Dawn News Television Logo
لاشیں انسانوں کی ہوتی ہیں تو ان کو نکالنے میں ان سے نفرت کیسی، ہم بھی انسان ہیں —فوٹو: بشکریہ فیس بک

’لاشیں انسانوں کی ہیں تو نفرت کیسی‘

ڈوبنے والے انسان ہیں، ان کو نکال کر آخری رسومات کے ساتھ دفن کرنا ثواب کا عمل ہے، محمد علی میرانی
اپ ڈیٹ 06 اگست 2022 05:37pm

'لاشیں انسانوں کی ہوتی ہیں تو ان کو نکالنے میں ان سے نفرت کیسی، ہم بھی انسان ہیں اور ڈوبنے والے بھی انسان تو انہیں نکال کر آخری رسومات کے ساتھ دفن کرنا ثواب کا عمل ہے۔'

یہ کہنا تھا سکھر کے ماہی گیر اور غوطہ خور محمد علی میرانی کا جنہوں نے گزشتہ کچھ روز میں سکھر بیراج سے کئی لاشیں نکالی ہیں۔

محمد علی میرانی کا تعلق سکھر سے ہے اور وہ پیشہ ور ماہی گیر اور غوطہ خور ہیں، ان کا یہی فن دیکھ کر ایدھی اور پولیس بھی پانی کے تیز بہاؤ میں سکھر بیراج سے برہنہ اور گلی ہوئی لاشیں نکالنے میں ان سے مدد طلب کرتے ہیں۔

—فوٹو: اسکرین شاٹ
—فوٹو: اسکرین شاٹ

محمد علی میرانی نے دریائے سندھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عام دنوں میں دریائے سندھ میں ایک تو پانی کی قلت ہوتی ہے اور پھر کبھی کبھار کوئی لاش تیرتی آتی ہے تو نکال کر متعلقہ حکام کے حوالے کردیتے ہیں مگر گزشتہ کئی دنوں سے یہاں متعدد لاشیں تیرتی ہوئی آئی ہیں جس کی وجہ موسلا دھار بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال ہے۔

محمد علی نے کہا کہ ' کچھ ایسی لاشیں ہوتی ہیں جو کئی روز سے پانی میں ہونے کی وجہ سے گل چکی ہوتی ہیں اور جب ان کو نکالنے کے لیے غوطہ خوری کے ذریعے پانی میں جاتا ہوں تو ہاتھ لگانے سے کچھ لاشوں کے اعضا بھی الگ ہو جاتے ہیں مگر میں ثواب کا کام سمجھ کر انہیں نکالنے میں کامیاب ہوتا ہوں۔'

—فوٹو: ٹوئٹر
—فوٹو: ٹوئٹر

محمد علی نے بتایا کہ وہ گزشتہ 13 برس سے لاشیں نکال رہے ہیں کیونکہ عام دنوں میں وہ دریائے سندھ سے مچھلی کا شکار کرنے کے لیے کشتی چلاتے ہیں، جب انہیں پانی سے لاش نکالنے کا کہا جاتا ہے تو وہ پل پر سے چھلانگ مارتے ہیں اور یوں غوطہ خوری کے ذریعے لاش تک پہنچتے ہیں اور لاش کو ہاتھوں سے پکڑ کر مچھلی کے جال سے بنے جھولے میں ڈالتے ہیں اور باہر کھڑے لوگ لاش کو باہر نکالتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی گہرائی اتنی ہو چکی ہے کہ کبھی کبھی شدید بہاؤ کی وجہ سے وہ پانی اوپر آنے لگتا ہے اور ایسے میں نہ تو کشتیاں چل سکتی ہیں اور نہ ہی اتنے گہرے پانی میں کوئی جاسکتا ہے لہٰذا شاید خدا نے یہ فلاحی کام میرے نصیب میں لکھا تھا تو میں نے لاشیں نکالنے کو کوئی عیب نہیں سمجھا۔

محمد علی میرانی نے کہا کہ میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں اور کوئی کمانے والا نہیں۔

تاہم سوشل میڈیا پر محمد علی میرانی کے بیانات اور تصایر وائرل ہونے کے بعد محکمہ آب پاشی نے انہیں ملازمت دینے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن سکھر کے سرکل انچارج گل مہر نے ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کو بتایا کہ دو ہفتوں میں دریائے سندھ سے کل28 لاوارث لاشیں نکالی گئی ہیں جن کو تمام رسومات کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ہے۔

گل مہر نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں دریائے سندھ کے سکھر بیراج میں مختلف مقامات سے 7 خاتون سمیت 28 لاوارث لاشیں نکالی گئی ہیں جن کو پولیس کی نگرانی میں سکھر کے نواں گوٹھ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ہے۔

سکھر میں دریائے سندھ کے قریب رہنے والے علاقہ مکیوں کا کہنا ہے کہ لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ روز بھی دو لاشیں نکالی گئی ہیں، مجموعی طور پر سکھر بیراج سے نکالی گئی لاشوں کی تعداد 82 سے زائد ہے مگر 30 کے قریب لاشیں دریا میں دیکھی گئی ہیں۔

لاشیں کہاں سے آتی ہیں؟

سکھر بیراج سے ملنے والی لاشوں پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ وہ لاشیں صرف سندھ سے ہی آتی ہیں مگر سکھر کے سینیئر صحافی ممتاز بخاری نے بتایا کہ سکھر بیراج سے ملنے والی لاشوں کی وجوہات مختلف ہیں جن میں خاص طور پر یہ اسباب ہیں کہ ایک تو پنجاب سے سندھ تک کچے کے علاقوں میں رہنے والے مقامی لوگ جب اپنے پیاروں کی میتیں قبرستان میں دفن کرتے ہیں تو وہ پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے نکل جاتی ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ برہنہ لاشیں ہوتی ہیں۔

ممتاز بخاری نے کہا کہ مسلسل لاشیں ملنے کا دوسرا سبب یہ ہے کہ ہندو اور سکھ برادری کے کچھ لوگ رسمی طور پر لاشوں کو دریا برد کرتے ہیں اور گزشتہ دو ہفتوں سے ملنے والی 28 لاشوں میں سے 3 کی شناخت ہندو برادری کے افراد سے ہوئی ہے جن کو دریا برد کیا گیا تھا اور انتظامیہ نے شناخت ہونے کے بعد ایک بار پھر ان تینوں لاشوں کو دریا برد کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ سے ملنے والی لاشوں کا ایک اور سبب کارو کاری جیسی گھٹیا روایت ہے اور کچھ لوگ عورت یا مرد کو کارو کاری کے تحت قتل کرکے لاشیں دریا میں پھینک دیتے ہیں جو بہتی ہوئی بیراج میں کہیں پھنس جاتی ہیں۔

ممتاز بخاری نے مزید کہا کہ ایک اور اہم سبب ہے کہ پنجاب کے علاقے راج پور میں کچھ روز قبل ایک کشتی الٹ گئی تھی جس میں ایک سو زائد مسافر سوار تھے اور پانی گہرا ہونے کی وجہ سے بہت سے مسافروں کی لاشیں لاپتا ہو گئی تھیں تو ممکن ہے کہ وہ لاشیں بھی یہاں پہنچی ہوں جس کے لیے ایس ایس پی سکھر نے راج پور میں متعلق حکام کو خط لکھا ہے۔

ممتاز بخاری نے کہا کہ دو ہفتوں میں سکھر بیراج سے 28 لاشیں ملی ہیں جن میں سے 25 کی پہچان ہو چکی ہے جبکہ تین لاش ہندو برادری کی ہیں جن کی پہچان ان کے جسم پر لکھے ’اوم‘ سے ہوئی ہے کیونکہ یہ الفاظ ہڈیوں تک گہرے لکھے ہوتے ہیں۔

سکھر پولیس کے ترجمان بلال میر لغاری کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث اس بات کا بھی تعین کیا جا رہا ہے کہ تربیلا ، چاچڑاں اور گدو کے علاوہ کس مقام سے لاشیں دریائے سندھ میں بہتی ہوئی سکھر بیراج پہنچیں۔

ترجمان کے مطابق گزشتہ سال بھی دریاؤں میں سیلابی صورتحال کے باعث سکھر بیراج کے مختلف گیٹس پر موجود 31 لاشوں کو نکالا گیا تھا جبکہ اس مہینے 28 لاشیں نکال کر ایدھی کے حوالے کی گئی ہیں۔

سکھر بیراج میں پانی کی صورتحال کیا ہے؟

—فوٹو: اسکرین شاٹ
—فوٹو: اسکرین شاٹ

کچھ ماہ قبل سندھ بھر میں پانی کی قلت نے وسیع پیمانے پر عوامی تحریکوں کو جنم دیا، کاشتکار، آباد گار آئے دن احتجاجی مظاہرے کیا کرتے تھے مگر مون سون کی حالیہ بارشوں نے ملک بھر میں سیلابی صورتحال پیدا کردی ہے اور سندھ کے دادو، کاچھو، سیہون کے کچھ علاقے، کچو اور قمبر میں سیکڑوں ایکڑ زمین زیر آب آ چکی ہے جبکہ رہائشیوں کے گھر بھی سیلاب میں بہہ چکے ہیں۔

محکمہ آب پاشی سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق سکھر بیراج میں اس وقت بالائی سطح کا بہاؤ 2 لاکھ 69 ہزار 245 کیوسک ہے جبکہ نیچے کی طرف پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 48 ہزار 85 کیوسک ہے۔