Dawn News Television Logo

کیا کیا نہ ہمیں یاد آیا، جب یاد تیری آئی۔۔۔ قیامِ پاکستان کے چشم دید واقعات کا بیان

جب کسی اسٹیشن پر معلوم ہوتا کہ یہاں مسلمانوں کو مارا جارہا ہے تو دل پر پتھر رکھ کر خاندان کی خواتین سے کہا جاتا کہ برقعے اتاردیں۔
شائع 14 اگست 2022 10:16am

ایک نئی دنیا کے خواب آنکھوں میں بسائے بھارت سے لاکھوں مسلمان 14 اگست 1947ء کو پاکستان آنے کے لیے نکلے۔ (1951ء کی ایک مردم شماری کے مطابق بھارت سے 72 لاکھ 26 ہزار مسلمان پاکستان گئے)۔ انہوں نے اپنے گھر بار اور عزیز رشتے دار پیچھے چھوڑ دیے اور آزاد وطن کو گلے لگانے کا فیصلہ کرلیا۔ ایک نظریے کے لیے ہجرت کے اس سفر میں انہیں تکلیفیں تو اٹھانا پڑیں مگر اس کے نتجیے میں آزادی کے ثمرات بھی حاصل ہوئے۔

پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے 75 سال ہوگئے ہیں اور اسے تشکیل پاتے ہوئے دیکھنے والی نسل اب رخصت ہو رہی ہے۔ 75ویں یومِ آزادی پر ہم نے چند ایسی ہی شخصیات سے گفتگو کی جو قیامِ پاکستان کے تاریخی واقعات کی چشم دید گواہ ہیں۔

باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا

عزیر عشیر، صحافی

عزیر عشیر
عزیر عشیر

عزیر عشیر صحافی ہیں، دی سن، ڈیلی ڈان سمیت معروف پاکستانی اور بین الاقوامی اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ عزیر عشیر کے والد محمد عشیر ڈان اخبار کے پہلے نیوز ایڈیٹر تھے۔ عزیر بتاتے ہیں کہ قیامِ پاکستان کے وقت ان کی عمر 5 سال تھی، تاہم اپنی عمر کے بچوں کی نسبت ان کا حافظہ خاصا تیز تھا اور انہیں اس دور کے تمام واقعات آج بھی اچھی طرح یاد ہیں۔

عزیر عشیر نے بتایا کہ ان کا خاندان 14 اگست سے پہلے 5 مئی کو ہی پاکستان پہنچ گیا تھا۔ انہوں نے کہا ’دراصل میرے والد لکھنؤ میں ‘دی پائنئر’ اخبار کے نیوز ایڈیٹر تھے۔ قیامِ پاکستان جب یقینی ہوگیا تو 'پائنیر' کے ایڈیٹر ڈیسمینڈ ینگ نے والد صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ پاکستان جانا چاہیں گے، والد صاحب کا جواب اثبات میں تھا۔ تب ڈیسمنڈ ینگ نے انہیں بتایا کہ ڈان کا پاکستان سے اجرا ہورہا ہے، انہیں اسٹاف کی ضرورت ہے، اگر آپ چاہیں تو ڈان میں نیوز ایڈیٹر کی حیثیت سے کام شروع کرسکتے ہیں۔ والد نے یہ پیشکش قبول کرلی۔ اس لیے ہم پاکستان بننے سے پہلے یہاں پہنچ گئے اور والد صاحب نے مئی 1947ء میں قائدِاعظم کی ایما پر شائع ہونے والے پاکستان کے پہلے روزنامے میں ادارتی ذمہ داری سنبھال لی۔ اس سے پہلے دہلی میں واقع ڈان کے دفاتر کو ہنگامہ آرائی کے دوران آگ لگا دی گئی تھی'۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان بننے سے پہلے لکھنؤ میں کیا ماحول تھا تو عزیر صاحب نے بتایا کہ چوہدری خلیق الزماں ان کے دادا کے فرسٹ کزن تھے۔ اس خاندان کا فرد ہونے کی حیثیت میں انہوں نے اپنے اردگرد سیاسی سرگرمیاں دیکھیں، انہیں اگرچہ زیادہ سمجھ نہیں تھی لیکن ان کے چچا، تایا جلسے جلوسوں میں جاتے تھے۔

عزیر عشیر کو لکھنؤ میں اپنے آبائی گھر کے تمام در و دیوار اور نقش و نگار یاد ہیں۔ وہ بتاتے ہیں'ہم لکھنؤ میں نذر باغ کے علاقے میں رہتے تھے، یہ پرانی طرز کا بالکونیوں پر مشتمل 2 منزلہ بڑا گھر تھا۔ گھر کے نزدیک ایک وسیع و عریض پارک تھا۔ چوہدری خلیق الزمان کا گھر ٹاہلی باغ کے علاقے میں تھا۔ ان کا گھر بہت بڑا تھا جس میں ہمیشہ لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔

پاکستان پہنچنے کے واقعات یاد کرتے ہوئے عزیر صاحب نے بتایا کہ ہم چونکہ فسادات شروع ہونے سے پہلے نکل آئے تھے تو بڑے سکون سے ٹرین میں لاہور پہنچ گئے۔ ہم اتوار کو لکھنؤ سے نکلے تھے اور پیر کی صبح لاہور پہنچے۔ یہاں نواب آف بھوپال کا بنگلہ 19 کچہری روڈ پر تھا اور وہیں ہمارے قیام کا بندوبست تھا۔ اس زمانے میں وکٹوریہ (گھوڑا گاڑی) چلتی تھی تو ہم اس میں بیٹھ کر آئے۔ والد صاحب نے اپنی موٹر سائیکل ٹرین میں بک کروالی تھی جسے گھوڑا گاڑی کے ساتھ باندھ لیا۔ یہ ایریل برانڈ کی ہلکی پھلکی سی ملٹری اسٹائل موٹر سائیکل ہوا کرتی تھی۔ اپنے اسباب کے ساتھ ہم نے (والدین، میری بہن اور بھائی) چند دن نواب صاحب کے بنگلے میں قیام کیا پھر کراچی چلے آئے۔

عزیر عشیر نے روزنامہ دی سن میں بھی کام کیا
عزیر عشیر نے روزنامہ دی سن میں بھی کام کیا

عزیر عشیر کے والد محمد عشیر (بائیں جانب سے تیسرے) لیاقت علی خان کے ساتھ ایک نشست میں
عزیر عشیر کے والد محمد عشیر (بائیں جانب سے تیسرے) لیاقت علی خان کے ساتھ ایک نشست میں

محمد عشیر کراچی کے ہوٹل میٹروپول میں ایک نشست میں
محمد عشیر کراچی کے ہوٹل میٹروپول میں ایک نشست میں

محمد عشیر چینی وزیر اعظم چو این لائے کا آٹوگراف لیتے ہوئے
محمد عشیر چینی وزیر اعظم چو این لائے کا آٹوگراف لیتے ہوئے

کیماڑی پر اردشیر کاوس جی کی میولز مینشن نامی بہت بڑی بلڈنگ تھی جو 1917ء میں بنی تھی۔ ڈان اخبار نے اسے اپنے اسٹاف کو ٹھہرانے کے لیے ریکوزیشن پر حاصل کرلیا تھا۔ بلڈنگ کے مختلف کمروں میں پارٹیشن کرکے فلیٹ بنا دیے گئے۔ ہمارا خاندان بھی ایک فلیٹ میں بس گیا۔ ایک فلیٹ کا کرایہ 56 روپے تھا۔ اس عمارت میں صحافیوں کی زیادہ تعداد ہونے کی وجہ سے لوگ اسے نیوز مینشن کہنے لگے۔

اگست 1947ء کے کراچی کا ذکر کرتے ہوئے عزیر صاحب بتاتے ہیں کہ ہم مینشن میں اپنے گھر کی چھت سے ہجرت کے مناظر دیکھتے تھے۔ سامنے کیماڑی برج تھا جس پر اونٹ گاڑیوں کی لائن لگی ہوتی تھی۔ ہندو اور سکھ یہاں سے کوچ کررہے تھے۔ کراچی کے اس علاقے سے نہایت پُرامن ہجرت ہوئی۔ یہاں کسی فساد یا کسی ایک گاڑی پر حملے کا نہیں سُنا گیا۔ ان دنوں کراچی کے کچھ علاقوں میں ہنگامے کی وجہ سے احتیاطاً یہاں شام کو 2 گھنٹے کا کرفیو بھی لگایا جاتا تھا۔

عزیر صاحب بتا رہے تھے کہ نئے ملک اور نئے شہر میں آکر زندگی بہت جلد معمول پر آگئی۔ اس زمانے کا کراچی نہایت دل موہ لینے والا تھا۔ یہ شہر صاف ستھرا اور بہت منظم تھا۔ محمد علی ٹرام وے کمپنی کی ٹرامز ہر 2 گھنٹے بعد کیماڑی آتی تھیں جبکہ ان کی بسیں ہر گھنٹے بعد آتی تھیں۔ کشادہ بسیں، خاکی رنگ کی وردی میں ڈرائیور اور کنڈکٹر انتہائی تہذیب سے بات کرتے تھے۔ بسوں میں ٹکٹ لازمی دیے جاتے تھے۔ یہ ٹائم پر پہنچتی تھیں اور حد سے زیادہ تیز رفتار نہیں تھیں۔ بچے بوڑھے سب آرام سے سفر کرتے تھے۔ ہم اسکول ہمیشہ بس میں جاتے رہے۔ ہماری والدہ گھر میں گاڑی آنے کے بعد بھی شاپنگ وغیرہ کے لیے ایمپریس مارکیٹ بس میں ہی جاتی تھیں۔شہر میں گھوڑا گاڑیاں چلتی تھیں، جانوروں کا فضلہ بھی گرتا تھا مگر روزانہ صبح 4 بجے سے 7 بجے تک اور شام کو 3 سے 6 بجے صفائی ہوتی تھی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے مہاجر کیمپس دیکھے تو عزیر عشیر نے بتایا کہ ہمارے کئی رشتہ دار پاکستان بننے کے بعد آئے، زیادہ تر بحری یا ہوائی جہاز سے آئے۔ میرا ننھیال اور ددھیال دونوں خوشحال تھے۔ والدہ حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتی تھیں اور وہ معروف شاعر امیر مینائی کی نواسی کی بیٹی تھیں۔ کراچی میں آنے کے بعد کئی رشتے داروں نے کچھ دن کیمپ میں بھی قیام کیا۔ ان دنوں کلفٹن کی پچھلی طرف اے۔کے اسکول میں کیمپ لگے ہوئے تھے۔ چوہدری خلیق الزمان کے بڑے بیٹے بھی کچھ دن یہاں رہے پھر لاڑکانہ شفٹ ہوگئے تھے۔

بھارت سے آنے والے کئی مہاجرین کے لیے نیوز مینشن بھی ابتدائی طور پر رہنے کا ٹھکانہ تھا۔ مجھے یاد ہے مینشن کے کمرے بہت بڑے تھے، تقریباً 30 بائی 20 فٹ طویل و عریض تھے۔ لوگ ان میں لکڑی کی پارٹیشن رکھ کر 2 سے 3 کمرے بنا لیتے تھے اور اپنے عزیز رشتہ داروں یا دیگر مہاجروں کو ٹہرا لیتےتھے۔ نیوز مینشن کی طرح لوگوں کے دل بھی کشادہ تھے۔ مجھے یاد ہے کہ مینشن کے برآمدے میں اس وقت 15، 16 بستر لگے ہوتے تھے۔کمروں کی چھتیں 24 فٹ اونچی تھیں اور سامنے کیماڑی کا ساحل تھا جس کے سبب اتنی ہوائیں آتی تھیں کہ پنکھوں کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ صفائی ستھرائی کی وجہ سے مچھر بھی نظر نہیں آتے تھے۔

کیا آپ کی تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں سے کبھی ملاقات ہوئی؟ اس سوال کے جواب میں عزیر صاحب نے کہا کہ بچپن میں اس کا موقع نہیں ملا، البتہ والد صاحب کئی میٹنگز یا اسمبلی اجلاس کے دوران قائدِاعظم، لیاقت علی خان اور دیگر رہنماؤں سے ملتے تھے۔ ہم نے اپنے بڑوں کو ان شخصیات کی عظمت کے گُن گاتے سنا۔

میولز مینشن
میولز مینشن

میولز مینشن کو ڈان نے اپنے اسٹاف کو ٹھہرانے کے لیے ریکوزیشن پر لیا تھا
میولز مینشن کو ڈان نے اپنے اسٹاف کو ٹھہرانے کے لیے ریکوزیشن پر لیا تھا

15 اگست 1947ء کو شائع ہونے والا ڈان کا دہلی ایڈیشن
15 اگست 1947ء کو شائع ہونے والا ڈان کا دہلی ایڈیشن

اس سوال کے جواب میں کہ آپ کے بزرگوں کی ہجرت کی کوئی تلخ یادیں ہیں، عزیر صاحب نے کہا کہ 'ہمیں پاکستان آکر سُکھ ملا، ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ آزادی سب سے بڑی نعمت ہے، مسلمانوں کا اپنا ایک علیحدہ وطن ایسا سہانا خواب تھا جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے بھارت میں اپنی جائیدادیں، مال و متاع سب تج دیے۔ آج بھارت میں ہم اقلیتوں کا جو حال دیکھتے ہیں تو آزادی کا بنیادی نظریہ بہت اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ میرا اکثر بیرونِ ملک جانا ہوتا ہے، وہاں موجود بھارتی خود اپنے ملک سے متعلق افسوس کرتے ہیں کہ وہاں اقلیتوں سے کتنا بُرا سلوک ہورہا ہے۔ آپ کو ایک ناقابلِ یقین واقعہ سناتا ہوں، پاکستان نے جب بھارتی طیارہ گرایا اور ابھی نندن کو گرفتار کیا تو اس کے کچھ عرصے بعد میں چین گیا۔ وہاں مال میں ایک بھارتی جوڑے سے ملاقات ہوئی۔ باتوں باتوں میں ابھی نندن کا ذکر نکلا تو یقین کریں اس بھارتی شہری نے مجھے گرمجوشی سے گلے لگاتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے بہت کمال کام کیا'۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی، سماجی و اقتصادی صورتحال پر رائے دیتے ہوئے عزیر عشیر نے کہا کہ یہ ہماری اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ قائدِاعظم اور لیاقت علی خاں جیسے رہنما ہمارے درمیان زیادہ عرصہ نہ رہے۔ لوگوں میں لالچ آگیا، اخلاقی اقدار گِریں، چوری چکاری سے مال بنانے لگے تو ملک کا حال خراب ہوگیا۔ پہلے لوگوں میں وضعداری تھی، میرے والد سمیت بہت سے لوگوں نے انڈیا میں اپنی جائیداد کے کلیم تک نہیں لیے تھے۔

عزیر عشیر پاکستان کی موجودہ صورتحال سے پریشان ہوتے ہیں مگر مایوس نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے نوجوانوں میں شعور آگیا ہے، وہ بے ایمانی، چوری چکاری کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، یہ جذبہ حالات بدل دے گا۔ عزیر کہتے ہیں کہ انہوں نے مواقع ملنے کے باوجود کبھی پاکستان چھوڑنے کا نہیں سوچا۔ 67ء میں وہ اسکالرشپ پر لندن کے اخبار کارڈف میں کام کرتے رہے، بعد میں اسی ادارے نے ایک نئے اخبار کے لیے انہیں آفر کی کہ ابوظہبی، دوہا یا سنگاپور کا آفس سنبھال لیں لیکن انہوں نے یہ پیشکش اس لیے قبول نہیں کی کہ وہ پاکستان سے باہر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔

نعیمہ سلطان، استاد

نعیمہ سلطان
نعیمہ سلطان

نعیمہ سلطان، سینٹ جوزف کالج کراچی میں 25 سال تک اکنامکس کی پروفیسر اور 11 سال اپوا کالج کی پرنسپل رہی ہیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت آپ کی عمر 24 سال تھی۔ نعیمہ صاحبہ کم گو ہیں مگر 75 سال پہلے کی یادیں ان کے ذہن میں خوب تازہ ہیں۔

وہ دھیمے لہجے میں ٹہر ٹہر کر ہمیں بتاتی رہیں کہ پاکستان بننے کے وقت وہ دہلی چاندنی چوک کے علاقے دریا گنج میں رہتی تھیں۔ نعیمہ صاحبہ نے بتایا ‘ہمارے والد مکرم الہٰی قریشی جج تھے اور میانوالی پنجاب میں پوسٹنگ تھی۔ والد کا شمار ان ججوں میں ہوتا تھا جنہیں سزائے موت سنانے کا اختیار تھا۔ مجھے یاد ہے والد کو جب کبھی ایسا فیصلہ سنانا ہوتا تو وہ رات بھر عبادت کرتے اور دعا مانگتے تھے کہ فیصلہ درست ہو۔ ہم 3 بہنیں اور 2 بھائی تھے۔ ہم بہنوں کو پڑھائی کا جنون تھا۔ ہم 2 بہنوں نے میٹرک کے بعد دہلی کالج میں داخلہ لینے کا سوچا۔ پھوپھی دہلی میں رہتی تھیں تو انہوں نے کہا میرے پاس رہنا۔ والد صاحب ہمیں خود سے دُور نہیں بھیجنا چاہتے تھے مگر ہم نے بھوک ہڑتال کردی تو انہوں نے اجازت دے دی اور یوں ہم نے دہلی کالج میں داخلہ لے لیا۔ بڑی بہن کے ساتھ میں گھوڑا گاڑی پر کالج جاتی تھی۔کچھ عرصے بعد میرے والدین کا انتقال ہوگیا تھا۔ قیامِ پاکستان کے وقت ہم اپنے ماموں کے ہاں تھے۔ میرے ماموں عبدالرحمٰن بجنوری کابل کے قونصل جنرل تھے، وہ شاعر اور ادیب بھی تھے۔ میری بڑی بہن کی شادی ماموں کے بیٹے سے ہوئی تھی۔ مجھے یاد ہے ماموں اپنے بیٹے کی بارات ہاتھی پر لے کر آئے تھے۔ ننھیال کی طرح میرا ددھیال بھی خوشحال تھا۔ ہمارے تایا کے بچے کلبز میں جاتے تھے لیکن ہمارے والد نے تربیت کے معاملے میں سختی رکھی تھی۔

'پاکستان بننے کا اعلان ہوا تو ہمارے علاقے میں حالات خراب ہوگئے اور فسادات شروع ہوگئے تھے۔ انہی دنوں ہماری پھوپھی کی شادی طے تھی، وہ اس حال میں کی گئی کہ مہمانوں کی تواضع کے لیے کچھ دستیاب نہیں تھا۔ ایک ٹھیلے والے سے صرف کیلے مل سکے تو وہی کھلائے گئے۔ انہی دنوں ہمارے ماموں ایک روز گھر آتے ہی کہنے لگے کہ ہمیں پاکستان جانا ہے، سامان سمیٹ لیں۔ ہم نے جلدی جلدی میں بس ضروری چیزیں رکھ لیں باقی سب یہ سوچ کر چھوڑ دیا کہ حالات صحیح ہوتے ہی واپس آجائیں گے۔دہلی سے ہم بذریعہ جہاز کراچی آئے۔ یہاں جیکب لائنز میں کیمپ لگے تھے، اور ایک میں ہمیں جگہ مل گئی۔ کیمپوں میں کسمپرسی کا عالم تھا، بیگم رعنا لیاقت اور دوسری خواتین یہاں آتی تھیں مگر مہاجرین کی تعداد بہت زیادہ تھی اس لیے سنبھالنے میں مشکلات پیش آرہی تھیں۔

'ایک واقعہ سنیں۔ ہمارے کیمپ میں ایک پریشان حال خاتون آکر کہنے لگیں کہ بچوں کے کھانے کے لیے کچھ دے دیں، ہماری چھوٹی بہن بڑی دریا دل تھیں تو انہوں نے آٹے کا ڈبہ اٹھا کر انہیں دے دیا، بعد میں جب بڑی بہن کو یہ معلوم ہوا تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئیں اور بتایا کہ دہلی میں گھر سے نکلتے ہوئے انہوں نے زیورات کا تھیلا آٹے کے ڈبے میں رکھ دیا تھا۔ اب ڈھونڈا گیا تو وہ خاتون ہی نہ ملیں، اس کے بعد تو ہمارا وہی زیور کام میں آیا جو ہم تعلیم کی صورت میں اپنے ساتھ لائے تھے۔'

نعیمہ سلطان بتا رہی تھیں کہ وہ ہمیشہ وسیع و عریض گھروں میں رہی تھیں، کیمپ میں رہتے ہوئے بہت سی مشکلات تھیں مگر ہمارے والدین نے ہمیں ہر حال میں صبر شکر کی تربیت دی تھی اور اسی نے مدد کی۔ نعیمہ سلطان دہلی کالج کی گریجویٹ تھیں لہٰذا انہیں جلد ہی قریبی اسکول میں نوکری مل گئی اور کچھ عرصہ بعد رہنے کے لیے کوارٹر بھی مل گیا۔

اس سوال کے جواب میں کہ تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں سے کبھی ملاقات ہوئی، تو نعیمہ صاحبہ نے بتایا کہ 'سینٹ جوزف کالج کی تقریبِ تقسیم انعامات میں محترمہ فاطمہ جناح آئی تھیں اور مجھے شیلڈ دی تھی۔ یہ میری کی زندگی کا یادگار واقعہ ہے'۔

نعیمہ سلطان اپنے شوہر مظہر یوسف کے ساتھ
نعیمہ سلطان اپنے شوہر مظہر یوسف کے ساتھ

53ء میں ان کی اپنے دہلی کالج کے کلاس فیلو مظہر یوسف سے شادی ہوگئی۔ یہ بھی ایک دلچسپ روداد ہے۔ ان دونوں کی کالج کے دور سے ایک دوسرے میں دلچسپی تھی۔ مظہر صاحب،انہیں اپنے گھر والوں سے بھی ملوا چکے تھے، مظہر یوسف کا خاندان میرٹھ میں تھا۔ جب پاکستان بن گیا تو نعیمہ سلطان اپنے خاندان کے ساتھ کراچی آگئیں اور مظہر صاحب سے رابطہ نہ رہا۔ مظہر یوسف کا خاندان بعد میں ٹرین کے ذریعے لاہور پہنچا۔ مظہر انہیں تلاش کرتے ہوئے کراچی پہنچے اور ڈھونڈھ نکالا۔ بعد ازاں دونوں کی شادی ہوگئی۔ مظہر یوسف بھی اکنامکس گریجویٹ تھے۔کچھ عرصہ انہوں نے اخبار 'سندھ آبزرور' میں نوکری کی مگر بعد میں ٹیکسٹائل کا کاروبار شروع کیا اور 'پاکستان ٹیکسٹائل جرنل' بھی نکالتے رہے۔ انہیں تحریر سے شغف تھا اور وہ اسٹار، ایوننگ اسپیشل اور ڈان میں لکھتے رہے۔ سندھ کی تاریخ پر انہوں نے legacy of British کتاب لکھی۔ ہجرت کے موضوع پر انگریزی میں کئی نظمیں بھی لکھی ہیں۔

نعیمہ سلطان بتاتی ہیں کہ شروع کی زندگی بہت مشکل تھی، وہ مارٹن کوارٹرز میں خاندان کے ساتھ رہتے تھے، دونوں میاں بیوی نے اپنی تعلیم اور سخت جدوجہد کے ذریعے ایک نئے معاشرے میں باعزت مقام حاصل کیا۔

نعیمہ صاحبہ نے بتایا کہ ہجرت کے دوران ان کے شوہر (مرحوم) کے خاندان کو بہت مشکلات سے گزرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ 'مظہر جب بھی وہ دن یاد کرتے تو آبدیدہ ہوجاتے تھے۔ میرے شوہر کا خاندان پردے کا سخت پابند تھا، جب یہ بھارت سے ٹرین میں سوار ہوئے تو اس وقت فسادات شروع ہوچکے تھے۔ ٹرینوں میں بھی قتل و غارت مچی تھی۔ مظہر صاحب کے ماموں پورے خاندان کی سرپرستی کر رہے تھے۔ اب جیسے ہی کسی اسٹیشن پر معلوم ہوتا کہ یہاں مسلمانوں کو مارا جارہا ہے تو دل پر پتھر رکھ کر ماموں خاندان کی خواتین سے کہتے کہ برقعے اتار دیں۔ ایسے ہی ایک موقعے پر خواتین کو اخبار بھی پڑھنے کے لیے دیے گئے تو مظہر کی ممانی اخبار الٹا پکڑ کر پڑھنے میں مصروف ہوگئیں۔ ٹرین میں ایک جگہ یہ افواہ بھی پھیل گئی کہ اسٹیشن پر پانی میں زہر ملا دیا گیا ہے۔ اب سب کو پیاس لگ رہی تھی مگر ڈر کے مارے پانی نہیں پی رہے تھے۔ مظہر صاحب نے پھر یہ کیا کہ پہلے انہوں نے خود پانی پیا اور کچھ دیر اس کے اثرات دیکھنے کے بعد گھر والوں کو دیا۔ مظہر صاحب کو جب کبھی وہ وقت یاد آتا تھا تو اپنی ڈائری لے کر بیٹھ جاتے اور لکھتے رہتے تھے'۔

نعیمہ سلطان اور مظہر یوسف کی دہلی کالج کی یادگار تصویر
نعیمہ سلطان اور مظہر یوسف کی دہلی کالج کی یادگار تصویر

ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو انڈیا میں اپنا گھر یاد آتا ہے اور کیا وہاں دوبارہ جانا ہوا تو نعیمہ صاحبہ نے کہا کہ اپنے بچپن کی سب باتیں یاد ہیں، بڑے سے صحن میں جھولے جھولتے تھے لیکن پاکستان آنے کے بعد دوبارہ انڈیا جانے کا نہیں سوچا نہ ہی یہ اتنا آسان ہے۔

2022 کے پاکستان سے متعلق رائے دیتے ہوئے نعیمہ سلطان نے کہا کہ جیسا بھی ہے اپنا ملک تو ہے، البتہ اس وقت ہمیں دکھ کا احساس ہوتا ہے جب ہر طرح سے یہاں رچنے بسنے کے باوجود کبھی ہمیں بلکل الگ کھڑا کردیا جاتا ہے۔

حسین احمد، صحافی

حسین احمد
حسین احمد

حسین احمد کا شمار پاکستان کے اوّلین صحافیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے 'ٹائمز آف کراچی' سے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ نیوز ایجنسی UPP، ڈان، ایشین نیوز اور ایک غیر ملکی نیوز سروس میں کام کرچکے ہیں۔

حسین احمد 12 سال کے تھے جب پاکستان وجود میں آیا۔ 1952ء میں وہ تنہا اپنے خاندان کے بغیر ایک دوست کے ساتھ پاکستان چلے آئے۔ ان کا خاندان الہٰ آباد میں رہتا تھا۔ والد زمیندار تھے اور الہٰ آباد سے 6، 7 میل کے فاصلے پرواقع گاؤں 'افراوے خورد' میں ان کی زمینیں تھیں۔

حسین صاحب کی یادوں کے مطابق 47ء میں الہٰ آباد میں تحریکِ پاکستان کے حوالے سے بہت جوش و خروش تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’مجھے تحریکِ آزادی سے متعلق آگاہی اپنے اسکول کے ذریعے ملی۔ الہٰ آباد میں مسلم اسٹوڈنٹس نے تحریک کو فروغ دیا۔ میری عمر اگرچہ زیادہ نہیں تھی لیکن اپنے سینیئر اسٹوڈنٹس کو ان سرگرمیوں میں مصروف دیکھ کر میں بھی اپنے دیگر ہم عمروں کی طرح ان میں دلچسپی رکھتا تھا۔ مسلمان نوجوان روزانہ شام کو جلوس نکالتے تھے جن میں نعرے لگائے جاتے تھے 'سینے پر گولی کھائیں گے، پاکستان بنائیں گے'۔

'علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اس وقت تحریکِ پاکستان کا منبع تھی۔ وہاں سے جو طلبہ تحریک شروع ہوئی اس کے تحت مسلم طلبہ الہٰ آباد، لکھنئو، فتح پور، شکار پور اور دیگر قریبی علاقوں میں جاکر تحریک سے متعلق شعور پھیلاتے تھے۔ مسلم نوجوان ٹولیوں کی صورت میں گاؤں، دیہات جاتے جہاں ریلیوں، جلسوں میں بتایا جاتا کہ پاکستان بنانا کیوں ضروری ہے۔ ہمارے الہٰ آباد میں بھی جلسے جلوس نکالے جاتے تھے۔ مشاعرے ہوتے تھے، جن میں نامور شعرا جوش ملیح آبادی، جگر مراد آبادی، دل لکھنوئی، شعلہ اسیونی اور دیگر شرکت کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے اس زمانے میں شعلہ اسیونی کا طوطی بولتا تھا۔ ان کا تعلق لکھنؤ کے قریبی قصبے 'آسیو' سے تھا۔ ان کی ساری شاعری پاکستان کے لیے تھی۔ مجھے ان کے اشعار یاد ہیں

اٹھو سبز پرچم گاڑ دو 'ویول' کے سینے پہ

اسی نظم کا ایک اور شعر:

تم ہی نے دی تھیں اذانیں روم کے میدان میں
چلی دنیا نو سو سال تمہارے قرینے پہ

حسین احمد بتا رہے تھے کہ ’قیامِ پاکستان کا اعلان ہوا تو ہمیں اپنے بڑوں سے معلوم ہوا کہ پاکستان بن گیا۔ الہٰ آباد میں حالات ٹھیک تھے۔ میرے والد اور ان کے آباؤ اجداد زمیندار تھے اور علاقے میں خاصا اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ والد صاحب کے دیگر ہندو زمینداروں سے بھی بہت اچھے تعلقات تھے۔ انہوں نے انڈیا میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے 52ء میں شبلی نیشنل اسکول سے میٹرک کرلیا۔ اسی اسکول سے پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ بھی فارغ التحصیل ہوئے۔ ان کے بھائی مرزا ظفر بیگ میرے کلاس فیلو تھے۔ میٹرک کرکے فارغ ہوئے تو انہی دنوں میرے ایک گہرے دوست ممتاز حسین (مرحوم) اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان ہجرت کررہے تھے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ آپ بھی پاکستان چلیں، وہ مسلمانوں کا ملک ہے، ہم وہاں محفوظ اور آزادی سے رہیں گے۔ ممتاز کا خاندان تعلیم یافتہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارے لیے مواقع کی سرزمین ہوگی۔ ممتاز کی والدہ نے مجھے کہا کہ آپ اپنے والدین سے پوچھ لیں اگر وہ اجازت دیں تو آپ ہمارے ساتھ ہی رہنا۔

'مجھے ان کی پیشکش بہت پُرکشش لگی۔ میں نے والدین سے پوچھا تو انہوں نے پہلے منع کردیا پھر میرے اصرار پر شاید یہ سوچ کر اجازت دے دی کہ جوان لڑکا ہے خود ہی نہ چلا جائے۔ بہرحال مجھے کہا گیا کہ میں اپنا شوق پورا کرلوں اور کسی بھی وقت واپس آسکتا ہوں۔ میں اپنے دوست کے خاندان کے ہمراہ ٹرین سے دہلی آیا اور وہاں سے ہم مونا باؤ (سندھ) آگئے۔ یہاں ایک کلومیٹر کا علاقہ 'نو مین لینڈ' ہے، جسے پیدل کراس کیا۔ مونا باؤ سے ٹرین میں میرپور خاص اور پھر کراچی آگئے۔ دوست کے بہنوئی یہاں گورنمنٹ سروس میں تھے اور لارنس روڈ پر کوارٹرز میں رہتے تھے۔ میں چند دن ان سب کے ساتھ وہیں رہا۔ میں میٹرک پاس تھا اس لیے مجھے فوراً ایک موٹر کمپنی میں کلرک کی ملازمت مل گئی جس کے بعد میں دوست کے ہاں سے شفٹ ہوگیا اور 4، 5 لڑکوں کے ساتھ مل کر کرائے کے گھر میں رہنے لگا۔ کچھ عرصے بعد میں نے ملازمت چھوڑ دی اور جناح کالج میں داخلہ لے لیا، اس کے بعد کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کی۔ اس زمانے میں کراچی یونیورسٹی سول اسپتال کے پیچھے تھی۔'

ہم نے ان سے پوچھا کہ ملازمت چھوڑنے کے بعد آپ اپنے اخراجات کیسے پورے کرتے تھے تو حسین احمد نے بتایا کہ ‘میں ٹیوشن پڑھاتا تھا اور یونیورسٹی جانے سے پہلے اخبار میں ملازمت بھی شروع کردی۔ مجھے اس زمانے میں 100 روپے تنخواہ ملتی تھی۔ ہم نے ناظم آباد ایک نمبر پر کرائے کا گھر لیا ہوا تھا اور کھانا پکانے کے لیے باورچی بھی رکھا تھا۔ یقین جانیے سب ملا کر ماہانہ خرچ 40 روپے تھا۔ اس زمانے میں دودھ ایک روپے لیٹر، گائے کا گوشت 12 آنے اور بکرے کا دودھ ڈیڑھ روپے کلو ملتا تھا۔ ہمارے باورچی کی تنخواہ 20 روپے تھی۔ کچھ عرصے بعد میں یونیورسٹی کے ہاسٹل شفٹ ہوگیا تو پیسوں کی مزید بچت ہونے لگی‘۔

اس سوال کے جواب میں کہ اس عرصے میں بھارت میں اپنے والدین سے رابطہ ہوا یا آپ وہاں گئے؟ حسین صاحب نے بتایا کہ ’آنے جانے والوں کے ذریعے مجھے والدین کی اور انہیں میری خیر خبر مل جاتی تھی۔ میرے صحافتی کیریئر کی ابتدا ہوچکی تھی اس لیے میں یہاں خوش تھا اور والدین مجھے خوشحال دیکھ کر مطمئن تھے۔ 88ء میں ایک مرتبہ میری والدہ یہاں آئی تھیں، ایک ماہ بھی نہیں رُکیں اور کہنے لگیں کہ 'میری واپسی کا ٹکٹ کروا دو'۔ ان کا یہاں دل نہیں لگا اور میرا بھی یہی حال تھا۔ میں 80ء میں انڈیا گیا تھا۔ اس وقت PANAM کی فلائٹ دہلی جاتی تھی، وہاں سے الہٰ آباد کے ایئر پورٹ پر پہنچا تو جنگل بیابان نظر آیا۔ دراصل یہ بمرولی کے نام سے انگریزوں کا ملٹری ایئر پورٹ تھا، مگر اب یہ تباہ حال تھا۔ کافی دیر انتظار کے بعد ایک پرائیویٹ گاڑی والا آیا اور مجھے پوچھا کہ شہر جائیں گے، میں نے جلدی سے ہاں میں جواب دیا۔ اس نے 20 روپے مانگے، میں نے کہا ٹھیک ہے۔ وہیں سے اس نے ایک اور مسافر بھی لیا اور ہم الہٰ آباد شہر پہنچ گئے۔

’الہٰ آباد میں داخل ہوتے ہی میں حیران رہ گیا۔ شہر کا نقشہ ہی بدلہ ہوا تھا۔ مجھے تو یہاں کا چپہ چپہ ازبر تھا۔ الہٰ آباد نہایت صاف ستھرا شہر ہوتا تھا مگر اب دیکھا تو جگہ جگہ غلاظت کے ڈھیر، جدھر دیکھیں 2، 4 گائیں بندھی ہوئیں، کہیں پانی کہیں کیچڑ جمع تھا۔ جی ٹی روڈ جو شہر کی بہترین اور کشادہ سڑک ہوتی تھی، اس کے اطراف میں جھونپڑیاں اور کچے مکانات کی کثرت تھی اور سڑک سمٹ کر پتلی سی گلی نظر آرہی تھی۔ سول لائنز جو کبھی شہر کا پوش ترین علاقہ تھا، وہاں سلیکٹڈ انگریز، ہندو اور مسلمان آبادی رہتی تھی۔ میرا ایک دوست دیو جس کے والد پروفیسر تھے وہ یہاں رہتا تھا اور میں اس کے پاس اکثر آتا تھا، مگر اب اس علاقے کا حلیہ بھی بگڑ چکا تھا اور یہ دیکھ کر تو میں حیرت زدہ رہ گیا کہ یہاں کا آنند بھون جسے جواہر لال نہرو کے والد موتی لال نے بنوایا تھا اور الہٰ آباد کا سب سے شاندار محل تھا اس کی دیواروں پر اُپلے تھوپے ہوئے تھے۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ مسلم اکثریتی آبادی کے علاقوں پر حکومتی توجہ نہیں تھی۔ ہمارے والد کی زمینیں بھی اصلاحات کے ذریعے ختم ہوکر برائے نام رہ گئی تھیں۔ البتہ میرے بھائی کو محکمہ صحت میں ملازمت حاصل تھی اور وہ الہٰ آباد کی نئی ہاؤسنگ سوسائٹی میں اپنا گھر بنا رہے تھے۔ وہاں کے لوگوں سے جب بات ہوتی تو مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ پاکستان کو آئیڈیالائز کرتا تھا۔ ان کے خیال میں پاکستان بننا اچھا ہوا لیکن کئی مسلمان اس سے اختلاف بھی رکھتے ہیں اور خود کو بااثر سمجھتے ہیں۔ میرے چھوٹے بھائی کا بیٹا ہمارے آبائی گاؤں میں رہتا ہے اور اس کی بیوی گاؤں کی 'پردھان' ہے اس لیے وہ انڈیا چھوڑنے کا سوچتے بھی نہیں۔‘

حسین احمد انگلش آفٹرنون ڈیلی کے ایڈیٹر ایچ ایم عباسی کے ساتھ
حسین احمد انگلش آفٹرنون ڈیلی کے ایڈیٹر ایچ ایم عباسی کے ساتھ

حسین احمد نے کہا کہ ’مجھے انڈیا میں اپنے گھر والوں، دوست احباب سے مل کر تو خوشی ہوئی لیکن شہر کو تباہ حال دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔

حسین صاحب اس موقعے پر ماضی کا کراچی یاد کرتے ہوئے کہنے لگے کہ 60ء سے لیکر 80ء کی ابتدا تک کراچی تہذیب و تمدن، لٹریچر اور آرٹ کا مرکز رہا۔ یہاں لاجواب کیفے کلچر رائج تھا۔ صدر کا کیفے جارج جو ایک کرسچن کا تھا شہر کی جان تھا، جہاں دُور دُور سے لوگ، ادیب، دانشور چائے کافی پینے کھنچے آتے تھے۔ صدر میں 'کیفے ٹیریا' ریسٹورنٹ آدھا لان پر مشتمل تھا جو ایلیٹ کلاس کا مرکز تھا۔ اسی طرح کیفے فردوس، زیلن کافی، بومن ابدان، پرشین ریسٹورنٹ شہر کے معروف ترین مقامات تھے جہاں انگریز اور یورپین بھی شوق سے آتے تھے۔ اس زمانے میں کراچی میں کئی نائٹ کلبز تھے۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن بلڈنگ کے نیچے 'روما شبانہ' تھا جہاں کیبرے شوز ہوتے تھے۔ پینوراما سینٹر پر 'پام گروو' اور سرور شہید روڈ پر 'ایکسلشئر' وغیرہ۔ ان نائٹ کلبز میں فلپائنی، مصری، ترک اور یورپین رقاصائیں پرفارم کرتی تھیں۔ کراچی کی نائٹ لائف کسی یورپین کیپیٹل جیسی تھی۔ اس شہر کے باسی علم و ادب کے شائق تھے۔ صدر کے علاقے میں 8، 10 بہت بڑے، معروف کتاب خانے تھے جن میں پاک امریکن بک کارپوریشن، ٹامس اینڈ ٹامس اور دیگر شامل تھے‘۔

حسین احمد کراچی کے ماضی کو دیکھتے ہوئے اس کے موجودہ حالات پر فکر مندی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں ساحلی شہر اور صنعتی و ثقافتی مرکز ہونے کی وجہ سے پاکستان بھر سے آبادی کا دباؤ شہر میں بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیر معمولی نہیں، دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے لیکن ترقی یافتہ دنیا نے شہری حکومت کے ذریعے اپنا نظام بہترین بنایا ہے، لندن کے چھوٹے سے چھوٹے ہملٹ (گاؤں) کی بھی ٹاؤن کمیٹی ہے۔ مجھے امریکا کے بڑے شہروں میں رہنے کا موقع ملا سب جگہ شہری حکومتوں کو کامیاب پایا ہے۔ ہمیں بھی یہی انتظام کرنا چاہیے۔


غزالہ فصیح دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں اور بےنظیر بھٹو سمیت پاکستان کی کئی نامور شخصیات کے انٹرویو کرچکی ہیں۔ آپ پاک۔ یو ایس جرنلسٹ ایکسچینج پروگرام 2014ء کی فیلو رہی ہیں۔ آپ نے ایک کتاب Birds without wings کو 'پر کٹے پرندے' کے عنوان سے اُردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔