صحافی کون؟

اپ ڈیٹ 06 مئ 2014

ای میل

آج کل ٹی وی پر جس قسم کی گفتگو 'میڈیا والے' کرتے ہیں وہ  کسی بھی طور صحافیانہ یا علمی اقدار پر پوری نہیں اترتی -- السٹریشن -- خدا بخش ابڑو
آج کل ٹی وی پر جس قسم کی گفتگو 'میڈیا والے' کرتے ہیں وہ کسی بھی طور صحافیانہ یا علمی اقدار پر پوری نہیں اترتی -- السٹریشن -- خدا بخش ابڑو

تو یہ طے ہوا کہ صحافی معاشرے کا وہ فرد ہوتا ہے جو عوام کو معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے علمی ذوق کے اضافے کا سبب بھی بنتا ہے - یعنی صحافی بننا کوئی معمولی بات نہیں، یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جسے نبھانے کے لیے ایک خاص قسم کی علمیت اور سمجھ درکار ہے-

ہمارے ہاں 'صحافی کون' کی بحث تب سے چل پڑی جب سے ٹیلی ویژن مہاشے نے ہماری زندگیوں میں 24 گھنٹے خبر رسانی کا کام شروع کیا یعنی کیبل ٹی وی کے ظہور کے بعد -- اب جو شخص بھی اسکرین کے سامنے چند سیاستدانوں کا انڑویو لیتا ہوا دکھائی دے وہ صحافی بن گیا، جسے گھما پھرا کہ 'میڈیا والا' بھی کہا جاتا ہے -- لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے بیشتر افراد صحافی نہیں بلکہ'ٹی وی والے' ہیں جن میں سے کچھ celebrities بن سکتے ہیں اور بس.

امریکا میں جتنے نشریاتی ادارے ہیں، چھوٹی اسکرین سے متعلق، ان میں ٹاک شوز کی بہتات ہے، یہی حال برطانیہ کا بھی ہے، لیکن وہاں اس بات کی تخصیص ہے کہ ٹاک شوز کی میزبانی کرنے والا ہر آدمی صحافی نہیں-

مثال کے طور پر اس وقت امریکا کے سب سے مشہور ٹاک شوز کی میزبانی ڈیوڈ لٹرمن اور کونان اوبرائن کرتے ہیں اور یہ دونوں پروگرام انہی کے ناموں سے منسوب ہیں. دونوں بلا کے بذلہ سنج اور ذہین بھی ہیں، سیاستدانوں سے لے کر اداکاروں، گلوکاروں اور کھلاڑیوں سب کے انٹرویوز کرتے ہیں، مگر صحافی نہیں کہلاتے-

اسی طرح جان اسٹیورٹ جو کہ زیادہ تر سیاسی انٹرویوز کرتا ہے وہ بھی صحافی ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا-

لیری کنگ کو ہی لے لیں، کیا اس نے کبھی صحافی ہونے کا دعوہ کیا ہے؟

اس کی وجہ یہ ہےکہ صحافت کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں، اس کے لیے آپ کو فیلڈ میں جانا ہوتا ہے، شواہد اکٹھا کرنے ہوتے ہیں، ان کی تصدیق کرنا ہوتی ہے، اور پھر ان سب چیزوں کو ملا کر انہیں عوام تک اس طرح پنہچانا ہوتا ہے کہ نہ صرف ان کی معلومات میں اضافہ ہو، وہ اپنے اطراف ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے محرکات سے واقف ہوں، بلکہ ان کی علمی سطح بھی بلند ہو-

ہمارے ہاں آج کل ٹی وی پر جس قسم کی گفتگو 'میڈیا والے' کرتے ہیں وہ کسی بھی طور صحافیانہ یا علمی اقدار پر پوری نہیں اترتی، یہ بات سب کے لیے صادق نہیں کیوں کہ کچھ صحافی ایسے ہیں جو اپنی پروفیشنل تربیت کی جھلک اسکرین کے سامنے بھی پیش کرتے ہیں، مگر سب نہیں، زیادہ تر 'میڈیا والوں' کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ بندر کے ہاتھ ناریل آ گیا ہے-

کمال کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اب ان کے ہاتھوں سے بھی نکل چکے ہیں جو ان کو ٹی وی تک لاے، کیوں کہ بقول کامیڈین عمر شریف، 'یہ وہ گلوکار ہیں کہ جس نے واہ واہ کی باجا اسی کی طرف موڑ دیا'، اور ان کے باجے ان دنوں زیادہ ہی مڑنے لگے ہیں-

ہمارے عہد کے عظیم ناول نگار اور صحافی گیبریل گارسیا مارکیز نے ایک بار کہا تھا کہ صحافت میں ایک غلط fact پوری خبر کو تعصب کا شکار بنا دیتا ہے، جبکہ ناول نگاری میں ایک سچ پورے ناول کو legitimacy دے دیتا ہے- اور یہی وہ فرق ہے جسے ہمیں اور ہمارے میڈیا والوں کو سمجھنا چاہیے-


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔