رام باغ کی کہانی

اپ ڈیٹ 30 مارچ 2013

ای میل

آرام باغ، کراچی، فوٹو -- اختر بلوچ محمد عثمان دموہی اپنی کتاب "کراچی تاریخ کے آئینے میں" صفحہ نمبر 110 پر تقسیم سے قبل کراچی کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی تعلقات کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ کراچی کے ہندو و مسلمان باہم مل جل کے رہتے تھے اور دونوں آزادانہ طور پر اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے تھے۔ محرم میں مسلمان کراچی کی سڑکوں پر تعزیوں اور علم کے جلوس نکالتے تھے اور ہندو دسہرا میں نہایت دھوم دھام سے کالی مائی کا جلوس نکالتے تھے۔ "رام باغ" کے حوالے سے صفحہ نمبر 738 پر لکھتے ہیں کہ یہ کراچی کا ایک پرانا تفریحی باغ اور گراؤنڈ ہے۔ اس کے کچھ حصے پر سبزہ اور پھولوں کی کیاریاں ہیں۔ یہ قیام پاکستان سے قبل ہندوؤں کے مذہبی اجتماعات کے لیے مخصوص تھا تاہم یہاں کبھی کبھی سیاسی جلسے بھی منقعد ہوتے تھے۔ اس باغ کے بارے میں ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں درج ہے کہ رام نے ہنگلاج (بلوچستان) جاتے ہوئے یہاں ایک رات قیام کیا تھا۔ تقسیم ہند کے تقریباً چھ ماہ بعد ہی کراچی میں بسنے والے ہندوؤں اور سکھوں کے گھروں اور مذہبی مقامات پر حملوں کا آغاز ہو گیا تھا۔ نامور مُحقق اور سیاسی تجزیا نگار زاہد چوہدری نے اپنے کتابی سلسلے پاکستان کی سیاسی تاریخ کی جلد 4 جس کا عنوان "سندھ مسئلہ خودمُختاری کا آغاز" ہے کے باب کے صفحہ نمبر 217 پر ہندو مُسلم فسادات کے حوالے سے لکھا ہے؛ "ان حالات میں مولانا عبد الحامد بدایونی کی مُتحدہ جماعت کی تشکیل کے اگلے ہی دن یعنی 4 جنوری کو اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ "آج رتن تالاب (کراچی) کے سکھ گوردوارہ میں بدامنی کی افسوس ناک وارداتیں ہوئیں جہاں اڑھائی سو سکھ مرد عورتیں اور بچے بمبئی جانے کہ لیے مُقیم تھے۔ گوردوارہ کو آگ لگا دی گئی۔ تقریباََ 70 لوگ زخمی ہوئے۔ مسلح پولیس فوراََ پہنچی اور اِس نے گولی چلا کر ہجوم کو مُنتشر کیا۔ بعد ازاں فساد توپ خانہ میدان اور "رام باغ" تک پھیل گیا جہاں ہندوؤں کے بعض مکانات لوٹ لیے گئے۔ پولیس نے ہجوم پر قابو پانے کے لیے دو مقامات پر گولی چلائی۔ وزیر اعظم سندھ مسٹر کھوڑو مجسٹریٹ مسٹر رضا کی معیت میں فوراً گوردوارہ پہنچے جہاں سے وہ دوسرے فساد زدہ علاقوں میں گئے اور ہندوؤں کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا۔ سوراج بھون اور آریا سماج کی عمارت جلا دی گئی ۔(ہماری کوشش ہے کہ سوراج بھون اور آریا سماج کی عمارتوں کو بھی تلاش کیا جائے) اس فساد کی خبر جب گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کو پہنچی تو انہیں بہت رنج ہوا زاہد چودھری کے مطابق انہوں نے فوراً اسکندر مرزا صاحب سیکریٹری وزارت دفاع کو طلب فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ فلاں وقت تک مجھے رپورٹ آنی چاہیے کہ شہر میں بالکل امن ہو چکا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو مجھے کسی اور کو سیکریٹری دفاع مقرر کرنا پڑے گا. اسکندر مرزا نے یہ حکم سنتے ہی واپس آکر کراچی کے کمانڈر جنرل، جنرل اکبر خان کو بلا کر وہی الفاظ ان سے کہے جو قائد اعظم نے ان سے کہے تھے۔ جنرل اکبر نے اس حکم کی فوراً تعمیل کی۔ اس نے فوراً موقع پر پہنچ کر فسادیوں پر گولی چلائی جس سے گیارہ فسادی مارے گئے اور ایک زخمی ہوا۔ اس طرح قائد اعظم کی جانب سے مقررہ وقت سے ڈیڑھ گھنٹا پہلے شہر میں امن و امان بحال ہو گیا۔ بحال ہونے والے علاقوں میں رام باغ کا علاقہ بھی شامل تھا۔ مُنشی لام پرشاد ماتھُر کی کتاب "ہندو تیوہاروں کی دلچسپ اصلیت" کے صفحہ نمبر 45 پر 'رام رام رام' کے عنوان سے اُنہوں نے لکھا ہے کہ؛ "ہندوؤں نے پاک نام اور دعائے خیر کو بات بات پر ملانے کی کوشش کی ہے۔ مثلاََ دو شخص مل کر "جے رام جی" یا "جے شری کرشن" کرتے ہیں۔ یعنی فتح یا بھلا ئی کی دعا کر کے بے غرضانہ طور پر اِس کو رام یا کرشن کو ارپن کر دیتے ہیں اور ذاتی نفع کی خواہش معیوب سمجھتے ہیں۔ بعض لوگ صرف رام رام ہی کہہ دیتے ہیں جس میں اِس بے غرضی کا ذکر بھی نہیں ہونے پاتا۔ اگر تکلیف ہوتی ہے تو "ہائے رام" اگر خوشی ہوئی تو رام نے سُن لی، یا رام نے دَیا کی کہتے ہیں۔ بلکہ نفرت کے وقت بھی 'رام رام رام' کہنے لگتے ہیں"۔ رام کا کردار ہندو مذہب میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ نامور قانون دان اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے وائس چیئرمین امر ناتھ موٹو مل نے ہمیں اس حوالے سے بتایا کہ شری رام اپنے والد راجا دسرتھ کی بڑی اولاد تھے اور دسرتھ کے بعد تاج کے حقدار تھے۔ رامائین کے مُطابق ایک بار جب راجا دسرتھ جنگل میں شکار کر رہے تھے تو ایک سانپ نے اُنھیں ڈس لیا۔ اس موقع پر رام کی سوتیلی ماں رانی کیکئی نے اُن کی جان بچائی۔ راجا نے اس کے صلے میں رانی کو کہا کہ وہ کیا مانگنا چاہتی ہیں۔ رانی نے راجا کو کہا کہ وہ اس وقت کُچھ نہیں چاہتی لیکن وقت آنے پر راجا کو اس کے دو وعدے پورے کرنے ہوں گے۔ راجا نے حامی بھرلی۔ جب راجا دسرتھ مرنے کے قریب تھا اور اُس نے اپنے بڑے بیٹے رام کو راجا بنانا چاہا تو رام کی سوتیلی ما ں نے راجا کو اپنے وعدے یاد دلائے۔ رانی نے راجا سے کہا کہ "رام" کے بجائے اُس کے بیٹے "بھرت" کو راجا بنائے اور "رام" کو چود ہ سال کے لیے بن واس (جنگل بدری) بھیج دے۔ راجا دسرتھ نے نہ چاہتے ہوئے بھی رانی کی دونوں خواہشیں پوری کیں۔ رام نے ایک فرماں بردار بیٹا ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے باپ کے حُکم پر تخت و تاج چھوڑ کر جنگل کی راہ لی۔ یہ ایک طویل داستان ہے۔ رام نے چودہ سال جنگل میں گذارے۔ راون سے جنگ لڑی اور کامیاب ہوکر چودہ سال بعد واپس اپنے وطن لوٹا۔ اس موقع پر رام کی آمد کی خوشی میں دیپ جلائے گئے۔ اس تہوار کو دیپا والی کہا جاتا تھا۔ جو رفتہ رفتہ بگڑ کر دیوالی بن گئی۔ رام کی قربانی، فرماں برداری اور راون کو شکست دینے کی کہانی کو دسہرے کے تہوار کے دوران منایا جاتا ہے۔ تقسیم سے قبل اوراس کے بعد بھی کراچی میں رام لیلا کی کہانی اسٹیج پر پیش کی جاتی تھی۔ کراچی میں یہ کہانی رام باغ میں پیش کی جاتی تھی۔ جس میں رام کے بن واس (جنگل بدری) جانے اور واپسی تک کے تمام مراحل کو ڈرامائی شکل میں پیش کیا جاتا تھا۔ نامور ماہر تعلیم، دانشور اور مترجم پروفیسر کرن سنگھ کا کہنا ہے کہ چونکہ تقسیم ہند کے بعد ہونے والے فسادات کے سبب کراچی کے ہندوؤں کی بہت بڑی تعداد ہندوستان منتقل ہو گئی تھی اس وجہ سے رام لیلا کراچی میں پھر کبھی نا ہو سکی۔ اور رفتہ رفتہ ممکن ہی نہ رہا کہ رام لیلا کی کتھا دس دن تک اسٹیج پر پیش کی جاسکے۔ لیکن آخر کراچی میں یہ رام باغ کہاں تھا جہاں دس دن تک رام لیلا کی کتھا اسٹیج پر ڈرامائی انداز میں پیش کی جاتی تھی؟

فوٹو -- اختر بلوچ ہندوؤں کی ایک سماجی تنظیم کے عہدے دار نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر نے ہمیں بتایا کہ رام باغ سوامی نارائن مندر کے قریب واقع ہے۔ رام باغ ایک پارک تھا جہاں ایک اسٹیج بنایا گیا تھا اور دس دن تک یہ ڈراما پیش کیا جاتا تھا۔ سوامی نارائن مندر اور اس کی تاریخ کا ذکر پھر کبھی۔ ہم بات کر رہے تھے رام باغ کی تاریخ کے بارے میں، موصوف نے مزید بتایا کے رام باغ 1939ء میں ایک مخیر ہندو شخص دیوان جیٹھانند نے تعمیر کروایا تھا۔ یہ رام باغ اب بھی سوامی نارائن مندر کے قریب برنس روڈ پر موجود ہے۔

فوٹو -- اختر بلوچ اس رام باغ کی آخری نشانی باغ سے کچھ دور ہمدرد دوا خانے والی سڑک پر بجلی کے ایک کھمبے پر لگی شکستہ پلیٹ ہے۔ جس اگر غور سے پڑھا جائے تو رام باغ روڈ لکھا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ رام باغ اب بھی موجود ہے لیکن اب یہاں رام لیلا کی کتھا پیش نہیں کی جاتی۔ رام باغ میں رام لیلا کی کی کتھا پیش کرنے کے لیے جواسٹیج تھا وہاں ایک عالیشان مسجد قائم ہے۔ جہاں پنجگانہ نماز ادا کی جاتی ہے۔ کراچی کے باسی رام باغ کو اب آرام باغ کے نام سے جانتے ہیں۔

  اختر حسین بلوچ سینئر صحافی، مصنف اور محقق ہیں. سماجیات ان کا خاص موضوع ہے جس پر ان کی کئی کتابیں شایع ہوچکی ہیں. آجکل ہیومن رائٹس کمیشن، پاکستان کے کونسل ممبر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں