پاکستان، افغانستان دونوں تشدد میں کمی چاہتے ہیں، عبداللہ عبداللہ

اپ ڈیٹ 02 اکتوبر 2020

ای میل

افغانستان میں قومی مفاہمت کی اعلی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ - فائل فوٹوـ:رائٹرز
افغانستان میں قومی مفاہمت کی اعلی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ - فائل فوٹوـ:رائٹرز

اسلام آباد: افغان امن عمل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان، طالبان کی جانب سے دوحہ میں ہونے والے بین الافغان مذاکرات میں لچک اور تشدد میں کمی کی ضرورت کے حوالے سے 'ایک پیج' پر ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا 3 روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد کابل واپسی سے چند گھنٹے قبل ایک انٹرویو میں افغانستان میں قومی مفاہمت کی اعلی کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ ’شہری اور فوجی حکام کے ساتھ بات چیت اچھی رہی، ہم نے تشدد میں کمی کی ضرورت، جنگ بندی کی ضرورت، لچک کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت اور دیگر امور پر وسیع تبادلہ خیال کیا اور ہم ایک پیج پر ہیں‘۔

تاہم انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ’طالبان کو پہنچائے جانے والے پیغامات‘ میں ان مطالبات پر زور دیا جائے جو اس وقت دوحہ میں بین الافغان مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں۔

عبداللہ عبداللہ کا نیا منصب سنبھالنے کے بعد پاکستان کا پہلا دورہ تھا جس کا مقصد پاکستان کے تعاون کا حصول تھا جیسا کہ انہوں نے اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز میں اپنی تقریر کے دوران 'عمل کو آئندہ مرحلے تک دیکھنے' کو کہا تھا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا افغانستان کی تعمیرنو کیلئے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ

جس کے لیے دونوں فریقین کی جانب سے پاک - افغانستان دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے امکانات کی تلاش پر یکساں زور دیا۔

اس دورے کے اختتام تک دونوں فریقین نے مشورہ دیا کہ دو طرفہ تعلقات میں صفحہ بدلنے کے لیے گراؤنڈ تیار کرلیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان کی اعلیٰ کونسل برائے قومی مفاہمت کے چیئرمین ڈاکٹر عبداﷲ عبداﷲ سے ان کی ملاقات خوش گوار رہی ہے اور ہماری نہایت دلچسپ گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ ماضی سیکھنے کے لیے تو ایک انمول استاد ہے مگر اس میں زندہ رہنا ممکن نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں مستقبل پر نگاہ رکھنا ہو گی‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے عبداﷲ عبداﷲ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں۔

عبداللہ عبداللہ نے عمران خان کے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا اور ایک الگ ٹوئٹ میں پاکستانی رہنماؤں کا ’ان کی گرم جوشی سے استقبال کرنے، مہمان نوازی کرنے اور ایک نئی راہ‘ کا شکریہ ادا کیا۔

اپنے انٹرویو میں ، انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے ان کی اولین ترجیح ’شہریوں کے لیے زیادہ سے زیادہ تحفظ‘ حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کی جانب سے مذاکرات کرنے والے جانتے ہیں کہ ’لوگوں کے لیے یہ ترجیح ہے‘۔

12 ستمبر کو دوحہ میں بات چیت کے آغاز کے بعد سے تشدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر اس کا الزام بھی عائد کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان تنازع کا فوجی حل نہیں، سیاسی مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہیں، عارف علوی

تشدد میں اضافے سے ممکنہ طور پر مذاکرات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد مرتبہ تمام افغان فریقین سے تشدد کو کم کرنے کی اپیل کی ہے تاہم عبداللہ عبد اللہ کے دورے کے موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس معاملے پر زیادہ زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’امن کے لیے بنیادی شرط‘ ہے۔

عبداللہ عبد اللہ نے اپنے انٹرویو میں تشدد میں فوری کمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’امن عمل کے پس پشت اور اس کی حمایت میں اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے آگے بڑھنے کا یہی واحد راستہ ہے‘۔

امن عمل کے حکام مذاکرات سے امن کی فراہمی کے بارے میں پر امید ہیں تاہم یہ جس رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں اس پر وہ عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔