رینکنگ اور ہماری یونیورسٹیاں

09 جولائ 2014

Email


گلوبل رینکنگ کے حساب سے 400 ٹاپ تعلیمی اداروں میں ایک بھی پاکستانی نہیں- پاکستان تو پہلے سو ایشیائی اداروں میں بھی نہیں-
گلوبل رینکنگ کے حساب سے 400 ٹاپ تعلیمی اداروں میں ایک بھی پاکستانی نہیں- پاکستان تو پہلے سو ایشیائی اداروں میں بھی نہیں-
گلوبل رینکنگ کے حساب سے 400 ٹاپ تعلیمی اداروں میں ایک بھی پاکستانی نہیں- پاکستان تو پہلے سو ایشیائی اداروں میں بھی نہیں-
گلوبل رینکنگ کے حساب سے 400 ٹاپ تعلیمی اداروں میں ایک بھی پاکستانی نہیں- پاکستان تو پہلے سو ایشیائی اداروں میں بھی نہیں-

ٹائمز ہائر ایجوکیشن (T H E) ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ نے گزشتہ ہفتے ایک رپورٹ جاری کی ہے ---- جسے اگر ہم یہودی سازش کہکر مسترد نہ کردیں تو ہمارے لئے غور و فکر کا کچھ سامان فراہم کرتی ہے-

پاکستان کے لئے خراب خبر یہ ہے کہ ہماری کوئی بھی یونیورسٹی ان چار سو اولین اداروں میں شامل نہیں ہے جن کی رینکنگ عالمی سطح پر کی گئی ہے- پاکستان تو پہلے سو ایشیائی اداروں میں بھی شامل نہیں ہے-

اپنے محتاط اصولوں کے مطابق THE ساری دنیا کی یونیورسٹیوں کی رینکنگ ان کے "اصلی مشن کی بنیادوں پر کرتا ہے--- تدریس، ریسرچ، علم کی منتقلی اور بین الاقوامی نقطہ نظر"-

جیسا کہ ہم امید کرسکتے ہیں، امریکی اور یورپی یونیورسٹیاں رینکنگ کی اعلیٰ ترین سطح پر ہیں --- کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنولوجی، ہارورڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ پہلے تین درجوں پر فائز ہیں-

ایشیاء کی 20 یونیورسٹیاں بھی اس پروقار عالمی فہرست میں شامل ہیں- یونیورسٹی آف ٹوکیو کو ایشیاء کی بہترین یونیورسٹی قرار دیا گیا ہے اور چین، کوریا اور سنگاپور بھی تیزی سے ترقی کررہے ہیں-

کسی ادارے کی رینکنگ کرنے کے لئے THE سوچ بچار کے ساتھ اسکی کارکردگی کے پیمانے کا تعین کرتا ہے- اس میں اس ادارے کی تدریسی اور تعلیمی فضا، اس کا حجم، آمدنی اور اسکی ریسرچ کی شہرت، ریسرچ کے حوالوں (جو اس کے اثر و نفوذ کو ظاہر کرتے ہیں)، صنعت کی آمدنی کو دیکھا جاتا ہے جس سے اسکی ایجادات اور اختراع کا ثبوت ملتا ہے، عالمی نقطہ نظر کو دیکھا جاتا ہے جس کا اندازہ لگانے کے لئے اسٹاف، طلباء اور بین الاقوامی ہمکاروں کے ساتھ محققین کے رابطوں کا جائزہ لیا جاتا ہے-

ہم ان باتوں سے کوئی اور سبق نہ بھی سیکھنا چاہیں تو بھی کم از کم یہ تو جان سکتے ہیں کہ ہمیں اپنے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں کیا کیا باتیں دیکھنی ہونگی- ریسرچ، خواہ اسکا تعلق سماجی علوم سے ہو یا فزیکل سائنسز سے، تعلیمی معیار کی بنیاد ہے- زور اس بات پر دینا ہوگا کہ تدریس ریسرچ کی بنیاد پر کیجائے-

اس کے لئے اولین شرط یہ ہے کہ پڑھانے والے اعلیٰ تعلیمی معیار رکھتے ہوں، جنھیں ریسرچ کا تجربہ ہو اور اپنا علم اپنے طالبعلموں میں منتقل کرسکیں- فنڈز بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں- جن یونیورسٹوں کے پاس پیسہ نہیں ہوتا وہ ریسرچ میں آگے نہیں بڑھ سکتے-

حقیقت یہ ہے کہ جاپانی اداروں کے مقابلے میں چین کی یونیورسٹیوں نے اپنی رینکنگ میں بہتری دکھائی ہے کیونکہ انھیں زیادہ فنڈنگ ملی ہے- جاپان کی ریسرچ اس لئے متاثر ہوئی ہے کہ اسکی معیشت کو دباؤ کا سامنا ہے- ریسرچ کے نتائج کسی ادارے کی رینکنگ میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں-

دوسری اہمیت ماحول کی ہے- جن معاشروں میں ریسرچ کی ہمت افزائی نہیں کی جاتی وہ نہ تو ایجاد و اختراع کرسکتے ہیں اور نہ ہی ترقی- حقیقی ریسرچ کے لئے ضروری ہے کہ اسکی سوچ سیکیولر اور قابل اعتماد ہو- ایک دلچسپ اور قابل غور بات یہ ہے کہ اسلامی ممالک کی یونیورسٹیاں عالمی رینکنگ میں پہلے 200 نمبروں پر نظر نہیں آتیں- سوائے ترکی کے جس کی استنبول کی Boazici University کو 2014-2013 میں پہلی بار اس فہرست میں شامل کیا گیا جس کے سب آرزومند ہوتے ہیں-

یہ بات بڑی عجیب و غریب لگتی ہے کہ ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جو طلباء داخلہ لیتے ہیں ان کے تعلیمی معیار پر کوئی خاص توجہ نہیں دیجاتی- اگرچہ کہ یونیورسٹی ریسرچ کا معیار اور تدریس اسکی شہرت میں اہمیت رکھتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی یونیورسٹی ان طلباء کو ذہین اسکالر نہیں بناسکتی جنھیں دس سال کی اسکول کی تعلیم کے دوران اعداد و شمار اور تنقیدی فکر میں مہارت نہ حاصل ہوئی ہو جو علم کا اہم ہتھیار ہیں-

اسکے باوجود پاکستان میں ماہرین تعلیم یونیورسٹیوں کی منصوبہ بندی کرتے وقت اسکول کی تعلیم کو اہمیت نہیں دیتے- ہم نے تو یہی دیکھا کہ جب ہائر ایجوکیشن کمیشن قائم ہوا تو اس نے ساری پبلسٹی اور قلیل فنڈز خود اپنے لئے حاصل کرلئے جبکہ اسکول کی تعلیم کو پس پشت ڈال دیا گیا-

مغربی ممالک میں جہاں بنیادی تعلیم لازمی اور مفت ہے یونیورسٹیوں پر زیادہ توجہ دیجاتی ہے- اکیڈیمکس اور ماہرین تعلیم کا یہ خیال مہمل معلوم ہوتا ہے کہ آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹس پروگرام فار اسٹوڈنٹس اسسمنٹ (PISA ) 'قابل قبول اور قابل اعتماد' نہیں ہے- انھوں نے PISA پر الزام عائد کیا کہ وہ "تعلیم کو نقصان" پہنچارہا ہے کیونکہ اس نے رینکنگ کو اہمیت دی ہے اور اسکی وجہ سے "سر فہرست پہنچنے کی ریس" شروع ہوگئی ہے-

اگر ہم PISA کو ایک ایسا ذریعہ سمجھیں جس کے ذریعے ہم کسی ملک کے تعلیمی نظام کو جانچ سکتے ہیں نہ کہ مقابلے کا پیمانہ تو یقیناً اسکی قدر و قیمت ہے- PISA 2000 سے ہر تین سال بعد سائنس، ریاضی اور پڑھنے (ریڈنگ) کا امتحان لیتا ہے- یہ نصابی تعلیم کا امتحان نہیں لیتا بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ 15 سال کے بچے حقیقی زندگی میں کس طرح اپنے علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں- جو سوالات پوچھے جاتے ہیں ان سے کسی طالب علم کی عام معلومات اور عقل کا اندازہ لگایا جاتا ہے-

ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایسی تعلیم جو بچے کو واقعی "تعلیم" دیتی ہے اور اسے سوچنا اور عقل استعمال کرنا سکھاتی ہے، اس میں دلائل کو استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے، زندگی بھر اسکے کام آسکتی ہے-

چین کا شہر شنگھائی --پورا ملک نہیں-- گزشتہ دو امتحانوں میں مسلسل سر فہرست رہا ہے- آخری امتحان 2012 میں ہوا تھا اور دسمبر 2013 میں اس کے نتائج کا اعلان کیا گیا- اس امتحان میں 65 ممالک کے لگ بھگ 51,0000 طلباء نے شرکت کی تھی-

PISA دراصل کسی ملک کے تعلیمی نظام کی جانچ پڑتال کرتا ہے اور اسکے نتائج "حقیقت کے تقریباً قریب قریب" ہوتے ہیں جیسا کہ اسکے ایک اہلکار نے اسکے دفاع میں کہا ہے-

کسی تعلیمی نظام کی کامیابی میں جو عوامل اہمیت رکھتے ہیں وہ ہے طلباء کی توقعات، ان میں جذبے کو ابھارنا، تدریس کا فن، بچپن کی تعلیم، بچوں میں یہ احساس جگانا کہ ان کا ایک سکول ہے اور ان سب سے بڑھ کر تعلیم میں مساوات- کیا واقعی یہ باتیں اہمیت نہیں رکھتیں؟

انگلش میں پڑھیں


ترجمہ: سیدہ صالحہ