عوام کی عدالت؟

01 نومبر 2012

ای میل

سی این جی اسٹیشن ۔ فوٹو آن لائن۔

آنے والے ہفتہ دس دن میں سپریم کورٹ کی جانب سے سی این جی کی قیمتوں کی صورت میں حکومتی امور میں نبھائے گئے تازہ ترین کردار اور اس دخل اندازی کے بنیادی قانونی جواز کے بارے میں بہت کچھ لکھا جائیگا۔

 دائرہ اختیار کے تعین اور تجزیئے کو اس کام کیلئے موضوع افراد پر چھوڑ کر بھی ہماری حالیہ سیاسی تاریخ اور عدالتی کردار کے کئی پہلو ایسے ہیں کہ جن پر گفتگو کرنے سے سپریم کورٹ کے کچھ خاص مسائل پر اپنائے جانے والے مخصوص طرزِ عمل کے بارے میں ایک مربوط تصویر سامنے آتی ہے۔

گہرے خلاصے کے دیباچے کی غرض سے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں قانون کو عوامی گفت وشنید میں ایک تکنیکی اور غیر سیاسی مقام حاصل ہو چکا ہے۔

ہمارے قانونی نظام کا منتظمِ اعلیٰ ،سپریم کورٹ،قانون کی تشریح سیاست کے داؤ پیچ سے بالاتراو ر عد ل کے دائرہ کار میں رہ کر کرنے کی بات کرتا ہے اور یہی منفرد روپ میڈیا کی جانب سے کئے گئے اعلیٰ عدلیہ پرتجزیات میں اکثر جلوہ نما ہوتا ہے۔

ہمارے معاملے میں، خاص طور پر ایسے فیصلوں کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی فضاء میں عدلیہ کی زیادہ تر کارگزاریاں اسکے قانونی رتبہ کے حوالے سے بیان کی جاتی ہیں جسکے لئے دائرہ اختیار اور اسکی تشریحات پر گفتگوکا سہار ا لیا جاتا ہے۔

شاذ و نادر استعمال ہونے والی ایک مفصل وضاحت یہ ہوگی کہ عدلیہ کی طاقت کا ایک مزید عمرانی تجزیہ کرایا جائے جس میں خاص توجہ اسکے سیاست اور عوام سے تعلقات پر دی جائے۔

بیوروکریٹ فطرت رکھنے کے باوجوداعلیٰ عدلیہ اور فوج جیسے ادارے عوامی درجے پر سرگرمِ عمل ہوتے ہیں۔یہ عوام سے رابطہ مختلف طریقہ کار سے کرتے ہیں جن میں پریس ریلیز،میڈیا پر بیانات دینا،پٹیشن کی درخواست جمع کرنا،عوامی میل جول شامل ہیں اور اہمیت کے حامل عوامی معاملات پر رائے دیتے ہیں۔

 ہر ملاقات میں محض سیاسی نمائندوں اور عوام کے ردعمل سے ایک منفرد قسم کی سیاست جنم لے رہی ہے ۔

 اگر سپریم کورٹ فیصلہ دیتا ہے کہ سی این جی کی قیمت مقرر کرنے کاطریقہ بے معنی ہے اور موجودہ قیمت صارفین کا گلا گھونٹ رہی ہے توایسا کرکے وہ نہ صرف ایک اور عوامی کردار جیسے اس معاملے میں حکومت کو اپنی طاقت استعمال کرنے سے روک رہا ہے بلکہ وہ عوام یعنی صارفین کو اپنے فیصلے میں مرکزی رتبہ دے کر انکی حوصلہ افزائی بھی کر رہا ہے۔

 یہ سیاست کی پہلی سیڑھی ہے۔ درحقیقت بحالی سے قبل اور بعد کے عدالتی فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ماننا کہ وہ سیاست سے ماورا ہیںیہ ایک ایسی رائے ہے جو ہماری سیا سی تاریخ اور خاص طور پر گزشتہ برسوں کے واقعات کے عین مخالف ہے۔

 آئینی اسمبلی کی تحلیل کو جائز قرار دئے جانے کے نتیجہ خیز واقعے سے لے کرقومی مفاد کے نام پر ۲۰۰۷ کے ہر عبوری آئینی حکم کی منظوری تک، ہر عمل نے عوامی رائے عامہ کویہ بتانے میں اہم کردار کیا کہ عوام کے نام پرجائز سیاسی طاقت رکھنے کی اجازت کس کو ہوتی ہے۔

 یوں چیف جسٹس افتخار چوہدری کی عدالت پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے جس حقیقت کو دہرانا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں اور عام عوام کی نظر میں اسکی موجودہ طاقت کی بنیاد اسکی بحالی کی ایک بہت ہی عوامی اور سیاسی تحریک تھی۔

 مزید برآں، یہ بحث بھی حق بجانب ہو سکتی ہے کہ قانون کی بالادستی کی نعرے بازی، جو اکیسویں صدی کے پاکستان کا ایک مشہور نعرہ ہے اورسپریم کورٹ کی مقبولیت کا سرچشمہ بھی ہے بذات خود ایک سیاسی ایجنڈا ہوسکتا ہے۔

 سامع کی نوعیت کے مطابق یہ نظریہ بھی سامنے آیا ہے کہ ۲۰۰۷ میں چیف جسٹس کی بحالی کی تحریک کو قانون کی بالادستی کے حق میں تصور کیا گیا تھا۔ ایک ایسی تحریک جو ایک آمر کے من مانے طرزِحکومت کے خلاف ہے۔جو عوام تک قانون کی رسائی ممکن بنائیگی اور ایسی تحریک جو ایک مساوی معاشرے کی تخلیق کریگی۔

 لہٰذا اپیل یہ ہے کہ عوام میں موجود قانون کی بالادستی کا احساس اسلئے نہیں کہ قانون میں کچھ ماورائی یا خدا کا عطا کیا ہوا طلسم موجود ہے بلکہ عوام خاص طور پر اربن مڈل کلاس جس نے عدلیہ بحالی تحریک میں مرکزی کردار ادا کیا تھا اب قانون کواسکی تشریح اور اس پر عمل در آمد کو مانے جانے والے صحیح و غلط کی تسحیح کا آلہء کار شمار کرتی ہے۔

 اسی طرح اعلیٰ عدلیہ کا مسیحائی کردارصرف اسکے قانون کے مطابق قانون اور آئین کے مجوزہ پاسدار ہونے کے ناطے نہیں ہے بلکہ عوامی مفاد کے کسی بھی مسئلے پر پٹیشن دائر کرنے کی اجازت کی وجہ سے حکومتی امور میں اسکی دخل اندازی سے جنم لینے والی عوامی تعریف اور اسکی جانب سے قانون کی بہت ہی عوامی اور اکثر حریفانہ اندازمیں کی گئی عمل درآمد ہے۔

 درحقیقت ،یہ بحث معقول ہے کہ معاشرے کے مخصوص حصوں میں عدالت کی شہرت صرف اسی لئے باقی ہے کیونکہ یہ جانتے بوجھتے نہایت پھرتی سے ایک ایسی حکومت کے ان فیصلوں سے دامن چھڑا لیتی ہے جو انہی حصوں میں غیر مقبول ہے۔

ویسے تو وکلاء تحریک اوراپنے فیصلوں میں عام آدمی کے مسائل کو باقاعدگی سے اٹھانے کی شکل میں اپنے عوامی میل جول سے سپریم کورٹ نے پاکستانی معاشرے میں اپنا سیاسی حلقہ آباد کرلیا ہے اور اسے اپنے قابومیں رکھنے کیلئے دلجمعی سے کام کیا ہے۔

 مگر دیکھا جائے تو عدالت ابھی بھی اپنے آپ کو سیاسیات سے بالاتر،قومی مفاد کیلئے کام کرنے والے اور ایک ایسے ادارے کے طور پر پیش کر رہی ہے جو موجودہ پاکستان کی محدود کردار وں کی سیاست سے نہیں گھبراتا۔

 عام اور متبادل رائے کے مطابق تجزئیے اور بحث کی خاطر، اس ذاتی جائزے کی صداقت کا کڑاامتحان اور باریک بینی سے معائنہ ضروری ہے۔

 عدالت کے اعمال کو سیاسی ماننے کے بجائے مستقل طور پرقانونی ماننا ہماری ایک کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے اور ان ادوار کے مشابہ نظر آتا ہے جب دانشوروں کے بعض حلقے سیاسیات سے بالاتر، قومی مفاد کیلئے کام کرنے والے ایک اور ریاستی ادارے کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے ہیں۔