عراق اور شام: تباہی کے دہانے پر

اپ ڈیٹ 19 جون 2014

ای میل

موصل پر قبضے کے بعد داعش نے بغداد اور کربلا سمیت عراق کے مزید شہروں پر حملے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
موصل پر قبضے کے بعد داعش نے بغداد اور کربلا سمیت عراق کے مزید شہروں پر حملے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر صدر اوباما نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ عراق میں براہ راست فوجی کاروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔
جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر صدر اوباما نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ عراق میں براہ راست فوجی کاروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔
عراقی شیعہ لیڈر آیت اللہ سیستانی نے باقاعدہ ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اپنے پیرو کاروں کو شدت پسندوں کے خلاف لڑنے کے لئے ہتھیار اٹھانے کی تاکید کی ہے۔
عراقی شیعہ لیڈر آیت اللہ سیستانی نے باقاعدہ ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اپنے پیرو کاروں کو شدت پسندوں کے خلاف لڑنے کے لئے ہتھیار اٹھانے کی تاکید کی ہے۔

شام اور عراق میں حالات تیزی سے بگڑتے جارہے ہیں۔ دسمبر 2011 میں جب بارک اوباما نے عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کا اعلان کیا تھا تو انہوں نے بڑے یقین سے کہا تھا؛

"ہم اپنے پیچھے ایک ایسا عراق چھوڑ کر جا رہے ہیں جہاں مضبوط، مستحکم اور خود انحصار حکومت قائم ہے"

عراق سے امریکی فوجوں کا انخلاء مکمل ہو نے کے بعد عراق میں مکمل امن تو نہیں آسکا اور دہشت گردی کے واقعات بھی ہوتے رہے لیکن جس تیزی سے صورت حال اب تبدیل ہو رہی ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ خطہ ایک بار پھر خوفناک جنگ کی لپیٹ میں آنے والا ہے۔

عراق کے پڑوس میں واقع شام بھی دو سال سے خانہ جنگی کی کیفیت سے گزر رہا ہے جس میں بعض اطلاعات کے مطابق اب تک ایک لاکھ بیس ہزار لوگ قتل ہو چکے ہیں جبکہ پڑوسی ملکوں میں پناہ لینے والوں کی تعداد پچیس لاکھ سے زیادہ ہے۔

شامی حکومت کے خلاف بر سر پیکار گروہوں کے بارے میں باور کیا جاتا ہے کہ ان کا تعلق القائدہ اور داعش ( دولتِ اسلامیہ فی عراق والشام) سے ہے جو شام اور عراق میں ایک علیحدہ ریاست کے قیام کے لئے برسر پیکار ہے۔ اسے آئی ایس آئی ایس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جس میں بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں مقامی اور غیر ملکی جنگجو شامل ہیں۔

دوسری طرف لبنانی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ بھی اس بات کا برملا اظہار کر چکے ہیں کہ ان کی تنظیم شام میں دشمنوں کے خلاف نبرد آزما ہے۔

دوبئی میں قائم عربی میڈیا گروپ العربیہ نے حال ہی میں اپنے ایک فارسی شمارے میں ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ افغان مہاجرین کو معاوضوں کے عوض لڑنے کے لئے شام بھیج رہا ہے۔ جبکہ ایران میں مقیم افغان مہاجرین نے اس بات کی شکایت کی ہے کہ ایرانی سپاہ پاسداران انہیں زبردستی شام جاکر لڑنے پر مجبور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انکار کی صورت میں انہیں ایران سے نکالنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔

وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی شہر قم میں قائم افغانی شیعہ رہنماء آیت اللہ محقق کابلی کے آفس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سپاہ پاسداران اور ایرانی حکومت شام جانے پر آمادہ کرنے کی خاطر افغان نوجوانوں کو تنخواہ اور گھر فراہم کرنے کے علاوہ ان کے بچّوں کو سکول میں داخل کرانے کا لالچ دیتی ہے (یاد رہے کہ ایران میں افغان مہاجرین کے بچّوں کو سکول میں داخلے کی اجازت نہیں)۔

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آیت اللہ کابلی اور ان کے آفس نے فی الحال اس موضوع پر خاموشی اختیار کر رکھی ہےجبکہ انہوں نے شام میں ہلاک ہونے والے افغان مہاجرین کی تدفین میں بھی شرکت نہیں کی۔

ایران نے اگرچہ اپنے اوپر لگائے گئے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے لیکن گزشتہ کچھ دنوں کے دوران مڈل ایسٹ بالخصوص عراق میں رونماء ہونے والے واقعات اور علاقائی و بین الاقوامی رہنماؤں کے بیانات سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ خطے میں ایک بھرپور جنگ کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

داعش نے کچھ دن پہلے ہی شام اور ترکی کی سرحد کے قریب عراق کے ایک اہم شہر موصل پر قبضہ کرلیا۔ پانچ دن جاری رہنے والی اس لڑائی میں جہاں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے وہاں پانچ لاکھ کے قریب افراد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر پاس کے علاقوں میں پناہ لینی پڑی۔

اطلاعات کے مطابق موصل پر قبضے کے بعد داعش نے بغداد اور کربلا سمیت عراق کے مزید شہروں پر حملے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جسے دیکھتے ہوئے ایران نے بھی ضرورت پڑنے پر عراقی حکومت کی مدد کے لئے اپنے فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

خبروں کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی نے عراقی شدت پسندوں کو شکست دینے کے لئے اپنے پرانے حریف امریکہ کے ساتھ تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیا ہے۔

اگرچہ ابھی تک ان خبروں کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی لیکن وال سٹریٹ جرنل کے بقول عراقی معاملے میں ایران کی شمولیت سے ایسا تاثر ابھر سکتا ہے کہ عراق کے اندر ایران اور امریکہ مل کر کام کر رہے ہیں حالانکہ شام کے معاملے میں امریکہ اور ایران کی راہیں مکمل جدا ہیں۔

لاس اینجلس ٹائمز نے بھی 12 جون کی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ مشرق وسظیٰ میں فرقہ وارانہ جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر صدر اوباما نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ عراق میں براہ راست فوجی کاروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔

معاملے کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ عراقی شیعہ لیڈر آیت اللہ سیستانی نے باقاعدہ ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اپنے پیرو کاروں کو شدت پسندوں کے خلاف لڑنے کے لئے ہتھیار اٹھانے کی تاکید کی ہے۔

ایسی بھی خبریں آرہی ہیں کہ تیل سے مالا مال علاقے کِرکوک کو داعش کے قبضے سے محفوظ رکھنے کی خاطرعراقی کرد بڑی تعداد میں شہر میں داخل ہو گئے ہیں جس سے عراق کی نسلی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کا خدشہ بہت بڑھ گیا ہے جو مستقبل میں نہ صرف اس کے پڑوسی ممالک ایران، ترکی، سعودی عرب، شام اور اردن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے بلکہ دور پار کے مسلم ممالک پر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

مذہبی اور نسلی بنیادوں پر عراق کی تقسیم کے موضوع پر پہلے بھی بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے۔ جون 2006 کے دوران جب عراق میں خانہ جنگی اپنےعروج پر تھی امریکی عسکری ماہنامے US Armed Forces Journal میں "Blood Borders" کےعنوان سے رالف پیٹرز کا ایک مضمون شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے عراق سمیت مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک کی سرحدوں کو غیر طبعی قرار دیتے ہوئے نسلی اور مذہبی بنیادوں پر ان کی دوبارہ حد بندی کے امکانات کا جائزہ لیا تھا۔

مصنف نے غیر طبعی سرحدوں کو فتنہ فساد اور نا انصافیوں کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ عراق، ترکی، شام اور ایران میں بکھرے ہوئے کردوں پر مشتمل آزاد کردستان قائم ہوسکتا ہے۔ اسی طرح عراق اور سعودی عرب کے شیعہ آبادی والے علاقوں پر مشتمل شیعہ عربوں کی ایک الگ ریاست قائم ہوسکتی جس میں ایران کی شیعہ عرب آبادی والا علاقہ بھی شامل ہو جبکہ عراق کے تین سنی اکثریت والے صوبے شام کے ساتھ الحاق کرسکیں گے۔

مضمون نگارنے پاکستان کو بھی علاقے کا ایک غیر فطری ملک قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ آزاد بلوچستان کی تشکیل کے لئے پاکستان اور ایران کو اپنے بعض علاقوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے، جبکہ پاکستان کے پشتون علاقے افغانستان کے ساتھ اور افغان صوبہ ہرات سے ملحقہ کچھ علاقے ایران سے الحااق کر سکتے ہیں۔

مصنف کے بقول اگرچہ لوگوں کی خواہشات کے عین مطابق سرحدات کی از سر نو حد بندی فی الحال شاید ناممکن لگے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اور بہت ساری خونریزی کے بعد نئی اور حقیقی سرحدیں وجود میں آسکتی ہیں۔ مضمون کے آخر میں مصنف نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ اگر ہمارے پاس کوئی جادوکی چھڑی ہوتی تو ہم یقینا ایسا ہی کرتے۔

مشرق وسطیٰ کی صورت حال کو موجودہ سطح تک لانے میں ایران اور عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کے کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا جو اپنی خواہشات کے مطابق علاقے کی قسمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں لیکن اور بھی کئی قوتیں ایسی ہیں جن کی نظریں قدرتی وسائل سے مالا مال اس خطے پر جمی ہیں، لہٰذا اگر اس جنگ کا فوری حل نہ نکالا گیا تو اس کے بدترین اثرات سے خطے کا کوئی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔