ہسپانوی جیل میں قید رہ چکے پاکستانیوں کا معصومیت کا دعویٰ

27 فروری 2014

ای میل

احمد خالد (بائیں) حال ہی میں جیل سے رہا ہوئے جس کے بعد انہیں پاکستان ڈیپورٹ کردیا گیا—اے ایف پی فوٹو۔
احمد خالد (بائیں) حال ہی میں جیل سے رہا ہوئے جس کے بعد انہیں پاکستان ڈیپورٹ کردیا گیا—اے ایف پی فوٹو۔
جان خان (بائیں) کا مطالبہ ہے کہ کیس کو دوبارہ کھولا جائے—اے ایف پی فوٹو۔
جان خان (بائیں) کا مطالبہ ہے کہ کیس کو دوبارہ کھولا جائے—اے ایف پی فوٹو۔

اسلام آباد: اسپین کی جیل میں قید رہ چکے پاکستانی باشندوں کے ایک گروپ نے خود کو معصوم ثابت کرنے کے لیے اسلام آباد میں احتجاج کیا جنہیں 2009ء میں بارسیلونا میٹرو میں دہشت گردی کے منصوبے کے جرم میں سزا دی گئی تھی۔

گروپ کے وکیل جان خان کا مطالبہ ہے کہ ان افراد کے نام دہشت گردی کے الزامات سے بری قرار دیے جائیں۔

دسمبر 2009ء میں دس پاکستانی اور ایک انڈین باشندے کو میٹر سسٹم میں دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے جرم میں آٹھ سے لیکر 14 سال تک کی سزا سنائی گئی تھی۔

دس میں سے آٹھ پاکستانی اپنی سزا پوری کرچکے ہیں اور انہیں ڈیپورٹ کردیا گیا جبکہ ایک ہسپانوی باشندہ ہے۔

ساتوں افراد نے جمعرات کو خان کے ساتھ اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کی۔

خان کے مطابق ان افراد کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا اور انہیں صرف ایک گواہ کے بیان پر سزا ملی جسے رشوت دی گئی تھی۔

'کئی پاکستانیوں نے ان افراد کے حق میں گواہی دی کہ یہ افراد بے قصور ہیں لیکن عدالت نے صرف ایک گواہ کی بنیاد پر انہیں سزا دی جسے ہسپانوی سیکرٹ سروسز نے رشوت دی تھی۔'

انہوں نے پاکستانی حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کے اس کیس کو دوبارہ کھلوایا جائے۔

راولپنڈی کے رہائشی حفیظ احمد نے کہا کہ ان کے وکیل نے انہیں گمراہ کیا۔ انہوں نے ہم سے کہا تھا کہ عدالت میں کچھ نہ بولیں اس وجہ سے ہم اپنا موقف درست انداز میں پیش نہیں کرپائے۔

انہوں دعویٰ کیا کہ دوران حراست پولیس نے ان پر تشدد بھی کیا۔