آف شور کمپنیاں کسے کہتے ہیں اور کیا یہ قانونی ہیں؟

پینڈورا پیپرز میں دنیا بھر سے 35 موجودہ اور سابق رہنماؤں کے نام آئے ہیں۔
اپ ڈیٹ 05 اکتوبر 2021 03:34pm

پینڈورا پیپرز یونانی اصطلاح پینڈورا بکس سے ماخوذ ہے اور پینڈورا پیپرز نے کئی ممالک کے سربراہان اور حکومتوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے مشہور سیاست دانوں اور کاروباری حضرات کی معاشی سرگرمیاں اور لین دین کو بے نقاب کردیا ہے۔

تحقیقات میں واشنگٹن پوسٹ، بی بی سی اور گارجین سمیت میڈیا کے اداروں سے 600 صحافیوں نے حصہ لیا اور دنیا بھر سے 14 کمپنیوں سے ایک کروڑ 19 لاکھ دستاویزات کی لیک کی بنیاد پر رپورٹ تیار کی ہے۔

ان دستاویزات میں انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹیو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) نے دنیا بھر سے 35 موجودہ اور سابق رہنماؤں کو شامل کیا اور تجزیہ کیا ہے جن پر کرپشن سے منی لانڈرنگ اور ٹیکس بچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پاکستان سے وزیرخزانہ شوکت ترین، سینیٹر فیصل واڈا، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری مونس الہٰی، اسحٰق ڈار کے بیٹے، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے شرجیل میمن، وزیرصنعت اور صنعتی پیداوار خسرو بختیار کا خاندان، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عبدالعلیم خان اور ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ کا نام مبینہ طور پر آف شور کمپنیوں کے حوالے سے سامنے آئے ہیں۔

تاہم پاناما پیپرز کی طرح ہم میں سے وہ لوگ جن کو مالی حوالے سے عالمی سطح کے قوانین سے واقفیت نہیں ہے وہ اسی طرح کے سوالات اٹھا رہے ہیں کہ اس کا اصل مطلب کیا ہے؟

یہاں ہم نے آفشور کمپنیوں کے حوالے سے کیے جانے والے عام سوالات کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔

ٹیکس ہیونز اور آف شور اکاؤنٹ کیا ہیں؟

آئی سی آئی جے کے مطابق ٹیکس ہیونز یا آف شور کے مالی مراکز روایتی طور پر ایسے ممالک یا مقامات ہیں جہاں کم یا کارپوریٹ ٹیکس نہیں ہوتا اور غیرملکیوں کو آسانی سے وہاں اپنا کاروبار کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: پینڈورا پیپرز: میڈیا مالکان، فوجی افسران کے اہلِ خانہ، کاروباری افراد کے مزید ناموں کا انکشاف

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 'ٹیکس ہیونز عام طور پر کمپنیوں اور ان کے مالکان کے حوالے سے عوامی آگاہی محدود کرتی ہیں کیونکہ معلومات سے یہ وضاحت کرنے میں مشکل پیش آسکتی ہے کہ ٹیکس ہیونز بعض اوقات خفیہ حدود بھی کہلاتی ہیں'۔

دوسرے ملک میں آف شور بینک اکاؤنٹس اور مالی لین دین قوانین سے بچنے یا ٹیکس کے قوانین سے بچنے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

کمپنیاں اور مختلف افراد ذاتی طور پر اکثر شیل کمپنیاں بھی استعمال کرتے ہیں، ابتدائی طور پر خاص جائیداد یا آپریشنز کے بغیر کاروبار کیا جاتا ہے تاکہ فنڈز کے حوالے سے ملکیت یا دیگر معلومات کو چھپایا جائے۔

آفشور اکاؤنٹس کہاں رکھے جاتے ہیں؟

جو لوگ اکاؤنٹس چھپانا چاہتے ہیں وہ پاناما، کیمن آئس لینڈ، برٹس ورجن آئس لینڈ اور برمودا جیسے ممالک میں اکاؤنٹس بناتے ہیں جہاں بینکنگ قوانین اکاؤنٹ رکھنے والے کی شناخت کو بھرپور انداز میں تحفظ دینے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ ساؤتھ پیسیفک میں آئس لینڈ آف مین آف بریٹین، ماکوا آف چائنا اور کوک آئس لینڈ جیسی ہیونز بھی شامل ہیں۔

سوئٹزرلینڈ، لیکسمبرگ اور موناکو جیسے بعض یورپی ممالک بھی جو لوگ ٹیکس سے بچنا چاہتے ہیں ان کے لیے جنت کے طور پر خدمات فراہم کرتی ہیں، تاہم کئی ممالک ٹیکس میں ردو بدل کی روک تھام کے لیے بینکنگ قوانین سخت کرچکے ہیں۔

آفشور کمپنی بنانا کیا غیر قانونی ہے؟

قانون کے تحت آفشور کمپنی بنانا کوئی گناہ یا جرم نہیں اگر کمپنی کسی غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہو تاہم جن لوگوں نے ان کمپنیوں کو اپنے ملکوں میں ڈیکلیئر نہیں کیا انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

انگریزی روزنامہ دی نیوز انٹرنیشنل کے صحافی عمر چیمہ جو اس تحقیقات کا حصہ تھے، نے لکھا کہ پاکستان میں اس طرح کے کمپنیوں کے مالکان کو اس کو ٹیکس سے متعلق اداروں اور سیکیورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں ڈیکلیئر کرنے کا قانون ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'یہ ایک دفعہ جب یہ کام کرلیا گیا تو ڈیکلیریشن میں سوائے حقائق کی غلط پیش کش کے کوئی قانونی قدغن نہیں ہے'، کاروباری حضرات، آف شور اسٹرکچر بین الاقوامی منصوبوں میں تیزی لانے میں مددگار ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:'پینڈورا پیپرز': وزیرخزانہ شوکت ترین، مونس الہٰی سمیت 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام

مثال کے طور پر، وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ان سے منسلک کمپنی مرکزی بینک کی منظوری سے اس وقت بنائی گئی تھی جب وہ سلک بینک کے لیے غیرملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

وزارت خزانہ کی ویب سائٹ کے مطابق شوکت ترین بینک کے لیے مارچ 2008 سے مرکزی اسپانسر ہیں۔

وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ معاہدہ ملک کے قانون کی صورت حال کی وجہ سے ختم ہوا اور کمپنیوں کو بند کردیا گیا تھا، کوئی اکاؤنٹ نہیں بنایا گیا اور ایک پیسہ بھی نہ تو جمع ہوا اور نہ ہی نکالا گیا۔

آف شور اکاؤنٹس کے لیے قانونی استعمال

منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے مطابق آف شور مقامات پر کمپنیاں یا ٹرسٹ قانونی استعمال کے لیے بنائے جاسکتے ہیں جیسا کہ مالیات، انضمام اور اسٹیٹ یا ٹیکس کی منصوبہ بندی شامل ہے۔

مزید یہ کہ امیر لوگ جو سیاسی طور پر عدم استحکام کے شکار ممالک میں رہتے ہیں، کرپشن کی انتہا، یا جرائم کی انتہائی سرگرمی جیسا کہ اغوا یا بھتہ اور اپنے تحفظ کے لیے رازداری کی خاطر آف شور اکاؤنٹ استعمال کرسکتے ہیں اور ان معاملات میں ٹیکس چھپانا ضروری نہیں ہے۔

عمر چیمہ نے لکھا کہ پاکستانی کاروباری شخصیات بھی آف شور کمپنیاں ملک کی غیر دستاویزی معیشت اور ریڈ ٹیپ کے رواج کی وجہ سے بناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'ٹیکس کی عدم ادائیگی کے علاوہ کئی فائدے ہیں، قانون پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے چیزیں مشکل بنائی جاتی ہیں، نتیجے کے طور پر کئی افراد اس طرح کے اسٹرکچرز کا فیصلہ کرتے ہیں جہاں کاروبار کرنے کے لیے آسانیاں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے'۔

آف شور اکاؤنٹس کا غلط استعمال

شیل کمپنیاں اور دیگر اثاثہ جات کو دہشت گردوں اور عالمی سطح پر اور مالی جرائم میں ملوث افراد کی جانب سے فنڈز کے ذرائع اور ملکیت چھپانے کے لیے غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: 'پینڈورا پیپرز' کیا ہیں؟

واشنگٹن کے اٹارنی اور مالی جرائم اور بین الاقوامی ٹیکس چھپانے سے متعلق قوانین کے ماہر جیک بیلم نے کہا کہ لوگوں کے لیے ایک آئیڈیل راستہ ہے 'جو قانون کے نفاذ یا سزاؤں سے بچنے کے لیے اپنی ٹرانزیکشنز خفیہ رکھنا چاہتے ہیں'۔

فنانشل ہیونز پر کارروائی کیلئے کوششیں

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور دیگر قانونی اداروں نے جائزے شائع کیے ہیں خاص ممالک اور سرحدوں میں جن میں انسداد منی لانڈرنگ، انسداد دہشت گردی کے لیے مالی تعاون کی کوششوں میں پائی جانے والی خامیوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔

مالیاتی اور قانونی شعبے تربیت دیں کہ خلاف ورزیوں کی نشان دہی کی جائے جیسا کہ چند کیسز میں غلط ٹرانزیکشنز کے معاملات دیکھنے والے وکلا اور بینکرز بھی لاعلم ہوتے ہیں۔

یورپی یونین ملٹی نیشنل اداروں کے ذریعے ٹیکس چھپانے پر کارروائی کرنے کی کوششوں کے تحت مداخلت کرچکی ہے۔