پرانی کتابیں

اپ ڈیٹ 19 اپريل 2013

ای میل

فوٹو -- اختر بلوچ --. اتوار کے دن کراچی، صدر کے علاقے میں واقع مارکیٹیں بند ہوتی ہیں۔ صدر کی چوڑی سڑکوں پر جن میں عام دنوں پیدل چلنا بھی محال ہوتا ہے۔ اس دن صدر کی سڑکیں موٹر گاڑیوں اور عام لوگوں کے لیے اپنا دل کھولے بیٹھی ہوتی ہیں۔ مگر وہ بھی جانتی ہیں کہ یہ کرا چی کے باسیوں کے آرام کا دن ہے، اس لیے مایوسی کا شکار رہتی ہیں۔ پھر لمبی تان کے سو جاتی ہیں۔ ریگل چوک کے ساتھ ایک سڑک ایسی ہے جو مسرور و شاداں رہتی ہے۔ اتوار کا دن اس کے لیے عید، کرسمس یا ہولی سے کم نہیں ہے۔ اتوار کو یہاں آنے والوں میں مسلمان، ہندو، عیسائی سب ہی شامل ہیں۔ سڑک کے لیے ایک قابل فخر بات یہ بھی ہے کہ یہاں آنے والوں میں ہر طبقہ فکر کے لوگ شامل ہیں۔ یہاں مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے لوگ بھی آتے ہیں۔ ان میں محقق ہیں تو شاعر بھی مذہبی اکابر بھی تو قوم پرست بھی لیکن یہ سب بغیر کسی تفریق کے اُس کی میزبانی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اور ہر کوئی اپنی استطاعت اور ذوق کے مطابق خریداری بھی کر رہا ہوتا ہے۔ آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ میں کیا قصہ لے بیٹھا کراچی جہاں روز دسیوں افراد زبان رنگ نسل اور مذہب کے نام پر قتل کیے جاتے ہوں، کیا کوئی ایسی مہربان سڑک کا وجود بھی ہے جو تمام تعصبات سے بالاتر ہو کر اپنے مہمانوں کے لیے فرش دل راہ کیے بیٹھی ہو۔ جی ہاں یہ سڑک موجود ہے۔ ریگل چوک جو کبھی آمروں کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کا مرکز ہوتا تھا یہ اُس سے متصل ہے۔ بھلا ہو ہمارے اخبار نویسوں کا جنھوں نے سیاسی پارٹیوں کو سمجھا دیا کہ ریگل چوک پر مظاہرہ کرنے سے ان کی کوریج میں کمی رہ جاتی ہے۔ اس لیے اب یہ تمام مظاہرے کراچی پریس کلب پر ہوتے ہیں۔ چلیں چھوڑیں اس پر پھر کبھی بات کریں گے۔ ہاں تو ذکر کرتے ہیں سڑک کا۔ اس سڑک پر اتوار کی صبح 8 بجے سے ہی میزبان مہمانوں کے لیے چیزیں لے کر پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ سامان رکشوں، سوزوکی پک اپ، موٹر سائیکلوں اور ٹھیلوں پر لے کر پہنچتے ہیں۔ کمال یہ ہے کہ ہر میزبان کے پاس اپنی ورائٹی ہوتی ہے لیکن چیز ایک ہی ہوتی ہے اور وہ ہے کتاب۔

فوٹو — اختر بلوچ –. جی ہاں، ہم ہر اتوار کو ریگل چوک سے متصل سڑک پر پرانی کتابوں کی نمائش کا ذکر کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو ہمارے لکھے پہ اعتبار ہو تو کبھی آ کر آزما لیں۔ اگر آپ ریگل کی جانب سے سڑک پر داخل ہوں گے، تو دو انتہائی خوبصورت سندھی بولنے والے کتب فروشوں ندیم اور اسلم سے آپ کا واسطہ پڑے گا جن کی مادری زبان اردو ہے. اگر آپ دوسری جانب سے سڑک پر داخل ہوں گے تو پنجابی بولنے والے الیاس صاحب نئی چھپی ہوئی کتابیں لیے بیٹھے ہوں گے۔ اس کے فوراً بعد ایک اردو بولنے والے صاحب بچوں اور بڑوں کی کتابیں لیے آپ کے منتظر ہوں گے۔ ان کے بعد ایک پختون اردو ادب پر مبنی کتابیں فروخت کر رہے ہوں گے۔ ان کے بالکل سامنے ایک کیتھولک عیسائی نوجوان ٹھیلے پر کتابیں سجائے بیٹھا ہے۔ اس کے پاس کتابیں بہت زیادہ نہیں اور بیشتر عیسائی تبلیغی اداروں کی چھاپی ہوئی ہیں۔ اس طرح آپ آگے بڑھتے رہیں، ایک سفید داڑھی والے بروہی صاحب کتابیں سجارہے ہوں گے۔ انھیں کتابیں سجاتے سجاتے صبح سے سہ پہر ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ کتابیں دوبارہ بوروں میں ڈالنا شروع کرتے ہیں۔ کتابیں سجانے اور دوبارہ بوروں میں ڈالنے کا یہ عمل صبح سے شام تک جاری رہتا ہے۔ اُس دوران اگر کوئی ان سے کتاب کی قیمت پر بھاؤ تاؤ کرے تو اُسے کتاب کی سن اشاعت کا حوالہ دے کر یہ بتاتے ہیں کہ جب کتاب چھپی کاغذ کا ریٹ کیا تھا اور اب کیا ہے۔ اُس وقت کتابیں کمپیوٹر پر لکھنے کے بجائے کاتب لکھا کرتے تھے۔ ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ خریدار کتاب نہ خریدے اور اگر خریدنے کی ہمت کرلے تو ان کی قیمت پر خرید لے۔

فوٹو -- اختر بلوچ --. ان سے کچھ فاصلے پر ایک خان صاحب اپنی کتابیں سجائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ یہ سیاسی طور پرخاصے با شعور ہیں۔ اگر ان سے آپ کو سستی کتاب لینی ہے تو ان کے دو تین سوالات کا جواب ان کی مرضی کے مطابق دینا ضروری ہے۔ پہلا سوال کراچی کے حالات کے بارے میں ہوتا ہے۔ جس میں آپ کی جانب سے جواب یہ ہونا چاہیے؛ 'حالات کچھ بھی ہوں پختونوں کے ساتھ بڑا ظلم ہو رہا ہے'۔ دوسرا سوال صدرزرداری کے بارے میں ہو گا اور اگر آپ نے کہہ دیا کہ اگلی باری پھر زرداری تو پھر کیا کہنے۔ اس کے بعد وہ زرداری کی ذہانت پر ایک مختصر خطاب کر کے کتاب آپ کو آپ کی اپنی پسندیدہ قیمت پر دے دیتے ہیں۔ اس دوران متعلقہ تھانے کی پولیس کی ایک گشتی وین بھی وہاں ایک آدھ چکر لگاتی ہے۔ غلط فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں یہ آپ کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ کتب فروشوں سے اپنا حصہ وصول کرنے آتی ہے۔ اس کتابی میلے کی تاریخ کے بارے میں مختلف لوگوں کی مختلف راۓ ہے۔ کوئی اس کی عمر تیس سال بتاتا ہے تو کوئی پچیس سال لیکن اس سلسلے میں مستند تاریخ معروف ترقی پسند محقق احمد سلیم نے اپنی کتاب "فیض : یادیں، باتیں" میں کچھ یوں بیان کی ہے؛ "1964 میں ماہنامہ افکارنے فیض نمبر نکالنے کا اعلان کیا۔ فیض کے بارے میں اس خصوصی اشاعت میں پاکستان بھر کے طلباء و طالبات کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ فیض پر بہترین نثری اور منظوم تخلیقات کے مقابلے میں شرکت کریں۔ میں نے اس حوالے سے اپنی نظم ’مدیر افکار‘ کو بھیجی۔ اس کے بعد ان کی جانب سے مجھے ایک خط ملا کہ ججوں کے پینل نے میری نظم کو بہترین قرار دیا ہے۔ آخر وہ دن بھی آگیا کہ جب میں نے فیض صاحب کے دست مبارک سے انعام کی شکل میں کتابوں کا پیکٹ وصول کیا۔ میں اس دن کو آج تک فراموش نہیں کرسکا۔ حال یہ تھا کے بھوک اور نقاہت کے باعث مجھ سے چلا تک نہیں جارہا تھا اورکتابوں کا بڑا بنڈل اٹھانا مشکل ہورہا تھا۔ تقریب سے میں سیدھا ریگل چوک کی پرانی کتابوں کی دکانوں پر گیا۔ پیکٹ کھول کر چھ کی چھ کتابیں اونے پونے بیچ دیں۔ دکاندار فیض کی دستخطوں والی کتابیں دیکھ کر پھولا نہں سما رہا تھا۔ اس نے مجھے پورے تیس روپئے دئیے۔ میں پیسے جیب میں ڈالے، سیدھا کافی ہاؤس کی جانب لپکا اور کئی مہینوں بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ یہ پرمسرت عیاشی میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ میں پیر الٰہی بخش کالونی کی ایک مسجد کے حجرے میں دس روپے ماہانہ کرائے پر رہتا تھا۔ اس واقعے کو تین چاردن گزرے ہونگے جب ماہنامہ افکار سے کوئی مجھے ڈھونڈتا ہوا وہاں پہنچا۔ صہبا لکھنوی کاپیغام تھا کہ میں انہیں فوراً ملوں۔ میں پہنچا تو وہ غصے میں بھرے بیٹھے تھے، چھوٹتے ہی بھولے، میاں یہ نظم کسی سے لکھوائی ہے یا چوری کی ہے؟ میں ساری کہانی سمجھ گیا۔ میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا کہ میں نے انعامی کتابیں ردی میں کیوں بیچیں۔ وہ دیرتک مجھے کو ستے رہے۔ اس کے بعد مجھے حکم دیا کہ میں فیض صاحب کو ہارون کالج، لیاری جہاں وہ پرنسپل تھے، جاکرملوں۔ دوسری صبح میں ہارون کالج جو عرف عام میں کھڈا کالج بھی کہلاتا تھا، پہنچ کر فیض صاحب کے سامنے پیش ہوا۔ مجھے دیکھ کر ایک نرم مسکراہٹ ان کے لبوں پر آئی اور ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کو کہا۔ میں کرسی پربیٹھ گیا توبولے؛ ’’بھئی ہم آپ کا تفصیلی تعارف چاہتے ہیں‘‘۔ میں نے انہیں مختصرابتایا۔ کبھی کبھی اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ پیٹ کی آگ بجھا سکوں۔ مجبوراً آپ کی انعامی کتابیں فٹ پاتھ پر بیچنا پڑیں۔ وہ دوبارہ مسکرائے اور کہا، "بھئی اس طرح توہم سب کے ساتھ ہوتا ہے"۔ ان کی گفتگوکا لب لباب یہ تھا کہ میں اردو کالج چھوڑ کر ان کے کالج میں آجاؤں، کتابیں اور داخلہ مفت ہوگا اور جلد ہی نوکری کا بندوبست ہوجائے گا۔ اٹھتے وقت انہوں نے وہ کتابیں دوبارہ مجھے تھمادیں جوفٹ پاتھ سے غالبا سحر انصاری صاحب نے خرید کر انہیں پہنچائیں تھی"۔ احمد سلیم کی اس روایت کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتابی میلہ کم از کم 50 سالہ سال پرانا ہوگا ہے۔ صدر ٹاؤن کا صفائی کرنے والا عملہ بھی بیچنے والوں اور خریداروں دونوں کے مزاج کو سمجھتا ہے۔ ہر کتاب کے اسٹال کے ساتھ ایک کچرے کا ڈھیر ضرور نظر آتا ہے۔ یہ کتابوں اور کچرے کا ایک حسین امتزاج نظر آتاہے۔ شاید انھیں معلوم ہے کہ کتابیں بیچنے والے کتابیں ردی کے بھاؤ پر لے کر آتے ہیں۔ دونوں جانب کچرا ہی تو ہے۔ ایک اُٹھانے کے لیے دوسرا بیچنے کے لیے۔

فوٹو -- اختر بلوچ --. آخر یہاں کتابیں کہاں سے آتی ہیں؟ اس سوال کاجواب نامورمحقق عقیل عباس جعفری نے کچھ یوں دیا؛ "جو لوگ یہاں سے نادر و نایاب کتابیں خریدتے ہیں۔ بس ذرا اُن کے مرنے کی دیر ہوتی ہے۔ ان کی بیویاں اور بچے یہ کتابیں دوبارہ یہاں پہنچا دیتے ہیں۔ کتنا بڑا احسان کرتے ہیں یہ نئے پڑھنے والوں پر۔ ورنہ یہ کتابیں گھروں پر پڑی سڑتی رہیں۔ پھر دیمک انھیں چاٹ لے۔ اس سے بہتر ہے کہ یہ کسی کام آجائیں"۔ عقیل عباس کہتے ہیں کہ گھر والوں کی یہ سوچ بھی ہوتی ہے کہ گھر کا ایک کمرہ تو خالی ہو۔ سڑک کے میزبان ہر مہمان کے کوائف سے مکمل آگاہ ہوتے ہیں۔ جس میں عمر، پیسہ اور علاقہ بھی شامل ہوتا ہے۔ اگر کوئی مہمان 10 ہفتوں تک میزبان کو مہمانی کا شرف نہ بخشے تو عمر کے حوالے سے اُس کی غیر حاضری کی وجہ کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اگر مہمان کی عمر 60 سے اوپر ہے تو اس کے کسی ہم خیال دوست سے اس کے بارے میں معلوم کیا جاتا ہے۔ اگر آپکا کوئی دوست متواتر نظر نہ آئے تو مہمان چپکے سے بتا دیتے ہیں کہ عباس کشمیری کی نعش پڑوسیوں نے چندہ کرکے آزاد کشمیر بھجوادی ہے۔ اُس دن سڑک پر کشمیر کی تاریخ اور جدو جہد آزادی کے حوالے سے بے شمار کتابیں ایک اسٹال پر موجود تھیں۔ ایک دن ایک میزبان کے اسٹال پر شیعہ مذہب کے حوالے سے بے شمار کتابیں موجود تھیں۔ ایک آدھ میں نے بھی خرید لی میزبان نے مجھے خاموشی سے بتایا رضوی صاحب کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے معلوم کرنا چھوڑ دیا۔ بس کتابیں دیکھ کر اندازہ کر لیتا ہوں کہ شیعہ، بریلوی، دیو بندی، عیسائی، سُرخا، شاعر یا دانشور کون مرا ہے۔ میرا سابقہ ہندوستانی صدر عبدالکلام سے مکمل تعارف بھی اسی سڑک پر ہوا۔ مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ ان کا پورا نام ابولفخر جین العابدین عبدالکلام ہے۔ میرا خیال ہے 'جین العابدین' سے مراد زین العابدین ہے ان کی سوانح عمری پر ان کے دست خط ہیں۔ یہ کتاب کان پور کے کسی کتابی میلے میں سے خریدی گئی تھی اس کے بعد ایمیسٹرڈیم گئی اس کے بعد اس بازارمیں پہنچ گئی۔ ایک اور کتاب جو مشہور ہندوستانی مصور ایم ایف حسین کی سوانح عمری ہے اور اس پر ان کے دستخط بھی ہیں وہ بھی یہیں ملی۔ ایک اور کتاب جو نامور نقاد محمد علی صدیقی نے ایک دوست کو اپنے دستخط کے ساتھ پیش کی تھی اسی سڑک سے ملی. ہمارے دوستوں شاہد بھائی، عقیل عباس جعفری کے پاس ایسی بے شمار کتابیں ہیں اب تو کسی مصنف کی کتاب لینے کے بعد کتاب پر اس کے دستخط کراتے ہوئے کئی بار سوچنا پڑتا ہے کہ لوگ ہمارے بیوی بچوں کے بارے میں کیا سوچیں گے؟

  اختر حسین بلوچ سینئر صحافی، مصنف اور محقق ہیں. سماجیات ان کا خاص موضوع ہے جس پر ان کی کئی کتابیں شایع ہوچکی ہیں. آجکل ہیومن رائٹس کمیشن، پاکستان کے کونسل ممبر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں