پاکستان میں وہیل شارک کا شکار

05 فروری 2013

گزشتہ سال پاکستان میں ہلاک کی جانے والی ایک وہیل شارک کی تصویر۔ فائل تصویر اے پی
گزشتہ سال پاکستان میں ہلاک کی جانے والی ایک وہیل شارک کی تصویر۔ فائل تصویر اے پی

سمندروں میں پائے جانے والے بڑے جانداروں میں سے ایک وہیل شارک ، بڑی تعداد  میں پاکستان کے پانیوں میں بھی پائی جاتی ہے۔

گزشتہ دنوں ایک ایسی ہے وہیل شارک کی ہلاکت کے بعد اس حساس مخلوق کی پاکستانی پانیوں میں موجودگی اور اہمیت پر بحث کی جارہی ہے۔

سندھ اور بلوچستان کے سمندروں میں 1950 کے عشرے میں ہارپون سے بھی ان وہیل شارک کا شکار کیا جاتا تھا۔  پاکستان میں وہیل شارک سے وابستہ فشریز کا پہلا ریکارڈ 1850 میں سمندری حیات کے برطانوی ماہر بائسٹ نے مرتب کیا تھا۔ وہیل شارک سے مخصوص ان فشریز میں ان کا جگر لے کر ان کا تیل حاصل کیا جاتا تھا اور کشتیوں کے خول پر ان کا لیپ کیا جاتا تھا ۔ اس طرح کشتیوں کی سطح ہموار کی جاتی تھی۔

ساتھ ہی ہندوستان اور پاکستان کی آزادی سے قبل وہیل شارک کیلئے ایک تفریحی فشری تھی جس میں لوگ کشتیاں کرائے پر لے کر چرنا جزیرے کے پاس جاکر ان کا شکار کرتے تھے۔

انیس سو پچاس کے بعد اس کے شکار کی فشری بند ہونے کے باوجود آج بھی شعوری یا حادثاتی طورپر وہیل شارک کا شکار جاری ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے ہمارے سمندروں پر وہیل شارک کیلئے سروے شروع کیا تھا جو اب بھی جاری ہے۔ اس مطالعے سے ظاہر ہے کہ پاکستانی پانیوں میں وہیل شارک مستقل رہتی ہے، کیونکہ یہ جگہ ان کی غذا یعنی پلانکٹن اور دیگر اشیا موجود ہیں۔ اسکے علاوہ سرڈینلس، اینکوویس اور سرگیسٹڈ نامی شرمپس کی بڑی مقدار بھی یہاں موجود ہیں جو ان کی من پسند خوراک ہیں۔

چرنا جزیرے، انڈس کریک، استولہ اور گوادر کے ساحلوں پر وہیل شارک بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ اس حساس مخلوق کی درست تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ٹیکنکل ایڈوائزر محمد معظم خان کے مطابق دوہزار چھ سے اب تک 36 وہیل شارکس ہلاک ہوئی ہیں۔ ان کا ڈیٹا ریکارڈ کیا گیا ہے۔

معظم خان کے سروے سے کئی دوسرے پہلو بھی ظاہر ہوئے ہیں۔ فشنگ آپریشنز میں ہلاک ہونے والی وہیلز کی اکثریت بچوں سے لے کر نیم جوان ( ڈھائی سے پندرہ فٹ) تک ہے۔ مطالعے سے مزید معلوم ہوا ہے کہ پاکستانی پانی ان وہیلز کی نسل خیزی کیلئے ایک اہم مقام ہے کیونکہ بچہ اور حاملہ وہیلز کی بڑی تعداد یہاں دیکھی گئی ہے۔

معظم خان نے مزید کہا کہ کنوینشن ان انٹرنیشنل ٹریڈ ان اینڈیجرڈ سپیشیز آف فونا اینڈ فلورا ( سی آئی ٹی ای ایس) کے تحت وہیل شارک کا شکار اور تجارت منع ہے اور اسے بین الاقوامی تحفظ حاصل ہے۔

چرنا میں ہونے والے ایک حالیہ حادثے میں انہوں نے کہا کہ 7.1 میٹر لمبی اور 2.47 میٹرک ٹن وزنی ایک مادہ وہیل غلطی اسے ایک کشتی کے جال میں آپھنسی۔  اسے پانی میں چھوڑنے کی بجائے مچھیرے اس گھسیٹ کر ساحل تک لے آئے تاکہ گوشت اور جگر فروخت کرکے پیسے کمائے جاسکے۔

انہوں نے گزشتہ سال سات فروری دوہزار بارہ کا ذکر کیا جب ایک اور وھیل شارک ہلاک ہوئی اور مچھیروں نے اس سے بھی رقم بنائی۔ پاکستان میں وہیل شارک کی حفاظت کیلئے کوئی قانون موجود نہیں۔ تاہم اس کی اشیا کی تجارت پر پابندی عائد ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف، پاکستان کے ڈائریکٹر رب نواز نے ہندوستان کی طرز پر وہیل شارک کے بچاؤ پر زور دیا جس کے تحت مئی 2001  اس جانور کی بھی انڈین گینڈے اور بینگال ٹائیگر کا درجہ حاصل ہے۔  اس کے بعد سے ابتک جالوں میں پھنسنے والی 70 سے زائد وہیل شارک کو بچایا جاسکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے برخلاف پاکستان میں وہیل شارک کو ذبح کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ اور بلوچستان حکومت سے ان کی تنظیم نے رابطہ کرکے درخواست کی ہے کہ اس نازک جاندار کو شیڈول ون میں شامل کی جائے تاکہ ان کی حفاظت کی جاسکے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جاسکے۔

ڈبیلو ڈبلیو ایف نے حساس سمندری ماحول اور وہیل شارک کے تحفظ کیلئے مچھیروں، ساحلی آبادی اور عوام میں آگہی مہم کا بھی اعلان کیا ہے۔

رب نواز نے یہ بھی کہا کہ ان کی تنظیم وہیل شارک سمیت ان تمام سمندری جانوروں کی اموات پر ایک ڈیٹا بیس مرتب کررہی ہے جو عموماً مچھیروں کا ہدف نہیں ہوتے ۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ معدومیت کے شکار جانداروں کےتحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

تبصرے (0) بند ہیں