رابرٹ اور حسرت: دو شاعر، دو کہانیاں

29 اکتوبر 2014

ای میل

رابرٹ گرانٹ اور مولانا حسرت موہانی — فوٹو بشکریہ وکیمیڈیا کامنز / پاکستان ہیرالڈ
رابرٹ گرانٹ اور مولانا حسرت موہانی — فوٹو بشکریہ وکیمیڈیا کامنز / پاکستان ہیرالڈ
— فوٹو اختر بلوچ
— فوٹو اختر بلوچ
— فوٹو اختر بلوچ
— فوٹو اختر بلوچ

رابرٹ اور حسرت دونوں شاعر تھے۔ رابرٹ کا پورانام رابرٹ گرانٹ تھا اور حسرت کا نام حسرت موہانی تھا۔ رابرٹ ایک برطانوی شہری تھے، اور حسرت ہندوستانی۔ دونوں کے آباؤ اجداد کا تعلق ہندوستان سے نہیں تھا۔ لیکن وہ ہجرت کر کے ہندوستان میں ایسے بسے کہ یہیں کے ہوکر رہ گئے۔

رابرٹ برطانوی راج کے نمائندے تھے۔ وہ راج کے دوران بمبئی کے گورنر رہے۔ اس وقت صوبہ سندھ بھی بمبئی کا حصہ تھا۔ حسرت ہندوستانی عوام کے نمائندے تھے اور ہندوستان کی مکمل آزادی چاہتے تھے۔ رابرٹ گورنر ہاؤس میں شاہی ٹھاٹھ سے رہتے تھے۔ جب کہ حسرت کی زندگی کا بیشتر حصہ آزادی کی جدوجہد اور جیلوں میں گزرا۔ رابرٹ پیشے کے اعتبار سے قانون دان تھے جب کہ حسرت صحافی تھے۔

یہ دونوں صاحبان شاعر بھی تھے لیکن دونوں کی شاعری میں نمایاں فرق یہ تھاکہ رابرٹ مقدس مذہبی گیت لکھتے تھے جو گرجا گھروں میں گائے جاتے تھے۔ جب کہ حسرت جنھیں رئیس المتغزلین کہا جاتا ہے کی شاعری میں عشقیہ مضامین خوب صورت پیرائے میں بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی ایک غزل اردو گائیکی میں کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے۔

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانہ یاد ہے

ہم کو اب تک عاشقی کو وہ زمانہ یاد ہے

کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاً

اور دوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ہے

حسرت کی شاعری کا سلسلہ جیل میں شدید مشقت کے دوران بھی بند نہ ہوا بلکہ قید و بند کی مصیبتوں کو انھوں نے خوب صورت پیرائے میں بیان کیا ہے۔

ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی

اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی

حسرت ایک سیاست کار، صحافی کے علاوہ ایک انسان دوست شاعر بھی تھے۔ ان کی شاعری میں آپ بیتی کو بھی اتنے خوب صورت انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ ان کی شاعری کا مطالعہ کرنے والا کوئی بھی فرد ان کیفیات کو اپنی روح میں جذب ہوتے ہوئے محسوس کرتا ہے جس کا سامنا حسرت نے کیا۔

ان کی شاعری میں سوز و گداز بھی ہے تو انقلابی رنگ بھی وہ اپنی شاعری میں ایک اشتراکی مسلمان بھی ہیں۔

درویشی و انقلاب مسلک ہے مرا

صوفی مومن ہوں اشتراکی مسلم

حسرت موہانی اردو معلّٰی کے نام سے ایک پرچہ بھی شائع کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے پرچے میں سیاسی مضامین کے ذریعے سیاسی سوالات کا آغاز کر دیا تھا۔ حکومت اس تمام صورت حال کو برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ اس لیے 23جون 1908ء کو حسرت کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان کی گرفتاری کا سبب اردوِ معلّٰے میں شائع ہونے والا وہ مضمون تھا، جس کا عنوان ”مصر میں انگریزوں کی تعلیمی پالیسی“ تھا۔

حکومتِ ہند اس بات پر بہ ضد تھی کہ مولانا مضمون نگار کا نام بتائیں۔ لیکن حسرت نے اس سے انکار کیا اور مضمون کی اشاعت کی پوری ذمہ داری اپنے سر لی۔ اس الزام کے تحت ان پر مقدمہ چلایا گیا اور انھیں دو برس کی قیدِ با مشقت اور 500 روپے جرمانے کی سزا دی۔ واضح رہے کہ مجسٹریٹ اپنے دائرہ اختیار کے مطابق اس سے زیادہ سزا نہیں دے سکتا تھا۔

ہندوستان میں یہ ایک ایسا دور تھا جب اشرافیہ یہ سمجھتی تھی کہ جیل جانا انتہائی معیوب بات ہے۔ اس واقعے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس وقت تک خواہ سیاسی بنیاد پر ہی کیوں نہ ہو، جیل جانا باعثِ افتخار نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے علی گڑھ کے لوگ حسرت سے سخت ناراض ہوگئے اور وہاں کے بعض ذمہ دار اصحاب نے جن میں کالج سیکریٹری نواب وقار الملک بھی شامل تھے، مقدمے میں حسرت کے خلاف گواہیاں دیں۔

ایک دن ہم اپنے دوست ایوب قریشی کے دفتر گئے۔ ہمارے ہاتھ میں حسرت موہانی کی کلیات تھی۔ قریشی صاحب نے کتاب دیکھتے ہی فرمایا، کیوں نہ حسرت کی قبر پر حاضری دی جائے۔ میں نے کہا اس کے لیے خاصی رقم چاہیے اور اس کے علاوہ ویزہ بھی حاصل کرنا ہوگا۔ ایوب قریشی بولے، بھئی طارق روڈ کے قبرستان جانے کے لیے ویزہ کی کیا ضرورت ہے۔

میں نے انھیں کہا کہ حسرت کی قبر طارق روڈ پر نہیں بلکہ ہندوستان میں ہے لیکن وہ مان کے نہ دیے۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور صاحب آئے اور بحث میں شامل ہوگئے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ حسرت کی قبر طارق روڈ پر نہیں ہے۔ میں نے قریشی صاحب کو کہا دیکھیے یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ ابھی میں نے جملہ مکمل ہی کیا تھا کہ وہ صاحب بولے حسرت کی قبر پاپوش نگر والے قبرستان میں ہے۔ یہ ایک اور انکشاف تھا ہم نے کہا کہ آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قبر کے کتبے پر حسرت کا نام لکھا ہوا تھا۔

ہم نے ان سے پوچھا پورا نام لکھا ہوا تھا؟ وہ کہنے لگے ہاں ہاں، کتبے پر لکھا ہوا تھا ”حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھاگئے“۔ ہم اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور پھر قریشی صاحب سے اجازت چاہی۔ ایک بار آرٹس کاؤنسل جانا ہوا۔ آرٹس کاؤنسل میں حسرت کی یاد میں ایک تقریب ہورہی تھی۔ مجھے اس شخص کا نام تو یاد نہیں لیکن وہ کسی ٹی وی چینل کے رپورٹر تھے اور مائیک بھی ان کے ہاتھ میں تھا۔ خاصی جلدی میں نظر آرہے تھے۔ انھوں نے اپنا تعارف کرایا اور پریس کلب کا حوالہ دیا جہاں ان سے کبھی ہماری ملاقات ہوئی ہوگی۔

مجھ سے کہنے لگے یہ اسٹیج پر جو صاحبان بیٹھے ہوئے ہیں ان میں سے حسرت موہانی کون ہیں؟ میں حیران و پریشان ہو کر ان کی طرف دیکھنے لگا تو انھوں نے کہا کہ ذرا جلدی بتا دیجیے۔ میں نے انھیں کہا کہ اسٹیج کے کونے پر جو صاحب بیٹھے ہوئے ہیں اور لوگوں کو تقریر کی دعوت دے رہے ہیں انھیں پتہ ہوگا، ان سے معلوم کرلیں۔ اس کے بعد میں فوراً آرٹس کاؤنسل سے نکل گیا۔ پھر نجانے کیا ہوا ہوگا، اس کا مجھے علم نہیں۔

بہر حال رابرٹ گرانٹ کے نام سے کراچی کی سابقہ میکلوڈ روڈ اور حالیہ آئی آئی چندریگر روڈ سے متصل ایک سڑک منسوب تھی جو اب حسرت موہانی سڑک کہلاتی ہے۔ ہمیں پاکستانی حکومت کے اس قدم کی داد دینی چاہیے کہ انھوں نے کسی کمیونسٹ کے نام سے کوئی سڑک منسوب کی۔ جہاں تک رابرٹ گرانٹ کا تعلق ہے اس کے نام سے بمبئی میں اب بھی سڑک موجود ہے اور ایک میڈیکل کالج بھی۔ حسرت موہانی روڈ پر مختلف دفاتر پر لگے ہوئے بورڈز پر حسرت موہانی روڈ کے علاوہ الطاف حسین روڈ اور آئی آئی چندریگر روڈ بھی لکھا ہوا ہے جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔

— فوٹو اختر بلوچ
— فوٹو اختر بلوچ
— فوٹو اختر بلوچ
— فوٹو اختر بلوچ