• KHI: Partly Cloudy 28.8°C
  • LHR: Partly Cloudy 33.4°C
  • ISB: Clear 28.3°C
  • KHI: Partly Cloudy 28.8°C
  • LHR: Partly Cloudy 33.4°C
  • ISB: Clear 28.3°C

کالم نگاروں کے نام

شائع November 4, 2014 اپ ڈیٹ November 6, 2014

میرے ایک دوست نے ڈان کے کالم نگاروں پر اپنی نظریں جما دی ہیں اور ان کی نیند اڑ کر رہ گئی ہے،میرے یہ دوست جو پیشے کے لحاظ سے آرتھوپیڈک سرجن ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ ڈان کو پسند کرتے ہیں مگر وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر وہ ندیم فاروق پراچہ اور جاوید نقوی کے کالمز کیوں شائع کرتا ہے۔

میرے دوستوں نے ان دونوں صاحبان کو 'اسلام مخالف' جو ایک اومنی بس اصطلاح ہے، پایا ہے، جس میں متعدد آئیڈیاز اور چیزوں جیسے پارلیمانی جمہوریت، پولیو کے قطرے اور کرکٹ سے لے کر امریکی فرنچائز ریسٹورنٹس میں کھانے تک سب شامل کیے جاسکتے ہیں۔

وہ ان کے کالمز پر پابندی کی التجا کرتے ہیں کیونکہ ان کی تحریریں پاکستانی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف جان لیوا خطرہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

اس طرح کی تحاریر سے ریاست کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے یا ایک مہذب معاشرے کا فلسفہ زندگی تضادات کا شکار ہوسکتاہے، خیالات سے آزادانہ کھیلنا مختلف اور بہت زیادہ 'نارمل'، ایب نارمل، مضحکہ خیز، معاشرے کو صحت مند بناسکتا ہے اور یہ قومی اتحاد کو تشکیل دے سکتا ہے۔

پاکستان کے معاملے میں اپنے خیالات کی تشہیر نہیں بلکہ انہیں دبانا پاکستان کے لیے ایک خطرہ بن سکتا ہے، اس کی قیمت ریاست کو اپنے اکثریتی صوبے میں فوجی شکست کی شکل میں چکانا پڑی، جس کے نفسیاتی اثرات سے ہم تاحال باہر نہیں نکل سکے ہیں، تو اپنے کسی ناپسندیدہ کالم پر پابندی کی درخواست سنسرشپ کا معاملہ اور بتدریج آمریت کا سبب بن جاتا ہے۔

ندیم پراچہ اور جاوید نقوی ڈان کے دو ایسے کالم نگار ہیں جو مسلسل لکھتے ہیں(لگ بھگ تیس افراد اوپنین پیجز کے لیے لکھتے ہیں)،امیجز کے رائترز، ڈان بزنس، فنانس، کتابوں و مصنفین ان سے ہٹ کر ہیں۔

ایک تخمینے کے مطابق ڈان (غیر ملکی صفحات کے فیچرز سمیت) ماہانہ تین سو سے زائد مضامین شائع کرتا ہے، اور سال بھر میں یہ تعداد 3600 بن جاتی ہے۔

اس میں ایڈیٹر کو خطوط(عوامی ایڈیٹوریل)، تبصروں اور تنقید سمیت دیگر سہولیات جو ڈان اپنے پڑھنے والوں کو فراہم کرتا ہے، جیسے سیاست، معیشت، خارجہ امور، معاشرے، ادب، مذہب، سائنس و ٹیکنالوجی، اسپورٹس اور شوبز وغیرہ کو بھی اس میں شامل کرلیں۔

ڈان ہوسکتا ہے ان کی تحریر سے متفق ہو یا نہ ہو مگر ان خیالات کی اخبار میں اشاعت سے سول سوسائٹی کی مختلف مسائل پر توجہ اور ان کے حل کے لیے اقدامات کی ضرورت کے حوالے سے مدد ملتی ہے، اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ اس سے پاکستانی عوام میں مسائل میں امتیاز کی قدرتی صلاحیت پر اعتماد پیدا ہوگا جو ان کے لیے ہی بہتر اور بیلٹ باکس میں ان کی ترجیح کی شکل میں ظاہر ہوگا۔

میرے ڈاکٹر دوست جو بات بھول جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہوسکتا ہے جو انہیں پسند ہو یا نہ ہو وہ دیگر لاکھوں قارئین کے لیے بھی درست ہو، آپ Leisure صفحے کو دیکھیں، جو شطرنج اور کراس ورڈ سے بگ نیٹ اور سوڈوکو الفا سے سجا ہوا ہے۔

میں شطرنج کھیلتا ہوں مگر مجھے یہ نظر نہیں آتا کہ اس صفحے پر شطرنج کا فیچر کس کام کا ہے، مگر ڈان کو ان میں سے ایک فیچر بھی بھول جانے دے اور پھر دیکھیں ہمیں کس طرح کالز اور احتجاجی ای میلز آتی ہیں، سید منور کو اپنا ناشتہ ہضم نہیں ہوگا اگر Gambol وہاں نہ ہو۔

جہاں تک پراچہ اور نقوی کے کالمز کی بات ہے میں نے ڈاکٹر کو کہنا تھا کہ وہ ڈان کا انٹرنیٹ ایڈیشن پڑھیں، جس میں اگرچہ ہر مضمون میں متعدد کمنٹس ہوتے ہیں، مگر پراچہ اور نقوی وہ افراد ہیں جنھیں سب سے زیادہ تعداد میں مثبت و منفی الفاظ کا سامنا ہوتا ہے، پراچہ کے لیے ڈیڑھ سو کمنٹس تو آہی جاتے ہیں جن میں کچھ عالم وجد میں لکھے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، جبکہ کچھ میں ان کے خون کا مطالبہ ہوتا ہے، ان کو پڑھنے سے ایک کالم نگار کے معیار کی تصدیق ہوتی ہے اور اس کے لیے جگہ برقرار رہنا یقینی ہوجاتا ہے۔

آخر میں ہمیں تسلیم کرلینا چاہئے کہ تمام اخبارات کے کمرشل تحفظات ہیں، اگرچہ اس کا مطلب یہ نہیں کوئی اخبار جیسے ڈان ایڈورٹائزرز کو اپنی پالیسی پر اثرانداز ہونے کی اجازت دیدے، بلکہ اس سے ان کی فروخت آسان ہوتی ہے اور ایک لابی کو جگہ دیکر باقی کو بلاک کرکے فروخت نہیں کیا جاتا۔

شادی کے حوالے سے رافیعہ ذکریہ کے یکم اکتوبر کے ایک مضمون پر ایک قاری کا کمنٹ پڑھیں جس میں اس نے کہا تھا کہ ڈان کو لازمی طور پر 'ایسے'مضامین شائع کرنے چاہئے اور اس کی شکایت تھی کہ مضمون میں 'اہم معلومات' کی کمی تھی۔

قاری کا کہنا ہے کہ وہ کچھ اعدادوشمار کو سرچ کرسکتا ہے مگر کوئی بھی اس کے ایک سوال کا جواب نہیں دے سکتا: کس طرح پاکستان میں ایک سے زائد شادیوں کی روک تھام کی جائے؟ کیا انہیں واقعی روکا جاسکتا ہے؟۔

اس کا کہنا تھا کہ یہ رافیعہ ذکریہ کی جانب سے اعدادوشمار کو مضمون میں شامل نہیں کیا گیا۔

اس نے کہا کہ ڈان کو اس طرح کے مضامین کی اشاعت کی اپنی پالیسی پر دوبارہ غور کرنا چاہئے اور "کچھ برمحل سماجی مسائل پر ایک حقیقی بحث" کے لیے جگہ فراہم کرنی چاہئے۔

رافیعہ ذکریہ نے اس کا جواب کچھ یوں دیا "میرے مضمون کا مقصد اس کثیرالازدواجی کیا ہے یا یہ عام نہیں، بلکہ اس کا نکتہ خواتین کی جانب سے ادا کی جانے والی جذباتی قیمت خاص طور پر بچے جو اس معاملے میں کچھ کہہ نہیں پاتے، کو سامنے لانا تھا، اس حوالے سے جس معلومات پر میں نے انحصار اور تحریر کیا وہ انٹرنیٹ پر باآسانی دستیاب ہیں، اس مضمون کے نتیجے میں سینکڑوں قارئین کی جانب سے ردعمل سے سامنے آیا خاص طور پر بچے جن کا کہنا تھا کہ زیادہ شادیوں سے انہیں نقصان ہوتا ہے، بدقسمتی سے اس حوالے سے پاکستان میں ایک سے زائد شادیوں کی تعداد یا ان کے بچوں پر نتائج پر کسی قسم کی تحقیق نہیں ہوتی"۔

انگریزی میں پڑھیں۔


لکھاری ڈان کے ریڈرز ایڈیٹر ہیں۔

محمّد علی صدیقی
ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026