ریاست در ریاست AKA ڈیپ اسٹیٹ

13 جون 2013

ای میل

السٹریشن --.
السٹریشن --.

ججز، استغاثہ، محقق، گواہ، وکلا: کوئی بھی پاکستان کی ڈیپ اسٹیٹ (ریاست کے اندر ریاست) میں عسکریت پسندوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف سرگرم عمل مجرمانہ نظام انصاف میں محفوظ نہیں ہے-

ججز نظربندی کیس نے ایک نیا دلچسپ موڑ لیا، جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے رٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی بعد از گرفتاری کی درخواست کی سماعت سے معذرت کر لی؛

"جب میں نے اپریل میں قبل از گرفتاری ضمانت مسترد کر دی تو میرے خلاف الیکٹرانک، پرنٹ، اور سوشل میڈیا پر کینہ پرورمہم شروع کر دی گئی-"

کیس کی سماعت سے معزرت کرنے والے جج نے افسوس کا اظہار کرتے ہوۓ کہا، جنہوں نے سابقہ آرمی چیف کے خلاف رجسٹرڈ پہلی معلوماتی رپورٹ میں پولیس کو انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کا ایک سیکشن بھی شامل کرنے کو کہا تھا-

اس سے قبل، ایک حیرت انگیز پیشرفت میں، وہ وکیل جس نے ججز نظربندی کیس کی درخواست دائر کی تھی، اپنی شکایت سے دستبردار ہو گیا بقول "وسیح تر قومی مفاد میں-" ایڈووکیٹ چودھری محمد اسلم گھمن، جنہوں نے 11 اگست، 2009 میں مقدمہ دائر کیا تھا، یہ فیصلہ کیا کے نہ وہ کورٹ کے سامنے حاضر ہونگے اور نہ ہی جنرل مشرف کے لئے مقدمہ چلانے پر اصرار کریں گے- انہوں نے مقدمے کے مستقبل کا فیصلہ عدالت پر چھوڑ دیا-

اس مقدمے سے وابستہ کئی وکلا کو اٹھا لیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا- رواں سال کی 21 اپریل کو ایڈووکیٹ بشارت اللہ کو اغوا کیا گیا اور بے رحمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا- دو اور وکلا مجیب الرحمان اور سردار منظر بشیر کو بلترتیب 27 اپریل اور 9 مئی کو اغوا کر کے بری طرح مار پیٹ کی گئی- سپریم کورٹ نے مجبوراً راولپنڈی اور اسلام آباد کے پولیس حکام کو قانونی برادری کے ارکان پر بڑھتے ہوے حملوں کی جانچ پڑتال کرنے کی ہدایات دیں اور ساتھ ہی خفیہ ایجنسیوں کو مجرموں کا سراغ لگانے کی بھی ہدایت کری- عدلیہ، فقط اپنے اخلاقی اختیارات کی ہی مشق کر سکتی ہے- بندوقیں تو ریاستی اور غیر ریاستی کرداروں کے ہاتھ میں ہیں-

بینظیر قتل کیس میں، استغاثہ خاص کی قسمت جان لیوا ثابت ہوئی- 2 مئی کو چودھری ذولفقار علی کو گولی کا نشانہ بنایا گیا جب انہیں اس قتل کے کیس سے متعلق اضافی ثبوت پیش کرنا تھے- چار، پہلے سے گھات لگاۓ مسلح افراد نے 9 ایم ایم اور 30 بور کی پستول کے ساتھ مسلح گارڈ کو نہیں، بلکہ انکو نشانہ بنا کر فائر کھول دئے- جاۓ واقعہ پر گمراہ کن مواد پر مبنی ایک پمفلٹ ملا، جس میں کسی مجاہدین اسلامی کا نام تھا جو آج تک نامعلوم ہیں-

چودھری ذولفقار فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے بہترین استغاثہ وکلا میں سے ایک تھے- وہ 10 فروری، 2009 میں لیگل برانچ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے ریٹائر ہوۓ، لیکن انکی پیشہ وارانہ خصوصیات اور وابستگی کی وجہ سے، ممبئی دہشتگرد حملے کے مقدمے کی پیروی کرنے کیلئے، ابتدائی طور پر انکی خدمات حاصل کی گئیں تھیں- بینظیر قتل کیس،6 اگست، 2009 میں ایف آئی اے کے سپرد کیا گیا- 15 اگست، 2009 کو استغاثہ خاص چودھری ذولفقار کی خدمات حاصل کی گئیں، کیوں کہ ایجنسی کے نزدیک ایک سابقہ وزیر اعظم کے ہولناک قتل سے زیادہ کوئی کیس، اھم نہیں تھا- ان کی پیشہ وارانہ خصوصیات اور صلاحیت کو انتہائی حد تک آزمایا گیا، خصوصاً جب یو این کی تحقیقاتی ٹیم, ریاست کے دوسرے اعضاء پر تنقید کر رہی تھی، لیکن اس نے ایف آئی اے کی فوجداری تحقیقات پر اعتماد کا اظہار کیا تھا-

ایجنسی کے حکام کو اس تحقیقاتی مہم میں لاحق خطرات کا اندازہ تھا- تحقیقاتی ٹیم کا مقابلہ ڈیپ اسٹیٹ میں موجود عسکریت پسندوں اور ان کے ممکنہ سر پرستوں سے تھا جو اپنے پرفریب ہتھکنڈوں اور مہلک ہتھیاروں کے ساتھ ہی ظلم و جبر، گمراہ کن رہنمائی، بلیک میلنگ، تہمت و بدگوئی، اغوا اور حد یہ کہ قتل تک کے ہتھیاروں سے لیس تھے-

استغاثہ خاص، ذولفقار علی، براہ راست تحریک طالبان کے خطرے کی زد میں کام کر رہے تھے کیوں کہ بینظیر کے قتل کےفوراً بعد پنجاب پولیس نے اس کے پانچ ارکان کو گرفتار کر لیا تھا- دو سال سے زاید عرصے تک استغاثہ نے بہادری کے ساتھ مقدمات کی پیروی کی، اور آخری چند ماہ میں صرف ایک محافظ رکھا- یہ مدّت انتہائی حساس نوعیت کے تکنیکی، دستاویزی، اور تفصیلی شواہد جمع کرنے کے لئے وقف تھی- اسکا مطلب تھا ایجنسی اور ان کے لئے مصیبت- وہ بے خوفی کے ساتھ ہائی پروفائل کیسز کی پیروی کے دوران اندرونی اور بیرونی دباؤ کی مزاحمت کرتے رہے اور اپنے دلیرانہ اعتماد کی بڑی بھاری قیمت ادا کی- بہت سے خون سے لبریز رازوں کی تاریخ میں انکی یہ علیٰ قربانی تازہ ترین ہے-

اس ڈیپ اسٹیٹ کے ثقافتی پس منظر کے خلاف، نئی جمہوری حکومت اور اس کے تمام وفاقی اور صوبائی علیٰ حکام کی یہ ذمہ داری ہے کہ قوم کو ماوراۓ قانون نظربندی، سزا سے استثنائی، ظلم و جبر، دہشت، اور ہدف بنا کر قتل کرنے کے کلچر سے نجات دلاۓ- مذکورہ تجویز فوری توجہ کی مستحق ہے-

یہاں کوئی ریاست کے حامی یا ریاست کے مخالف عسکریت پسند نہیں ہیں- وہ سب ایک پرتشدد ایجنڈے کے حامی ہیں- انتہا پسند تنظیموں اور نجی ملیشیا کی تشکیل، خفیہ سیاسی مقاصد کی موجودگی یا غیر موجودگی کے باوجود، واضح طور پر غیر آئینی اور غیر قانونی ہے- یہ سن لیں کہ جو عفریت آپ آج تخلیق دیں گے وہ کل آپ کو ڈرانے اور آپ ہی کا شکار کرنے آئے گا- براۓ مہربانی، روکیں، پابند کریں، قید کریں، حراست میں لیں اور قانونی کاروائی کریں، ایسی کالعدم عسکری تنظیموں کے لیڈروں کے خلاف- اس جوہڑ کی صفائی کریں جو مچھروں کی افزائش کا سبب ہے- ڈیپ اسٹیٹ، غیر ریاستی کرداروں کی تخلیق میں مدد دیتی ہے- اس بات کا امکان ہے کہ یہ عسکریت پسند ریاست پاکستان کو ادھیڑ کر رکھ دے گی-

عوامی جواب دہی کے لئے، انٹیلی جنس ایجنسیوں پر مجلس قانون ساز کی نگرانی انتہائی ضروری ہے- فی الحال انٹیلی جنس کے معاملات پر کوئی پارلیمانی کمیٹی نہیں ہے- دفاعی اور داخلہ کمیٹی کے پاس انٹیلی جنس سروسز کی سرگرمیوں اور حکمت عملی کے فریم ورک کےتعین یا اس کے حوالے سے سوالات کرنے کے لئے کوئی مینڈیٹ نہیں ہے- ایسی پالیسیاں اور طرز عمل، اس سے زیادہ اھم ہیں کہ انہیں سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاۓ- سیاسی اور فوجی قیادت کی طرف سے، شفافیت اور جوابدہی کی حدود وضح کیا جانا ضروری ہو گیا ہے-

انٹیلی جنس سروسز جیسے انٹیلی جنس بیورو اور آئی ایس آئی، بغیر کسی قانون اور آئینی ڈھانچے کے کام کر رہے ہیں- تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سول آرمڈ فورسز جیسے ایف آئی اے، دی فرنٹیئر کورپس، رینجرز، اور کوسٹ گارڈز تک کے قوانین اور ضابطے ہیں- تو پھر انٹیلی جنس ایجنسیاں قانون کے دائرے سے باہر کیوں ہیں؟

ججز، ریسرچرز، استغاثہ، گواہوں اور وکلا کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست کی ہے- اور وہ اس میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے- ریاست کی کمزوری کا نتیجہ دہشت، قتل اور اغوا کی نہ رکنے والی کاروائیوں کی شکل میں سامنے ہے- کیا تمام ارباب اختیار مل کر اپنے افعال وضح کریں گے اور بد نصیب شہریوں کے ساتھ کھیل کھیلنے بند کریں گے؟

دوسری صورت میں اگر ہم اجتماعی طور پر آئینے میں دیکھیں تو ہمیں انتشار کا عکس نظر آۓ گا-


لکھاری ایف آئ اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں

ترجمہ: ناہید اسرار