اوکے شوکے کا گیت

12 اکتوبر 2012

:زے

سب اوکے شوکے لگدا اے

فیر دل میرا کیوں ڈردا اے

:چے

جسٹس نے خط کو مان لیا

(کیا جان لیا؟ پہچان لیا؟)

سر پر لٹکی تلوار ہٹی

رستے میں کھڑی دیوار ہٹی

سب اوکے شوکے ہے سر جی

توں غم نا کر تے نا ڈر جی

 

:زے

پر سندھ میں کتنا رولا ہے

کھوڑو کے  گھر بم گولہ ہے

مولو سے کہو وہ کچھ تو کرے

اور کچھ نہ سہی جلسہ کردے

 

:عين

یہ جلسے ولسے کل سے ہیں

یہ مالشئے ہیں مسئلے ہیں

پر اب تو جیالے بکتے ہیں

لوگوں کے ساتھ اکڑتے ہیں

بےسرے، گرے، بے پیرے  ہیں

کیا بے شرمی ہے شرم کو بھی

شرم آتی ہے پر نہیں آتی

 

اس دل میں دکھ کا ڈیرا ہے

اندھیاروں کا ہی بسیرا ہے

وہ ایک چراغ سوات کا جی

ظلمات کا جی ہاۓ  ہاتھ کا جی

 

وہ بڈھے بابے مار چکے

گبھرو بھائی کو  پچھاڑ چکے

ماؤں سے دعائیں چھین چکے

بہنوں سے ردائیں چھین چکے

اور اب بیٹی پر حملہ ہے

یہ دور بڑا ہی کملا ہے

دیوانہ ہے دیوانہ ہے

اور خود سے بھی بیگانہ ہے

 

پر میڈیا جو یہ کہتا ہے

کہ اس اسکو سب کچھ دکھتا ہے

اور سنائی دیتا ہے

یہ اندھا گونگا بہرا ہے

کیوں اس کو ملالہ لکھتا ہے

جب نام ملالئے ہے اس کا

انگریز نے نام بگاڑے تھے

جو سات سمندروں آیا تھا

پر یہ تو خود ماں جایا ہے

پھر اس کو میرا نام صحیح

کیوں یاد نہیں

دھرتی یہ تبھی آباد نہیں

 

افسوس بڑا، ارمان بہت

دکان بڑی، پکوان بہت

پر سب پھیکے بے سوادے ہیں

یہ صحافی نہیں، یہ دادے ہیں


عباس جلبانی میڈیا سے منسلک قلم کے ایک مزدور ہیں اور خود کو لکھاری کہلانے سے کتراتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں