔ بریک لگنے کی وجہ ایک گڑھا تھا مگر گاڑی کے رکنے پر ہم سب نیچے آئے۔ جیسے ہی گاڑی کا انجن بند ہوا تو خاموشی کی ایک چادر سی تن گئی۔ شمال میں چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں تھیں۔ دُور جنوب میں 'بڈو پہاڑی' کا سلسلہ تھا اور راستے کے جنوب میں 'نئے' (نئے: مقامی زبان میں، پہاڑی علاقوں میں بارش کے پانی کی گزرگاہ کو کہتے ہیں) تھی۔ پانی کی وجہ سے وہاں جھاڑیوں کے علاوہ وہ درخت بھی اگ آئے ہیں، جو اس ماحول میں جینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جیسے کنڈی (Prosopis cineraria)، جھڑ بیری اور لئی۔ یہاں تیتر کی بھی بہتات ہے، ساتھ میں دوسرے بھی جانور یقیناً ہوں گے مگر سیار اور بھیڑیا تو یقیناً یہاں رہتے ہیں۔ سیار تو بہت ہیں اور اس بات کی یقین دہانی میرانی صاحب نے کروائی۔

ہم جب بات نہیں کرتے تھے تو فقط کیمرے کے اپرچر کی آواز آتی تھی۔ ہوا بس نام کی تھی اس لیے درخت بھی ساکت تھے۔ یہ ایک ایسا منظرنامہ تھا جس کو فطرت نے بنایا تھا اور انتہائی خوبصورت بنایا تھا۔ یہاں سے آگے تو روڈ کو بھی نہیں بننا چاہیے تھا۔ اتنی چھوٹی سی دنیا کا ہم اور کتنا بیڑہ غرق کریں گے؟ کچھ چیزوں کو ہمیں بخش بھی دینا چاہیے۔

ہم نے پانی پیا۔ ایک لئی کی چھاؤں میں بیٹھ کر تھرماس سے چائی پی جس میں دودھ اور شکر کی مقدار کچھ زیادہ ہی تھی۔ مگر پھر بھی گرم ہونے کی وجہ سے اچھی لگتی تھی۔ چائے کی شیرینی کا احساس لیے ہم گاڑی میں بیٹھے اور شاید کچھ کلومیٹر ہی سفر کیا ہوگا کہ سامنے 'باغ پنجتن' کا بورڈ لگا نظر آیا۔ ہم نے بورڈ کو دیکھا اور میرانی کو دیکھا۔ ہاتھ سے اشارہ ہوا کہ اب جنوب کی طرف مڑ جانا ہے یعنی باغ پنجتن کی طرف۔ ہم تو نہیں مڑے البتہ گاڑی ضرور مڑ گئی۔

مرکزی راستے سے ہم جیسے جنوب کی طرف مڑے تو تھوڑا آگے چلنے کے بعد منظرنامہ بدلا اور پہاڑیوں کی پیلاہٹ کی جگہ ہریالی نے لے لی۔ جن زمینوں پر فصلیں اگتی ہیں انہیں دیکھ کر اچھا لگتا ہے۔ کھجور کے درخت ہیں جو اس ہریالی سے بھری تصویر کو مزید خوبصورت بناتے ہیں۔ مارچ کا مہینہ تھا تو گندم کی کٹائی ہو رہی تھی اور یہ 'کائی وادی' تھی جہاں شیریں پانی کا چشمہ ہزاروں برسوں سے بہہ رہا ہے اور زندگی کو باقی رکھا ہوا ہے۔ ہم ہریالی سے بھرے کھیتوں اور کجھور کے درختوں کو دیکھتے ہوئے جب اس چشمے کے قریب جانے لگے تو اس چشمے سے پہلے کائی کی وہ غاریں نظر آئیں جو انسان نے اپنے ارتقائی سفر میں رہنے کے لیے تراش کر بنائی تھیں۔ شاید یہی وہ جستجو تھی جس کی وجہ سے ہم تہذیبوں کی چھاؤں میں جیتے ہیں۔

کائی کی قدیم غاریں
کائی کی قدیم غاریں

کائی وادی
کائی وادی

پہاڑیوں کے درمیان لہلہاتے کھیت
پہاڑیوں کے درمیان لہلہاتے کھیت

میٹھے پانی کا چشمہ
میٹھے پانی کا چشمہ

اس حوالے سے 'ایچ جی ویلس'، ’ایچ ٹی لئمبرک'، 'این جی مجمدار'، 'مانک پتھا والا'، 'مورٹیمر وھیلر' اور 'ایم ایچ پنہور' صاحب جیسے محققین نے جو کام کیا ہے وہ انتہائی اہم اور بنیادی کام ہے۔

لئمبرک صاحب کے مطابق 'سندھ کا مغربی پہاڑی سلسلہ چھوٹی چھوٹی اور بکھری پہاڑیوں پر محیط ہے۔ یہ چونے پتھر کے سلسلے ہیں جو فورامنیفیرا (Foraminifera) کے دبے ہوئے خولوں (Shells) سے بنے ہوئے ہیں۔ ان جانداروں کی پیداوار بے حساب تھی، قدیم زمانے کے سمندر ان سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ اتھل پتھل ایک خاص قسم کی تھی جس کی وجہ سے سندھ کی پہاڑیوں کے (Ranges) شمال اور جنوب کی طرف ہیں۔ سندھ کے پہاڑی سلسلے اکثر چونے پتھر کے ہیں۔ ان میں سے سب سے جو اونچا پہاڑ ہے اس کا نام 'کھیرتھر' رکھا گیا ہے۔ اس کی لمبائی ڈیڑھ سو میل ہے۔ اس کی سطح سمندر سے اونچائی 5 ہزار فٹ تک ہے۔ یہ پہاڑ جنوب میں جاتے ہوئے منچھر تک سندھ کو ایک قدرتی سرحد کا کام دیتے ہیں۔ ارضیاتی حوالے سے کھیرتھر کی عمر 6 کروڑ برس سے زیادہ ہے جبکہ لکی پہاڑی سلسلہ جو سیہون کی قریب جنوب میں ہے اس کی عمر 11 کروڑ سال ہے اور کارونجھر (ننگرپارکر) کی عمر کم سے کم بھی ڈھائی ارب برس ہے'۔

کھیرتھر پہاڑی سلسلہ
کھیرتھر پہاڑی سلسلہ

'ایچ جی ویلس' نے اپنی مشہور کتاب میں جو نقشے دیے ہیں وہ دنیا کی 25 سے 50 ہزار برس پہلے کی جغرافیائی حالت بیان کرتے ہیں۔ نقشوں کے مطابق 50 ہزار برس پہلے، میدانی اور ریگستانی سندھ، پورا پنجاب، گنگا گھاٹی اور ہند کا ایک بڑا حصہ پانی کے نیچے تھا جبکہ سندھ کے مغربی اونچے پہاڑ، پہاڑیاں اور بلوچستان وغیرہ پانی سے اوپر تھے۔ 25 ہزار سال پہلے کے حالات کو دکھاتے اس نقشے میں سندھ کے میدانی اور ریگستانی بیلٹ، چولستان اور کَچھ کا علاقہ پانی کے نیچے نظر آتا ہے البتہ باقی علاقوں کو پانی چھوڑ چکا ہے۔

25 ہزار برس قبل مغربی ایشیا
25 ہزار برس قبل مغربی ایشیا

50 ہزار برس قبل کا جغرافیائی حالات
50 ہزار برس قبل کا جغرافیائی حالات

'مانک پتھا والا' تحریر کرتے ہیں کہ 'گھاٹی میں اوائلی انسان کی آمد ضرور مغربی حصے کے اونچے پہاڑوں سے ہوئی ہوگی، جو خوراک، گھاس اور پانی کی تلاش میں یہاں پہنچے ہوں گے۔ انہوں نے خود کو ضرور پہاڑی اور کوہستانی حصوں خاص کر بارن، نیئنگ، بندھنی اور کائی وادیوں میں آباد کیا ہوگا۔ پھر ترقی کرتا وہ (Bronze Age) میں پہنچ کر منچھر اور سندھو گھاٹی اور مغرب کے طرف بڑھا ہوگا'۔

محققین نے تجارتی راستوں (Trade Routs) کا بھی ذکر کیا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق، یہ قدیم ترین راستے ان قدیم زمانے کے لوگوں کی تحقیق اور جستجو سمجھنی چاہیے کیونکہ انہوں نے اپنی مسلسل کوششوں سے ایسے مقامات ڈھونڈ نکالے جہاں وہ رہ سکیں۔

وہ مقامات یقیناً ایسے ہوسکتے ہیں جہاں پینے کا پانی اور خوراک میسر ہوسکے۔ انہوں نے اسی طرح ان قدیم بستیوں کی بنیادیں ڈالیں جن میں سے بہت ساری برباد ہوگئیں۔ کوہستان کا اہم راستہ منچھر سے شروع ہوکر 70 میل تک 'نئے بارن' کے میدان میں داخل ہوتا ہے۔ اسی راستے پر 'مجمدار' نے 10 اور 15 میلوں کے فاصلے پر انسانی آبادیوں کے نشان ڈھونڈے تھے۔ یہ آبادیاں زلزلوں، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث میٹھے پانی کے چشمے خشک ہونے کی وجہ سے برباد ہوگئی ہیں۔ اسی راستے پر گاجی شاہ، شاہ ٹنڈو رحیم، نئنگ، کائی، ٹھکو بٹھی، بندھنی، باڑکی، چورلو، کرچاٹ و دیگر شہر واقع ہیں جن میں سے کچھ آبادیاں ابھی تک آباد ہیں۔

کائی وادی—تصویر بشکریہ ایس ٹی ڈی سی
کائی وادی—تصویر بشکریہ ایس ٹی ڈی سی

کائی وادی
کائی وادی

کائی وادی
کائی وادی

اب تک ہونے والی تحقیق کے مطابق، جغرافیائی حوالے سے دنیا میں چوتھے برفانی زمانے کے اختتام کے بعد، انسانی ثقافت کی ابتدا کے طور پر Paleolithic Age کی باری آتی ہے، جو 20 لاکھ برس سے لے کر 20 ہزار قبل مسیح تک پھیلا ہوا بتایا جاتا ہے۔

اس کے بعد پتھر کا دوسرا زمانہ آتا ہے جس کو Mesolithic Age کہا جاتا ہے جو 20 ہزار قبل مسیح سے 12 ہزار قبل مسیح تک پھیلا ہوا ہے۔

پتھر کے آخری دور کو Neolithic Age کہا جاتا ہے جو 12 ہزار قبل مسیح سے 5 ہزار قبل مسیح تک پھیلا ہے۔

کائی وادی
کائی وادی

پہاڑی اور 'نئے' کے راستہ
پہاڑی اور 'نئے' کے راستہ

بدر ابڑو' کے مطابق 'سندھو گھاٹی میں جن جگہوں پر انسان کی بنائی ہوئی ابتدائی غاریں ملی ہیں وہاں زرعی سرگرمی کی بہت زیادہ گنجائش دیکھنے میں آتی ہے کہ وہاں زمین بہت زرخیز ہے اور پانی کا بھی قدرتی طور پر انتظام موجود ہے۔ اس حقیقت کے لیے ہمارے سامنے کائی کی غاریں ایک شاندار مثال ہیں'۔

کائی کی قدیم غاریں
کائی کی قدیم غاریں

کائی کی قدیم غاریں
کائی کی قدیم غاریں

میں جب کائی میں پتھر کے زمانے کی غاروں کو اپنی دل کی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا تو مجھے 'تاج صحرائی' صاحب بہت یاد آئے۔ وہ بڑے شاندار انسان تھے۔ سیہون، منچھر اور قدیم تاریخی مقامات کا عشق ان صاحب کے خون میں رچا بسا ہوا تھا۔ ان غاروں کے حوالے سے بڑا تحقیقی کام کیا بلکہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ میں جو آج یہاں ان غاروں کو دیکھنے آیا ہوں یہ سب ان کی تحریروں اور ان سے ہونے والی طویل گفتگو کے سلسلوں کا کمال ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ان غاروں کی عمر 40 ہزار برس تک ہے۔ صحرائی صاحب کے پاس یہاں سے ملے ہوئے fossils کی ایک شاندار اور ضخیم کلیکشن تھی۔ مجھے نہیں پتا کہ اب وہ کس کیفیت میں ہے۔

میں چلتے چلتے ایک غار میں بیٹھ گیا۔ باہر دھوپ تھی اور چونے پتھر کی غار ٹھنڈی تھی۔ میرے سامنے زرخیز زمین تھی جس میں گیہوں کی فصل کٹ گئی تھی مگر اس کی سونے جیسی بالیاں ابھی کھیت میں پڑی تھیں۔ گیہوں کے اس چھوٹے سے کھیت سے تھوڑا دُور، کھجور کے درختوں کی قطار تھی جن پر ہریالی اتنی تھی کہ لگتا تھا ابھی تیز ہرا رنگ اس کے پتوں سے نچڑنے لگے گا۔

کائی کی قدیم غاریں
کائی کی قدیم غاریں

کائی کی قدیم غاریں
کائی کی قدیم غاریں

آج سے ہزاروں برس پہلے جب انسان نے اپنی ارتقا کی منزلیں طے کرتے ہوئے تپتے دنوں اور یخ بستہ سردیوں اور وحشی جانوروں سے بچنے کے لیے ان غاروں کو بنایا ہوگا، تو ذرا تصور تو کیجیے کہ ان غاروں کے اندر ہمارے اباؤ اجداد کے شب و روز کیسے گزرتے ہوں گے؟ اور ان دنوں غاروں کے اس وسیع آنگن کے سامنے کا لینڈ اسکیپ کیسا رہا ہوگا؟ ہوسکتا ہے پانی ہو جس میں آبی جھاڑیاں اور مچھلیاں ہوں کیونکہ اس زمانے میں مچھلی ہی پکڑنے میں آسان، اچھی اور طاقتور خوراک تھی۔

تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ جہاں پانی تھا وہاں ارتقائی عمل سے گزرنے والے انسان نے سب سے پہلے مچھلی پکڑنا سیکھا۔ ساتھ میں جنگلی گھاس، جھاڑیاں اور درخت بھی ہوں تو انہوں نے لمبی گھاس سے گھر بنانے کا سوچا ہوگا اور اگر اس گھاس کو بچھادیا ہوگا تو وہ ایک زبردست شاندار بستر بھی ثابت ہوا ہوگا کہ پھوس ایک قدیم گھاس ہونے کے ساتھ شروع سے ہی انسان کی دوست رہی ہے۔ ہزاروں برسوں سے آج تک، پھوس انسان کو چھاؤں فراہم کرنے میں بڑی مددگار گھاس ثابت ہوئی ہے۔

پروفیسر برجیٹ آلچن (Bridget Allchin) نے 1975ء میں یہاں ایک دو برس تحقیقی کام کیا تھا۔ وہ کیمبرج یونیورسٹی کی طرف سے یہاں تحقیق کے حوالے سے آئی ہوئی تھیں۔ وہ ابتدائی انسانی آبادیوں سے متعلق کہتی ہیں کہ 'دریائے سندھ کی اپنی ایک الگ طبیعت رہی ہے اس لیے Holocene Age میں، میدانی سلٹ بیلٹ تیزی سے بنے۔ ان کو نظر میں رکھتے ہوئے یہ حیرت انگیز اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سندھو گھاٹی کی ایسی بہت سی ابتدائی بستیاں رہی ہوں گی جو ممکن ہے کہ پانیوں کے بہاؤ میں بہہ گئی ہوں اور جو بستیاں بچ گئی ہیں وہ فقط اس لیے کہ وہ مناسب جگہ پر بنی ہوئی تھیں۔ یہ بستیاں چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں یا اوپری سطح پر یا بہاؤ کے راستے سے کچھ دُور تھیں۔ یہاں اوائلی زراعت اس لیے ممکن ہے کہ دریائے سندھ کا زرخیز مٹی اور ریت سے بھرا پانی جہاں سے بھی بہا وہاں اس نے زرخیز زمین بچھادی اور اس طرح نباتات پھوٹنے کا عمل جاری ہوا۔ آلچن ان زمینوں پر کچھ بونے والے لوگوں کو ’چالکولیتھک آبادگار‘ (Chalcolithic Farmers) کہتی ہیں۔ اپنے ابتدائی اور مختصر اوزاروں سے ان لوگوں نے اناج اگایا اور اسی طرح وہ اپنی ابتدائی انسانی آبادیاں قائم کرسکے‘۔

چالکولیتھک دور کا ایک خیالی خاکہ
چالکولیتھک دور کا ایک خیالی خاکہ

یہ غاریں انسان کی ترقی کی ابتدائی نشانیاں ہیں۔ مقامی لوگ ان کو 'ست گھری' (سات گھر) کہتے ہیں اور کچھ ان کو 'جنوں کے گھر' بھی کہتے ہیں۔ جب کوئی حقیقت سمجھ میں نہ آئے تو افسانے اور کہانیاں تخلیق ہوتی ہیں۔ میں نے زیادہ تو تحقیق نہیں کی مگر مجھے یقین ہے کہ نزدیک جو دیہات موجود ہیں ان میں بچوں کو سلانے یا ڈرانے کے لیے، ان غاروں سے متعلق عجیب اور پُراسرار کہانیاں سنائی جاتی ہوں گی اور یہی تو ہمارا لوک ادب ہے۔ اگر انسان کا شعور، لاشعور اور تحت الشعور مل کر اتنا تیزی سے کام نہ کر رہے ہوتے تو شاید آج میں اپنے لیپ ٹاپ پر آپ کے لیے یہ سب کچھ تحریر نہ کر رہا ہوتا۔

اگر ان 7 غاروں کے قدیم چھوٹے سے ابتدائی گاؤں سے آپ سامنے جنوب کی طرف چلتے ہیں تو درختوں کا ایک گھنا جھنڈ آتا ہے جہان ہزاروں برسوں سے ٹھنڈا اور شیرین پانی دینے والا چشمہ ہے۔ اس چشمے سے پہلے مجھے ایک جھونپڑی ملی جس کے اوپر کولڈ کارنر کا بورڈ لگا ہوا تھا مگر چونکہ کورونا کی وجہ سے حکومت نے ساری تفریح گاہیں بند کردی تھیں اس لیے یہ دکان بھی بند تھی۔

کچھ آگے چلے تو ایک گھاس پھوس کی بنی پکوڑوں کی دکان تھی۔ کورونا کی وجہ سے لوگ نہیں آ رہے تھے اس لیے پکوڑے بنانے والے کا کاروبار ٹھپ ہوگیا تھا۔ مگر طبیعت میں شگفتگی قائم تھی۔ اس نے ہمیں بڑے پرتپاک انداز میں وہاں آنے کی دعوت دی۔ کہتے ہیں جب شہباز قلندر کے میلے کا آخری دن ہوتا ہے تو وہ شعبان کی 21 تاریخ ہوتی ہے اور تب قلندر کی نگری سے 'لاہوت' جانے والوں کے قافلے نکلتے ہیں تو رات یہاں اس مقام پر گزارتے ہیں اور منزل کے آنے تک راستے میں مختلف مخصوص مقامات پر پڑاؤ ڈالتے جاتے ہیں۔

چشمے کے قریب موجود کولڈ کارنر
چشمے کے قریب موجود کولڈ کارنر

'یہ سیہون، باجارا، جھانگارا، کائی اور نیئنگ والا بہت قدیم راستہ ہے'۔ دکان والے یوسف نے ہم سے گفتگو کی ابتدا کی۔

'قدیم راستہ۔۔وہ کیسے؟'

'جب کراچی کی بندرگاہ نہیں بنی تھی تو حج کرنے والے لوگ سیہون سے نکلتے پھر باجارا، جانگارا، یہاں (کائی)، نیئنگ سے ہوتے ہوئے لاہوت، لسبیلہ اور اوتھل سے ہوکر سونمیانی بندر جاکر وہاں سے پھر حج کے لیے جاتے تھے۔ اس سفر میں مہینے نہیں ایک برس سے بھی زیادہ عرصہ لگ جاتا تھا۔ پھر جب حج سے واپسی ہوتی تو وہ بھی اسی راستے سے ہوتی۔ اگر جیون کے دن کم ہوئے تو راستہ آدمی کو نگل لیتا۔ اگر صحیح سلامت پہنچ گئے تو پھر اس کو 'حاجی' کہتے تھے اور بڑی عزت ملتی تھی زمانے میں'۔

یوسف نے جب اپنی بات ختم کی تو اس نے ترتیب وار ہم سب کو دیکھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ہم اس کی بات کو سچ سمجھیں اور ہم نے اس پر یقین کو ظاہر کرنے کے لیے تازے پکوڑے بنانے کا آرڈر دیا۔ رش نہیں تھا تو ہم اس گزرگاہ پر بیٹھ گئے۔ اس سے اس کو بڑا اچھا لگا۔ مجھے بھی اچھا لگا۔

نہ جانے کیوں کچھ لوگوں کی شفقت اور معصومیت پر ہم کو بڑا پیار آتا ہے۔ ہم نے جب گرم اور خستہ پکوڑے ختم کیے تو اس چشمے پر بسائی گئی 'کچہری' دیکھنے کے لیے نکل پڑے۔

کچہری کا مقام
کچہری کا مقام

کچہری کے مقام پر درخت تھے جن کی چھاؤں باہر کی دھوپ کو اندر آنے نہیں دیتی تھی
کچہری کے مقام پر درخت تھے جن کی چھاؤں باہر کی دھوپ کو اندر آنے نہیں دیتی تھی

ہم نے جب گرم اور خستہ پکوڑے ختم کیے تو اس چشمے پر بسائی گئی 'کچہری' دیکھنے کے لیے نکل پڑے
ہم نے جب گرم اور خستہ پکوڑے ختم کیے تو اس چشمے پر بسائی گئی 'کچہری' دیکھنے کے لیے نکل پڑے

درخت تھے جن کی چھاؤں باہر کی دھوپ کو اندر آنے نہیں دیتی تھی۔ دنیاداری سے اوب جانے والوں نے یہاں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور اگر آپ وہاں بیٹھ جائیں تو کئی لوک کہانیاں اور کتھائیں آپ کو سننے کے لیے مل جائیں گی۔ یہ مست مولا لوگ بڑے ہی چاہ و محبت سے وہ کہانیاں سناتے ہیں اور یہیں پُرسکون ماحول میں زندگی گزارتے ہیں۔

آپ اس کیفیت کو کمفرٹ زون بھی کہہ سکتے ہیں کہ دنیا داری انتہائی مشکل کام ہے مگر یہاں تو اسی طرح صبح ہوتی ہے، شام ہوتی ہے اور زندگی تمام ہوتی ہے۔

چشمے سے نکلنے والے پانی کے لیے پکی نالیاں بنائی گئی ہیں۔ اس چشمے پر ایک اندازے کے مطابق 400 ایکڑ کے قریب زمین کاشت کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگوں نے مل بیٹھ کر ایک شیڈول ترتیب دیا ہے کہ کتنے کتنے دن کس کس کی زمینوں کو پانی ملے گا۔ اسی طرح یہ چشمہ ہزاروں برسوں سے اپنا فیض جاری رکھے ہوئے ہے۔

کبھی کبھی اتفاق چیزوں کو حیات بخش دیتے ہیں، جس ایک مثال یہاں اس ’کائی وادی‘ کو ہی سمجھیے۔ چشمہ اور غاریں چھوٹی سی پہاڑیوں پر ہیں، اس لیے وقت اور حالات کے ظلم و ستم سے بچ گئی ہیں۔ یہ کائی غاریں اور چشمہ کھیرتھر رینج اور منچھر کے اس قدیم راستے پر واقع ہیں جہاں مغرب اور شمال میں سے قدیم انسان کے آنے کی گزرگاہیں رہی ہیں۔ آپ اگر ماضی قریب کے نقشوں کو دیکھیں گے تو سیہون سے کراچی جانے کا یہ قدیم راستہ آپ کو باآسانی نظر آجائے گا۔

یہ وہ اہم وادی ہے جس کو ہمارے محکمہ آثارِ قدیمہ نے بالکل ایسے نظر انداز کردیا ہے جیسے بڑے لوگوں کے گھروں میں مالی کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ یہاں کا چشمہ تو شاید بچ ہی جائے مگر یہاں جو قدیم غاریں ہیں ان کا خیال رکھنے اور اس کا پرچار کرنے کی شدید ضرورت ہے کہ یہ قدیم مقامات ہمارے گزرے دنوں کی قدیم اور قیمتی اثاث ہیں۔ اس کو ایسے سمجھ لیں کہ یہاں کوئی ریسٹ ہاؤس بنایا جائے، گائیڈ کرنے کے لیے عملہ متعین ہو، لوکیشن میپ ہو جو آن اسپاٹ ہو اور یہ آرکیالاجی کرسکتی ہے۔

تحفظ کی فراہمی ان کا بنیادی حق ہے۔ یہ شعور و احساس سے عاری چشمہ انسانوں کی پیاس بجھاتا ہے، ان کو خوراک اور میٹھی کھجور دیتا ہے اور ساتھ میں خوبصورت مناظر بھی بخشتا ہے مگر ہم تہذیب یافتہ اور شعور رکھنے والے انسان اس کے بدلے ان کو کیا دے رہے ہیں؟

بربادی، صرف بربادی!


حوالہ جات


ابوبکر شیخ آرکیولاجی اور ماحولیات پر لکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے لیے فوٹوگرافی اور ریسرچ اسٹڈیز بھی کر چکے ہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔