• KHI: Partly Cloudy 33.9°C
  • LHR: Sunny 39.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 32.5°C
  • KHI: Partly Cloudy 33.9°C
  • LHR: Sunny 39.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 32.5°C

!تھا جس کا انتظار … وہ پالیسی آگئی

شائع March 7, 2014 اپ ڈیٹ March 7, 2014 10:20am

نیشنل انٹرنل سیکیورٹی پالیسی (NISP) کی بنیاد راکٹ سائینس نہیں ہے- تو کیا اسے ہونا چاہئے تھا؟ یہ صحیح ہے کہ یہ اور زیادہ بہتر لکھی جا سکتی تھی- اپنے ویژن، واضح اہداف اور حکمت عملی پر عمل درامد کے حوالے سے اسے اور زیادہ واضح ہونا چاہئے تھا-

شروع کے حصّوں میں جہاں پالیسی کے تصور کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے وہاں خصوصاً کسی خیال آفرینی کی ضرورت نہیں تھی- وزیرداخلہ کو راست بازی سے کام لے کر صاف صاف بتانا چاہئے تھا کہ یہ سب کیسے ہوسکتا ہے- اور وزیراعظم کو سنجیدگی اور اعتماد کے ساتھ اعلان کرنا چاہئے تھا کہ یہ قوم دہشت گردی کو ضرور شکست دے گی-

لیکن ان سب باتوں کے باوجود (NISP) آگے کی طرف ایک ٹھوس قدم ہے- ایک ایسے ملک میں جہاں ریاست کے سویلین قائدین نے کبھی بھی اپنے آپ کو پوری قوم کے (اندرونی یا بیرونی) تحفظ کیلئے ذمہ دار نہیں سمجھا، ہم نے بالکل نئی شروعات کی ہے-

آج تک صرف خاکی وردی والے ہی ہمارے قومی سیکیورٹی کے معاملات کے بلا شرکت غیرے ذمہ دار ہوتے تھے اور سویلیئنز کی سوچ کی رہنمائی کرتے تھے- اب آخرکار، سویلین کے حصہ کے حالات کو دیکھنے، بھالنے اور جانچنے اور ان چیلینجوں کا جو ہمارے سامنے ہے، مقابلہ کرنے کی ذمہ داری ہمارے پاس ہے- یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ اس کا جشن منانے کی ضرورت ہے-

سوائے ایک کے (جس کا ذکر آخر میں ہے) (NISP) نے دہشت گردی کی تمام جزوی وجوہات کا احاطہ کیا ہے:

منظم ریاست مخالف عناصر؛ علاقائی حمایت حاصل کرنے کیلئے مذہبی نظریوں کا استعمال؛ غریب گھرانوں سے کم عمر اور کچے ذہن کے لڑکوں کی بھرتی؛ مدرسوں اور مسجدوں کا استعمال نفرت بھرے خیالات پھیلانے کیلئے؛ دہشت گردی کی خارجی سرپرستی اور مالی معاونت؛ قانون نافذ کرنیوالی ایجنسیوں کی غیرتسلی بخش کارکردگی اور ناکافی قابلیت؛ انٹیلیجنس میں رابطہ کے فقدان کی وجہ سے ایک بڑا شگاف؛ نظام انصاف اور حکمرانی کی ناکامی کی وجہ سے نہ تو شہریوں کو تحریک ملتی ہے اور نہ ہی مجرموں کو کسی کا ڈر ہے-

ان تمام چیلینجز کا مقابلہ کیسے کرنا ہے اس کی تفصیل بھی موجود ہے اگرچہ کہ مختلف جگہ پر بکھری ہوئی ہے- دراصل NISP دہشت گردی سے نمٹنے کے تینوں طریق کار: بغاوت اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور تعزیری انصاف پر ایک ساتھ ہی عمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے-

فوجی آپریشن کے مخالفین کیلئے اس کا جواب یہ ہے کہ اگر سوات میں فوج نے آپریشن نہ کیا ہوتا تو وہاں کے حالات بدرجہا خراب ہوتے- لیکن یہ کہ علاقے کو ریاست مخالف ملیشیا سے خالی کرانے کے بعد فوج کا کام نظم ونسق یا سماجی اداروں کی تشکیل نہیں ہوتا ہے-

لہٰذا فوج ، جن علاقوں پر اس وقت حکومت کی رٹ نہیں ہے انہیں باغی عناصر سے واپس لینے کیلئے استعمال کی جائیگی جیسے کہ شمالی وزیرستان- اس کے علاوہ ان عناصر سے بات کرنے کی کوشش ہوگی جو بات کرنے کیلئے راضی ہوں اور ہتھیار ڈال کر پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنے کیلئے تیار ہوں-

ان لوگوں کو تنہا کرنا ہوگا جو لڑنا چاہتے ہیں اور ان کو سخت سبق سکھانا ہوگا- وہ عناصر جو تشدد پسندی کو چھوڑ کرقومی دھارے میں آنا چاہتے ہیں ان کیلئے ایسے پروگرام شروع کرنا ہوگا جس سے وہ اعتدال پسندی کی جانب راغب ہوں- نظم و نسق میں بہتری لانا ہوگی، تعزیری انصاف کے نظام کی اصلاح کرنا ہوگی تاکہ مجرموں کوسزا ملے اور نئے رنگروٹوں کی حوصلہ شکنی ہو-

باغیانہ سرگرمیوں کے زیر اثر علاقوں کے علاوہ، دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے کیلئے ایک نئی پیرا ملٹری ایجنسی، ریپڈ ریسپونس فورس کے نام سے تشکیل دی جائیگی جو سیاسی قیادت کے کنٹرول میں ہوگی اور تعزیری انصاف کے ساتھ جرائم سے لڑنے کے علاوہ، یہ یقین دہانی کرے گی کہ جرائم کی حوصلہ افزائی کرنے والی سنڈیکیٹ اور دہشت گردی کی سنڈیکیٹ دونوں کا آپس میں اتحاد نہ ہو-

اس پورے عمل کو چلانے کی ذمہ داری NACTA کی ہوگی- اس کے ذریعے سویلین (صوبائی اور وفاقی) اور فوجی قیادت دونوں مل کر اس پالیسی کے نفاذ کے حوالے سے نرم اور سخت اقدامات کا جائزہ لیں گے-

یہ ڈائریکٹریٹ آف انٹرنل سیکیورٹی اور انٹیلیجنس اور تجزیاتی مرکز کے درمیان انٹیلیجنس اطلاعات کے تبادلے کیلئے رابطے کا کام بھی کریگی- ان اداروں کی قیادت اور ان کی تشکیل کے لئے فوجی اور سویلین انٹیلیجنس کے اداروں کے ماہرین اکٹھا ہوئے ہیں اور یہ سب کام بہت آسانی سے ہوگیا-

اس پالیسی میں ایک چیز کی کمی ہے وہ ہے پاکستان کا اپنے پہلے گناہ کا اعتراف، یعنی؛

قومی سیکیورٹی کے اہداف کے حصول کیلئے غیر ریاستی عناصر کا استعمال- جب کہ مذہبی نظریوں کا غلط استعمال غربت کے ساتھ دہشت گردی کے معمے کا ایک حصہ ہے، جس چیز نے اس معمے کو کھڑا کیا وہ ریاستی پالیسی تھی- غیر ریاستی ایکٹرز کی تخلیق اور ان کا کشمیر اور افغانستان میں استعمال جان بوجھ کر کیا گیا تھا-

جب پاکستان نے اس وقت اپنے اردگرد ہونے والی عالمی تبدیلیوں کے زیر اثر اپنی خارجہ پالیسی میں ردوبدل کیا تب ان غیر ریاستی ایکٹرز کا ریاست مخالف ایکٹرز میں تبدیل ہوجانا ایک فطری عمل تھا-

ہماری ناقص جہادی پالیسی کا جواز اور اس کی ضرورت ہماری سیکیورٹی پالیسی کے ارباب اختیار کی ذہنی کج روی کا نتیجہ تھی- اس پروجیکٹ کو ختم کرنا اصولی طورپر بہت ضروری ہے-

ہماری قیادت کیلئے اس بات کا ادراک ضروری ہے کہ غیر ریاستی ایکٹرز کی ضرورت اور ان کا استعمال پالیسی کی ناکامی ہے نہ کہ ان کا غیر ریاستی سے ریاست مخالف عناصر میں تبدیل ہونا- لہٰذا ہمیں ان ریاست مخالف عناصر کو دوبارہ محب وطن عناصر میں تبدیل کرنے کی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ان کے تشدد کے رویہ کو بے اثر کرکے ان کو پرامن شہری بنانے کی طرف توجہ دینی چاہئے-

دہشت گردوں سے لڑنے اوران کو تنہا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے، ہمیں اس ترغیب کی لالچ میں نہیں آنا چاہئے کہ ہم ایک ریاست کے ہمدرد طالبان کا گروہ ریاست مخالف طالبان سے لڑنے کیلئے تیار کریں یا قبائل کو مسلح کریں- ریاست کو یہ جنگ خود لڑنی چاہئے اور قبائل صرف اس حکمت عملی کا حصہ ہوں کہ طالبان کے جانے کے بعد اس علاقے میں امن رہے-

اس سوچ کا ایک فطری نتیجہ یہ بھی ہونا چاہئے کہ ہم مسعود اظہر جیسے پرانے فاضل پرزوں کی پرورش ہرگز نہ کریں، ہندوستان کو یہ سگنل دینے کیلئے کہ وہ پاکستان میں گڑبڑ کروانے کی کوشش نہ کرے-

اس تاثر کو ختم کرنے کیلئے راحیل شریف کو نوازشریف کے مقابلے میں زیادہ ویژن، قیادت اور عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا- اگر مگر کرنے والے یہ دلیل دیتے رہینگے کہ ہوسکتا ہے دنیا پھر تبدیل ہوجائے اور ریاست کی حمایت کرنے والے جہادی ہماری قومی سیکیورٹی کے اسلحے خانہ کا سب سے بہترین حصہ ثابت ہوں- لیکن ان لوگوں کا خیال غلط ہوگا بالکل ان لوگوں کی طرح جنہوں نے پہلی بار اس زہریلے پروجیکٹ کی بنیاد ڈالی تھی- جنہوں نے 50٫000 شہریوں کی جان لے لی ہو ان کو کوئی ہوش مند ملک اپنا اثاثہ نہیں قرار دے سکتا ہے-

کیا 'شریفوں' میں اتنی صلاحیت ہے کہ پاکستان کو عقل و دانش اور ہوش مندی کی آماجگاہ بنا سکیں؟

انگلش میں پڑھیں

ترجمہ: علی مظفر جعفری

بابر ستار
ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026