ضرب عضب کے دوران 1100 دہشت گرد ہلاک ہوئے، عاصم سلیم باجوہ

اپ ڈیٹ 29 اکتوبر 2014

ای میل

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ—۔فائل فوٹو
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ—۔فائل فوٹو

پشاور: ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے اور اب تک تقریباً گیارہ سو دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان کے کئی علاقے کلیئر کرالیے گئے ہیں، جن میں میران شاہ اور اسپن وام کے علاقے شامل ہیں، جبکہ دتہ خیل سے آگے کا علاقہ کلیئر کیا جا رہا ہے۔

'شمالی وزیرستان میں کسی قسم کی تفریق کیے بغیر تمام دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا جارہا ہے ، تاہم آپریشن ضرب عضب مکمل ہونے کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا'۔

ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران 132 ٹن باروی مواد برآمد کیا گیا، جسے ناکارہ بنانے میں وقت لگے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے دوران کچھ دہشت گرد خیبرایجنسی کی طرف فرار ہوگئے، یہی وجہ ہے کہ خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبرون شروع کیا گیا۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ خیبر ایجسنی میں آپریشن خیبر ون کچھ عرصہ جاری رہے گا، جس کا مقصد علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنا ہے۔

'خیبر ایجنسی میں اب تک 48 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 100 مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر ایجنسی میں 'آپریشن خیبر ون' سے جرائم میں کمی واقع ہوئی ہے، جہاں دہشت گردوں کے کئی ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے ہیں۔

جنرل عاصم سلیم کے مطابق خراب موسم کی وجہ سے آج آکا خیل میں کارروائی نہیں کی گئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق محرم میں 134 حساس مقامات پر فوج کو طلب کیا گیا ہے۔

جرنل عاصم سلیم باجوہ نے افغان سموں کو پاکستان کی سیکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان کی قیادت افغانستان سے بیٹھ کر پاکستان میں کارروائیاں کررہی ہے۔

میڈیا بریفنگ کے دوران جنرل عاصم سلیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔