پاکستان میں پولیو جہاد کے 'شہداء' کی داستان

اپ ڈیٹ 24 اکتوبر 2014

ای میل

فائل فوٹو اےایف پی—۔
فائل فوٹو اےایف پی—۔
فائل فوٹو اےایف پی—۔
فائل فوٹو اےایف پی—۔
پولیو ورکرز بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا رہی ہیں—۔فوٹو اے ایف پی
پولیو ورکرز بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا رہی ہیں—۔فوٹو اے ایف پی

بڈھ بیر: نادیہ خان کے پاس اپنی مرحوم بہن سنبل کی دو یادگار تصاویر ہیں۔

ایک تصویر میں وہ اپنی چمکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ مسکرا رہی ہیں، جبکہ دوسری تصویر میں وہ کسی تاثر کے بغیر چہرے کے ساتھ زندگی کی رمق سے محروم ہیں۔

سنبل وہ ‘شہید’ ہیں جنہیں پولیو کے خلاف جنگ میں حصہ لینے پر شدت پسندوں نے موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔

یہ مئی 2013ء کی بات ہے جب سنبل اپنی دوست شرافت کے ہمراہ پاکستان کے شمال مغربی صوبے کے ایک گاؤں بڈھ پیر کے معصوم بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے بچاؤ کے لیے ویکسین پلا رہی تھیں۔

اچانک ایک موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے ان پر فائر کھول دیا، جس کے نتیجے میں شرافت موقع پر ہلاک ہوگئیں جبکہ اٹھارہ سالہ سنبل کوما میں چلی گئیں۔

وہ دس دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد بالآخر جان کی بازی ہار گئیں۔

آج چوبیس اکتوبر بروز جمعہ اقوام متحدہ کی جانب سے تجویز کردہ ‘پولیو ڈے’ پوری دنیا میں منایا جا رہا ہے۔

اس موقع پر خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے نادیہ نے وہ لمحات شیئر کیے جب اس کی بہن نے ہسپتال کے بیڈ پر اس کے سامنے آخری سانسیں لی تھیں۔

نادیہ نے بتایا کہ ‘اس نے کوئی بھی بات نہیں کی، ہماری خواہش تھی کہ ہم وفات سے قبل کم از کم اس کی آواز سن لیں، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔’

سنبل کی طرح نادیہ بھی پولیو مہم میں حصہ لیتی تھیں، لیکن اس واقعے کے بعد ان کے والدین نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔

نادیہ کے مطابق ‘میں نے اپنے والدین سے کہا کہ میں اپنی بہن کا مشن اُس وقت تک جاری رکھوں گی، جب تک وہ مکمل نہیں ہو جاتا۔’

دہشت گردی کا نشانہ بننے والی شرافت کی کچھ عرصہ بعد شادی ہو نے والی تھی اور وہ پولیو مہم میں حصہ لے کر اپنے جہیز کے لیے رقم جمع کر رہی تھی۔

شرافت کی والدہ گل خوبانہ نے بتایا کہ ‘میں نے اُسے اس دن جانے سے منع کیا تھا، تاہم اُس نے کہا کہ آج میرا آخری دن ہے، اس کے بعد میں یہ ملازمت چھوڑ دوں گی اور مزید کام نہیں کروں گی۔’

شرافت کے بعد اس کے بھائی بلال کو اس کی جگہ ملازمت دے دی گئی اور اب بلال اپنی بہن کی جگہ ‘پولیو کے خلاف جہاد’ میں مصروف ہے۔

پاکستان، افغانستان اور نائجیریا کے ہمراہ ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں ابھی تک پولیو جیسے موذی مرض کا خاتمہ نہیں ہو سکا ہے۔

اور اس مرض پر قابو پانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی سنبل جیسے پولیو رضاکاروں پر حملہ کر کے سبوتاژ کرنے کی کوششیں اپنے عروج پر ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں انسدادِ پولیو مہم میں حصہ لینے والے رضاکاروں کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

طالبان کا مؤقف ہے کہ پولیو مہم اسلامی نظام کے خلاف ہے، لہٰذا جو بھی اس مہم کا حصہ بنے گا، اسے نشانہ بنایا جائے گا۔


مزید پڑھیں: باجوڑ ایجنسی میں طالبان کی پولیو ورکز کو دھمکیاں


اے ایف پی نے اپنی رپورٹ میں یونیسف ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ 2000ء میں پاکستان نے ملک سے پولیو کے خاتمے کا عزم کیا اور انسدادِ پولیو مہم کے باعث 2005ء میں پولیو کے محض 28 کیسز رپورٹ ہوئے۔

تاہم 2008 کے بعد ملک میں پولیو کی شرح بڑھتی چلی گئی اور اب 2014ء میں ملک میں پولیو کے 210 کیسز ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، جو پوری دنیا میں ریکارڈ کیے جانے والے پولیو کیسز کا اسّی فیصد ہیں۔


مزید پڑھیں: پولیو کے 80 فیصد کیسز کا ذمہ دار پاکستان ہے، عالمی ادارۂ صحت


دسمبر 2012ء سے لے کر اب تک تقریباً 30 پولیو رضاکاروں کو پاکستان میں قتل کیا جاچکا ہے، جبکہ پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور 30 اہلکار بھی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس سلسلے میں کافی پیش رفت دکھائی ہے، تاہم ابھی پولیو کے خاتمے کے لے مزید جدوجہد کرنی پڑے گی۔

خیال رہے کہ پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز اور صورتحال کے پیشِ نظر رواں سال مئی میں عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان سے بیرون ممالک جانے والے مسافروں پر پولیو ویکسین کا سرٹیفکیٹ پیش کرنے کی پابندی عائد کردی تھی۔