Dawn News Television Logo

زمیں خشک، حلق خشک، سندھ میں قلت آب کی بپتا

گزشتہ چند سال سے صوبے کو تاریخ کی بدترین پانی کی قلت کا سامنا ہے، بعض لوگ اسے غیر منصفانہ تقسیم کا سبب بھی قرار دیتے ہیں۔
اپ ڈیٹ 27 مئ 2022 12:07pm

’لوگ سمجھتے ہیں زمیندار ہیں، اچھی زندگی گزار رہے ہوں گے مگر انہیں کیا معلوم کہ اتنی اراضی ہونے کے باوجود بھی مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، زمین کو سیراب کرنا تو دور کی بات ہم تو اپنی پیاس بھی نہیں بجھا سکتے‘۔

راجا نوہڑیو کی آواز بھرا گئی، جذبات پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے پھر بات کرنا شروع کی۔

’زیر زمین پانی مکمل طور پر نمکین ہو چکا ہے جس کی وجہ سے ٹیوب ویل بھی نہیں لگا سکتے، پینے کا پانی بھرنے کے لیے بھی کوسوں دور جانا پڑتا ہے، میرا گاؤں جس میں تقریباً 2 سو گھر ہیں اور سب کے پاس اپنی اچھی خاصی زمینیں ہیں مگر ہر گھر میں سے نوجوان روزگار کی تلاش میں کراچی اور حیدرآباد میں مقیم ہے، نہ ان کی تعلیم مکمل ہوئی نہ زمینیں آباد ہو سکیں اور اس تمام صورتحال کی وجہ پانی کی قلت ہے۔

راجا نوہڑیو بدین کی تحصیل گولاڑچی کے مقامی زمیندار ہیں جو 40 ایکڑ وسیع زمین کے مالک ہونے کے باوجود مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو برس کے دوران پانی کی قلت نے سنگین صورتحال اختیار کرلی ہے۔

سندھ کو بدترین پانی کی قلت کا سامنا ہے—فائل فوٹو: ڈان
سندھ کو بدترین پانی کی قلت کا سامنا ہے—فائل فوٹو: ڈان

پانی کی اہمیت مسلمہ، ہر جاندار کی حیات اس سے جُڑی ہے، اس کی کمیابی زمینوں کو بنجر اور جانداروں کو پنجر میں تبدیل کردیتی ہے۔

پاکستان کو کئی برسوں سے پانی کی قلت کا سامنا ہے، گزشتہ کچھ دنوں سے سندھ بھر میں نہری پانی کی قلت کے باعث صورت حال خطرناک ہوتی جارہی ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف زراعت کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ گھریلو زندگی بھی شدید متاثر ہونے لگی ہے۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے بھی پانی کی سنگین قلت پر آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ میں پانی کی قلت ’انتہائی خطرناک‘ صورتحال ہے جس نے صوبے کی آبادی، زراعت، مویشیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

سندھ حکومت کے محکمہ آب پاشی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سندھ میں نہری پانی کی قلت 34 ہزار 262 کیوسک کے حساب سے 53 فیصد ہے اور آنے والے دنوں میں یہ قلت مزید بڑھنے کا امکان ہے.

گزشتہ تین برس سے سندھ بھر میں پانی کی قلت نے سندھ کی زراعت، زیر زمین پانی جس کو مقامی زبان مین ’جر‘ کہتے ہیں، آب و ہوا اور ماحولیات پر بھی بہت ناقص اثرات چھوڑے ہیں۔

صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا فارمولا کیا ہے؟

پانی کی قلت سے نہ صرف زمینیں خشک ہیں بلکہ پینے کا پانی بھی محدود ہوتا جا رہا ہے—فوٹو: پی پی آئی
پانی کی قلت سے نہ صرف زمینیں خشک ہیں بلکہ پینے کا پانی بھی محدود ہوتا جا رہا ہے—فوٹو: پی پی آئی

پانی کی قلت پر موجودہ صورتحال پر آگے بڑھنے سے پہلے سال 1991 میں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے حوالے سے قائم ہونے والے معاہدے کا ذکر کرنا لازمی ہے۔

سال 1991 میں چاروں صوبوں کے درمیان دریائے سندھ کی پانی تقسیم پر ایک معاہدہ تشکیل دیا گیا تھا اس معاہدے کے تحت سندھ کو ربیع اور خریف کی موسم میں 48.76 فیصد پانی دیا جائے گا مگر کافی برسوں سے اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے سندھ میں قحط کی صورتحال پیدا ہونے لگی ہے اور سندھ میں 52.3 فیصد پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے جس نے کاشتکاروں اور کسانوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کردیا ہے۔

سندھ میں پانی کی فراہمی کے لیے سکھر بیراج، گدو بیراج، کوٹڑی بیراج شہ رگ کا کام کرتی ہیں مگر موجودہ صورتحال میں وہاں پانی نہ ہونے کے برابر ہے۔

سندھ کے بیراجوں میں پانی کی کیا صورتحال ہے؟

بیراجوں میں پانی کی سطح مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے—فائل فوٹو: ڈان
بیراجوں میں پانی کی سطح مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے—فائل فوٹو: ڈان

قارئین کو یہ بات بھی جاننا ضروری ہے کہ 1991 کے پانی معاہدے کے مطابق سندھ کے تینوں بیراجوں میں ہر دس دن بعد پانی کا اندراج تبدیل ہوتا رہتا ہے، رواں ہفتے سندھ کی بیراجوں میں پانی کی صورتحال کچھ اس طرح ہے۔

کوٹڑی بیراج: پانی معاہدے کے تحت کوٹڑی بیراج میں پانی کا اندراج 15 ہزار 700 کیوسک ہے جبکہ وہاں سے 5 ہزار 210 کیوسک پانی اخراج ہو رہا ہے اس لحاظ سے کوٹڑی بیراج میں پانی کی قلت 69 فیصد کیوسک ہے۔

سکھر بیراج: پانی کی تقسیم معاہدے کے مطابق سکھر بیراج کو 39 ہزار 500 کیوسک پانی دینا ہے مگر اس کے برعکس سکھر بیراج میں اس وقت پانی 37 ہزار890 کیوسک تک ہے جس کی وجہ سے وہاں پانی کی قلت 49 فیصد ہے، یاد رہے کہ سکھر بیراج سے نکلنے والی رائیس کینال اور کھیرتھر کینال اس وقت بند ہیں مگر امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند روز میں ان کو کھولا جائے گا۔

گدو بیراج: گدو بیراج میں معاہدے کے تحت پانی کا اندراج 6 ہزار 500 کیوسک ہونا چاہیے مگر اس کے برعکس گدو بیراج میں اندراج اور اخراج 46 ہزار 945 کیوسک تک ہے جس کی وجہ سے گدو بیراج میں 91 فیصد تک پانی کی قلت ہے اور وہاں سے نکلنے والی چار نہروں میں پانی کا اخراج 6 سو 27 کیوسک ہے۔

یہاں قارئین کو اس بات سے بھی آگاہ کرنا لازم ہے کہ وفاقی وزارت برائے آبی وسائل کی طرف سے تشکیل دی گئی مشترکہ ٹیم نے گزشتہ ہفتے گدو اور سکھر بیراجوں کی پیمائش مکمل کرنے کے بعد یہ واضح کیا ہے کہ تونسہ ڈاؤن اسٹریم اور گدو اپ اسٹریم کے درمیان پانی کا بہاؤ’ کم ‘ ہونے کا سندھ کا دعویٰ درست ہے۔

اس صورتحال میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے ہر روز اعداد و شمار جاری ہوتے ہیں، ارسا کے اعداد و شمار کے مطابق کوٹڑی بیراج میں اپ اسٹریم پانی کا بہاؤ 5 ہزار 210 کیوسک ہے جبکہ ڈاؤن اسٹریم پانی کا بہاؤ 100 کیوسک ہے اور کینالوں میں پانی کا اخراج5 ہزار 250 کیوسک ہے۔

اسی طرح سکھر بیراج میں اپ اسٹریم پانی کا بہاؤ 37 ہزار890 کیوسک ہے جبکہ ڈاؤن اسٹریم پانی کا بہاؤ 14 ہزار 510 کیوسک ہے اور کینالوں میں پانی کا اخراج 23 ہزار380 کیوسک ہے, جبکہ گدو بیراج میں اپ اسٹریم پانی کا بہاؤ 46 ہزار 945 کیوسک اور ڈاؤن اسٹریم پانی کا بہاؤ 44 ہزار 626 کیوسک ہے اور گدو سے نکلنے والی نہروں میں اس وقت 2319 کیوسک تک پانی جا رہا ہے۔

اہم فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ

جامشورو کے قریب سندھو دریا کے پیٹ خشک ہو چکا—فوٹو: عمیر علی/ ڈان
جامشورو کے قریب سندھو دریا کے پیٹ خشک ہو چکا—فوٹو: عمیر علی/ ڈان

پانی کے معاملے پر مسلسل رپورٹنگ کرنے والے سینیر صحافی ممتاز بخاری کا کہنا ہے کہ اس وقت سندھ میں پانی قلت سنگین صورتحال اختیار کر گئی ہے اور اگر یہی صورتحال جاری رہی تو سندھ میں خریف اور موسم گرما میں ہونے والا فصل جس میں کپاس، چاول، لیموں شامل ہیں وہ سخت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ممتاز بخاری کا کہنا ہے کہ سندھ میں پانی کا ایک اہم ذریعہ کابل ندی ہے جس میں اس وقت پانی کچھ بہتر ہوا ہے مگر وہاں سے آنے والا پانی بھی تاحال سندھ میں نہیں پہنچا اور سندھ کا ارسا سے یہ اعتراض ہے کہ وہ چشمہ جہلم کینال سے 2 ہزار کیوسک پانی پنجاب کو منگلا ڈیم میں ذخیرہ کرنے کے لیے دے رہی ہے۔

سندھ میں پانی کے بحران سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ممتاز بخاری نے کہا کہ اب سندھ میں خریف کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے جس کی وجہ سے کپاس، چاول، گنے، کیلے اور لیموں کے کاشتکاروں کو پریشانی کا سامنا ہے۔

سندھ کے مخلتف شہروں میں اس وقت پانی کی قلت کے خلاف احتجاجی تحریکوں میں بھی تیزی آ گئی ہے، ضلع شہید بینظیر آباد جو کہ سابق صدر آصف علی زرداری کا آبائی علاقہ ہے، کی تحصیل سکرنڈ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ایاز پرھیار نے بتایا کہ بحیثیت ویٹرنری ڈاکٹر میں پوری تحصیل میں گھومتا رہتا ہوں اور جس علاقے میں بھی جاتا ہوں وہاں لوگ پانی کے بحران پر غم و غصہ میں ہوتے ہیں اور وہ کسی بڑی تحریک کا انتظار کرتے ہیں، ایاز پرھیار نے بتایا کہ اب لوگوں میں پانی پر بے چینی پیدا ہونے لگی ہے۔

سیہون جو کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا شہر ہے، سے تعلق رکھنے والے نوجوان سجاد ڈیتھو نے بتایا کہ ایشیا کی تازہ پانی کی بڑی جھیلوں میں شمار ہونے والی منچھر جھیل میں پانی کی سطح نہایت کم ہوچکی ہے، سجاد نے کہا کہ مقامی لوگ میٹھے پانی کی تلاش میں کوسوں دور جاتے ہیں اور اب پانی کی موجودہ صورتحال سے حالات مزید بگڑنے لگے ہیں۔

پانی کے معاملات پر تحقیقی کام کرنے والے اور کالاباغ ڈیم پر کتاب لکھنے والے ماہر آب ادریس راجپوت کا کہنا ہے کہ اس وقت واپڈا اپنے ایک پروجیکٹ کو مکمل کرنے کے لیے گزشتہ تین مہینوں سے تربیلا ڈیم میں پانی جمع کیا ہے جس کی وجہ سے دریائے سندھ میں پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اب موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بارشیں کم ہو رہی ہیں اس لیے پانی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔

پانی کی حالیہ قلت کا کراچی پر کتنا اثر پڑے گا؟

دیگر شہروں کی طرح دارالحکومت بھی پینے کی پانی کی قلت سے سخت متاثر ہوگا—فائل فوٹو: اے پی
دیگر شہروں کی طرح دارالحکومت بھی پینے کی پانی کی قلت سے سخت متاثر ہوگا—فائل فوٹو: اے پی

ہر دن کراچی میں ملک کے بیشتر علاقوں سے لوگ روزگار کی تلاش میں آتے ہیں جس کی وجہ سے کراچی میں آبادی دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے، آبادی بڑھنے سے کراچی میں بجلی، پانی اور گیس کی طلب میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

کراچی میں پانی کی قلت کا مسئلہ ہمیشہ سے ہی رہا ہے مگر جب سے ٹینکر مافیا نے زور پکڑا ہے تب سے کراچی میں پینے کے پانی کی قلت خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے۔

کراچی میں یومیہ پانی کی طلب 1.2 بلین گیلن ہے مگر اس کے برعکس کراچی کو صرف 60 کروڑ گیلن یومیہ پانی ملتا ہے مگر وہ بھی پانی کی خراب لائنوں، ٹینکر مافیا کی ملی بھگت کی وجہ سے منصفانہ بنیادوں پر کراچی کے شہریوں تک نہیں پہنچتا۔

کراچی کو پانی دھابیجی جھیل، کینجھر جھیل اور حب ڈیم سے ملتا ہے، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے تعلقات عامہ کے افسر عبدالقادر شیخ کا کہنا ہے کہ اس وقت کراچی میں یومیہ ایک سو کروڑ گیلن پانی کی طلب ہے مگر حاصل ہونے والا پانی 58 کروڑ گیلن ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں پانی کی قلت نہیں ہے مگر آبادی بڑھنے کی وجہ سے مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس میں دھابیجی جھیل کے ذریعے کینجھر جھیل سے 48 کروڑ گیلن یومیہ پانی آتا ہے جبکہ حب ڈیم سے ایک سو کروڑ گیلن یومیہ پانی ملتا ہے، مگر اس وقت جب سندھ بھر میں پانی کی قلت سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے تو کراچی میں بھی پانی کی قلت بڑھنے کا خطرہ سامنے آیا ہے۔

کینجھر جھیل کے اسسٹنٹ انجنیئر نے بتایا کہ جھیل میں پانی کی سطح ڈیڈلیول کے قریب پہنچ گئی، جھیل میں پانی کی سطح 56 سے کم ہوکر 48 فٹ پر آگئی ہے اور پانی کا لیول 42 فٹ ہونے پر کراچی کو پانی کی فراہمی بند ہوجائے گی جبکہ سندھ حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کینجھر جھیل میں 47 فٹ پانی موجود ہے۔

چند سال سے سندھ کو تاریخ کی بدترین پانی کی قلت کا سامنا ہے—فائل فوٹو: پی پی آئی
چند سال سے سندھ کو تاریخ کی بدترین پانی کی قلت کا سامنا ہے—فائل فوٹو: پی پی آئی