• KHI: Zuhr 12:38pm Asr 5:20pm
  • LHR: Zuhr 12:08pm Asr 5:03pm
  • ISB: Zuhr 12:14pm Asr 5:12pm
  • KHI: Zuhr 12:38pm Asr 5:20pm
  • LHR: Zuhr 12:08pm Asr 5:03pm
  • ISB: Zuhr 12:14pm Asr 5:12pm

پی ٹی آئی کارکن اظہر مشوانی کو اسلام آباد منتقل کردیا گیا ہے، فواد چوہدری

شائع March 24, 2023
پی ٹی آئی نے اظہر مشوانی کے اغوا کا دعویٰ کیا تھا—تصویر: پی ٹی آئی ٹوئٹر
پی ٹی آئی نے اظہر مشوانی کے اغوا کا دعویٰ کیا تھا—تصویر: پی ٹی آئی ٹوئٹر

پی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر فواد چوہدری نے کہا کہ گزشتہ روز لاہور سے مبینہ طور پر اٹھائے گئے اظہر مشوانی کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

جمعرات کو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکن کو پنجاب پولیس اور نگراں حکومت پر مبینہ طور پر پارٹی کارکنوں کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے پر تنقید کرنے کے الزام میں اٹھایا گیا تھا۔

اس گرفتاری پر پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سماجی رابطوں کیویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں کہا تھا کہ بس بہت ہوگیا، پنجاب اور اسلام آباد میں پولیس تحریک انصاف کو ہدف بنانے کے لیے پوری ڈھٹائی سے قوانین کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔

عمران خان نے کہا تھا کہ وہ اپنے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں ملوث تمام اہلکاروں کی تصاویر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھیج رہے ہیں تاکہ وہ ان لوگوں کی شناخت کر سکیں جو ریاست کے لیے کام کرتے ہیں اور سیاسی رہنماؤں اور پی ٹی آئی کے غیر مسلح کارکنوں کے اغوا، گھروں میں توڑ پھوڑ، دوران حراست تشدد میں ملوث ہیں۔

آج ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ پارٹی اظہر مشوانی کے مقام کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے، ہم ان کا سراغ لگا رہے ہیں، وہ بیدیاں میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے دفتر میں تھے اور پھر انہیں اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پارٹی نے اظہر مشوانی کے مبینہ اغوا کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ(ایف آئی آر) درج کرانے کی کوشش کی تھی لیکن حکام نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، ہم نے گرین ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے رپورٹ درج نہیں کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس پر پی ٹی آئی کارکن کے غیر قانونی اغوا کی ایف آئی آر درج نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ اظہر مشوانی کی بازیابی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے، رجسٹرار آفس نے اعتراض اٹھایا تھا لیکن کیس پیر 27 مارچ کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں سماعت کے لیے درج کر دیا گیا تھا۔

اظہر مشوانی کی اہلیہ کا چیف جسٹس کو خط

اس کے علاوہ اظہر مشوانی کی اہلیہ ماہ نور نے چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کو خط لکھ کر زور دیا کہ وہ ان کے شوہر کے اغوا کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔

پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے خط کی کاپی شیئر کی گئی جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال پر زور دیا گیا کہ وہ بااختیار لوگوں کی غیرقانونی حراست میں موجود اظہر مشوانی کی بازیابی اور رہائی کے لیے ازخود نوٹس لیں۔

خط میں چیف جسٹس سے مداخلت انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں پر مداخلت کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا کہ اظہر مشوانی مشوانی پی ٹی آئی چیئرمین کے فوکل پرسن کے طور پر کام کر رہے تھے اور ان کی اس ذمہ داری کی وجہ سے موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے لوگ زیادہ خوش نظر نہیں تھے۔

خط میں بتایا گیا کہ اظہر مشوانی جمعرات کی دوپہر 2 بج کر 45 منٹ پر زمان پارک کے لیے گھر سے نکلے لیکن نہ تو وہ وہاں پہنچے اور نہ ہی گھر واپس آئے، خاندان، قریبی دوستوں اور پارٹی کارکنوں کی طرف سے مکمل تلاشی لی گئی لیکن سب بے سود رہا۔

پی ٹی آئی کارکن کی اہلیہ نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ ان کے شوہر کو پنجاب پولیس نے ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ملی بھگت سے کچھ طاقتور لوگوں کی ایما اور پورے خاندان کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے اغوا کیا اور غیر قانونی طور پر حراست میں لیا ہے۔

کارٹون

کارٹون : 11 جولائی 2024
کارٹون : 10 جولائی 2024