بینظیر کا قتل: گہرے پُراسرار سائے برقرار

27 دسمبر 2012

ای میل

benazir-assassination-670
بے نظیر بھٹو ستائیس دسمبر 2007 کی شام روالپنڈی لیاقت پارک میں پارٹی جلسے کے اختتام پر کارکنوں کے نعروں کا جواب دیتے ہوئے، اس کے کچھ لمحوں بعد وہ قاتلوں کا نشانہ بن گئیں۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

راولپنڈی کی ایک ایسی شام جب فضا پر دھند چھائی ہوئی تھی، بے نظیر کو ایک جلسہ عام کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

وقت اس قدر تیزی سے گزرجاتا ہے، کوئی ان لمحات میں شاید سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس واقعہ کو پانچ سال بھی گزر جائیں گے اور بے نظیر کے المناک قتل کا کیس پاکستان کے دیگر ہائی پروفائل قتل کیسز کی طرح ایک مسٹری بن جائے گا۔

لیاقت پارک جہاں بےنظیر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھیں، پیپلزپارٹی کے مٹھی بھر کارکن بینرز اور ہورڈنگ بورڈز لگانے میں مصروف نظر آئے۔ پارک میں آنے جانے والے لوگوں کی توجہ نجانے کیوں ان پر مرکوز نہیں ہوئی۔

قریب ہی مری روڈ پر ایک فلائی اوور پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے بنایا جارہا ہے، جس کے تعمیراتی کاموں میں مزدوروں کی ایک بڑی تعداد مصروف نظرآتی ہے۔

پیپلزیوتھ آرگنائزیشن کے رکن قاضی سلطان احمد کی نگرانی میں پی پی کے جیالے بے تاثر چہروں کے ساتھ اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ اُن کے ذہنوں میں فقط یہی تصور قائم ہے کہ انہوں نے اپنا سب کچھ کھودیا ہے اور اب وہ یتیم ہوگئے ہیں۔

ایک کارکن محمد شکیل بینر کو کھولتے کہہ رہے تھے کہ ہم ہر سال یہی سوچتے ہیں کہ اس مرتبہ ہمیں کوئی احمقانہ بات سننے کو نہیں ملے گی۔

وہ افسردگی کے ساتھ بولے کہ ہمارے سیاسی مخالفین ہمارا بہت مذاق اُڑاتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں ہونے کے باوجود بی بی کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

لیکن پیپلزپارٹی کے ورکرز کی یہ مشترکہ خواہش کہ بی بی کے قاتل کیفر کردار تک پہنچیں، اب تک پوری نہیں ہوسکی ہے۔ یوں پیپلزپارٹی قیادت کی سرد مہری کی وجہ سے ان کے اندر غم و غصے کے لاوا اُبل رہا ہے۔

تیس دسمبر 2007ء، جب ملک کے موجودہ صدر آصف علی زرداری نے اپنی اہلیہ اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے بات کی تھی، لیکن اس دن کے بعد آج کا دن ہے کہ اس قتل پر پُراسراریت کے دبیز سائے بڑھتے جارہے ہیں۔

آصف علی زرداری نے اس دن جبکہ سب ہی کے دل پر افسردگی طاری تھی، بار بار ایک ای میل کا تذکرہ کیا تھا، جو بے نظیر بھٹو نے مارک سیگل کو تحریر کی تھی۔ اس ای میل میں جنرل(ر) پرویز مشرف کی طرف بی بی نے واضح طور پراشارہ کیا تھا کہ وہ اُن کی سیکیورٹی کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہیں۔

صدرزرداری کی جانب سے مذکورہ ای میل کا حوالہ دینا، واضح طور پر بے نظیر کے قاتلوں کی نامزدگی کا اعلان تھا۔

اُس دن انہوں نے ایک ہی سانس میں ناصرف مسلم لیگ ق کو قاتل لیگ قرار دیا تھا، بلکہ چوہدری پرویزالٰہی کے ساتھ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جرنل حمید گل اور آئی بی چیف اعجاز شاہ پر بی بی کے قتل کا منصوبہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ وہ بی بی کے قاتلوں کو سزا دلوانے میں سنجیدہ تھے، اس لیے کہ انہوں نے جس جماعت کو قاتل لیگ قرار دیا آج وہ ان کے ساتھ شریک اقتدار ہے اور پرویز الٰہی جن پر انہوں نے بی بی کے قتل کی منصوبہ بندی میں شریک ہونے کا الزام لگایا تھا آج پیپلزپارٹی کے زیرقیادت حکومت کے ڈپٹی وزیراعظم ہیں۔

لیکن بے نظیر بھٹو کے قتل کے نام پر سیاسی قد و کاٹھ میں اضافہ کرنے کے حوالے سے زرداری تنہا نہیں ہیں، اس لیے کہ رحمان ملک بھی بے نظیر بھٹو قتل کیس کے بارے میں اپنے ڈرامائی بیانات کے ساتھ آگے آگے رہے ہیں۔

ایک ماہ قبل چترال میں پیپلزپارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا تھا کہ وہ جلد ہی بے نظیر بھٹو اور دیگر ہائی پروفائل قتل میں ملوث افراد کے نام اپنی آنے والی ایک کتاب میں دیگر تمام تفصیلات کے ساتھ ظاہر کردیں گے۔

کوئی نہیں جانتا کہ وہ دیگر تفصیلات کیا ہیں، جن کا انکشاف وزیرداخلہ اپنی کتاب میں کریں گے۔

اور صرف یہی نہیں بلکہ دسمبر کے وسط میں ڈان سے ایک بات چیت کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ وہ کچھ نئے چہروں کا بھی انکشاف کریں گے جو بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث تھے، انہوں نے کہا تھا کہ وہ بی بی کی برسی پر بی بی کے قتل کی جوائنٹ انٹرووینشن ٹیم رپورٹ عوام کے سامنے پیش کردیں گے۔

لیکن یہ بھی یاد رہے کہ اس سال کی ابتداء میں اکیس فروری کو سندھ اسمبلی میں انہوں نے ایک خصوصی بریفنگ کے دوران بی بی کے قتل کا الزام براہ راست جرنل پرویز مشرف پر لگایا تھا۔

رحمان ملک کے الفاظ جو میڈیا رپورٹ میں بطور حوالہ دیئے جاتے رہے ہیں، یہ تھے: بےنظیر بھٹو نے پرویز مشرف اور فاٹا میں قائم دہشت گردی کے مراکز کو اپنے لیے خطرہ قرار دیا تھا، اس لیے کہ وہ ملک میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کی بحالی کے لیے سب سے مضبوط آواز تھیں۔

جوش خطابت میں وزیرداخلہ کو صدر زرداری کا بیان بھی یاد نہیں رہا، انہوں نے سندھ اسمبلی کے اراکین کے سامنے بی بی کا پوسٹمارٹم نہ ہونے کا ذمہ دار ڈیوٹی پر موجود پولیس آفیسر کو ٹھہرایا، جس نے اُن کے بقول ڈاکٹرز کو اس کام سے روک دیا تھا۔

حالانکہ صدر زرداری نے تیس دسمبر 2007ء کو اپنی پریس کانفرنس میں یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ انہوں نے پوسٹمارٹم کی حکومتی درخواست کو مسترد کردیا تھا، کہا تھا کہ میں پاکستان میں ایک عرصے سے مقیم ہوں اور جانتا ہوں کہ یہاں پوسٹمارٹم سے کیا فائدہ ہوگا، یہاں کی تمام فارنسک رپورٹ بے کار ہیں، ہم جانتے ہیں کہ ہمارا کتنا بڑا نقصان ہوا ہے اور یہ بھی کہ کس طرح ہوا ہے۔

صرف رحمان ملک ہی نہیں پیپلزپارٹی کے دیگر رہنما بھی اسی طرز کے متضاد بیانات جاری کرتے رہے ہیں۔

مثال کے طور پر وفاقی وزیراطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ جو پی پی کے مرکزی ترجمان بھی ہیں، تین جنوری 2011ء کو اپنے آبائی شہر گجرات میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ بےنظیر قتل کی تحقیقات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے اور بس اب چند دنوں ہی کی بات ہے کہ بی بی کے قتل کے سنگین جرم میں ملوث افراد بے نقاب ہوجائیں گے۔

لیکن کائرہ نے ایک دوسرے موقع پر یہ بھی کہا کہ بے نظیر قتل کا اصل ذمہ دار بیت اللہ محسود ہلاک ہوچکا ہے، جبکہ دیگر ملزمان سلاخوں کے پیچھے اپنے ٹرائل کے منتظر ہیں۔

جبکہ سندھ کے سابق وزیرداخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے رحمان ملک سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں جھوٹا قرار دے کر رحمان ملک کے ان تمام بیانات کو مشکوک بنادیا جو وہ بی بی کے قتل کے حوالے سے دیتے رہے تھے۔

آج بےنظیر کی پانچویں برسی کے موقع پر بھی گڑھی خدابخش میں لوگ اس موقع کو یادگار بنانے کے لیے اکھٹا ہوئے ہیں، لیکن لوگوں کی اکثریت بی بی قاتلوں کے حوالے سے کچھ سننے کی منتظر ہے۔

توقع یہی ہے کہ اس موقع پر کچھ جذباتی تقاریر ہوں گی، جن سے بی بی قاتلوں پر پُراسراریت کے سائے مزید گہرے ہوجائیں گے اور کچھ متوقع الیکشن کے حوالے سے باتیں ہوں گی۔

لیکن پارٹی کے لیے جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلنے والےجیالوں کو اس سانحہ کے حوالے سے کسی سچائی کے سامنے آنے کی توقع نہیں، جس سانحے میں ان کی مقبول لیڈر کی زندگی کا خاتمہ ہوگیا۔

کہا جاسکتا ہے کہ پیپلزپارٹی کی توجہ اب ماضیٔ قریب پر مرکوز نہیں رہی ہے۔