Dawn News Television Logo

بجٹ 23ء-2022ء: ’متوازن بجٹ ہے، لیکن منی بجٹ کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا‘

ان معاشی حالات میں قوم کو اس سے زیادہ سخت بجٹ کا خدشہ تھا اور وزیرِ خزانہ نے خود تقریر کے آغاز میں اس بات کا ذکر کیا تھا۔
شائع 10 جون 2022 08:33pm

وزیرِ خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے آج قومی اسمبلی میں مالی سال 23ء-2022ء کا بجٹ پیش کردیا ہے۔ اس اتحادی حکومت کے آنے سے قبل یہ کہا جارہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے جانے کے بعد جو بھی حکومت آئے گی اس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج بجٹ کی صورت میں آئے گا۔

یہ بات درست ثابت ہوئی اور گزشتہ 2 ماہ کی معاشی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ بجٹ مزید اہمیت اختیار کرگیا۔ بجٹ تقریر میں وزیرِ خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے ملک کی ابتر معاشی حالت کا ذمہ دار گزشتہ حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت جو اتحادی حکومت موجود ہے اسے رائے عامہ کے 60 فیصد سے زائد کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم چاہتے ہیں کہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام بالخصوص غریب عوام کو ریلیف دیا جائے۔

وزیرِ خزانہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کا اعلان کیا اور سالانہ 12 لاکھ روپے تک آمدن والے افراد کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے بجٹ تقریر میں مختلف ذرعی آلات اور کئی اجناس کے بیچوں پر سیلز ٹیکس واپس لینے اور کچھ ذرعی آلات پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے بھی اعلان کیا۔

مفتاح اسمٰعیل نے بجٹ تقریر میں واضح طور پر کہا کہ انہیں حکومت میں آنے سے پہلے ہی معاشی ابتری کا اندازہ تھا اور وہ یہ جانتے ہوئے بھی حکومت میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ معیشت کو مستحکم کیے بغیر انتخابات کی جانب جاسکتے تھے لیکن اس طرح معیشت مزید خراب ہوجاتی۔ مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ ان کی حکومت نے معیشت میں بہتری کے لیے مشکل فیصلے لیے۔ ان کے مطابق یہ راستہ مشکل ضرور ہے لیکن دیرپا ترقی کا راستہ یہی ہے۔

ڈان بلاگز نے سینئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں سے مالی سال 23ء-2022ء کے بجٹ سے متعلق ان کی رائے جاننے کی کوشش کی اور یہ معلوم کیا کہ اس بجٹ کے اتحادی حکومت کی سیاست پر کیا اثرات ہوں گے۔


مبشر زیدی


میرے خیال میں پاکستان کے مشکل معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے اس بجٹ کو ایک متوازن بجٹ کہا جاسکتا ہے۔ اس بجٹ کے ذریعے یہ کوشش تو کی گئی ہے کہ کم آمدنی والوں کو کچھ ریلیف دیا جائے اگرچہ مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے لیکن اس بجٹ نے کم از کم ان کی ٹوٹی ہوئی کمر پر مزید بوجھ نہیں ڈالا ہے۔ پھر حکومت نے انکم ٹیکس سے مستثنیٰ آمدن کی حد بھی 6 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ سالانہ کردی ہے جو ایک اچھی بات ہے۔

جیسا کہ میں نے ابھی کہا کہ اس بجٹ میں ایک توازن قائم کرنے کی کوشش تو کی گئی ہے لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ اس قسم کے بجٹ زیادہ عرصے چل نہیں پاتے، 2، 3 مہینے کے اندر ہی ایک منی بجٹ آجاتا ہے اور اصل بجٹ کے اہداف سے روگردانی شروع کردی جاتی ہے۔ ظاہر ہے اس کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ تیل کی قیمتیں کس سطح پر رہتی ہیں۔

اس بجٹ کی ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر اور زیادہ آمدن والے افراد پر توجہ دی گئی ہے اور اگر ٹیکس کے حوالے سے ریئل اسٹیٹ کے شعبے کو قائل کرلیا جاتا ہے جو بہت مشکل ہے تو یہ اچھی چیز ہوگی۔

ہمارے یہاں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بہت کم ہے، یعنی یہ 6 سے 8 فیصد رہتی ہے، لیکن جب تک یہ 12 سے 13 فیصد نہیں ہوتی تب تک آپ ٹیکس نظام کے اندر کوئی بڑی بہتری نہیں لاسکتے۔ ٹیکس کے حوالے سے نئے شعبے تلاش کرنا ضروری ہیں، اس حوالے سے اس بجٹ میں بھی چھوٹے ریٹیلرز پر فکس ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ بھی اچھی بات ہے کہ اس ٹیکس کو بجلی کے بل میں شامل کیا گیا ہے جس سے ریکوری کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ لیکن ہمارے ٹیکس ریکوری کے نظام میں مجموعی طور پر بہت مسائل ہیں جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔

حکومت نے فلم انڈسٹری کو بھی پیکج دیا ہے اور ملک کے اندر فلم کی شوٹنگ پر ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز دی ہے جو کہ اچھا قدم ہے۔ اس سے سیاحت میں بھی اضافہ ہوگا اور فلم کی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔

پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت کے اوپر جتنا دباؤ تھا اس میں حکومت کو اسی قسم کا بجٹ دینا تھا۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت کس حد تک اس پر عمل درآمد کروا سکے گی اور جس طرح میں نے پہلے کہا کہ عموماً ایسے بجٹ کے کچھ ماہ بعد منی بجٹ کی آوازیں آنے لگتیں ہیں، اور مجھے اس بجٹ کے بعد بھی اب ایک منی بجٹ آنے کے امکانات نظر آرہے ہیں۔ یہ منی بجٹ صرف اس صورت میں نہیں آسکتا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بالکل گر جائیں۔

اگر ہم پی ٹی آئی کے تناظر میں بات کریں تو ملک میں مہنگائی پہلے ہی اتنی بڑھ چکی تھی کہ اس بجٹ سے اس میں مزید اضافہ نہیں ہوسکتا تھا۔ اس وجہ سے عمران خان اس بجٹ کے بجائے ملک میں جاری مہنگائی کی لہر کو ہی استعمال کریں گے اور شاید انہیں بجٹ کو حکومت کے خلاف استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

ایک اہم بات دفاعی بجٹ بھی ہے۔ دیکیھے جب ہر حکومتی شعبے میں بجٹ میں کمی کی باتیں ہورہی ہیں تو ظاہر ہے کہ دیگر اداروں کو بھی اس بات پر غور کرنا چاہیے تھا کیونکہ ظاہر ہے وہ بھی حکومت کا ہی حصہ ہیں۔ عمران خان نے بطور وزیرِاعظم کچھ ماہ قبل ہی فوج کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا، ایسی صورتحال میں اداروں کو بھی سوچنا چاہیے کہ اگر ملکی معیشت بجٹ میں اضافے کی متحمل نہیں ہوسکتی تو پھر اس سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔


عارفہ نور


دیکھیے میرے خیال میں یہ حکومت کے لیے ایک مشکل سال ہوگا۔ ہماری معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم قرض لے کر ملک چلاتے ہیں اور ہمارے پاس اس کا کوئی حل بھی موجود نہیں ہے۔ موجودہ بجٹ سے بھی اندازہ ہورہا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کی مد میں کتنی رقم خرچ کرنی ہے، اور پھر بجٹ خسارہ بھی آپ کے سامنے ہے۔

اس تمام صورتحال میں موجودہ حکومت کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ کوئی بڑی اصلاحات کرسکیں اور یہ آخری سال ہے اور آگے انتخابات آرہے ہیں۔ پھر تونائی کے بحران، نجکاری اور اس جیسے دیگر اہم اور بڑے فیصلے ایک سال میں نہیں ہوسکتے۔

آسان سی بات یہ ہے کہ ہم خرچ بہت زیادہ کرتے ہیں اور ہماری آمدن بہت کم ہے۔ ان حالات میں ہر کوئی برآمدات کی بات کرتا ہے لیکن برآمدات میں مشکل یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں مجموعی طور پر معاشی بحران شروع ہوچکا ہے۔ معاشی بحران کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے برآمدی آرڈرز پر بھی اثر پڑے گا۔

خرچوں پر مزید بات کی جائے تو ہمارے ریاستی ملکیت میں موجود ادارے (اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائز) ہمارے نقصانات کی اہم وجہ ہیں۔ ان اداروں کے اخراجات کو کم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے اور وہ یہ کہ آپ ان کی نجکاری کردیں۔ ظاہر ہے کہ جب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں اپنی پوری مدت میں اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اپنے 4 سالوں میں بھی ان اداروں کو نجی ملکیت میں نہیں دے سکے تو اب ایک سال کے اندر یہ کام کیسے ہوسکتا ہے؟

اس بجٹ میں ٹیکس کے حوالے سے ریئل اسٹیٹ کے شعبے پر توجہ دی گئی ہے اور اس سے مراعات کو کم کیا گیا ہے۔ میرے خیال میں یہ درست سمت میں ایک قدم ہے لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ اس پر کس حد تک عمل ہوتا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ ریئل اسٹیٹ شعبہ بہت مضبوط لابی رکھتا ہے۔ اب یہاں بھی حکومت کو اپنی مدت کا مسئلہ ہی درپیش آئے گا کہ ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ اس حوالے سے کوئی اصلاحات لائی جاسکیں۔


نادیہ مرزا


ان سخت معاشی حالات میں قوم کو اس سے زیادہ سخت بجٹ کا خدشہ تھا، اور وزیرِ خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے خود تقریر کے آغاز میں اس بات کا ذکر کیا لیکن شاید حکومت نے زیادہ مشکل اور سخت فیصلے بعد کے لیے چھوڑ دیے ہیں۔ میرے خیال میں ان حالات میں اس سے بہتر بجٹ نہیں آسکتا تھا۔

حکومت نے اس بجٹ میں انکم ٹیکس میں کچھ ریلیف دیا ہے اور غریبوں کے لیے سبسڈی کا اعلان کیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بجٹ میں عموماً تنخواہ دار طبقہ ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے اور بجٹ میں اس کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور ماہانہ ایک لاکھ روپے تک آمدن والوں کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔ پھر حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بھی اضافہ کیا ہے۔ یہ تمام وہ اقدامات ہیں جن پر اپوزیشن کو سیاست کرنا مشکل ہوگی۔

اس بجٹ کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ عوام اب اس حکومت سے سوال نہیں کریں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ سیاستدان ہمیں الفاظ کے جس گورکھ دھندے میں پھنساتے ہیں اس سے عوام کو کوئی غرض نہیں۔ آج ہمیں بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کی جانب سے پیٹرول پر دی جانے والی سبسڈی درست نہیں تھی لیکن اس وقت یہی اپوزیشن جو آج حکومت میں ہے کہتی تھی کہ ہمارے مہنگائی مکاؤ مارچ کے دباؤ میں یہ فیصلہ ہوا۔

عوام کو صرف اس بات سے مطلب ہوتا ہے کہ آٹے دال کا کیا بھاؤ اور پیٹرول اور بجلی کے نرخ کیا ہیں، اس ضمن میں سخت فیصلے حکومت کو نقصان تو پہنچائیں گے۔


ابصا کومل


مسلم لیگ (ن) کے لیے یہ یقیناً ٹیسٹ کیس تھا، پچھلے کچھ دنوں سے وہ یہ بات دہرا رہے ہیں کہ یہ اتحادی حکومت ہے تاکہ ہر چیز کا بوجھ صرف مسلم لیگ (ن) پر نہ آئے اور اس کا اثر ہم نے آج دیکھا بھی کہ ترقیاتی شعبوں (psdp) میں صوبوں کے حصوں کو بڑھایا گیا ہے جس سے مسلم لیگ (ن) فائدہ اٹھانے کی بھی کوشش کررہی ہے۔ بجٹ تقریر میں بتایا گیا کہ بلوچستان کے حوالے سے حکومت زیادہ زور دے رہی ہے اور وہاں سب سے زیادہ پیسہ خرچ کیا جارہا ہے۔ ان باتوں سے مسلم لیگ (ن) نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ بجٹ اتحادی حکومت نے ملکر بنایا ہے اور تمام جماعتوں کے نقطہ نظر کو شامل کیا گیا ہے تاکہ اس کا بوجھ سب ملکر اٹھا سکیں۔

لیکن اس کے باوجود میں یہ کہنا چاہوں گی کہ اچھے اقدامات کا کریڈٹ لینے کی کوشش سب کریں گے جیسے تنخواہوں میں اضافے کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ پیپلزپارٹی کا کردار زیادہ ہے یا مریم اورنگزیب صاحبہ کہہ رہی ہیں کہ 10 فیصد اضافے کو وزیرِاعظم شہباز شریف نے مسترد کیا تھا اور پھر 15 فیصد کیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ جب بھی انتخابات میں جانے کی بات ہوگی تو اس کا فائدہ مسلم لیگ (ن) کو ہی ہوگا، لیکن اسی طرح اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اسی طرح برقرار رہتی ہیں تو اس کا نقصان بھی ن لیگ کو ہی ہوگا، لہٰذا دیکھنا یہ ہوگا کہ اس کو کم کرنے کے لیے دوست ممالک سے بات کرنے میں حکومت کتنی کامیاب رہتی ہے۔

اس بجٹ میں جو ایک اہم پہلو رہا وہ صنعتی شعبے سے متعلق رہا کیونکہ کہا گیا ہے کہ صنعتی شعبے کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے کیونکہ یہ پورا شعبہ شدید تشویش کا اظہار کررہا تھا اور اس حوالے سے وزیرِاعظم سے کئی ملاقاتیں بھی ہوئی تھیں۔ اس فیصلے کا یقیناً ہماری برآمدات اور درآمدات پر مثبت اثر پڑے گا۔

ہر بار کی طرح اس بار بھی دفاعی بجٹ زیرِ بحث رہے گا کیونکہ ہم ہمیشہ ہی دفاع کو صحت اور تعلیم کے بجٹ سے جانچنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے صحت کے لیے 24 ارب روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے اور دفاع کے لیے 1523 ارب روپے کا بجٹ ہے، لیکن اگر ہم علاقائی اور پھر عالمی حالات کو دیکھیں تو صورتحال سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔

اگر ہم پڑوسی ملک بھارت کی بات کریں تو اس سال وہاں بھی دفاعی بجٹ میں 10 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پھر اس میں ایک تکنیکی پہلو یہ بھی ہے کہ دفاع وفاق کے ماتحت آتا ہے جبکہ صحت اور تعلیم کا اختیار صوبوں کے پاس ہے، اور 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اپنے کاموں میں بااختیار کردیا گیا ہے۔ اس لیے میں یہ سمجھتی ہوں کہ علاقائی اور عالمی حالات میں اس وقت جب بجٹ بڑھایا گیا ہے، تو وہ مناسب ہے۔

مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو حکومت نے انتہائی مشکل حالات میں بجٹ پیش کیا، خاص کر آئی ایم ایف کی جو شرائط ہیں اور پھر جو قرضے ہیں۔ ان مسائل کے باوجود معاشی ترقی کا ہدف 5 فیصد رکھا گیا ہے اور ٹیکس وصولی کے حوالے سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو ہدف بنایا گیا ہے جو ٹیکس نہیں دیتے۔ ہاں مہنگائی ایک بڑا مسئلہ ہے اور یہ صرف ہمارا نہیں پوری دنیا کا ہے، اس لیے میں اس بجٹ کو مشکل ترین حالات میں پیش کیا جانے والا بجٹ سمجھتی ہوں جس کے نتائج آنے میں کچھ وقت لگے گا۔


فہیم پٹیل ڈان کے بلاگز ایڈیٹر ہیں۔ آپ کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔ آپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ یہ ہے: [email protected]


عمید فاروقی ڈان کے اسٹاف ممبر ہیں