برطانیہ میں 1400 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی، رپورٹ

27 اگست 2014

ای میل

روتھرم کونسل کے رہنما راجر اسٹون رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد فوری طور مستعفی ہوگئے۔اے پی فائل فوٹو۔
روتھرم کونسل کے رہنما راجر اسٹون رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد فوری طور مستعفی ہوگئے۔اے پی فائل فوٹو۔

لندن: ایک رپورٹ کے مطابق شمالی انگلینڈ کے ایک ٹاؤن میں 1400 کے قریب بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔ ان بچوں کی عمریں 11 سے 16 سال کے درمیان تھیں جنہیں حکام ریپ، ٹریفکنگ اور تشدد سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہے۔

الیکسس جے کی رپورٹ میں ڈھائی لاکھ افراد کے ٹاؤن روتھرم میں 1997 سے لیکر 2013 تک جنسی استحصال کے بدترین واقعات کا حوالہ دیا گیا جن میں زیادہ تر پاکستانی کمیونٹی کے افراد ملوث تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کس طرح بچوں کو متعدد ملزمان کی جانب سے ریپ، اغوا اور دیگر جرائم کا نشانہ بنایا جاتا۔

رپورٹ میں ایسے واقعات کا بھی حوالہ دیا گیا جہاں بچوں پر پیٹرول چھڑک کر انہیں دھمکایا جاتا یا پھر ان کے سامنے ریپ کیا جاتا اور کسی کو بتانے پر ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیے جانے کی دھمکی دی جاتی۔

اس جانب سب سے پہلے توجہ 2010 میں اس وقت دی گئی جب پانچ افراد کو نوجوانوں کو سیکس کے لیے تیار کرنے پر طویل عرصہ جیل میں گزارنے کی سزائیں سنائی گئیں۔

اسی طرح کے دیگر متعدد کیسز روچڈیل، ڈربی اور اوکسفروڈ میں بھی سامنے آئے جن میں پاکستانی گروہ ملوث تھے۔

روتھرم نے اس حوالے سے باضابطہ طور پر انکوائری کرنے کا فیصلہ کیا جس کی تحقیقات کے لیے الیکسس جے جو اسکوٹش حکومت کی مشیر برائے سوشل ورک تھیں، کا انتخاب کیا گیا۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی تحقیقات پر وہ بہت حیران تھیں۔ پولیس نے متاثرہ بچوں کو ہی قصوروار ٹہرانا شروع کردیا جبکہ ان بچوں کے بارے میں متعدد چائلڈ پروٹیکشن ایجنسیوں کو علم تھا۔

اس سے قبل جاری ہونے والی رپورٹس میں بھی اسی طرح کی صورت حال کا ذکر کیا گیا تھا تاہم سینئر پولیس اہلکاروں نے اس ڈیٹا پر یقین کرنے سے انکار کردیا اور ان رپورٹس کو دبا دیا گیا۔

جے کے مطابق اس معاملے پر سیاسی اور آفیسر قیادت کی ناکامی واضح تھی۔ شروع سے ہی اس بات کے شواہد موجود تھے کہ روتھرم میں بچوں کے ساتھ سنگین نوعیت کا استحصال ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرین نے ملزمان کو 'ایشیائی' بتایا تھا تاہم اس کے باوجود کونسل نے ٹاؤن کی پاکستانی کمیونٹی سے رابطہ نہیں کیا۔

جے نے بتایا کہ کونسل اراکین کا خیال تھا کہ یہ اپنی نوعیت کے واقعات ہیں اور مسئل جلد خود ہی ختم ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ متعدد اسٹاف ممبران اس وجہ سے خوفزدہ تھے کہ اگر وہ ان افراد کی قومیت شناخت کرلیں گے تو انہیں نسل پرست قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ ان کے مینیجرز نے اس معاملے میں ملوث نہ ہونے کی ہدایت کی تھی۔

بچوں کے لیے ایک ہیلپ لائن کے سربراہ جان کیمرون کے مطابق ثقافتی حساسیت بچوں کے تحفظ کی راہ میں کبھی نہیں آنی چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سوچنا مشکل ہے کہ اتنے سالوں سے جاری ان واقعات کے شکار بچوں پر کیا بیتی ہوگی جبکہ اس معاملے کی جانب توجہ نہ دینا پریشان کن ہے۔