ای میل

افریقہ سے سندھ کے ساحل تک، ایک درد کا گیت جسے وقت نے گایا!

تحریر و تصاویر: ابوبکر شیخ

دُکھ ان پرندوں کی طرح ہوتے ہیں جن کے پَر وقت کے بے رحم ہاتھ اڑنے سے پہلے ہی کاٹ دیتا ہے۔ پرندوں کی کل کائنات اس کے پَر ہی تو ہوتے ہیں۔ ان پَروں کے کٹ جانے کے بعد ان کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں فقط اُڑنے کی تمنائیں ہی بسیرا کرتی ہیں۔

بدقسمتی یہ بھی کہ ہے جب تمنائیں پوری نہ ہوں تو درد روح کی پاتال تک کسی ہیرے کی کنی کی طرح کاٹتا چلا جاتا ہے۔ ظلم کی انتہا تو تب ہوتی ہے جب انسان سے اس کی زمین، اپنے پہاڑ، اپنے جنگل، اپنی فصلیں، اپنا آسمان، اپنے سمندر اور ان کے کنارے، وحشت کی رسیوں سے باندھ کر زور زبردستی سے چھین لیے جائیں تو ایسی بے بسی اور سلگتے درد کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔

میں جنوبی سندھ کے ایک چھوٹے سے شہر ٹنڈو باگو کے شمال میں ایک پُل پر کھڑا ہوں۔ شام کے 4 بجے ہیں اور شمال کی تیز ٹھنڈی ہوائیں ہیں جو سارے منظرنامے میں سحر انڈیلتی ہیں۔

اس پُل کے نیچے نہر میں نیلا پانی بہتا ہے۔ یہ نہر جو 1790ء میں میر باگو خان تالپور نے اپنی جاگیر آباد کرنے کے لیے کھدوائی تھی۔ میر باگو اور سندھ رانی کی عشقیہ داستان اس نہر کی کھدائی کا سبب بنی۔ یہ ایک زبردست داستان ہے جو میں آپ کو کبھی ضرور سناؤں گا۔ اس نہر کے کنارے جو شہر آباد ہوا وہ اب ٹنڈو باگو کے نام سے مشہور ہے اور میرے جنوب اور مشرق میں پھیلا ہوا ہے۔

یہ 1810ء کے گرم دنوں کا ذکر ہے، باگو واہ میں مٹیالی رنگ کا پانی زوروں سے بہہ رہا ہے۔ دن کے 11، 12 بجے ہوں گے، ایک سیاہ رنگت کا حامل لڑکا جس کی عمر 10، 12 برس تک رہی ہوگی، اس کے ہاتھ میں ایک مچھلی ہے، وہ نہر کے نزدیک بنی جھونپڑی سے نکلا ہے اور مچھلی کو صاف کرنے کے لیے نہر پر جا رہا ہے کہ مچھلی کے چھلکے اتار کر صاف کرسکے کیونکہ جس گھر میں وہ غلام ہے اس گھر کے مالک کے لیے دوپہر کا کھانا اس مچھلی کے سالن سے بننا ہے۔

مگر لگتا کچھ ایسا ہے کہ اس تیز سیاہ گھنگریالے بالوں والے لڑکے کے نصیب کی زمین پر شفقت اور رحم کا کوئی چشمہ نہیں پھوٹنے والا۔ اچانک مچھلی صاف کرتے ہوئے مچھلی اس کے ہاتھ سے پھسل جاتی ہے اور تیز بہتے پانی میں گم ہوجاتی ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ ان لمحوں میں، اس نہر کے کنارے اس کے چہرے پر کیا کیفیت نمودار ہوئی ہوگی۔ مگر میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جب 6، 7 برس کی عمر میں انسان، انسانوں کے بازار میں بک جائے، اس کے پاؤں کے نیچے سے اپنی زمین کسی کپڑے کی طرح کھینچ لی جائے اور رشتے تو دُور ماں باپ کی شفقت کا آسمان بھی سر پر نہ رہے تو وقت سے پہلے زمانہ بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔ ذہن و جسم میں سہنے کی بہت ساری طاقت پنپ پڑتی ہے کہ یہ فطرت کے اصولوں میں سے ایک ہے۔

دوپہر کی روٹی گھر میں اس لیے نہیں بنی کہ غلام سے مچھلی نہر میں گر گئی۔ میاں غلام علی سنگ تراش ٹنڈو باگو میں تالپور حاکموں کا محل بنا رہا تھا اور اس لڑکے بلال کا مالک تھا۔ مچھلی کے سالن نہ بننے کے بدلے سزا یہ ملی کہ لاتیں اور چانٹے پڑے اور اس تپتی دوپہر میں ٹنڈو باگو کی گلیوں میں نیلام ہوا۔ یہ Black Diaspora کے لاکھوں مناظر میں سے ایک منظر تھا۔ ہم بلال کو کچھ وقت کے لیے مخدوم حُر علی کے پاس چھوڑتے ہیں جو اس غلام کا نیا مالک ہے۔

ہم انسانی ارتقا کی جڑوں کو افریقہ میں ڈھونڈتے ہیں۔ یہ کتنا عجیب ہے کہ ہم آج اس درد کی بات کرتے ہیں جو ہم نے افریقہ کو دیا ہے۔ افریقہ کی ایتھوپیا سلطنت جس کو عربی میں حبشہ (Abyssinia) کہا جاتا ہے، تقریباً ایک ہزار قبل مسیح میں جنوبی عرب کے دو قبیلے ’جشات‘ اور ’افغران‘، بحیرہ احمر کو عبور کرکے موجودہ ایتھوپیا کے صوبے ’ارتریا‘ میں جاکر آباد ہوگئے۔ مقامی باشندوں کے ساتھ ان کے اختلاط سے ایک نئی قوم وجود میں آئی جسے ’حبشان‘ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ بعد میں عرب اس تمام علاقے کو جو اب اتھوپیا میں شامل ہے حبشہ کے نام سے بلاتے۔ حیرت تب بھی ہوتی ہے جب گزرے وقتوں کی پگڈنڈیوں پر ہمیں انسان کو غلام بنانے کے نشان بھی افریقہ کی زمین پر ہی ملتے ہیں۔

4 ہزار قبل مسیح کے مصر میں جب انسان ترقی کی منازل طے کر رہا تھا تو اسی دوران جب 2 قبائل میں جنگ ہوتی تو ان جنگوں میں پکڑے جانے والوں کو فوری ہلاک کردیا جاتا تھا۔ آگے چل کر جب انسانی محنت سے پیداوار میں اضافہ ہونے لگا تو ان جنگی قیدیوں کو ہلاک کرنے کا رواج ختم ہوگیا اور ان لوگوں کو امرا غلام بنا کر رکھ لیتے۔ صبح سے شام تک یہ غلام کنوؤں سے پانی نکالتے، کھیتوں کو سیراب کرتے، نہریں کھودتے، پشتے تعمیر کرتے اور عمارتوں کے لیے پہاڑیوں سے پتھر کاٹتے۔ غلام کی کوئی جائیداد نہیں ہوا کرتی تھی اور یہ خود اپنے آقاؤں کی ملکیت ہوا کرتے اور غلاموں کا آقا ہر اس چیز کا مالک ہوتا جسے غلام پیدا کرتے۔ آقا ان پر تشدد کرتا اور ان کو مار بھی دیتا۔ آقا چاہتا تو اسے فروخت بھی کر دیتا۔

انسان، انسان پر ظلم کرتا ہے شاید اس لیے بھی کہ حیوان ناطق جو ٹھہرا۔ غلامی کی جو یہ روایت چل نکلی تو روزافزوں کے راستے چل پڑی اور ترقی کرتے کرتے افریقہ کے قبیلوں میں ایسی پھیلی جیسے کوئی وبا پھیلتی ہے اور یہ وبا ہی تھی جو 6 ہزار قبل مسیح سے بھی پہلے پھوٹی تو 19ویں صدی میں جاکر اپنے اختتام کو پہنچی۔

یونیسف کی ایک رپورٹ کے مطابق ’غلاموں کی اس تجارت میں متعدد خطے اور براعظم جیسے افریقہ، امریکا، کیریبین، یورپ اور بحر ہند شامل تھے۔ غلاموں کی اس تجارت کو عالمگیریت کا پہلا نظام سمجھا جاتا ہے۔ فرانسیسی مورخ ’ژان مشل دیو‘ کے مطابق غلام تجارت اور اس کے نتیجے میں غلامی، جو 16ویں سے 19ویں صدی تک جاری رہی وہ انسانیت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ 18ویں صدی کی عالمی معیشیت میں یہ بڑی جلاوطنی تھی۔ 3 براعظموں میں ان غلاموں کی جو خرید و فروخت ہوئی وہ تعداد میں ایک اندازے کے مطابق ڈھائی سے 3 کروڑ تک تھی۔ ان میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے۔ غلاموں کی اس تجارت میں ملک بدر ہونے والوں کا تخمینہ تقریباً پونے 2 کروڑ بتایا جاتا ہے‘۔

8ویں سے 11ویں صدی کا زمانہ وہ ہے جب مشرقی افریقہ میں فوجوں کے بجائے سوداگر اسلام لے جاتے ہیں۔ اسی طرح مشرقی افریقہ کا یہ ساحل تجارتی قافلوں اور دوسری اشیا جیسے عاج، لونگ، کپڑا اور غلاموں کے بیوپار کے لیے کھل جاتا ہے۔ ابن بطوطہ جو سیاح کے ساتھ سونے اور غلاموں کا بیوپار بھی کرتا تھا وہ مشرقی افریقہ میں 1352ء میں آیا تھا۔ تاریخ کے صفحات میں غلامی کی تاریخ بہت طویل ہے۔ طوالت کی وجہ سے ہم کوشش کرتے ہیں کہ افریقہ کے مشرقی کناروں تک ہی رہیں اور وہاں سے جو ہند و سندھ میں ان کی تجارت ہوئی اس درد کے سفر کے کچھ حقائق جان سکیں۔

واسکوڈے گاما 1497ء میں جب موزمبیق اور ممباسا پہنچا تھا تو وہاں عرب اور ہندوستانی بیوپاریوں کو دیکھ کر حیران ہوا تھا کیونکہ وہ ’کیپ آف گڈ ہوپ‘ والا طویل راستہ کھوج کر یہاں پہنچا تھا۔ جبکہ ہند و سندھ کے بیوپاری تو ان کناروں پر برسوں سے آتے رہے تھے۔

الطاف شیخ لکھتے ہیں کہ ’سندھ کے سمندری کنارے اور گجرات کے پور بندر، اوکھا، کنڈلا، بھاونگر، سورت، کھمبھات، رتنا گری، کالکیٹ اور کوچین جیسی بندرگاہوں سے، سندھی ہندو، گجراتی مسلمان، آغا خانی، اثنا عشری، بوہری اور کچھی وغیرہ جاڑوں کے موسم (دسمبر سے فروری) میں اپنی کشتیوں کے سفر کی شروعات کرتے اور مشرقی افریقہ جا نکلتے۔ وہاں 3، 4 ماہ سامان کی خرید و فروخت کرکے جیسے ہی گرم موسم کی مون سون ہوائیں لگنی شروع ہوتیں تو افریقہ کے کناروں کو الوداع کہتے اور واپس لوٹ پڑتے۔ وہ افریقہ سے جو سامان لاتے ان میں مسالے، شیدی غلام، کپڑا اور کپاس وغیرہ شامل ہوتا‘۔

1593ء میں پرتگالیوں نے ممباسا میں ’فورٹ جیسز‘ بنا کر اپنی پوزیشن مضبوط کی۔ تقریباً 1689ء میں ڈھائی برس کے محاصرے کے بعد سلطان آف عمان نے بلوچوں کی مدد سے اس قلعے پر قبضہ کرلیا۔ عمان کے سلطانوں نے اپنے مددگار بلوچوں اور مقامی لوگوں نے پرتگالیوں کی اتنی شدید مخالفت کی کہ مجبور ہوکر ان کو 1730ء میں کینیا اور تنزانیہ کے کنارے چھوڑنے پڑے۔ پرتگالیوں کے بعد ممباسا، زنجبار، ملنڈی، دارالسلام کے شہروں پر عمانی سلطنت کی بادشاہت قائم ہوئی۔ ابتدا میں ان کی دلچسپی سمندر کے کناروں والے شہروں سے تھی، کیونکہ وہاں بندرگاہیں تھیں اور جہاں سے ٹیکس کی صورت میں اچھی آمدنی ہوجاتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ان کی دلچسپی لونگوں کی کاشت اور شیدی غلاموں کی فروخت سے ملنے والی بڑی رقم میں بھی ہونے لگی۔ 1839ء میں، عمان کا دارالخلافہ مسقط سے زنجبار منتقل کرنے کے بعد سلطانوں کی طاقت میں اضافہ ہوا اور اس طرح ہزاروں برسوں سے جاری غلاموں کا کاروبار اپنے عروج پر پہنچا۔

ہم اگر سندھ میں فروخت کیے ہوئے انسانوں کے لیے تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہمیں ان کی موجودگی کا ذکر کچھ سو برسوں تک تو ضرور بکھرا ہوا مل جاتا ہے کیونکہ جب تالپور اور انگریز سرکار آپس میں دست و گریباں تھی تب ایک نعرہ سنائی دیتا ہے کہ ’مرویسوں مرویسوں سندھ نہ ڈیسوں‘۔ یہ نعرہ جنگ کے میدان میں، میروں کے ایک غلام ھوشو شیدی نے لگایا تھا۔

رچرڈ برٹن لکھتے ہیں کہ ’سندھ میں دو قسموں کے شیدی غلام ہیں، ایک وہ جو یہاں پیدا ہوئے، دوسرے وہ جو مسقط اور عربستان کے مشرقی کنارے کی بندگاہوں سے لائے جاتے ہیں۔ تالپوروں کی حکومت میں، ایک برس میں 7 سو تک زنجباری، ممباسی حبشی فروخت کے لیے بیوپاری لاتے تھے، غلاموں کی قیمت 40 روپے سے لے کر ڈیڑھ سو روپیوں تک ہوتی تھی۔ یہاں سندھ کے ساحلوں پر زیادہ غلام ’کٹومنڈو‘ علاقے سے لائے جاتے تھے۔ جو سواحلی سے تعلق رکھتے ہیں۔ (سواحلی (Swahili Coast) سے مراد جنوب مشرقی افریقہ کا ساحلی خطہ ہے جہاں سواحلی قوم آباد ہے۔ یہ کینیا، تنزانیہ اور شمالی موزمبیق کا ساحلی علاقہ ہے۔) وہ، لامی، باراماجی اور کینکوئر شہروں کے نام لیتے ہیں۔ وہ وہاں کے قلعوں، سرداروں کی باتیں کرتے ہیں۔ سندھ میں شیدیوں کی جو ذاتیں رہتی ہیں ان میں ڈینگریکو، ڈونڈیری، گنڈو، کمٹگ، مکونڈی، مکوئا، مریما، میاس، میاسینڈا، مزگرا، متونبی، مکامی، مساگر، مدوئی، مکوڈونگو، نزیز میزا، نیامئیزی، تیمالوئی، زنزیگیری نام کی ذاتیں اہم ہیں‘۔

ساحل تک پہنچنے والے غلاموں کو فروخت کے بعد اپنی مزنل تک لے جارہا ہے—تصویر: وکی پیڈیا کامنز
ساحل تک پہنچنے والے غلاموں کو فروخت کے بعد اپنی مزنل تک لے جارہا ہے—تصویر: وکی پیڈیا کامنز

افریقہ کے ان نیلے پانی اور سفید ریت کے خوبصورت کناروں سے ایک غلام کی صورت میں جدائی اور اس کے بعد سفر اور تجارتی بیڑوں میں ہونے والی ذلتوں کی کتھا اب ہم اس بلال کے بیٹے محمد صدیق مسافر سے سنیں گے جس کو ہم نے ٹنڈو باگو کی گلیوں میں چھوڑا تھا اور اس کو مخدوم حر علی نے خریدا تھا۔

مخدوم کا گھر ملنا بلال کی خوش نصیبی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مخدوم کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ مخدوم کے گھر رہ کر وہ کچھ بیمار رہنے لگا تو نام تبدیل کرکے نیا نام گلاب خان رکھ دیا گیا۔ برٹش دور میں جب غلاموں کی خرید و فروخت پر پابندی لگی تو گلاب خان نے ایک شیدی عورت سے شادی کرلی۔ یہ گلاب شیدی کی ایک نئی زندگی کی شروعات تھی۔ گلاب خان کے گھر اپریل 1879ء میں بیٹا پیدا ہوا، جو اس کی دوسری بیوی سے تھا۔ اس کا نام محمد صدیق رکھا گیا وہ ایک ذہین انسان تھا۔ اس نے مشکل حالات میں تعلیم حاصل کی۔ صدیق ایک اچھے استاد کے ساتھ ایک باذوق انسان بھی تھا۔ میر غلام محمد تالپور سے مل کر اس نے ٹنڈو باگو میں 1919ء میں پرائمری اسکول کی بنیاد رکھی۔ اسے علم سے عشق تھا، وہ شاعر بھی تھا اور اپنی شاعری میں ’مسافر‘ کا تخلص استعمال کرتا تھا۔

محمد صدیق مسافر—تصویر بشکریہ سندھی ادبی بورڈ
محمد صدیق مسافر—تصویر بشکریہ سندھی ادبی بورڈ

صدیق نے کئی کتابیں لکھیں مگر اس کے خون میں اپنے آباؤاجداد کی زمین کی یادیں کبھی مدھم نہیں پڑیں۔ اس نے اپنے باپ سے گزرے زمانے کے جو درد سنے وہ اس نے تحریر کیے اور ان کو جمع کرکے ایک کتاب شائع کی۔ ’غلامی ائیں آزادی جا عبرتناک نظارا‘ ایک ایسی دستاویز ہے جو ان وقتوں کے متعلق ہے جب انسان کو فروخت کی چیز سمجھا جاتا تھا اور یہ بیوپار کرکے لوگ اس بیوپار پر غرور بھی کرتے تھے۔

مسافر تحریر کرتے ہیں کہ ’شیدیوں کی غلامی سے مصریوں اور عربوں کو بہت سارے معاشی فائدے تھے۔ جس طرح گدھے، گھوڑے اور دوسرے جانور بیچ کر پیسے کماتے تھے تو اسی طرح شیدیوں کو بیچ کر بھی ان کی اچھی آمدنی ہوجاتی تھی۔ دوا فروش سوداگر شیدیوں کے جسم سے نکالی گئی چربی سے دوائیں بناتے جو انتہائی مہنگے داموں بیچتے۔ بچارے شیدی کا کیا تھا جنگ کے میدانوں میں ابتدائی قطاروں کے لیے شیدی غلاموں کو خریدا جاتا کہ ابتدائی حملے میں جو بھی مریں وہ شیدی ہوں۔ جنگ میں دوسرے زخمی سپاہیوں کی خاطرداری کرنا، پانی پلانے اور دوسری طبّی امداد کے لیے بھی شیدی خریدے جاتے۔ ان کو پکڑنا اتنا مشکل نہیں تھا۔ اکثر وہ آپس میں لڑتے رہتے اور جو جیت جاتا تھا وہ ہارے ہوئے قبیلے کے لوگ پکڑ کر کنارے پر لے آتا اور سوداگروں کو بیچ دیتا۔

‘دوسری بات یہ کہ سوداگر ان سادہ شیدیوں کو کھانے پینے کی اشیا دکھا کر کشتیوں تک لے آتے اور جیسے ان کا ان پر اعتماد ہوجاتا اور وہ کشتیوں میں بغیر خوف کے آنے جانے لگتے تو وہ ان کو لے اڑتے۔ تیسرا یہ تھا کہ، سوداگر کسی شیدی سردار کو اشیا اور پیسوں کی لالچ دیتے تو وہ بہانوں سے ان کو پھنسا کر سوداگروں کے حوالے کردیتا اور یہ بھی ہوتا تھا کہ سوداگر ہتھیاروں کے زور پر زبردستی ان بچاروں کو اغوا کرلیتے اور اپنے ساتھ لے جاتے۔

محمد صدیق مسافر کی کتاب کا سرورق
محمد صدیق مسافر کی کتاب کا سرورق

’جب طویل فاصلہ طے کرکے شیدی غلاموں کے قافلے پیدل کنارے تک لائے جاتے تھے تو راستے میں کمزوری، بھوک، پیاس اور تھکان سے مرنے والے غلاموں کی لاشیں راستے میں پڑی ملتی تھیں۔ کچھ کو تو گولیوں کا شکار بھی بنایا جاتا تھا۔ پھر جب ان کو بیچنے کے لیے شہر کی منڈیوں میں لایا جاتا تو ایسا لگتا کہ وہ انسانوں کو خریدنے نہیں بلکہ بکریوں یا بھیڑوں کو فروخت کے لیا گیا ہے۔ ایک جانور کی طرح اس کے دانت دیکھے جاتے۔ سارے جسم کو ہاتھ لگا کر دیکھا جاتا تھا اور پھر جب سودا طے ہوجاتا تو دام چکانے والا مالک بن جاتا۔ وہ چاہے وہیں پر چابکوں سے اس کی چمڑی ادھیڑ دے، اسے ادھ مرا کر دے یا مار دے، نہ کوئی داد نہ فریاد۔

’سوداگروں کی بڑی بڑی کشتیوں میں ان غلاموں کو بوریوں کی طرح ایک دوسرے پر جمایا جاتا۔ ایسی حالت میں بیمار پڑ جانا اور مرجانا کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔ اس کیفیت میں جو بیمار ہوتے یا مرجاتے ان کو سمندر میں یا اگر کنارہ نزدیک ہوتا تو کنارے پر پھینک دیتے اور جب کبھی سمندر میں اچانک طوفان آجاتا اور ضروری ہوتا کہ کشتیوں کا وزن کم کیا جائے تو ان شیدیوں کو سمندر میں پھینکا جاتا‘۔

مسافر اپنی کتاب میں ان شیدیوں کے متعلق ہمیں بڑے درد سے بتاتے ہیں وہ غلام بن کر سندھ میں آئے۔ وہ تحریر کرتے ہیں کہ ’جو غلام سندھ میں خریدے گئے ان میں بہت ہی کم بلکہ آٹے میں نمک کے برابر ایسے تھے جن کو رئیسوں نے اپنی اولاد کی طرح سمجھا۔ مگر دوسرے جو ہزاروں پیسوں کے عوض خریدے گئے، وہ اپنے ملک سے بچھڑنے کے بعد مرنے یا آزاد ہونے تک طرح طرح کے عذاب سے گزرے۔ ٹنڈو باگو سے 5 کوس کی دوری پر ’ننگھ‘ نامی ایک گاؤں تھا۔ وہاں نصیر نامی ایک پہلوان شیدی غلام تھا۔ اس کو جب غصہ آتا تھا تو وہ کسی کی نہیں سنتا تھا۔ یہ بات مالک کو پسند نہیں آئی اور اس نے اس شیدی کو زنجیروں سے باندھ کر کنویں میں پھینک دیا اور گاؤں والوں کو حکم دیا کہ، تب تک اس کنویں میں پتھر پھینکتے رہیں جب تک کنواں پتھروں سے بھر نہ جائے۔ یہ واقعہ اندازاً 1840ء کا ہے۔

’ایک شیدی غلام عورت جس رئیس کے پاس غلام تھی وہ بتاتی تھی کہ وہ جس رئیس کے پاس تھی اسے اپنے اونٹ سے بہت زیادہ پیار تھا۔ اونٹ جب واپس لوٹتا چاہے وہ صبح ہو، دوپہر ہو یا شام ہو، گرمی ہو یا سخت سردی ہو، میری یہ ڈیوٹی تھی کہ اس کی خوراک کا کھارا (گھاس پھوس سے بنا ہوا تغاری جیسا) میں سر پر رکھ کر کھڑی ہوجاتی اور اونٹ اس میں پڑا چارہ کھاتا رہتا جب تک اس کی بھوک ختم نہ ہوجاتی مجھے کھڑا رہنا پڑتا۔ رئیس کا خیال تھا کہ نیچے جھک کر کھانے سے بچارے اونٹ کو تکلیف ہوتی ہے، تو جو غلام پیسوں سے خریدا ہے وہ آخر کب کام آئے گا۔ اس طرح اگر کوئی بھاگا ہوا غلام کسی میر یا پیر کو ہاتھ لگتا اور ان کو شک پڑتا کہ یہ بھاگا ہوا غلام ہے تو جب تک حقیقت کا پتا نہ چلتا تب تک وہ اسے جانور کی طرح باندھ کر رکھتے۔ کبھی کبھار یہ بھی ہوتا تھا کہ اگر کسی کو رحم آجائے اور وہ غلام کو آزاد کرنا چاہے تو وہ اس غلام کو آزادی کا پروانہ لکھ کر دیتا تھا تو اس کے بعد اس کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا تھا۔ جب غلام شیدی اس آزاد شیدی کو دیکھتے تو اس کو آزادی کی مبارکباد دیتے۔ اس طویل دکھ کی رات کا اختتام 1843ء میں ہوا جب گوری سرکار نے غلاموں کی خرید و فروخت پر پابندی لگائی‘۔

میں دوسری صبح ٹنڈو باگو کی گلیوں میں گیا۔ میرے ساتھ وہاں سماجی خدمت کرنے والا نوجوان مصطفیٰ شاہ بھی تھا۔ ہم صابر شیدی کی چھوٹی سی بیٹھک میں گئے۔ بات چیت تو شیدیوں کے گزرے دنوں کے متعلق ہوئی مگر گفتگو محمد صدیق مسافر کی کتاب کی سرحدوں سے باہر نہ نکل سکی۔ باتوں باتوں میں ’مگرمان‘ کی بات نکل پڑی۔

اب سیاہ رنگ کے علاوہ افریقہ کے آسمان اور جنگلات کی اگر کوئی باقیات بچی ہیں تو وہاں کی مقامی زبانوں کے کچھ الفاظ اور مگرمان کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جس طرح ہم اپنے بچھڑے ہوئے محبوب کی کوئی چیز آخری نشانی کے طور پر رکھتے ہیں بالکل ایسے ہی سندھ کے شیدیوں کے پاس آباؤاجداد کی آخری نشانی کے طور پر یہ مگرمان رہ گیا ہے۔

صابر شیدی، مگرمان بجاتے ہوئے
صابر شیدی، مگرمان بجاتے ہوئے

شیدیوں کے پاس اپنے آباؤاجداد کی نشانی کے طور پر صرف مگرمان ہی بچا ہے
شیدیوں کے پاس اپنے آباؤاجداد کی نشانی کے طور پر صرف مگرمان ہی بچا ہے

میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ٹنڈو باگو میں شیدیوں کے ایک وسیع محلے کی پکی گلیوں سے ہوتا ہوا نظر محمد شاہ کی درگاہ کے پاس پہنچا۔ جنوب سے آتی ہوئی گلی اور مشرق سے آتی ہوئی گلی کے نکڑ پر ایک چھوٹا سا میدان بن جاتا ہے۔ اس کے مغرب میں درگاہ کے اندر جانے کا دروازہ ہے۔ میں نے مگرمان کی تھاپ کو سنا بہت ہے مگر میں اس کو دیکھ پہلی بار رہا تھا۔

صابر ایک نزدیک والے گھر سے مگرمان کو بڑے احترام سے اٹھا لایا۔ 4 فٹ کی لمبائی اور ڈیڑھ فٹ کی گولائی پر محیط یہ مگرمان ہرے ریشمی کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا اور ایک تھیلی تھی جس پر شاندار دھاگے کا کام کیا گیا تھا جو دھاگے سے بندھی لٹکتی تھی۔ اس تھیلی میں لوبان تھا۔ جب مگرمان بجایا جاتا ہے تو اسے لوبان کی دھونی دیتے ہیں کہ یہ احترام اور تقدس کی نشانی ہے۔

میری گزارش پر صابر نے بڑے صبر سے تھاپ لگائی۔ پہلے ایک ہاتھ سے پھر دونوں ہاتھوں سے۔ ایک نَپی تلی تھاپ۔ جیسے مگرمان پر منڈھی ہوئی چمڑی پر تھاپ پڑی ایک گونج اٹھی اور بہت دُور تک چلی گئی۔ مگرمان کی تال ایک دو منٹ ہی فضا میں بکھری ہوگی کہ محلہ سے مرد اور بچے نکل آئے۔ صابر نے یہ کہہ کر تھاپ روک دی کہ اگر یہ ہم کچھ منٹ اور بجائیں گے تو یہاں شیدیوں کا مجمع اکٹھا ہوجائے گا۔ مگر ساتھ میں صابر شیدی نے یہ بھی شکایت کی کہ پہلے کی طرح اب شادیوں وغیرہ میں مگرمان نہیں بجتا بس کبھی کبھار ہی کسی خاص موقع پر ہی بجاتے ہیں۔ صابر شیدی مایوس تھا، اسے مگرمان سے نوجوان نسل کی دُوری کھٹک رہی تھی کہ وہ اپنی کچھ بچی جڑوں کو کمزور کر رہے ہیں۔

مگربان کے ساتھ لوبان کی تھیلی بھی لٹکی رہتی ہے
مگربان کے ساتھ لوبان کی تھیلی بھی لٹکی رہتی ہے

صابر نے پہلے ایک ہاتھ سے پھر دونوں ہاتھوں سے تھاپ لگائی
صابر نے پہلے ایک ہاتھ سے پھر دونوں ہاتھوں سے تھاپ لگائی

مگرمان کے بعد ہم پھر ان شیدی محلے کی صاف ستھری گلیوں سے ہوتے ہوئے اس جگہ پر پہنچے جہاں کسی وقت میں محمد صدیق مسافر کا گھر تھا۔ وہ اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں کہ ’میں نے تیسری شادی 1932ء میں کی، میری اولادیں زندہ نہیں بچتی تھیں۔ دوسری شادی سے 9 بچے ہوئے مگر فقط 2 بیٹیاں بچیں۔ تیسری شادی سے 4 اولادیں ہوئیں مگر فقط 2 زندہ بچ سکیں۔ ایک ایک بیٹی اور ایک بیٹا جو 1940ء میں پیدا ہوا۔ جس کا میں نے نام عطا اللہ رکھا ہے‘۔

مسافر صاحب نے 24 ستمبر 1961ء میں یہ جہان چھوڑا۔ ان کے بیٹے عطا اللہ ادب کا ذوق رکھنے والے انسان تھے اس لیے انہوں نے اپنا تخلص ’بزمی‘ رکھا۔ دوسرا اتفاق یہ کہ وہ ہائی اسکول بدین میں 1974ء میں میرے استاد رہے۔ طبیعت کے شفیق تھے مگر کلاس میں اپنے مضمون کے حوالے سے بہت سخت تھے۔ 2007ء میں اس نے اس بے وفا زمانے کو الوداع کہا۔ ایلائیس البینیا نے اپنی کتاب میں اس خاندان کے متعلق انتہائی تفصیل سے لکھا ہے۔

محمد صدیق مسافر کے گھر کے بالکل قریب مغرب کی جانب ان کی آخری آرام گاہ ہے۔ ایک چار دیواری کے اندر کاشی کی اینٹوں سے بنی ان کی قبر ہے جس کے نیچے وہ یادوں کے ایک زمانے کو اپنے ساتھ لے کر سوئے ہوئے ہیں۔ میں اسی شام ٹنڈو باگو تلہار روڈ پر مخدوم حُر علی کے گاؤں گیا جہاں گلاب خان نے غلامی کی زندگی گزاری تھی۔

یہ ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں اب تک کچھ مخدوموں کے اور کچھ شیدیوں کے خاندان بھی رہتے ہیں۔ یہ انتہائی مختصر سا گاؤں ہے جس کی گلیوں میں لوگ کم اور خاموشی کا زیادہ بسیرا ہے۔

محمد صدیق مسافر کی آخری آرام گاہ
محمد صدیق مسافر کی آخری آرام گاہ

میں جب وہاں کے لوگوں سے بات کر رہا تھا تو جاڑے کے ڈھلتے سورج کی سنہری کرنیں ان کی گھاس پھوس کی جھونپڑیوں اور آنگنوں پر پڑتی تھیں۔ وہ اب غلام نہیں ہیں۔ یہاں کی گلیاں، آسمان اور موسم ان کے اپنے ہیں۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ ان کے دل کے کسی کونے میں اب بھی افریقہ کے ریگستان، موسم اور سمندر کے کنارے بستے ہیں۔ مجھے گجرات کے شیدیوں پر بنی سلیم حربی کی ’بابا گھور‘ پر بنی ایک ڈاکومنٹری یاد آئی جس میں وہ کہتے ہیں کہ

ہم پہلے افریقن تھے جو اتنا دُور یہاں پہنچے تھے،

میرا نام مبارک النوبی ہے،

میں نے جب ڈھول بجایا میرے سارے رشتے دار میرے پیچھے آئے،

آج افریقہ بہت دُور ہے۔ مگر ہمارے دلوں میں بستا ہے،

ہم یہاں 17 پیڑھیوں سے ہیں،

مگر یہاں کے باسی بھی ہمارے متعلق زیادہ نہیں جانتے،

ہم اپنے آباؤاجداد کو کبھی نہیں بھول پائیں گے،

مگرمان کی تال سے ہم جیتے ہیں،

ہم شیدی ہیں۔


حوالہ جات:

۔ ’غلامی ائیں آزادی جا عبرتناک نظارا‘ ۔ محمد صدیق مسافر۔ روشنی پبلیکیشن حیدرآباد

۔ ’سندھ ائیں سندھو ماتھری میں وسندڑ قوموں‘۔ رچرڈ برٹن۔ سندھی ادبی بورڈ، حیدرآباد

۔ ’سندھو جوں سلطنتوں‘ ۔ ایلائس البینیا۔ نیرون بکس، کراچی

۔ ’ممباسا‘۔ الطاف شیخ۔ سندھی ادبی بورڈ، کراچی

۔ ’تاریخ کے مسافر‘۔ ابوبکر شیخ۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور

۔ ’تاریخ عالم‘ ۔ ڈاکٹر فیدور کرووکن۔ جمہوری پبلیکیشن، لاہور

*. The Slave Route a Memory. UNESCO.

*. Slave Voyages. UNESCO.

https://www.youtube.com/watch?v=jhMfSotBBGI