• KHI: Maghrib 7:24pm Isha 8:51pm
  • LHR: Maghrib 7:09pm Isha 8:45pm
  • ISB: Maghrib 7:19pm Isha 9:00pm
  • KHI: Maghrib 7:24pm Isha 8:51pm
  • LHR: Maghrib 7:09pm Isha 8:45pm
  • ISB: Maghrib 7:19pm Isha 9:00pm

گوتھک طرزِ تعمیر کے شاہکار، کیتھڈرل میں گزرتے بشپ فریڈرک جان کے شب و روز

ہولی ٹرینیٹی کیتھڈرل کے مکین اور ان کے شب و روز پردہ اسرار میں ہیں جن کے بارے میں اہل کراچی بہت کم جانتے ہیں۔
شائع July 8, 2024

کراچی میں گورنر ہاؤس کے مقابل واقع وسیع وعریض عمارت، ہولی ٹرینیٹی کیتھڈرل کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کا پُرشکوہ مینار 18ویں صدی میں کراچی کا بلند ترین مینار تھا اور اپنی روشنی سے بحری جہازوں کو ساحل کی راہ دکھاتا تھا۔

یہ مینار جو کبھی کیماڑی پورٹ سے صاف نظر آتا تھا، منفرد طرزِ تعمیر کی بدولت آج بھی شہر کی بلند وبالا عمارات میں نمایاں ہے البتہ گوتھک طرزِ تعمیر کے حامل کیتھڈرل کی شان و شوکت، عمارت کی سادہ چار دیواری اور چھتنار درختوں کے درمیان چھپی ہوئی ہے۔ اسی طرح کیتھڈرل کے مکین اور ان کے شب و روز بھی پردہ اسرار میں ہیں جن کے بارے میں اہلِ کراچی بہت کم جانتے ہیں۔

ہم بھی ان کی زندگی کے بارے میں جاننے کے لیے کیتھڈرل جا پہنچے۔ شہر کے مصروف ترین کاروباری اور دفتری مراکز کے درمیان، فاطمہ جناح روڈ پر واقع اس عمارت کے اندر داخل ہوتے ہی آپ کو احساس ہوگا کہ جیسے آپ ’سکون کے ایک جزیرے‘ میں آگئے ہوں۔

ہولی ٹرینیٹی کیتھڈرل کے سربراہ، آنجناب بشپ فریڈرک جان نہایت خوش اخلاق اور منکسر المزاج شخصیت ہیں۔ انہوں نے ڈان نیوز ڈیجیٹل سے ہر موضوع پر بلا تکلف گفتگو کی جو نذرِ قارئین ہے۔

   چرچ کا مینار کراچی کے بلند ترین میناروں میں شمار ہوتا ہے
چرچ کا مینار کراچی کے بلند ترین میناروں میں شمار ہوتا ہے


بشپ کا دائرہ عمل


بشپ فریڈرک جان جوکہ علم الٰہیات (تھیالوجی) کے معزز استاد بھی ہیں، ان کی سربراہی میں ہولی ٹرینیٹی کیتھڈرل، کراچی اور بلوچستان کے کُل 50 گرجا گھروں کا تنظیمی مرکز و نگران ہے۔ یہ تمام عبادت گاہیں چرچ آف پاکستان/انگلینڈ کے تحت پروٹسٹنٹ فرقے کے لیے قائم کی گئی ہیں۔

کراچی میں چرچ آف پاکستان کے ماتحت 40 چرچ ہیں۔ کئی گرجا گھروں میں ایک سے زائد پادری حضرات موجود ہیں۔ بشپ فریڈرک جان ان کے نگران ہیں۔ بلوچستان کی بات کی جائے تو کوئٹہ میں چار، سبی، مستونگ، چمن، زیارت اور لورالائی میں ایک ایک چرچ موجود ہے۔

یہاں چرچ کے تحت اسکول اور ہسپتال کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ بلوچستان میں چرچ کے تحت سینٹ میری اسکول 100 سال سے زائد عرصے سے قائم ہے جبکہ زیارت میں قائم ڈسپینسری ڈھائی ایکڑ زمین پر پھیلی ہے۔ بشپ گاہے بہ گاہے ان گرجا گھروں کے دورے کرتے رہتے ہیں۔

  کراچی میں چرچ آف پاکستان کے ماتحت 40 چرچ ہیں
کراچی میں چرچ آف پاکستان کے ماتحت 40 چرچ ہیں

بشپ فریڈرک جان، کیتھڈرل میں واقع نیشنل سیمنری (پادریوں کی اعلیٰ تعلیمی درس گاہ) کے پرنسپل کا عہدہ بھی رکھتے ہیں۔


’گوروں کی روایت‘


بشپ صاحب کے مطابق، ’ہولی ٹرینیٹی کیتھڈرل کی تعمیر کے لیے گوروں نے گورنر ہاؤس جتنی زمین مختص کی تھی۔ عمارت کا رقبہ تقریباً 12 ایکڑ ہے‘۔

ہولی ٹرینیٹی چرچ کی بنیاد 1852ء میں برطانوی مسلح افواج کے سر بارٹل فریئر نے رکھی تھی۔ مؤرخ عثمان دموہی کی تحقیق کے مطابق ہولی ٹرینیٹی چرچ کا مینار اس وقت کراچی کا سب سے بلند مینار تھا لیکن علاقے کے رہائشیوں کا یہ خیال تھا کہ خراب موسم کی صورت میں یہ گر سکتا ہے، اس لیے اس کی دو بالائی منزلوں کو گرا دیا گیا تھا۔

کیتھڈرل کے مرکزی دروازے سے داخل ہوں تو سر سبز قطعہ زار میں واقع مینار سے آگے چرچ کی مرکزی عمارت واقع ہے۔ گوتھک طرزِ تعمیر کی شاہ کار یہ عبادت گاہ، اپنے در و دیوار، نقش و نگار، صلیب مقدس، معبد اور منبر سمیت نہایت پُرعظمت دکھائی دیتی ہے۔

ہولی ٹرینیٹی کیتھڈرل میں برطانیہ اور برصغیر کے فوجیوں کے ناموں کی یادگاری تختیاں آویزاں ہیں جن میں بلوچ رجمنٹ کا نام بھی نمایاں ہے۔ یہ فوجی 19ویں اور 20ویں صدی میں مختلف جنگوں بشمول جنگِ عظیم کے دوران مارے گئے تھے۔

  یہ عمارت گوتھک طرزِ تعمیر کا شاہکار ہے
یہ عمارت گوتھک طرزِ تعمیر کا شاہکار ہے

کیتھڈرل کے احاطے میں ٹرینیٹی گرلز کالج و اسکول، منشیات کے لیے ری ہیبلیٹیشن سینٹر، یتیم خانہ اور خصوصی بچوں کا ادارہ واقع ہے۔ اسی احاطے میں نیشنل سیمنری ہے جس میں پورے پاکستان سے طالب علم تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ بشپ فریڈرک اس کالج کے پرنسپل کی خدمات بھی سرانجام دیتے ہیں۔


’ میرے بیٹے کی پٹائی کیوں نہیں کی؟’


بشپ فریڈرک جان صاحب نے اپنا بچپن یاد کرتے ہوئے بتایا، ’میرے آباؤ اجداد کا تعلق پسرور سے تھا۔ میرے والد صاحب پادری تھے، ان کی پوسٹنگ نارووال میں تھی۔ میرا بچپن میر کپور گاؤں میں گزرا اور میں نے میٹرک تک تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ میں سرکاری اسکول میں پڑھتا تھا جس کی عمارت چھوٹی مگر گراؤنڈ بہت وسیع تھا۔ گاؤں میں بجلی نہیں تھی، گرمیوں میں درختوں کے نیچے کلاسس ہوتی تھیں، کلاس میں کسی کی پٹائی ہوتی تو پورا اسکول دیکھ رہا ہوتا تھا۔

’ایک درخت کے نیچے میری کلاس ہوتی اور دوسرے درخت کے نیچے چھوٹے بھائی کی کلاس ہوتی۔ ایک مرتبہ یہ ہوا کہ ہماری کلاس کا انگلش کا ٹیسٹ تھا جو میرا ٹھیک ہوا لیکن بقیہ کلاس کی پٹائی ہوئی۔ بھائی نے دوسرے درخت کے نیچے بیٹھے سب دیکھا اس نے جاکر والد صاحب کو بتایا کہ آج پوری کلاس کو مار پڑی مگر بھائی جان کو نہیں مارا۔

’میرے والد صاحب دوسرے دن اسکول پہنچ گئے اور ٹیچر سے پوچھا کہ میرے بیٹے کو کیوں نہیں مارا، استاد نے بتایا کہ کلاس میں صرف اس نے ٹیسٹ پاس کیا تھا۔ دراصل والد صاحب یہ جاننا چاہتے تھے کہ کہیں میرے بیٹے کو استاد نظر انداز تو نہیں کررہے۔ ہمارے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ جس نے استاد کی مار نہیں کھائی اس نے کچھ نہیں سیکھا‘۔

  بشپ فیڈرک جان
بشپ فیڈرک جان

وہ کہتے ہیں، ’استاد، طالب علموں کو بہت لگن سے پڑھاتے تھے، پٹائی کرتے تو انعام بھی دیتے تھے۔ میں اپنی کلاس میں واحد مسیحی طالب علم تھا لیکن مجھے کبھی کسی تفریق کا احساس نہیں ہوا۔ میٹرک کے بعد میں نے سیالکوٹ کے معروف ’مرے کالج‘ سے انٹر کیا جہاں سے علامہ اقبال نے تعلیم حاصل کی تھی۔ انٹر کے بعد میں نے تھیالوجی میں ماسٹرز کیا‘۔


’سانپ نے ڈسا تو مجھے خداوند کو سونپ دیا گیا‘


بشپ صاحب نے اپنے پادری بننے کی وجہ کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا، ’میرے والدین نے مجھے بتایا کہ جب میں گھٹنوں کے بل چلتا تھا تو مجھے سانپ نے ڈس لیا تھا۔ اس وقت سانپ کے ڈسنے کا علاج بہت مشکل تھا اور پھر ہم لوگ گاؤں میں رہتے تھے۔ میرے والدین نے حکیم، طبیب سب سے معائنہ کروایا مگر میری حالت بگڑتی گئی۔ مسیحی مذہب میں دعا کی بہت اہمیت ہے اس لیے والد صاحب مجھے گرجا گھر لے گئے۔

’چرچ میں مجھے ’سنکچری‘ (چرچ میں بنی صلیب گاہ، معبد) کے نیچے لٹا دیا گیا اور دعا مانگی کہ ’خداوند مجھ سے یہ بچہ نہیں بچ رہا تو اسے اپنے لیے بچانا چاہتا ہے تو بچا لے‘۔ میرے والد کا کہنا تھا کہ اس دعا کے بعد وہ مجھے گھر لے آئے اور مزید علاج ترک کردیا، معجزہ یہ ہوا کہ میری حالت بہتر ہونا شروع ہوگئی۔ خدا نے والد کی دعا سن لی اور اس نے مجھے اپنے لیے بچا لیا‘۔

فریڈرک جان نے کہا، ’میں خود اس بات پر دل سے یقین رکھتا ہوں۔ انٹر کی تعلیم کے بعد میرے بیشتر دوستوں نے آرمی میں کمیشن حاصل کیا اور انہوں نے مجھے بھی کہا کہ آپ قابل ہیں کمیشن کے لیے اپلائی کریں۔ میرا بھی دل چاہ رہا تھا لیکن مجھے ڈر تھا کہ یہ زندگی مجھے خدا کی خدمت کے لیے ملی ہے اور اگر میں فوج میں شامل ہوگیا اور کاکول میں کسی پہاڑ سے گر کر مر گیا تو میری زندگی خدا کی خدمت کیے بغیر ختم ہوجائے گی۔ پھر میں نے خدا کی راہ میں پادری بننے کا فیصلہ کرلیا‘۔

  فیڈرک جان کی زندگی کا مقصد خدا کی خدمت ہے
فیڈرک جان کی زندگی کا مقصد خدا کی خدمت ہے


’پادری کی زندگی‘


رومن کیتھولک چرچ میں پادری شادی نہیں کرسکتے لیکن پروٹسٹنٹ چرچ میں یہ پابندی نہیں۔ بشپ فریڈرک نے شادی کی اور ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

ایک پادری کی زندگی کے متعلق بات کرتے ہوئے بشپ صاحب کہتے ہیں، ’پادری خدا کے خدمت گار ہیں۔ انہیں اخلاقیات کی تعلیم دینی اور خود بہترین اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ پادری کو نہایت منکسر المزاج ہونا چاہیے، وہ کسی سے نفرت نہیں کرسکتے، کسی کو گالی نہیں دے سکتے، کسی کو نقصان پہنچائیں نہ کسی سے جھوٹ بولیں۔ انہیں عاجزی سے زندگی گزارنی ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ بشپ حضرات، پادری صاحبان کے رویوں کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔

  ’پادری خدا کے خدمت گار ہوتے ہیں جنہیں اپنے روئیوں کا جائزہ لینا چاہیے
’پادری خدا کے خدمت گار ہوتے ہیں جنہیں اپنے روئیوں کا جائزہ لینا چاہیے


’ پادری سے بشپ تک’


بشپ فریڈرک نے گوجرانولہ سیمنری سے تھیالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے لاہور سے تدریسی خدمات کا آغاز کیا اور چھ سال کی سروس کے بعد راولپنڈی میں ان کا تبادلہ ہوگیا۔ یہاں آپ بہ حیثیت ڈین آف اسٹڈیز اور لیکچرار پادری تعینات ہوئے۔ چھ سال تک اپنی خدمات سر انجام دیں۔

2001ء میں سینٹ تھامس تھیالوجیکل کالج کراچی کے بورڈ نے انہیں طلب کیا اور نیو ٹیسٹمنٹ (انجیل) لیکچرار کی حیثیت سے کالج میں تعینات کیا۔ یہ کالج کیتھڈرل کے احاطے میں ہی قائم ہے۔ 2004ء میں اس کالج کے نائب پرنسپل ریٹائر ہوگئے اور فریڈرک جان کو اس عہدے پر فائز کیا گیا۔ 2015ء میں پرنسپل برطانیہ چلے گئے تو انہیں عارضی طور پر پرنسپل کا عہدہ فریڈرک جان نے سنبھالا۔ بعدازاں 2017ء میں فریڈرک جان کو باقاعدہ پرنسپل بنادیا گیا۔

  چرچ کے داخلی راستے کا ایک سحر انگیز منظر
چرچ کے داخلی راستے کا ایک سحر انگیز منظر


’بشپ انتخاب کی معرکہ آرائی‘


آنجناب نے بتایا کہ بشپ کا انتخاب ایک مکمل جمہوری معرکہ ہوتا ہے۔

ستمبر 2020ء میں بشپ فریڈرک کے پیش رو صادق ڈینیل ریٹائر ہوئے تو آپ انتخاب جیت کر 2021ء میں بشپ مقرر ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ’بشپ کا انتخاب پورے پاکستان میں ہوتا ہے جس میں ہمارے آٹھوں ڈائسز (ریجن) شریک ہوتے ہیں۔ آٹھوں ڈائسز کے بشپس، ہر ڈائس سے ایک پادری اور ایک عام شہری ووٹر ہوتے ہیں۔ اس طرح ایک ڈائس کے تین ووٹ ہوتے ہیں۔ ہمارا ڈائس نیشنل سینٹ ہے۔

’سیکریٹری، ٹریژرر اور ماڈریٹر جوکہ چرچ آف پاکستان کے علامتی سربراہ ہوتے ہیں، تین ووٹ ان کے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ لوکل ایگزیکٹو کے ووٹ ہوتے ہیں۔ ہماری کراچی ایگزیکٹو کے 13 ووٹ ہیں‘۔

بشپ صاحب بتاتے ہیں، ’بشپ کے امیدوار کو جیت کے لیے سادہ اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یہ حاصل نہ ہوسکے تو دوبارہ بیلٹنگ ہوگی۔ پھر بھی اکثریت نہ مل سکے تو یہ عمل سات مرتبہ کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اَپر اور لوئر ہاؤس سے کوئی امیدوار سادہ اکثریت نہ لے سکے تو انتخاب 90 دن کے لیے ملتوی کردیا جاتا ہے اور پھر یہ پورا عمل دوبارہ دہرایا جاتا ہے‘۔

  فریڈرک جان کو 7 بار انتخاب کے مرحلے سے گزرنا پڑا
فریڈرک جان کو 7 بار انتخاب کے مرحلے سے گزرنا پڑا

دلچسپ امر یہ ہے کہ بشپ فریڈرک کو خود سات مرتبہ اسی مرحلے سے گزرنا پڑا اور 90 دن کے انتظار کے بعد دوبارہ ووٹنگ ہوئی تو وہ 27 ووٹوں میں سے 26 ووٹ حاصل کرکے بشپ منتخب ہوئے۔ منتخب ہونے والا شخص 73 سال کی عمر تک بشپ کی خدمات سرانجام دے سکتا ہے۔


’قرآن پاک اور احادیث کا مطالعہ‘


بشپ فریڈرک جان نے تھیالوجی کی تعلیم کے دوران اور اپنے شوق کی بنا پر مسیحیت کے علاوہ دیگر مذاہب کا بھی وسیع مطالعہ کیا۔ انہوں نے کہا، ’میں نے قرآن کریم کے تین تراجم پڑھے ہیں جن میں عبدالقادر جیلانی، فتح محمد جالندھری اور مرمڈیوک پکھتل کے انگریزی تراجم شامل ہیں۔ بائبل میں جو کچھ میں نے پڑھا، قرآن میں اس سے مختلف کچھ نہیں ہے۔ وہ تمام انبیا جن کا ذکر بائبل میں ہے، قرآن میں بھی ان کا ذکر ہے‘۔

بشپ صاحب نے بتایا کہ انہوں نے حدیث کی کتب میں ’ابن ماجہ شریف‘، ’صحیح مسلم‘ اور ’صحیح بخاری‘ کا مطالعہ کیا ہے اور وہ تفسیر بھی دلچسپی سے پڑھتے ہیں۔ بشپ فریڈرک ایک ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے مذہبی پروگرام ’صراط مستقیم‘ کا بھی حصہ رہ چکے ہیں۔

  فریڈرک جان کے مطابق بائبل اور قرآن میں مماثلت ہے
فریڈرک جان کے مطابق بائبل اور قرآن میں مماثلت ہے


’جنریشن زی کی مذہب سے دوری‘


بشپ صاحبان کے چیلنجز کے بارے میں بات کرتے ہوئے فریڈرک جان کہتے ہیں کہ ’21ویں صدی میں بڑا چیلنج چرچ کی زندگی برقرار رکھنا ہے یعنی روحانیت اور اخلاقیات کی ترویج بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ زی جنریشن کا رجحان برقی آلات کی طرف زیادہ ہے اور انہیں چرچ میں دلچسپی کم ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ نئی نسل جس طرح اپنی تعلیم یا دوسری مصروفیات کی وجہ سے چرچ سے دور ہورہی ہے تو ایسے میں چرچ کا مستقبل کیا ہوگا؟

’میں نے یہی سوال بشپ آف کنٹریبری کے سامنے بھی رکھا۔ گزشتہ نومبر میں انگلینڈ میں میری ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ نوجوان اپنی تعلیم اور ملازمتوں وغیرہ میں مصروف ہوتے ہیں اس لیے وہ چرچ نہیں آتے، میں نے پوچھا اتوار کو تو چھٹی ہوتی ہے، کیا اس دن بھی چرچ آتے ہیں؟ تو انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں! نوجوان نسل کا چرچ کی طرف رجحان کم ہے، کئی دہریت کی طرف مائل ہیں۔ میں نے بشپ آف کنٹریبری سے پوچھا کہ وہ چرچ کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں تو ان کے پاس بھی واضح جواب نہیں تھا‘۔

بشپ فریڈرک کہتے ہیں، ’میں خود بھی اس سوال کے جواب کا متلاشی ہوں۔ میرا خیال ہے مغرب کی نسبت مشرق میں اب بھی مذہب سے دوری کم ہے۔ نوجوان نسل اب بھی چرچ کے ساتھ جڑی ہے البتہ میں نے بیرونِ ملک صورت حال دیکھتے ہوئے برطانیہ سے واپس آتے ہی 2024ء کو ’یوتھ ایئر‘ ڈکلیئر کردیا۔ اپنی ڈائسز میں نوجوانوں کے لیے سرگرمیاں شروع کیں، سیمنارز وغیرہ کا انعقاد کیا تاکہ نوجوانوں میں روحانیت اور اخلاقیات کو فروغ دیں کیونکہ اسی کی بدولت وہ بہترین انسان بن سکتے ہیں‘۔

  جنریشن زی چرچ سے دور ہورہی ہے
جنریشن زی چرچ سے دور ہورہی ہے


’چندے و عطیات میں کمی‘


بشپ فریڈرک جان کہتے ہیں، ’چرچ کو درپیش مالی چیلنجز تشویش کا باعث ہیں۔ چرچ انتظامیہ عطیات و چندے پر منحصر ہوتی ہے اس میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔ ہمارے پاس ممبر شپ، سنڈے سروسز اور عطیات و چندہ آمدنی کے ذرائع ہیں۔ لوگوں کی استطاعت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر عالمی اور ملکی صورت حال نے مالی لحاظ سے چرچ کے مسائل میں اضافہ کیا ہے‘۔

بشپ صاحب نے بتایا کہ انہیں حکومتی سطح سے فنڈز حاصل نہیں ہوتے البتہ مقامی انتظامیہ سے درخواست کی جائے تو وہ تعاون کرتی ہے جیسے کہ حال ہی میں میئر کراچی کی جانب سے کیتھڈرل کی بیرونی دیوار کو پینٹ کروایا گیا۔ مخصوص حالات میں دیگر ادارے بھی تعاون کرتے ہیں۔ سیلاب کے دوران کراچی گرامر اسکول کے مسلم بورڈ ممبرز کی جانب سے ہمیں عطیات دی گئیں’۔

  کیتھڈرل کا اندرونی منظر
کیتھڈرل کا اندرونی منظر

اس سوال کے جواب میں کہ چرچ آف انگلینڈ کی جانب سے چرچ آف پاکستان کو کیا مالی تعاون حاصل ہے، بشپ صاحب نے جواباً کہا، ’چرچ آف انگلینڈ کی طرف سے پراجیکٹ کی بنیاد پر گرانٹس مل سکتی ہیں جیسا کہ ہمیں اپنی بلڈنگ میں مزید کسی ادارے کی تعمیر کرنی ہے تو انہیں منصوبے کے متعلق درخواست دیں گے جس کا جائزہ لے کر وہ فنڈز مہیا کریں گے۔ باقاعدہ طور پر مالی امداد پہلے مشنریز کو فراہم کی جاتی تھی، گوروں کے چلے جانے کے بعد وہ سلسلہ قائم نہ رہا‘۔


’جبری شادی کی شکایات‘


بشپ فریڈرک نے بین المذاہب جبری شادی کے مسئلے پر اپنے تجربات کی روشنی میں کہا کہ ’جبری شادی‘ ایک پیچیدہ اصطلاح ہے، زیادہ تر کیسز میں بچیاں کم سن، محض سات یا آٹھ سال کی ہوتی ہیں۔ اس بچی کو شادی کے معنی ہی معلوم نہیں تو یہ جبری شادی نہیں اغوا کا مقدمہ ہے ایسے واقعات کا سختی سے سدباب ہونا چاہیے۔ بین المذاہب ایسی شادی جس میں لڑکا لڑکی دونوں بالغ ہوں، اس میں جبر اور رضامندی کی تفریق ضروری ہے۔

’کچھ عرصہ پہلے آرزو راجا کا کیس ہوا جو میرے سامنے بھی آیا تھا۔ یہ ابتدا میں جبری شادی کا معاملہ لگ رہا تھا لیکن جب لڑکی نے کہہ دیا کہ میں بالغ ہوں اور اپنی رضا سے خود سے بڑی عمر کے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں تو پھر کیا کیا جاسکتا ہے۔ میری رائے میں ایسے واقعات کا یا تو وقت پر سدباب کریں اور اگر شادی ہوگئی ہے تو پھر لڑکی کی زندگی کی خاطر افہام و تفہیم سے کام لینا چاہیے۔ شوہر اگر اس سے مخلص ہے اور اس کی ذمہ داری اٹھا سکتا ہے تو میری ذاتی رائے میں بڑوں کو انہیں الگ کرنے کی بجائے دانشمندی سے کام لینا چاہیے۔ انٹر فیتھ میرج ہوتی ہیں اور کامیاب بھی ہوجاتی ہیں‘۔

  فریڈرک جان نے کہا کہ بین المذاہب شادی میں جبر اور رضامندی کی تفریق ضروری ہے
فریڈرک جان نے کہا کہ بین المذاہب شادی میں جبر اور رضامندی کی تفریق ضروری ہے


’چرچ کا تذبذب‘


بہ حیثیت بشپ، فریڈرک جان صاحب مسیحی کمیونٹی کو درپیش مسائل کے حل کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کمیونٹی کی جانب سے کئی سماجی مسائل سامنے آتے ہیں ان میں طلاق سر فہرست ہے۔ ’ہماری کمیونٹی میں یہ مسئلہ بڑھ رہا ہے جس پر ہم پریشان ہیں اور چرچ ایک تذبذب کا شکار ہے۔ پریشانی یہ ہے کہ ایک طرف لینڈ لا ہے جبکہ دوسری طرف مسیحی شریعت میں طلاق نہیں ہوسکتی۔ اس طرح چرچ کا قانون یعنی بائبل اور لینڈ لا متصادم ہیں البتہ بائبل کے مطابق جوڑوں میں علیحدگی ہوسکتی ہے۔

’اب ہو یہ رہا ہے کہ طلاق کے خواہش مند جوڑے سول کورٹ میں چلے جاتے ہیں اور عدالت ملکی قانون کے تحت طلاق کا حکم صادر کردیتی ہے کیونکہ شہری کی حیثیت سے وہ یہ حق رکھتے ہیں۔ اس صورت میں چرچ کورٹ کے فیصلے کو کالعدم نہیں کرتا البتہ طلاق یافتہ جوڑوں پر بائبل کے مطابق چند پابندیوں کا اطلاق کردیتا ہے جس کے بعد وہ مخصوص مذہبی رسومات مثلاً ’ہولی کمیونن‘ (یسوع مسیح کی قربانی کی یاد منانا) وغیرہ میں شرکت نہیں کرسکتے‘۔

  مسیحیت کا قانون، لینڈ لا سے مختلف ہے
مسیحیت کا قانون، لینڈ لا سے مختلف ہے

بشپ صاحب نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں جہاں ملکی قوانین، مذہبی معاملات سے متصادم ہیں وہاں ہمیں سوچ بچار کی بھی ضرورت ہے۔ میرا خیال ہے کہ لینڈ لا کو مذہبی قوانین سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، اس کی ایک مثال موجود ہے۔ طلاق کے معاملے میں بعض اوقات کورٹ اس معاملے کو متعلقہ ڈائسز کو ریفر کردیتا ہے جس کی ڈائس کورٹ میں سماعت ہوتی ہے‘۔


’صدیوں کا ساتھ اور عدم برداشت‘


پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت کے رجحان کے بارے میں بات کرتے ہوئے بشپ صاحب اپنے ماضی کو یاد کرتے ہیں کہ جب مختلف مذاہب کے لوگ آپس میں مل جل کر رہتے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’ہمارے گاؤں میں جب کسی مسیحی لڑکی کی شادی ہوتی تھی تو پورے گاؤں کے نوجوان اس شادی کی تیاریوں میں جتے ہوتے تھے۔ پورے گاؤں سے چارپائیاں اور بستر اکٹھے کیے جاتے تھے۔ کسی کے گھر سے دودھ آرہا ہوتا تھا تو کہیں سے چاول اکٹھے ہورہے تھے۔ کوئی کسی پر احسان نہیں کرتا تھا اور یہ سب اس جذبے کے تحت کیا جاتا تھا کہ گاؤں کی بیٹی ہے اور اسے مل جل کر رخصت کرنا ہے‘۔

بشپ صاحب کے خیال میں مذہبی انتہا پسندی رویے اور سوچ کی تبدیلی کا نتیجہ ہے، ورنہ مختلف مذاہب کے لوگ صدیوں سے یہاں اکٹھے رہ رہے ہیں۔ سوچ میں تبدیلی کی وجہ سے دہشت گردی کو فروغ ملتا ہے جس کے نتیجے میں تناؤ بڑھا ہے اور کمیونٹیز ایک دوسرے سے دور ہوتی جارہی ہیں۔ ان کے مطابق ان لوگوں سے مکالمہ کرنا ہوگا جو نفرت اور تشدد کے رویوں کے حامل ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ’اس کے علاوہ توہین مذہب کا قانون جو اگرچہ شروع سے ہی آئین میں موجود تھا لیکن اس کے نفاذ کا جو زاویہ بدلا اور جس طرح توہین اور پروپیگنڈے میں فرق کیے بغیر اس کی پریکٹس ہوئی اس کے تناظر میں ہونے والے واقعات نے معاشرے کی مختلف مذہبی اکائیوں میں دوری اور تشویش پیدا کی ہے‘۔

بشپ صاحب کے خیال میں معاشرے میں تشدد اور انتہا پسندی کے رجحان کے خاتمے کے لیے تین پہلوؤں سے مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، مردانہ بالادستی، مذہبی بالادستی اور سماجی اقتصادی بالادستی یعنی جس مذہب کی اکثریت ہے اسے سماجی اور معاشی مواقع زیادہ حاصل ہوں، اس سوچ کو سنجیدگی سے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

  ’یہ سچ ہے کہ اس معاشرے میں ہمیں مذہبی اور سماجی امتیاز کا سامنا ہے‘
’یہ سچ ہے کہ اس معاشرے میں ہمیں مذہبی اور سماجی امتیاز کا سامنا ہے‘

بشپ صاحب افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’مسیحیوں کی آبادیاں جلائی جارہی ہیں، لوگ ڈر کر زندگی گزار رہے ہیں جبکہ یہ محب وطن ہیں۔ مسیحیوں نے افواجِ پاکستان میں شامل ہوکر مادر وطن کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں‘۔

بشپ فریڈرک نے کہا، ’مجھے ذاتی طور پر کبھی مذہبی تفریق کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ میرے زیادہ تر دوست مسلمان ہیں اور ہمارے ساتھ ان کا رویہ اچھا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس معاشرے میں ہمیں مذہبی، سماجی اور معاشی امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میرے پاس اس قسم کی شکایت بھی آئی ہے کہ مسیحی نوجوان کو بہت اچھی نوکریوں سے محض اس لیے فارغ کردیا گیا کہ بھاری تنخواہ کسی مسلمان کو دی جائے‘۔


’سیاسی امتیاز کی شکایات‘


بشپ فریڈرک جان سیاسی معاملات میں مسیحی نمائندوں سے امتیازی سلوک پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں بھی تمام جماعتوں نے مخصوص نشستوں پر مسیحی نمائندوں کو پانچویں یا چھٹے نمبر پر رکھا جبکہ مسیحی برادری انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔ کراچی میں مسیحی آبادی کے اکثریتی علاقوں سے بھی کسی مسیحی کو عام انتخابات کے لیے ٹکٹ نہیں دیا جاتا۔

انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کیا کہ اقلیتی ریزرو نشست پر منتخب ہونے والے سٹی کونسلر کو فنڈز بھی نہیں دیے جاتے۔ بشپ فریڈرک جان صاحب نے مطلع کیا کہ وہ اس بارے میں وزیراعلیٰ کو خط بھی لکھیں گے۔


’باجماعت نماز کے لیے دوڑتے ہوئے لوگ پسند ہیں‘


بشپ فریڈرک جان نے مسلم روایات کے متعلق سوال کے جواب میں کہا، ’نظریاتی طور پر اسلام میں مساوات کا نہایت عمدہ تصور ہے۔ ایسا دوسرے مذاہب میں بھی ہے، بائبل میں ہمسایوں کے حقوق پر بہت زور دیا گیا ہے مگر افسوس ہے کہ معاشرے میں عملی طور پر اسلامی مساوات کا پہلو رائج نظر نہیں آتا‘۔

بشپ صاحب نے مزید کہا، ’اسلامی روایات مجھے اس وقت بہت اچھی لگتی ہیں جب میں مسلم حضرات کو نماز باجماعت کے لیے گرم جوشی سے مسجد کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھتا ہوں‘۔

  ’باجماعت نماز کے لیے دوڑتے ہوئے لوگ پسند ہیں‘
’باجماعت نماز کے لیے دوڑتے ہوئے لوگ پسند ہیں‘

انہوں نے کہا، ’دیگر مذاہب میں بھی لوگ اپنے انداز میں عبادت تو کرتے ہیں لیکن مسلمانوں میں نماز کے لیے جوش وخروش نمایاں نظر آتا ہے۔ نماز کے وقت لوگ اپنا کاروبار بند کردیتے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں لوگ اپنی جائے نماز ساتھ لیے جارہے ہیں اور تپتی ہوئی سڑک پر بھی جائے نماز بچھا کر نماز پڑھتے ہیں حالانکہ مساجد میں ایئر کنڈیشنرز نصب ہیں۔ اسی طرح ہمارے گرجا گھروں میں بھی ایئر کنڈیشنر لگے ہوئے ہیں لیکن عبادت میں تساہل کا رجحان ہے۔

’میں سمجھتا ہوں خدا کی عبادت کا حق یہ ہی ہے کہ جس خدا کے سامنے آپ حاضر ہونے جارہے ہیں، اسے انتظار نہ کروائیں۔ آپ نے خدا سے ملاقات کا جو وقت مقرر کیا ہے اس کی پابندی کریں‘۔

فریڈرک جان نے کہا، ’باجماعت عبادت کی خصوصاً بہت زیادہ برکت ہے۔ باجماعت نماز کی طرح مسیحیت میں اتوار کو چرچ میں جماعت کے ساتھ ہوتی ہے جوکہ زیادہ برکت رکھتی ہے بہ نسبت اس عبادت کے جو لوگ گھروں میں انفرادی طور پر کرتے ہیں‘۔

غزالہ فصیح

غزالہ فصیح دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں اور بےنظیر بھٹو سمیت پاکستان کی کئی نامور شخصیات کے انٹرویو کرچکی ہیں۔ آپ پاک۔ یو ایس جرنلسٹ ایکسچینج پروگرام 2014ء کی فیلو رہی ہیں۔ آپ نے ایک کتاب Birds without wings کو 'پر کٹے پرندے' کے عنوان سے اُردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔
ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔