بندر روڈ سے کیماڑی

اپ ڈیٹ 24 مئ 2013

ای میل

بندر روڈ کے سرکٹے -- فوٹو بشکریہ مصنف --. بندر روڈ سے کیماڑی میری چلی رے گھوڑا گاڑی... بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر ... کراچی کی بندر روڈ کے حوالے سے احمد رُشدی کا یہ گیت بہت مقبول ہوا۔ آج بھی پرانے کراچی کے حوالے سے اگر کوئی یادیں تازہ کرنی ہو تو اس گیت سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں۔ تقسیم سے قبل یا اس کے فوراََ بعد بندر روڈ کی شناخت میری ویدر ٹاور، ڈینسو ہال، حاجی مولا ڈینا مسلم دھرم شالا ( مولوی مسافر خانہ) کراچی مونسپلٹی، سوامی نارائن مندر، بینک آف انڈیا تھی۔ اب یہ ایک بہت دشوار تحقیقی معاملہ ہے کہ دھرم شالا تو ہندوؤں کا ہوتا ہے اس سے مسلمانوں کا کیا تعلق۔ شاید یہ مشترکہ ہندوستان میں پہلا اور آخری مسلم دھرم شالا ہے تقسیم کے بعد پاکستان آنے والے مہاجرین نے جب عارضی طور پر یہاں پڑاؤ ڈالا تو غالباً اُن کے لیے مولوڈینا کا تعمیر کیا گیا مسلم دھرم شالا ایک نئی بات تھی۔

ایم اے جناح روڈ پر 'مولا ڈینا مسلم دھرم شالہ' کی تختی -- فوٹو بشکریہ مصنف --. اس لیے اُنھوں نے اُسے مولوی مسافر خانہ بنا دیا۔ بندر روڈ کی خوبصورتی اس سڑک پر قائم تاریخی عمارتوں سڑک کے بیچ چلنے والی ٹرام سروس کے حوالے سے ہوتی تھی۔ یہاں پر خالق دینا ہال بھی ہے۔ محمد عثمان رموہی اپنی کتاب کراچی تاریخ کے آئنے کے صفحہ ۶۷۵ پر لکھتے ہیں کہ اس خوبصورت عمارت میں 70 فٹ لمبے اور 40 فٹ چوڑے ہال کے علاوہ لائبریری کے لیے بھی دو کمرے تعمیر کیے گئے ہیں۔ 14 جولائی 1904 اُس وقت کے کمشنر سندھ مسٹر ینگ ہسبینڈ نے اس عمارت کا افتتاح کیا۔ تعمیر کے بعد اس کا ہال کراچی کی مختلف سیاسی اور سماجی تقریبات کے لیے استعمال ہوتا رہا مگر ستمبر 1921 میں جب مولانا محمد علی جوہر اور ان کے رفقاء پر بغاوت کا مقدمہ چلایا گیا تو اس عمارت کو لازوال تاریخی اہمیت حاصل ہو گئی اور برصغیر کا بچہ بچہ اس سے واقف ہو گیا۔ خلافتِ تحریک کی مناسبت سے عمارت کے ہال کے باہر ایک کتبہ آویزاں ہے جس پر یہ تاریخی عبارت کندہ ہے؛ "9 جولائی 1921 کو تحریکِ خلافت کے جلسے میں مولانا محمد علی جوہر نے ایک قرارداد منظور کرائی کہ افواجِ برطانیہ میں مسلمانوں کی بھرتی خلاف شرع ہے۔ اس جرم پر مولانا اور اُن کے رفقاء پر حکومت برطانیہ نے بغاوت کا مقدمہ اسی عمارت میں چلایا تھا مگر مقدمہ کی پوری کارروائی کے دوران مولانا کا مؤقف یہ رہا؛ ہم کو خود شوق شہادت کا ہے گواہی کیسی فیصلہ کر بھی چکو مجرم اقراری کا" اجمل کمال کی مرتبہ کتاب کراچی کی کہانی کے صفحہ نمبر 115 پر پیر علی محمد راشدی کی یادداشتوں کے حوالے سے لکھا ہے؛ "ادھر بندر روڈ پر بھی چہل پہل ہوتی تھی مولے ڈینو کا مسافر خانہ غلام حسین خالق ڈینا ہال، ڈینسو ہال، میری ویدر ٹاور، اسمال کاز کورٹ، کسٹم ہاؤس، پورٹ ٹرسٹ بلڈنگ، اس سفر کے سنگ میل تھے۔ ڈینسوہال کے پاس داہنے اور بائیں ہاتھ سڑکیں نکلتی تھیں۔ بائیں ہاتھ والی سڑک "نئی چالی" محلے سے (جہاں الوحید اخبار کا دفتر تھا) گزر کر میکلوڈ روڈ پر پہنچتی تھی۔ داہنے ہاتھ دو سڑکیں نکلتی تھیں، ایک میریٹ روڈ جس پر کاروباری کھولیاں اور دکانیں تھی، اور دوسری طرف نیپئیر روڈ جس کے شروع میں میمن بیوپاریوں کے دفتر تھے (سر حاجی عبداللہ ہارون کا دفتر اور بعد میں صوبائی مسلم لیگ کا دفتر اسی سڑک پر تھا)، اور اس سے آگے چکلہ تھا۔ چکلے کے علاقے میں کسبیاں اور گانے والیاں تو رہتی ہی تھیں مگر جن لوگوں کا ان پیشوں سے تعلق نہ تھا اور بڑے درجے کے صاحب تھے۔ وہ بھی یہاں مکان بنا کر رہتے تھے۔ مثلاً سندھ کے کمشنر کا میر منشی بھی اسی محلے میں رہتا تھا۔ شریف، پاکباز اور روزے نماز کا پابند شخص تھا، شام کو مکان کی گیلری میں کرسی ڈال کر بیٹھ جاتا اور آنے جانے والوں کو دیکھا کرتا۔ پیشہ ور طوائفوں کو اپنے پاس بلوا کر یا ساتھ لے جا کر گانا سننے میں کوئی قباحت نہ سمجھی جاتی تھی۔ اشراف اور پیشہ وروں کے درمیان حد فاصل واضح تھی۔ اچھے اور برے فن کو اپنی اپنی حد کے اندر رکھا جاتا تھا۔ معاشرے میں منافقت کا دور ابھی نہیں آیا تھا۔ کراچی میں تقسیم سے قبل جانوروں کے لیے قائم کیا جانے والا پہلا ہسپتال بھی اسی سڑک پر ہے۔ ریڈیو پاکستان کی تاریخی عمارت بھی بندر روڈ پر ہے۔ اس سڑک پر سر کٹے بھی رہتے ہیں۔ لیکن ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ کسی کو کچھ نہیں کہتے۔ ان کا بسیرا جامع کلاتھ مارکیٹ کے چوراہے پر واقع سگھن مینشن (1930) کی آخری منزل پر ہے۔

سگھن مینشن -- فوٹو بشکریہ مصنف --. یہ سر کٹے وضع قطع سے ہندو لگتے ہیں۔ جی ہاں اگر آپ مولو ڈینا مسلم دھرم شالا (مولوی مسافر خانہ) کے فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر سگھن مینشن کی بالائی منزل پر نظر ڈالیں تو آپ کو یہ نمایاں طور پر نظر آئیں گے۔ جی جی یہ پتھر کے مجسمے ہیں۔ جن کے سر کسی ایماں کی حرارت والے نے قلم کئے ہوں گے۔ جامع کلاتھ مارکیٹ سے اگر ٹاور کی جانب چلیں تو اللہ والا مارکیٹ سے متصل بلیر بلڈنگ نامی عمارت ہے۔ اس عمارت کی بالکونیوں کے نیچے بھی مجسمے موجود تھے اور ہیں۔ جو اب تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں.

فوٹو بشکریہ مصنف --. ہمارے محقق دوست عقیل عباس جعفری کے مطابق بندر روڈ کے حوالے سے احمد رشدی نے بندر روڈ سے کیماڑی میری چلی رے گھوڑا گاڑی 1954 میں گائی تھی۔ ایک اور مہربان ذاکر صاحب جو کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں ایک بڑ ے عرصے تک اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ 1949 میں بندر روڈ کا نام تبدیل کر کے محمد علی جناح روڈ رکھا گیا تھا۔ فلمی دنیا کے حوالے سے معروف محقق زخمی کانپوری اپنی کتاب "دور کوئی گیت گائے" کے صفحہ نمبر 142-143 پر لکھتے ہیں کہ احمد رشدی 24 اپریل کو 1938 کو حیدرآباد (دکن) میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنی تمام تعلیم حیدرآباد دکن میں حاصل کی تھی۔ شروع ہی سے گلوکاری کا شوق تھا اس لئے ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے۔ جہاں ان کو مہدی ظہیر جیسا کہنہ مشق کمپوزر مل گیا۔ سب سے پہلے ان کی شہرت بچوں کے ایک پروگرام میں بندر روڈ سے کیماڑی میری چلی رے گھوڑا گاڑی گانے سے ہوئی۔ جسے مہدی ظہیر نے تحریر کیا تھا۔ اس کی لاجواب دھن بھی انھو ں نے ہی بنائی تھی۔ اس نظم کی بے حد پسندیدگی کی وجہ سے انھیں بے پناہ شہرت ملی۔ شکر ہے کہ مہدی ظہیر نے یہ نظم 50 کی دہائی میں لکھی اور اُسی دوران میں احمد رُشدی نے گائی۔ اگر یہ سب آج کے دور میں ہوتا تو اُسے یقینا ًجناح صاحب کی شان میں گستاخی تصور کیا جاتا۔ احمد کے نام کے ساتھ رُشدی ہی کافی تھا ظہیر صاحب کے نام کا پہلا حصہ مہدی اُن کے مذہبی عقائد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ تو خیر ہو سلمان رشدی کی جس نے اپنی متنازعہ کتاب "شیطانی آیات"90 کی دہائی میں لکھی۔ اس وقت تک نام کے ساتھ حسن یا حُسین لکھنے سے لوگ مارے نہیں جاتے تھے۔ ورنہ ان دونوں حضرات کا بچنا ممکن نا تھا۔ ہمارے صحافی دوست فاضل جمیلی صاحب نے ہمیں بتایا کہ بندر روڈ پر بوھڑ کے بڑے بڑے درخت ہوتے تھے۔ ہم پریشان ہو گئے کہ بوھڑ کے درخت کیا ہیں۔ وہ تو ان سے جاتے جاتے ہم نے کہا کہ بوھڑ سے ان کی مراد بڑ تو نہیں؟ تو انھوں نے اپنی الجھی زلفیں سلجھاتے ہوئے کہا تم بڑ ہی سمجھو۔ ہمارے ایک اور دوست ابرار صاحب نے جو اب چلنے کے لیے گھٹنوں کے بجائے چھڑی کو زیادہ تکلیف دیتے ہیں، ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے ہمیں بتایا کہ بندر روڈ ہر صبح کو دھلتی تھی اور شام کو سوکھے پتے بھی چُنے جاتے تھے۔ معروف برطانوی مورخ الیگز ینڈرر ایف بیلی بندر روڈ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ بندرروڈ کی لمبائی پونے تین میل ہے۔ یہ سڑک ایک بڑے میدان پر جا کے ختم ہوتی ہے۔ جسے جنرل پریڈ گراونڈ کہتے ہیں۔ بندر روڈ کے مغربی حصہ میں لب سڑک بہت بڑے کھلے میدان میں مسلمانوں کا پرانا قبرستان ہے (میمن مسجد کے تہہ خانے میں قبرستان اس کا ذکر پھر کبھی کریں گے)۔ بہر حال بندر روڈ کا چپہ چپہ اور ہر عمارت ایک داستان ہے۔ جس بندر روڈ کو میری ویدر ٹاور، ڈینسو ہال کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا۔ اب نہاری، مٹھائی یا کبابوں کی دُکانوں سے جانا جاتا ہے۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے ہم خود ایک عرسے تک صابری نہاری (صابر نہاری) کو غلام فرید صابری برادران کی فرینچائز اور بندو کباب والے کو استاد بندو خان سارنگی والے کا سائڈ بزنس سمجھتے تھے۔ بندر روڈ اب ایم اے جناح روڈ ہو کر بانی پاکستان کے نام سے منسوب ہو چکا ہے۔ اب دھلنا تو درکنار یہ سڑک بارش کے پا نی کو بھی ہضم نہیں کر سکتی۔ ریڈیو پاکستان "جہاں تھی خبروں کی دکان" اب صرف افسران کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ یہاں نہ اب زیڈ اے بخاری ہیں نہ ہی بندو خان اور نہ ہی مولانا احتشام الحق تھانوی۔ اب اس سڑ ک پر ٹریفک کو اپنی دسترس میں رکھنا ٹریفک پولیس کے بس سے باہر ہے۔

فوٹو بشکریہ مصنف --. 1930 کے عشرے میں تعمیر کی گئی عمارتوں کی جگہ لینے کے لیے پلازہ بن رہے ہیں۔ دو چار جو عمارتیں بچ گئی ہیں ان پر بھی بلڈر مافیا کی نظریں ہیں۔ ہندوؤں کی تعمیر کی گئی یہ بوسیدہ عمارتیں کسی وقت بھی ترقی کے نئے دور میں داخل ہو سکتی ہیں۔ لیکن کیا کہنے اس روڈ پر گاڑیاں چلانے والوں کے کہ وہ 50 سال بعد بھی بندر روڈ ہی کہتے ہیں. کہنے والے کہتے ہیں کہ بندر روڈ کو جناح صاحب سے منسوب کر کے ہم نے اس کا وہی حشر کیا جو ان کے انتقال کے بعد پاکستان کے ساتھ کیا ہے۔

  اختر حسین بلوچ سینئر صحافی، مصنف اور محقق ہیں. سماجیات ان کا خاص موضوع ہے جس پر ان کی کئی کتابیں شایع ہوچکی ہیں. آجکل ہیومن رائٹس کمیشن، پاکستان کے کونسل ممبر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں