ڈان کے بلاگرز ٹی20 ورلڈ کپ 2021ء سے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں؟

اب چونکہ یہ ورلڈ کپ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے لہٰذا سوچا کہ کیوں نہ ہم اپنے لکھنے والوں سے بھی اس ایونٹ سے متعلق رائے جان لیں۔
اپ ڈیٹ 23 نومبر 2021 11:50am

2016ء میں جب ٹی20 ورلڈ کپ اپنے اختتام کو پہنچا تو اگلا ورلڈ کپ 2018ء میں ہونا تھا، مگر پھر 2017ء میں منعقد ہونے والی چیمپئنز ٹرافی کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے 2018ء میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ کو منسوخ کردیا اور اپنے بیان میں کہا کہ یہ میگا ایونٹ اب 2020ء میں منعقد ہوگا۔

اس منسوخی کی وجہ آئی سی سی نے ٹیموں کے مصروف شیڈول بتائی کیونکہ 2015ء میں کرکٹ ورلڈ کپ منعقد ہوا، پھر 2016ء میں ٹی20 ورلڈ کپ کھیلا گیا اور 2017ء میں چیمپئنز ٹرافی کھیلی گئی۔ آئی سی سی کے مطابق ٹیموں کے لیے یقینی طور پر یہ بہت مصروف شیڈول ہے اس لیے اب اگلا ورلڈ کپ 2020ء میں کھیلا جائے گا۔

لیکن پھر کورونا وائرس نے اس میگا ایونٹ کے انعقاد کے لیے مزید رکاوٹیں ڈالیں اور اس ورلڈ کپ کو مزید ایک سال آگے لے جایا گیا۔ اگر یہ ایونٹ 2020ء میں منعقد ہوتا تو اس کی میزبانی آسٹریلیا کے حصے میں آتی، مگر ایک سال آگے بڑھنے کے سبب یہ میزبانی بھارت کے حصے میں آئی، لیکن حق کے باوجود یہ ایونٹ کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے بھارت میں منعقد نہیں ہوسکا اور یوں پھر قرعہ امارات اور عمان کے میدانوں کے نام نکلا۔

اور اب جب ٹی20 ورلڈ کپ اگلے سال یعنی 2022ء میں کھیلا جائے گا، تو اس کی میزبانی آسٹریلیا ہی کرے گا۔

کورونا وائرس نے اس میگا ایونٹ کے انعقاد کے لیے مزید رکاوٹیں ڈالیں اور اس ورلڈ کپ کو مزید ایک سال آگے لے جایا گیا—ٹوئٹر
کورونا وائرس نے اس میگا ایونٹ کے انعقاد کے لیے مزید رکاوٹیں ڈالیں اور اس ورلڈ کپ کو مزید ایک سال آگے لے جایا گیا—ٹوئٹر

خیر، اس تمہید کے بعد اصل موضوع کی جانب آتے ہیں اور ٹی20 ورلڈ کپ 2021ء کے نتائج پر بات کرتے ہیں۔ غیر متوقع طور پر اس کی فاتح آسٹریلوی ٹیم رہی، حیرانی کی بات یہ کہ جو آسٹریلوی ٹیم اس سے پہلے 5 کرکٹ ورلڈ کپ اور 2 چیمپئنز ٹرافی کے اعزاز اپنے نام کرچکی ہے، اس کے لیے ہم یہاں لفظ غیر متوقع کا استعمال کررہے ہیں، مگر یہی حقیقت ہے کیونکہ ورلڈ کپ شروع ہونے سے قبل تو اس بات کے بھی امکان کم تھے کہ شاید آسٹریلوی ٹیم اگلے مرحلے کے لیے بھی کوالیفائی کرسکے۔

پھر آسٹریلوی ٹیم کو اہمیت نہ دینے کی ٹھوس وجہ بھی تھی۔ ورلڈ کپ سے پہلے کھیلی جانے والی آخری 5 ٹی20 سیریز میں آسٹریلیا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انگلینڈ کے خلاف 1-2، بھارت کے خلاف 1-2، نیوزی لینڈ کے خلاف 2-3، ویسٹ انڈیز کے خلاف 1-4 حتیٰ کہ بنگلہ دیش کے خلاف بھی آسٹریلیا کو 1-4 سے رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔

ان حالات میں اگر آسٹریلیا کو اہمیت نہیں دی جارہی تھی تو یہ کچھ زیادہ غلط بھی نہیں تھا، مگر اس ٹیم نے ایک بار پھر اپنی پرفارمنس سے بتادیا کہ یہ ٹیم بڑے مقابلے کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہے۔

اس ورلڈ کپ کے لیے ڈان کی بلاگ ڈیسک نے خصوصی کوششیں کیں اور ہر ایک میچ پر تبصرے و تجزیے کے لیے ہم نے مختلف بلاگرز پر مشتمل ایک ’پول‘ بنایا اور اپنے قارئین کے لیے خصوصی تحاریر لکھوائیں۔

اب چونکہ یہ ورلڈ کپ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے لہٰذا سوچا کہ کیوں نہ ہم اپنے لکھنے والوں سے بھی اس ایونٹ سے متعلق رائے جان لیں۔ لہٰذا ہم نے کچھ سوال پوچھے اور ان کے جواب ہمارے بلاگرز نے کیا دیے، آئیے جانتے ہیں۔


اس ورلڈ کپ سے متعلق کوئی ایک یادگار واقعہ


فہد کیہر

پاک-بھارت مقابلے سے بڑا یادگار واقعہ آخر کون سا ہوگا؟ بالآخر وہ 'موقع' آ ہی گیا جس کا ہمیں عرصے سے انتظار تھا۔ پاکستان کی اس کامیابی کی خاص بات محض یہ نہیں کہ پاکستان جیت گیا بلکہ جس طرح جیتا، وہ بھی اپنی جگہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ٹی20 میں پاکستان کی 10 وکٹوں سے پہلی کامیابی اور بھارت کی اس مارجن سے پہلی ناکامی۔ اس کامیابی نے پاکستان کو وہ حوصلہ دیا جو اسے سیمی فائنل تک لایا۔

پاک-بھارت مقابلے سے بڑا یادگار واقعہ آخر کون سا ہوگا؟— فوٹو: اے ایف پی
پاک-بھارت مقابلے سے بڑا یادگار واقعہ آخر کون سا ہوگا؟— فوٹو: اے ایف پی

شہزاد فاروق

اس ٹورنامنٹ میں کسی بھی پاکستانی کے لیے سب سے یادگار واقعہ تو انڈیا کو کسی ورلڈکپ میچ میں پہلی بار شکست دینا ہی تھا۔ انڈیا کے خلاف فتح اور ایک ایسی فتح جس کا پاکستانی شائقین ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ شاہین آفریدی کی روہت شرما کو کروائی گئی بال اس ٹورنامنٹ کی شاید سب سے بہترین گیند تھی اور ہر پاکستانی کرکٹ شائق کے لیے سب سے بہترین یاد بھی۔

خرم ضیا خان

ٹی20 ورلڈکپ کا سب سے یادگار لمحہ وہ تھا جب پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے محمد شامی کی جانب سے کروائی گئی 17ویں اوور کی 5ویں گیند کو 2 رنز کے لیے لانگ آن کی جانب کھیل کر پاکستان کو انڈیا کے خلاف 10وکٹوں کی تاریخی فتح دلوا دی۔ ایک روزہ کرکٹ اور ٹی20 انٹرنیشنل کے ورلڈکپ مقابلوں میں اس میچ سے قبل کھیلے گئے تمام 12 میچوں میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں شکست اٹھانی پڑی تھی۔

میچ میں فتح کے بعد محمد رضوان کپتان بابر اعظم سے بغلگیر ہیں— فوٹو: اے ایف پی
میچ میں فتح کے بعد محمد رضوان کپتان بابر اعظم سے بغلگیر ہیں— فوٹو: اے ایف پی

دبئی میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان کی فتح کی بنیاد شاہین شاہ آفریدی نے اپنے پہلے 2 اوورز میں روہت شرما اور کے ایل راہول کو پویلین بھیج کر رکھی اور پھر کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان نے 152رنز کی ناقابلِ شکست شراکت قائم رکھ کر جیت کی بلندیوں کو چُھولیا۔

یہ پہلا موقع تھا جب پاکستان نے اپنی مخالف ٹیم کو ٹی20 میچ میں 10 وکٹوں سے ہرایا۔ اس میچ سے قبل کرکٹ ناقدین پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دینے کو تیار ہی نہیں تھے لیکن قومی ٹیم نے ان کے حسابات کے برعکس بھارت کی فتوحات کے تسلسل کو توڑ کر اپنے مداحوں کو جو مسرتیں دیں وہ مدتوں یاد رہیں گی۔

شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر لوکیش راہل بولڈ ہونے کے بعد پویلین لوٹ رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر لوکیش راہل بولڈ ہونے کے بعد پویلین لوٹ رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

عاطف عنایت

میرے نزدیک ورلڈ کپ میں پاکستان کا کامیاب اور ناقابلِ فراموش سفر ایک یادگار واقعہ ہے۔ جس طرح پاکستانی ٹیم یک جان ہوکر پوری ہمت و حوصلے اور جذبے سے کھیلی ہے وہ پہلے کبھی نظر نہیں آیا۔

قومی ٹیم کا کھیل دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ کچھ کر دکھانا چاہتی ہے۔ کوئی مقصد یا ہدف ہے جسے حاصل کرنا چاہتی ہے اور یہ یادیں آئندہ کئی سالوں تک میرے ذہن میں تازہ رہیں گی۔


ٹی20 ورلڈ کپ 2021ء کو آپ 10 میں سے کتنے نمبر دینا چاہیں گے؟


فہد کیہر

بھارت اور ویسٹ انڈیز کی ابتدائی مقابلوں میں ہی شکست اور ان کے آگے بڑھنے کے امکانات کو ٹھیس پہنچنے سے ٹورنامنٹ کو بڑا نقصان پہنچا ہوگا، کیونکہ یہ دونوں ٹیمیں بہت زیادہ فین فالوونگ رکھتی ہیں لیکن بحیثیتِ مجموعی دیکھیں تو یہ ایک یادگار ٹورنامنٹ تھا۔

قسمت کے بل بوتے پر نہیں بلکہ کارکردگی کے دم پر کھیلنے والے ممالک سیمی فائنل تک پہنچے، وہاں بھی ہمیں کانٹے دار مقابلے دیکھنے کو ملے اور یہ سب بغیر کسی تنازع اور ہنگامے کے اختتام تک پہنچا۔ اس لیے اس مرتبہ تو ورلڈ کپ کو پورے 10 میں سے 10 نمبر دینا پڑیں گے۔

شہزاد فاروق

ٹی20 ورلڈکپ 5 سال بعد ہوا تو انتظار تو خوب تھا اور سبھی کو تھا۔ شروع میں لگا کہ کم رنز بنیں گے مگر پھر خوب رنز بنے اور چوکے چھکے بھی لگے تو شائقین کو بہترین تفریح مل گئی۔ اس ٹورنامنٹ سے اگر ٹاس کا بے تحاشا کردار ہٹا دیا جائے تو بہت عمدہ ٹورنامنٹ رہا۔ میں اس ٹورنامنٹ کو 10 میں سے 8.5 نمبر دوں گا۔

خرم ضیا خان

میں اس عالمی کپ کو 8 نمبر دوں گا۔ عالمی کپ کی نشریات، کمنٹری ٹیم اور دیگر انتظامات قابلِ تعریف تھے۔ 2 نمبرز کاٹنے کی وجہ آئی سی سی کی پاکستان اور افغانستان کے مقابلے میں شائقین کو کنٹرول کرنے میں ناکامی ہے۔ افغانستان کے مداح 2019ء میں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ میں بھی ہلڑ بازی میں ملوث پائے گئے تھے۔ اس ٹی20 عالمی کپ میں بھی ان کے جارحانہ برتاؤ اور بدنظمی کی وجہ سے بہت سے شائقین ٹکٹس ہونے کے باوجود میچ دیکھنے سے محروم رہ گئے تھے۔ اب جبکہ افغانستان باقاعدگی سے کرکٹ کے عالمی مقابلوں میں شرکت کرے گا تو آئی سی سی کو ان کے مداحوں سے بہتر انداز سے نمٹنے کی حکمتِ عملی بنانی چاہیے۔

عاطف عنایت

میں اس ورلڈ کپ کو 10 میں سے 9 نمبر دوں گا۔ یہ ہر لحاظ سے بہترین اور کامیاب ایونٹ رہا۔ ایک نمبر ٹاس اور اوس کے کردار کی وجہ سے کاٹنا پڑا ہے۔


آپ کے نزدیک اس ورلڈ کپ کے مثبت اور منفی پہلو کون سے ہیں؟


فہد کیہر

سب سے مثبت پہلو تھا کہ اس مرتبہ ورلڈ کپ بغیر کسی بڑے تنازع کے اختتام تک پہنچا، کوئی ایسا فیصلہ نہیں رہا کہ جس نے بدمزگی پیدا کی ہو یا کوئی ایسا مقابلہ نہیں تھا کہ جو بارش سے متاثر ہوا ہو۔ تماشائیوں کی میدانوں میں واپسی اور بھرپور شرکت بھی ایک مثبت پہلو دکھائی دیا اور پاک-بھارت مقابلہ پورے جوش و خروش کے ساتھ دیکھا۔

منفی پہلو کوئی اور تو نہیں، بس یہی ہے کہ ٹی20 ہی وہ فارمیٹ تھا جو آسٹریلیا کی دست برد سے بچا ہوا تھا، اب یہاں بھی آسٹریلیا راج شروع ہوگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا تعلق اس نسل سے ہے جس نے 1999ء سے 2010ء تک آسٹریلیا کو تقریباً ہر ون ڈے ورلڈ کپ کے فائنل بلکہ ایک ٹی20 کے فائنل میں بھی دیکھا ہے، ہم تو اسے جیتتے دیکھ دیکھ کر اتنا اکتا گئے ہیں کہ آسٹریلیا کو کسی فائنل میں نہیں دیکھنا چاہتے۔

شہزاد فاروق

چھوٹی ٹیموں کی عمدہ کارکردگی اس ٹورنامنٹ کی سب سے اچھی بات رہی۔ پہلی بار ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والی نمیبیا نے خاص طور پر سب کو متاثر کیا۔ اپنے سے کہیں بہتر اور تجربہ کار ٹیموں کو شکست دے کر نہ صرف سپر 12 مرحلے میں داخل ہوئی بلکہ وہاں بھی اسکاٹ لینڈ کو شکست دی۔ حالانکہ اسکاٹ لینڈ پہلے مرحلے میں بنگلہ دیش کو شکست دے کر ایک چھوٹا سا اپ سیٹ کرچکی تھی۔

اس ٹورنامنٹ کا سب سے منفی پہلو میچ کے نتیجے کا ٹاس پر انحصار رہا۔ کوالیفائنگ راؤنڈ میں تو پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیمیں پھر بھی کچھ میچ جیت گئیں لیکن سپر 12 مرحلے اور ناک آؤٹ میں تو ٹاس کی فتح، میچ کی فتح بن گئی۔

خرم ضیا خان

ورلڈ کپ کا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ ٹورنامنٹ کے تمام ہی مقابلے بہت اچھے ماحول میں منعقد ہوئے اور ٹیموں نے اپنی شکست کو خندہ پیشانی سے تسلیم کیا۔ یکطرفہ مقابلوں کی بہتات اور میچ کے نتائج کا ٹاس پر زیادہ انحصار ٹورنامنٹ کا منفی پہلو محسوس ہوا۔

عاطف عنایت

مثبت پہلو تو مجھے یہی لگا کہ اس کورونا زدہ ماحول میں 4 سال بعد ٹی20 ورلڈکپ کا انعقاد ممکن ہوسکا جس کا شائقین کرکٹ کو شدت سے انتظار تھا۔ پھر اچھی خبر یہ رہی کہ کورونا کی وجہ سے کوئی بھی کھلاڑی متاثر نہیں ہوا اور بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملی۔

ورلڈ کپ کا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ ٹورنامنٹ کے تمام ہی مقابلے بہت اچھے ماحول میں منعقد ہوئے اور ٹیموں نے اپنی شکست کو خندہ پیشانی سے تسلیم کیا—ٹوئٹر
ورلڈ کپ کا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ ٹورنامنٹ کے تمام ہی مقابلے بہت اچھے ماحول میں منعقد ہوئے اور ٹیموں نے اپنی شکست کو خندہ پیشانی سے تسلیم کیا—ٹوئٹر

میری نظر میں ٹاس ورلڈکپ کا منفی پہلو رہا، کیونکہ اوس کی وجہ سے بعد میں بیٹنگ کرنے والی ٹیموں کو فائدہ حاصل رہا اور یوں ٹاس کے نتیجے کے ساتھ ہی میچ کے نتیجے کا بھی اندازہ ہوجاتا۔

آئی سی سی کو اس معاملے پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ دونوں ٹیموں کو برابری کی حیثیت میں مواقع میسر ہوں۔


کن 3 کھلاڑیوں نے آپ کو متاثر کیا اور کن 3 کھلاڑیوں نے مایوس کیا؟


فہد کیہر

بلاشبہ اس ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ محمد رضوان نے متاثر کیا۔ ایسا نہیں کہ ان کی کارکردگی خلافِ توقع تھی، ان سے کچھ بہتر کر دکھانے ہی کی امیدیں تھیں لیکن وہ اتنا شاندار کھیلیں گے؟ اس کا اندازہ کم ہی تھا۔ بھارت کے خلاف اہم ترین مقابلے میں ریکارڈ شراکت داری سے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف حیران کن اننگز تک، رضوان چھائے ہوئے نظر آئے۔

محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف شان دار بیٹنگ کی تھی—فوٹو: اے ایف پی
محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف شان دار بیٹنگ کی تھی—فوٹو: اے ایف پی

ان کے بعد ڈیوڈ وارنر کی کارکردگی بہت متاثر کن لگی کیونکہ ان سے ہرگز ایسا کھیل پیش کرنے کی امید نہیں تھی۔ ورلڈ کپ سے محض چند روز پہلے انہی میدانوں پر انڈین پریمیئر لیگ میں ان کی کارکردگی مایوس کن تھی۔ سیزن کے آغاز پر وہ کپتان تھے، پہلے قیادت کی ذمہ داری واپس لے لی گئی اور پھر ٹیم میں اپنی جگہ سے بھی محروم رہ گئے۔ لیکن20 ورلڈ کپ میں وارنر کا وہ پرانا رُوپ نظر آیا، جس کے لیے وہ مشہور تھے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف 14 رنز کے بعد سری لنکا کے ساتھ مقابلے میں 65 رنز بنائے اور اپنی سب سے بہترین اننگز آخری تین اہم ترین مقابلوں میں دِکھائیں۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف ناٹ آؤٹ 89 رنز، پھر پاکستان کے خلاف 49 اور آخر میں نیوزی لینڈ کے خلاف فائنل میں 53 رنز۔ ان فتح گر اننگز کی بدولت ہی وہ مین آف دی ٹورنامنٹ بنے۔

ڈیوڈ وارنر نے چار چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 53 رنز بنائے— فوٹو: اے پی
ڈیوڈ وارنر نے چار چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 53 رنز بنائے— فوٹو: اے پی

اس ورلڈ کپ میں جس تیسرے ’کھلاڑی‘ نے اپنی کارکردگی سے حیران کیا وہ تھا ’ٹاس‘۔ ٹورنامنٹ کا ایسا پرفارمر جس نے کسی کو مایوس نہیں کیا، جس ٹیم کے ساتھ ملا، اسے جتوا کر ہی دم لیا۔ سوائے چند ایک میچوں کے تمام ہی مقابلوں میں ٹاس کا کردار فیصلہ کُن تھا، یہاں تک کہ سیمی فائنل اور فائنل میں بھی اسی کی ٹیم جیتی۔

خیر، اگر مایوس کن کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کی بات کریں تو اس کی بہت طویل فہرست بن سکتی ہے کیونکہ ہمارے پاس ’خام مال‘ بہت ہے۔ بھارت، ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کے کئی کھلاڑیوں کے نام بڑے اور درشن چھوٹے رہے۔ اس لیے ان تینوں ٹیموں کو تو بحیثیتِ مجموعی ہی مایوس کن کارکردگی کی فہرست میں ڈالنا چاہیے۔

لیکن اگر کسی کا انفرادی طور پر نام لینا ہو تو ان تینوں ٹیموں سے ہٹ کر دیکھتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ مایوسی ان سے ہوتی ہے جن سے امیدیں ہوں، اس لیے پہلا نام حسن علی کا ہی ہوگا۔ وہ پورے ٹورنامنٹ میں کوئی ایسی کارکردگی نہیں دکھا پائے کہ جسے ان کے شایانِ شان سمجھا جائے، یہاں تک کہ سیمی فائنل جیسے اہم مقابلے میں بغیر کوئی وکٹ لیے 44 رنز کھا گئے۔ پاکستان نے انہیں مستقل مواقع دیے یہاں تک کہ افغانستان، نمیبیا اور اسکاٹ لینڈ کے خلاف میچوں میں بھی انہیں کھلایا گیا لیکن وہاں بھی وہ ایسا کچھ نہ کرسکے کہ جسے یادگار سمجھا جائے۔

حسن علی ٹورنامنٹ میں کوئی ایسی کارکردگی نہیں دکھا پائے کہ جسے ان کے شایانِ شان سمجھا جائے—اے ایف پی
حسن علی ٹورنامنٹ میں کوئی ایسی کارکردگی نہیں دکھا پائے کہ جسے ان کے شایانِ شان سمجھا جائے—اے ایف پی

پھر انگلینڈ کے کرس جارڈن کی بات کریں گے، جو ان حالات کے لیے ایک بنے بنائے کھلاڑی ہیں۔ ورلڈ کپ سے پہلے آئی پی ایل کھیلنے کے لیے بھی عرب امارات ہی میں تھے، لیکن سوائے آسٹریلیا اور سری لنکا کے خلاف میچوں کے کہیں نہیں چل پائے۔

نیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل بھی بجھے بجھے دکھائی دیے۔ پورے ٹورنامنٹ میں اسکاٹ لینڈ کے خلاف 93 رنز کی اننگ کے سوا وہ کچھ خاص پرفارم نہیں کر پائے۔ پاکستان کے خلاف اہم میچ میں 17 رنز بنائے، بھارت کے خلاف صرف 20، نمیبیا کے خلاف 18 رنز پر ہی آؤٹ ہوگئے اور سیمی فائنل میں صرف 4 رنز بنا کر چلتے بنے۔ فائنل میں بھی وہ 28 رنز سے آگے نہ بڑھ پائے اور یوں نیوزی لینڈ کے لیے کمزور کڑی ثابت ہوئے۔

شہزاد فاروق

اس ورلڈکپ میں سری لنکا کے آل راؤنڈر ونندو ہاسارنگا نے بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ کیا، اور ہیٹ ٹرک بھی مکمل کرگئے۔ ہاسارنگا کی باؤلنگ اس ٹورنامنٹ میں ہر لحاظ سے قابل تعریف رہی۔ اکانومی ریٹ بھی بہترین تھا اور وکٹیں بھی مسلسل حاصل کرتے رہے۔ سری لنکا کی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں جو بھی حاصل کر پائی اس میں سب سے اہم کردار ہاسارنگا کا ہی رہا۔

اس ورلڈکپ میں سری لنکا کے آل راؤنڈر ونندو ہاسارنگا  نے بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ کیا
اس ورلڈکپ میں سری لنکا کے آل راؤنڈر ونندو ہاسارنگا نے بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ کیا

نیوزی لینڈ نے اس ٹورنامنٹ میں ڈیرل مچل سے اوپننگ کروانے کا فیصلہ کیا تو شاید کسی کو یقین نہیں تھا کہ یہ فیصلہ کامیاب ہوسکتا ہے۔ کچھ چھوٹی چھوٹی اہم اننگ کھیلنے کے علاوہ اس ٹورنامنٹ میں مچل نے انڈیا کے خلاف ایک عمدہ اننگ کھیلی لیکن انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں ڈیرل مچل کی اننگ نہایت شاندار رہی۔ مچل ہی تھے جنہوں نے پہلے ڈیون کونوے اور پھر جمی نیشام کے ساتھ شاندار پارٹنرشپ قائم کی اور انگلینڈ کے ہاتھوں سے جیت چھین لی۔

آسٹریلیا کے ایڈم زمپا اس ٹورنامنٹ کے ایک اور اہم کھلاڑی ثابت ہوئے۔ زمپا ایک اچھے لیگ اسپنر ہیں مگر اس ٹورنامنٹ میں تو زمپا کا الگ ہی رنگ دکھائی دیا۔ زمپا نے نہ صرف بیٹسمینوں کے لیے رنز بنانا مشکل بنائے رکھا ساتھ وہ وکٹیں بھی حاصل کرتے رہے۔

ان تین کے علاوہ بابر اعظم اور محمد رضوان کی اوپننگ جوڑی نے سبھی کو متاثر کیا۔ انڈیا کے خلاف انہی دونوں کی شراکت کے سبب پاکستان نے انڈیا کو پہلی بار ورلڈکپ میچ میں شکست سے دوچار کیا۔ پھر بابر اعظم ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے میں کامیاب ہوئے تو رضوان اس فہرست میں تیسرے نمبر پر رہے۔ ان دونوں کی یہ ایسی کارکردگی تھی، جس کی ان دونوں سے توقع بھی تھی۔

اس ٹورنامنٹ میں اگر کسی نے سب سے زیادہ مایوس کیا تو وہ حسن علی تھے۔ حسن علی چمپئنز ٹرافی 2017 کے ہیرو تھے اور پچھلے سال فٹنس مسائل سے جان چھڑانے کے بعد سے مسلسل بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے نظر آئے، لیکن ٹورنامنٹ کا آغاز ہوا تو حسن علی کی کارکردگی بالکل ہی خراب ہوگئی۔ حسن علی نے کچھ وکٹیں تو ضرور حاصل کیں لیکن تمام اہم میچوں میں مہنگے ثابت ہوئے اور سیمی فائنل میں حسن علی کا گرایا ہوا کیچ تو پاکستان کی شکست کی وجہ بن گیا۔

اسی طرح ویرات کوہلی کی کارکردگی بھی ان کے شایانِ شان نہیں تھی۔ اگرچہ انہوں نے پاکستان کے خلاف ابتدائی میچ میں نصف سنچری تو اسکور کی مگر کوہلی کی یہ اننگ انڈیا کے لیے بڑا سکور بنانے میں رکاوٹ بن گئی۔ ابتدائی 3 وکٹیں گرنے کے بعد کوہلی تیز نہیں کھیل سکے اور اسی وجہ سے انڈیا بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہا۔ پھر نیوزی لینڈ کے خلاف ایک اور اہم میچ میں بھی ورات کوہلی کچھ خاص نہ کرسکے۔ اگلے 3 میچوں میں کوہلی کو بیٹنگ کا مناسب موقع نہ مل سکا لیکن ان 2 اننگز میں ہی کوہلی نے اپنے فینز کو بہت مایوس کردیا۔

ٹورنامنٹ میں ویرات کوہلی کی کارکردگی بھی ان کے شایانِ شان نہیں تھی
ٹورنامنٹ میں ویرات کوہلی کی کارکردگی بھی ان کے شایانِ شان نہیں تھی

یوں تو اس ٹورنامنٹ میں ویسٹ انڈیز کا کوئی بھی کھلاڑی اچھی کارکردگی نہ دکھا سکا لیکن شائقین کرکٹ کو سب سے زیادہ مایوسی کرس گیل سے ہوئی۔ ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل ہی کرٹلی امبروز کی تنقید پر کرس گیل نامناسب جواب کی وجہ سے خبروں کی زینت بن گئے تھے، اور اس کے بعد پورے ایونٹ میں وہ اپنی خراب کارکردگی کی وجہ سے خبروں میں رہے۔

خرم ضیا خان

اس ایونٹ میں سب سے زیادہ متاثر آسٹریلوی اسپنر ایڈم زمپا نے کیا۔ انہوں نے اس ٹورنامنٹ میں صرف 12.07 کی اوسط سے 13 وکٹیں حاصل کیں۔ اسپنرز کو اچھا کھیلنے کے لیے مشہور بنگلہ دیش کے خلاف زمپا نے 5 وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کی ٹیموں کے مایہ ناز اسپنرز کی موجودگی میں زمپا کا ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیندبازوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہونا قابلِ ستائش ہے۔ ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل اور فائنل میں ان کی شاندار گیند بازی نے آسٹریلیا کو پہلی مرتبہ ٹی20 ورلڈ کپ جتوانے میں اہم کردار بھی ادا کیا۔

زمپا کے بعد جس کھلاڑی نے متاثر کیا وہ کوئی اور نہیں بلکہ شاہین شاہ آفریدی ہیں۔ آفریدی نے اس ٹورنامنٹ میں اپنے پہلے ہی اوور میں جس طرح روہت شرما کو آؤٹ کیا تھا وہ ایک قابلِ دید لمحہ تھا۔ شاہین آفریدی نے اس ٹورنامنٹ میں 75 ایسی گیندیں بھی کروائی ہیں جن پر کوئی رن نہیں بنا اور ڈاٹ بال کروانے والوں کی فہرست میں وہ 5ویں نمبر پر رہے۔ شاہین ایک قد آور اور کامیاب کھلاڑی کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے ہیں اور جس طرح وہ اپنی گیندبازی میں نکھار پیدا کر رہے ہیں، وہ پاکستان اور ان کے اپنے مستقبل کے لیے ایک نیک شگون ثابت ہوسکتا ہے۔

ان دونوں کے علاوہ جوس بٹلر نے بھی زبردست کھیل پیش کیا ہے۔ انگلینڈ کے اوپننگ بلے باز اس ٹورنامنٹ میں نکھر کر سامنے آئے ہیں۔ سری لنکا کے خلاف جس طرح انہوں نے مشکل حالات میں میچ کا پانسہ پلٹتے ہوئے سنچری بنائی اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ سیمی فائنل میں بٹلر کا جلد آؤٹ ہوجانا انگلینڈ کی شکست کی ایک اہم وجہ تھی۔

انگلینڈ کے اوپننگ بلے باز اس ٹورنامنٹ میں نکھر کر سامنے آئے ہیں—اے ایف پی
انگلینڈ کے اوپننگ بلے باز اس ٹورنامنٹ میں نکھر کر سامنے آئے ہیں—اے ایف پی

مایوس کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں محمد حفیظ، شعیب ملک اور کوئنٹن ڈی کوک سب سے اوپر ہیں۔ حفیط اور ملک ایک طویل عرصے سے ٹیم کے ساتھ ہیں۔ سیمی فائنل جیسے بڑے مقابلے میں ایسے تجربہ کار کھلاڑیوں کی موجودگی نوجوان اور ناتجربہ کار کھلاڑیوں کے لیے اطمینان کا باعث ہوسکتی تھی مگر پاکستان کے یہ 2 تجربہ کار کھلاڑی سالہا سال کا تجربہ رکھنے کے باوجود اس بڑے مقابلے میں اپنی ٹیم کے لیے کارآمد ثابت نہ ہوسکے۔

پاکستان کے 2 تجربہ کار کھلاڑیوں کی طرح جنوبی افریقہ کے وکٹ کیپر بلے باز کوئنٹن ڈی کوک بھی اپنی ٹیم کے لیے کوئی نمایاں کارکردگی پیش نہ کرسکے۔

عاطف عنایت

پاکستانی وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ بلاشبہ وہ ایک ڈیڑھ سال سے ٹی20 فارمیٹ کے بہترین اوپنر کے روپ میں سامنے آئے ہیں لیکن اتنے بڑے فارمیٹ میں انہوں نے خود کو ثابت کرکے بتادیا کہ وہ دباؤ کا شکار نہیں ہوتے۔

رضوان کے علاوہ آسٹریلوی لیگ اسپنر ایڈم زمپا نے بھی اپنی بہترین گیندبازی سے بہت متاثر کیا۔ وہ ایک منجھے ہوئے لیگ اسپنر کے طور پر ابھرے اور دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی بنے۔

اگر یہاں جوس بٹلر نہ کریں تو یہ زیادتی ہوگی۔ انگلینڈ کے وکٹ کیپر اوپنر ایسے کھلاڑی ہیں جو تنِ تنہا میچ کا نقشہ پلٹ سکتے ہیں اور اس ورلڈ کپ میں انہوں نے یہ کرکے بھی دکھایا۔ بٹلر جس میچ میں بھی جمے رہے وہ یک طرفہ مقابلہ ثابت ہوا۔

اگر مایوس کرنے والی کھلاڑیوں کا ذکر کیا جائے تو ان میں سرِفہرست شکیب الحسن ہیں۔ ویسے تو بنگلہ دیش کی پوری ٹیم نے ہی مایوس کیا لیکن تجربہ کار اس فارمیٹ میں شکیب الحسن کے پاس سب سے زیادہ تجربہ تھا اور امید تھی کہ وہ اس تجربے سے فائدہ بھی اٹھائیں گے، مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا۔

یہاں ویسٹ انڈیز کے کپتان کیرون پولارڈ کا ذکر بھی ضروری ہے۔ پولارڈ نہ تو اپنی کپتانی سے کوئی اثر پیدا کرسکے اور نہ ہی اپنی کارکردگی سے کچھ ایسا کرنے میں کامیاب ہوئے کہ ان کی ٹیم پہلے ہی راؤنڈ میں باہر نہ ہو۔ ویسٹ انڈیز کی اس خراب کارکردگی کی وجہ سے اب اس ٹیم کو 2022ء میں منعقد ہونے والی ٹی20 ورلڈ کے لیے کوالفائنگ راؤنڈ کھیلنا ہوگا۔

مایوس کرنے والی کھلاڑیوں کی فہرست میں بھارتی کپتان ویرات کوہلی بھی شامل ہیں۔ عہدِ حاضر کے عظیم بلے باز تصور کیے جانے والے کوہلی کی کارکردگی بھی اس ورلڈ کپ میں کوئی قابلِ ذکر نہیں رہی۔ خاص طور پر پاکستان اور نیوزی لینڈ کے خلاف پریشر میچ میں وہ اپنا اصل رنگ دکھانے میں ناکام رہے اور یہی وہ 2 مقابلے تھے جس میں شکست کی وجہ سے بھارت پہلے ہی راؤنڈ میں ایونٹ سے باہر ہوگیا۔


ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل آپ کی فیورٹ ٹیم کون سی اور کیوں تھی؟


فہد کیہر

نیوزی لینڈ، دورۂ پاکستان پر کی جانے والی حرکت کے باوجود میری فیورٹ تھی کیونکہ وہ ایک پرفیکٹ ٹیم تھی۔ پہلی وجہ یہ کہ ٹی20 رینکنگ میں نمبر وَن تھے، پھر لائن اپ بہت عمدہ تھی، بیٹنگ سے لے کر باؤلنگ اور فیلڈنگ تک، ہر کھلاڑی بخوبی اپنا کردار ادا کر رہا تھا۔

ٹیم نے کارکردگی بھی بہت عمدہ دکھائی۔ فائنل میں بھی پہنچے لیکن یہاں ایک مرتبہ پھر آسٹریلیا ان کے سامنے آگیا جو اس مرتبہ ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی ’ٹاس‘ کی مدد سے جیت بھی گیا۔ اس لیے نیوزی لینڈ ایک مرتبہ پھر محض دل ہی جیت پایا۔

نیوزی لینڈ ایک پرفیکٹ ٹیم تھی—اے ایف پی
نیوزی لینڈ ایک پرفیکٹ ٹیم تھی—اے ایف پی

شہزاد فاروق

انگلینڈ، اور اس کی وجہ 2015 ورلڈکپ کے بعد انگلینڈ کی سوچ اور حکمتِ عملی رہی جس میں بہت زیادہ بہتری دیکھنے کو ملی۔ اس ٹیم کو دیکھ کر لگتا تھا کہ یہ میدان میں جیتنے کے لیے ہی اتری ہے۔ اگر ابتدائی وکٹیں گر بھی جائیں تو نیچے والے گھبراتے نہیں بلکہ اپنے نارمل کھیل کو جاری رکھتے ہیں۔ انگلینڈ نے یہ ٹورنامنٹ بھی ایسے ہی کھیلا لیکن نہایت اہم موقع پر انہیں پہلے بیٹنگ کرنی پڑگئی اور خاص کر اس ایونٹ میں انگلش ٹیم اس سے کتراتی نظر آئی۔

خرم ضیا خان

ٹی20 کے عالمی کپ کے آغاز سے قبل انگلینڈ کی ٹیم میری فیورٹ تھی۔ انگلینڈ نے 2015ء کے عالمی کپ میں شکست کے بعد جس انداز سے اپنی محدود اوور کی کرکٹ میں نکھار پیدا کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم پر نظر ڈالیں تو ان کے پاس گیندبازی اور بلے بازی میں متعدد ایسے کھلاڑی موجود تھے جو تنِ تنہا ٹیم کو جتوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انگلینڈ  نے 2015ء کے عالمی کپ میں شکست کے بعد جس انداز سے اپنی محدود اوور کی کرکٹ میں نکھار پیدا کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے— فوٹو: اے ایف پی
انگلینڈ نے 2015ء کے عالمی کپ میں شکست کے بعد جس انداز سے اپنی محدود اوور کی کرکٹ میں نکھار پیدا کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے— فوٹو: اے ایف پی

عاطف عنایت

یہ بڑا ہی دلچسپ سوال ہے اور میرے لیے تو اور بھی خاص ہے کیونکہ میں پہلے دن سے ہی پاکستان کو اس ورلڈ کپ کی فیورٹ ٹیم کہتا آیا ہوں اور وجہ پاکستانی ٹیم کا اس فارمیٹ میں شاندار ریکارڈ اور متحدہ عرب امارات کے حالات تھے۔

پاکستان نے ٹی20 کے فارمیٹ میں ہمیشہ ہی بہترین کھیل پیش کیا ہے اور متحدہ عرب امارات کے حالات ٹیم پاکستان کے لیے کافی موافق بھی تھے۔ چنانچہ مجھے لگتا تھا کہ پاکستان کی ٹیم یہ ورلڈ کپ جیت سکتی ہے اور پھر ٹیم نے کامیابیوں کا سلسلہ شروع بھی کیا تاہم ایک بُرا دن ساری امیدوں پر پانی پھیر گیا۔

مگر یاد رکھیے، ہم اچھا کھیلے، شاندار کھیلے اور جذبے سے کھیلے لہٰذا یہ ورلڈ کپ ہمارے لیے ہمیشہ یادگار رہے گا۔


فہیم پٹیل ڈان کے بلاگز ایڈیٹر ہیں۔ آپ کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔ آپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ یہ ہے: [email protected]